کامیابی کیا ہے؟ کامیاب زندگی کا راز اور کامیابی کے سنہری اصول

دنیا میں تقریبا ہر فرد کامیابی کی خواہش رکھتا ہے اور کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ کسی کے نزدیک مال و دولت حاصل کرنا کامیابی ہے تو کسی کے نزدیک عزت و شہرت، کوئی ذہنی سکون اور اطمینان قلب کو کامیابی قرار دیتا ہے تو کوئی خوشی اور اچھی صحت کو، کسی کے نزدیک محبت کا حصول کامیابی ہے تو کوئی اقتدار کو کامیابی کی علامت سمجھتا ہے۔

کوئی اچھی فیملی کو کامیابی کی علامت قرار دیتا ہے تو کوئی اپنے پیشے میں عروج حاصل کرنے کو کامیابی کہتا ہے، کسی کے نزدیک اپنی پسند کے مطابق زندگی بسر کرنا کامیابی ہے تو خوف، پریشانی اور ٹینشن سے نجات والی زندگی کو کامیابی سمجھتا ہے۔ کسی کے نزدیک عزت نفس کامیابی ہے تو کوئی مالی بے فکری کو کامیاب گردانتا ہے، کوئی اعلیٰ تعلیم کو کامیابی سمجھتا ہے تو کوئی اپنے مقصد میں سرخرو ہونے کو کامیابی کہتا ہے۔

کسی کے نزدیک جیت کامیابی ہوتی ہے تو کوئی کسی اور کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرینے کو کامیابی کہتا ہے۔ الغرض اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہر شخص کے لیے کامیابی کا الگ زاویہ ہوتا ہے اور ہر بندہ اپنی خواہش میں سرخرو ہونے کو کامیابی سمجھتا ہے۔

لوگوں کی اکثریت مالی خوش حالی اور دولت چاہتی ہے۔ عموماً کامیابی کے ساتھ دولت خودبخود چلی آتی ہے۔ انسانی کامیابیوں اور خوشی میں دولت کا کردار اہم ہے۔ دولت اگرچہ خوشی میں اضافہ کرتی ہے مگر یہ مستقل طور پر خوشی کی وجہ نہیں بن سکتی۔

ہر فرد کو خوشی اور سکون مختلف انداز سے حاصل ہوتا ہے اور ہر فرد کا مقصد حیات بھی مختلف ہوتا ہے، لہذا ہر فرد کے لیے کامیابی کا مفہوم بھی مختلف ہے۔ ایک فرد علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو دوسرا دولت، کوئی عزت و شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی اقتدار۔ اب چونکہ ہر شخص کے لیے کامیابی کااپنا معیارہے تو ایسے میں کیسے ہر شخص کی مدد کی جائے۔

پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ایزی استاد کا مقصد ہی آپ کی زندگی میں آسانیاں لانا ہے۔ آج کی تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ وہ کون سے اصول ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر آپ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، چاہے آپ کے لیے کامیابی کا معیار کچھ بھی ہو۔

کامیابی کے اصولوں کو کھوجنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ یہاں پر دی گئی صرف ایک حدیث مبارکہ ﷺ کا مطالعہ کر لیں، آپ کو اپنے ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔

کامیابی کے اصول سے متعلق جامع حدیث

ایک بدو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ۔آپ ﷺ کی طرف سے اجازت ملنے پراس نے مندرجہ ذیل سوالات کیے:

  • عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں امیر ( غنی ) بننا چاہتا ہوں – فرمایا قناعت اختیار کرو امیر ہو جاؤ گے۔
  • عرض کی میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں – فرمایا تقویٰ اختیار کرو عالم بن جاؤ گے۔
  • عرض کی عزت والا بننا چاہتا ہوں – فرمایا مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو ، باعزت ہو جاؤ گے۔
  • عرض کی اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں – فرمایا لوگوں کو نفع پہنچاؤ۔
  • عرض کی عادل بننا چاہتا ہوں – فرمایا جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو۔
  • عرض کی طاقتور بننا چاہتا ہوں – فرمایا اللہ تعالی پر توکل کرو۔
  • عرض کی اللہ تعالی کے دربار میں خاص خصوصیت کا درجہ چاہتا ہوں – فرمایا کثرت سے ذکر کرو۔
  • عرض کی رزق کی کشادگی چاہتا ہوں – فرمایا ہمیشہ باوضو رہو۔
  • عرض کی دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں – فرمایا حرام نہ کھاؤ۔
  • عرض کی ایمان کی تکمیل چاہتا ہوں – فرمایا اچھے اخلاق پیدا کر لو۔
  • عرض کی قیامت کے روز اللہ تعالی سے گناہوں سے پاک ہو کر ملنا چاہتا ہوں – فرمایا جنابت کے بعد فورًا غسل کیا کرو۔
  • عرض کی گناہوں میں کمی چاہتا ہوں – فرمایا کثرت سے استغفار کیا کرو۔
  • عرض کی قیامت کے دن نُور میں اٹھنا چاہتا ہوں – فرمایا ظلم کرنا چھوڑ دو۔
  • عرض کی چاہتا ہوں اللہ تعالی مجھ پر رحم کرے – فرمایا اللہ تعالی کے بندوں پر رحم کرو۔
  • عرض کی چاہتا ہوں اللہ تعالی میری پردہ پوشی فرمائیں – فرمایا لوگوں کی پردہ پوشی کرو۔
  • عرض کی رسوائی سے بچنا چاہتا ہوں – فرمایا زنا سے بچو۔
  • عرض کی چاہتا ہوں اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا محبوب بن جاؤں – فرمایا جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا محبوب ہو، اسے اپنا محبوب بنا لو۔
  • عرض کی اللہ تعالی کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں – فرمایا فرائض کا اہتمام کرو۔
  • عرض کی احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں – فرمایا اللہ تعالی کی ایسی بندگی کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو یا جیسے وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔
  • عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کیا چیز گناہوں کی معافی دلاے گی – فرمایا آنسو ، عاجزی ، بیماری۔
  • عرض کی کیا چیز دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرے گی – فرمایا دنیا کی مصیبتوں پر صبر۔
  • عرض کی اللہ تعالی کے غصے کو کیا چیز سرد کرتی ہے – فرمایا چپکے چپکے صدقہ اور صلح رحمی۔
  • عرض کی سب سے بڑی برائی کیا ہے – فرمایا بد اخلاقی اور بخل – عرض کی سب سے بڑی اچھائی کیا ہے۔
  • فرمایا اچھے اخلاق تواضع اور صبر – عرض کی اللہ تعالی کے غصے سے بچنا چاہتا ہوں – فرمایا لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دو۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ صرف اس ایک حدیث میں زندگی کے تمام پہلو کے متعلق خاطر خواہ معلومات دے دی گئی ہیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو خود پر اعتماد ہو، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ، پھر دیکھے کامیابی کیسے آپ کے قدم چومتی ہے۔

اگر آپ بھی اپنی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہماری ویب سائیٹ پر کامیابی سے متعلقہ تحریریں پڑھ سکتے ہیں۔ کامیابی سے متعلقہ آپ ہماری مندرجہ ذیل تحریریں پڑھ سکتے ہیں۔

اس تحریر سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا (فیس بک، ٹیوئٹر، وغیرہ) پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں