مثبت سوچ اور منفی سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات

ہمارا ذہن خیالات بنانے کی مشین ہے۔ جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی خیال بنتا اور ٹوٹتا رہتا ہے اور ہم کچھ نہ کچھ سوچتے ہی رہتے ہیں، کبھی اچھا کبھی برا، کبھی مثبت اور کبھی منفی۔ مثبت سوچ کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے۔ کامیاب زندگی، مثبت سوچوں اور رویوں جب کہ ناکام زندگی منفی سوچوں اور رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔

سوچ انسانی ذہن پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے۔ زندگی کا ہر منظر سوچ سے جنم لیتا ہے اورسوچ پر ہی ختم ہوتا ہے۔ ایک منفی سوچ کا حامل شخص منفی عمل کو جنم دیتا ہے جبکہ مثبت سوچ کا حامل شخص تعمیری فعل انجام دیتا ہے۔

خوش اخلاقی، اچھا گمان، عزیز و اقارب سے محبت، مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا، مصیبتوں میں صبر کرنا، لوگوں کو معاف کر دینا، ہمیشہ سچ بولنا، وفاداری، سخاوت اور احسان شناسی وغیرہ مثبت سوچ اور رویوں کی مثالیں ہیں جکہ بدگمانی، نفرت، غیبت، بغض و کینہ، بلاجواز تنقید، پست ہمتی، غصہ، بے صبری، مایوسی، بخل، ریاکاری اور خودغرجی وغیرہ منفی سوچ کی مثالیں ہیں۔

ہماری زندگی پر ہماری سوچ اور خیالات مستقل طور پر اثر انداز ہوتے ہیں، شیکسپئر نے کہا تھا کہ "ہم وہ نہیں ہوتے جو کرتے ہیں بلکہ ہم وہ ہوتے ہیں جو سوچتے ہیں”۔یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو آپ کر سکیں گے اور اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ نہیں کر سکتے تو کچھ بھی کر لیں آپ وہ کام نہیں کر سکیں گے۔

مثبت سوچ اور منفی سوچ

انسان کو ذہن ہر وقت سوچتا رہتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ انسانی ذہن پر ہر لمحہ سوچوں کا غلبہ رہتا ہے۔اور انسان کی زندگی کا ہرزاویہ اس کی ذہنی سوچ سے جنم لیتا ہے۔ اسی سوچ و فکر سے انسانی جذبات کی آبیاری ہوتی ہے اوران جذبات کی بنیاد پر ہی انسان کا ہر عمل ہمارے سامنے آتا ہے۔

سوچ سے خیال، خیال سے نظریہ، نظریہ سے مقصد، مقصد سے تحریک، تحریک سے جستجو اور جستجو سے کامیابی جنم لیتی ہے، ہمارے ذہن کے سوچنے کا انداز دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔

مثبت سوچ ہمیشہ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ منفی سوچ ناکامی اور نامرادی کی طرف دھکیلتی ہے اور زندگی کی چمک دمک کو تاریکی کی سیاہیوں میں بدل دیتی ہے۔

وہ سوچ جو آپ کویا آپ سے جڑے لوگوں کو خوشی یا فائدہ دےمثبت سوچ ہے۔اور وہ سوچ جو آپ کو یا آپ سے جڑے لوگوں کو پریشانی یانقصان پہنچائے وہ یقینا منفی یا غلط سوچ ہے۔مثبت سوچ یا عمل سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے ترقی ہو، بلندی کی جانب پیش قدمی ہو، منزل کا حصول ہو، بہتری ہو، فلاح و بہبود ہو، تعمیر ہو۔ اس کے برعکس منفی عمل سے مراد ہر وہ فعل ہے جس میں حقیقی نقصان ہو، تنزلی ہو، منزل سے دوری ہو۔

یہ بھی پڑھیے: خوشی کیا ہے اور کیسے حاصل کی جاتی ہے۔

انسان کا ہر عمل، اس کی حرکات و سکنات ذہنی سوچوں کے زیر اثر ہی ہوتی ہیں۔  مثبت اور منفی عمل ہماری سوچ پر منحصر ہوتا ہے۔یعنی منفی یا مثبت خیالات کے ذریعے ہی انسان سے مختلف عمل سرزد ہوتے ہیں۔ مثبت سوچ سے انسان کے اندر مثبت رویہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ذہن میں خیالات کاپیدا ہونا قدرتی عمل ہے مگر ان خیالات کو عملی جامہ پہنانا تو انسان کے اپنے اختیارمیں ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مثبت سوچ ہی کسی فرد کی شخصیت کو ابھارنے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ مثبت سوچ کامیابی کی وہ سیڑھی ہے جس پر قدم رکھنے والا انسان کامیابی کی منزل پالیتا ہے۔

مثبت طرز فکر وعمل کا انجام کامیابی اور منفی کا انجام ناکامی ہے خواہ اس کا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے ہو۔ دنیاوی زندگی میں مثبت طرز حیات اعلیٰ اخلاقی کردار کو تخلیق کرتا، منزل تک رسائی آسان بناتا، مال میں برکت لاتا، اولاد کو صالح بناتا، شریک حیات کو اعتماد و سکون دیتا، دوستوں کو خوش رکھتا، ماں باپ کی خدمت کرواتا، اعلیٰ صحت و معیار زندگی فراہم کرتا اور مادی فلاح و بہبود کا باعث بنتا ہے۔

منفی سوچ سے منفی رویے پیدا ہوتے ہیں جو آخر کارانسانی صحت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں اور گھن کی طرح کھا جاتے ہیں۔انسان کی کامیابی کا زینہ یہی مثبت سوچ اور ذہنی رویہ ہوتا ہے۔ چنانچہ مثبت رویوں کو اپنانے اورمنفی خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش ہر انسان پر لازم ہے۔منفی سوچ انسان کی شخصیت کو مسخ کرکے رکھ دیتی ہے۔اسی وجہ سے منفی رویوں سے نجات حاصل کرنا کافی دشوار او رکٹھن ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کامیابی اور ناکامی میں یقین کا کردار

منفی سوچ انسان کو ذہنی مریض بناتی ہے، مایوسی پیدا کرتی ہے،حسد و جلن کے الاؤ جلاتی ہے، صحت برباد کرتی ہے، رزق میں بے برکتی لاتی ہے، نفرتوں کے جنگل اگاتی ہے، بھائی کو بھائی سے جدا کرتی ہےاور رشتوں میں تفریق کراتی ہے۔ دینی امور میں یہی منفی طرز حیات انسان کو اپنے رب سے بدگمان کرتاہے، اسے بغاوت پر اکساتا ہے، تکبر کی دعوت دیتاہے، عبادت سے برگشتہ کرتا ہے اور مایوسی کی بنا پر کفر کی جانب لے جاتا ہے۔

مثبت طرز پیغمبروں کی سنت جبکہ منفی طرز شیطان کا فعل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مثبت طرز حیات کی بہترین مثال ہے۔ آپ نے اپنے بدترین مخالفین کے بارے میں کوئی منفی سوچ پیدا نہیں کی، ان سے اپنی ذات کے لئے جھگڑا نہیں کیا بلکہ جب وہ سب مخالفین شکست کھاگئے تو انہیں معاف کردیا۔

جدید نفسیات کے مطابق انسان کے مستقل کا انحصار اس کی اپنی سوچ، فکر اور اعمال پر ہوتاہے۔ اگر انسان اپنے سوچنے کے انداز کو بدل لے تو اس کی زندگی خود بخود بدل جاتی ہے کیونکہ خوش نصیبی کو ایک اتفاقی یا حادثاتی چیز سے ہر گز تعبیر نہیں کیا جا سکتا بلکہ خوش نصیبی کا تعلق انسان کی اپنی پسند، انتخاب اور انداز فکرسے ہوتا ہے۔

ہماری زندگی ایک فلم کی مانند ہے جس میں خوشیاں، سکون و اطمینان، مصائب و مشکلات سب کچھ موجود ہوتا ہے اور ان کا دارومدار ہمارے انتخاب اور انداز فکر پرمنحصر ہوتا ہے۔یہی نہیں مثبت سوچ انسان کو روشن خیالی کی طرف لے جاتی ہے۔ ہم اپنے طرزفکر کی بنا پر اپنی زندگی کو خوشیوں سے آراستہ کر سکتے ہیں یا پھر غموں سے پامال بھی کرسکتے ہیں۔ یہ ہماری سوچوں پر منحصر ہے۔

آج کے دور میں انسان تیزی کے ساتھ ترقی کی طرف دوڑ رہا ہے، اس کے پاس وقت کی انتہائی کمی ہے اور سچی خوشیوں کو حاصل کرنا ذرا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس لئے روز مرہ کی دوڑ دھوپ نے انسان کو ایک مشینی پرزہ بنا ڈالا ہے۔حصول معاش کی جدوجہد، گھریلو پریشانیاں اور دیگر خود ساختہ مسائل میں گرفتار انسان خوشیوں کے لئے ترس رہا ہے۔

انسان کے لئے خوشیوں کا تصور ماند پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے میں انسان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنی سوچوں کا دائرہ مثبت رکھنا چاہئے اور ایسی کسی سوچ کو اپنے اوپر حاوی نہیں کرنا چاہئے جو ہمیں پریشان کردے، جو ہماری زندگی سے مثبت رویوں کو ختم کر دے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم مثبت سوچوں کواپنے او پر حاوی کرلیں۔ کیونکہ سوچ ایک مقناطیس کی طرح ہے۔ اچھی سوچ، اچھے نتائج کو اور بری سوچ برے نتائج کو کھینچ لیتی ہے۔ بناسوچے سمجھے کوئی لفظ اپنی زبان سے نہ نکالیں کیونکہ ہمارے منہ سے نکلا کوئی ایک برا لفظ پورے گھر کو آگ لگا سکتا ہے۔

ہمارے منہ سے نکلا کوئی ایک اچھا لفظ نجانے کتنے لوگوں کو ہمارا گرویدہ کرسکتا ہے۔کسی کے منہ سے نکلے ہوئے دو خوبصورت الفاظ جو اس نے ہمارے لئے کہے ہوں،ہمیں ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔یہ ہماری سوچ کا شاہکار ہوتے ہیں۔ یادیں دھندلا جاتی ہیں۔ کہانیاں مٹ جاتی ہیں۔ جذبات بھی زندگی کی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہو جاتے ہیں لیکن خوبصورت الفاظ ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کامیابی کا راز خود اعتمادی میں ہے

اگرہم نے اپنی سوچ بدلنے کا فن سیکھ لیا تو گویا ہم نے اپنی دنیا بدلنے کا فن بھی سیکھ ہی لیا۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ ہم جیسا سوچتے ہیں، ہماری شخصیت بھی ویسی ہی ہوجاتی ہے۔

اگر ہم اپنے آپ کو پراعتماد، کامیاب، ذہین اور پرکشش تصور کریں گے تو ہماری شخصیت میں یہی خصوصیات شامل ہونا شروع ہوجائیں گی او راگر ہم اپنے آپ کو کمتر اور حقیر محسوس کریں گے تو ہم ویسے ہی بن جائیں گے۔

اچھی اور بہتر زندگی کے لئے زندگی کا بامقصد اور بامعنی ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ مقاصد اور اہداف ہمیں زندگی کی قدر و قیمت سے آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ الغرض مثبت طرز فکر کا انجام کامیابی اور منفی رویے کا انجام ناکامی و نامرادی ہے۔ زندگی میں مثبت سوچ اعلیٰ اخلاقی کردار کو تخلیق کرتی ہے، منزل تک رسائی آسان بناتی ہے۔ یہی نہیں مال و دولت میں خیر و برکت لاتی ہے۔

اولاد کو صالح بنا دیتی ہے۔ کامیابیاں سمیٹتی ہے او رمادی فلاح و بہبود کا باعث بنتی ہے۔ اس کے برعکس منفی سوچ نہ صرف انسان کو ذہنی مریض بناتی ہے بلکہ انسان کی زندگی میں مایوسیاں بھی پیدا کرتی ہے۔

حسد و جلن کے الاؤ جلاتی ہے جس کی وجہ کر ہر وقت رشتوں میں ایک تفریق سی پیدا ہو جاتی ہے۔ زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے ہمیں اپنی سوچوں پر قابو پانا ہوگا۔ ہماری زندگی میں بھی ہر طرف خوشیاں، شادمانیاں اور کامیابیاں ہوں گی۔

اگر آپ اپنی منفی سوچ کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں اور مثبت سوچ کو خود پر حاوی کر لیں تو کامیابی پر صرف آپ کا حق ہو گا۔ ہر منفی سوچ میں سے کوئی نہ کوئی مثبت نقطہ ضرور نکلتا ہے۔ بس مثبت سوچنے کی کوشش کریں، مشاہدہ کرنا سیکھیں۔ جب آپ دوسروں کی حرکات کا مشاہدہ کریں گے تو ایک اچھی سوچ کو جنم دیں گے اور ان دوسروں سے بہتر کچھ کر کے دکھائیں گے۔

اگر ہم اپنے اندر مثبت خیالات رکھتے ہوں گے تو ہمارے اعمال اور اس کے نتائج بھی ہمارے سامنے مثبت ہی آئیں گے۔ منفی سوچ کی وجہ سے انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے اورزندگی تلخ ہوکر رہ جاتی ہے۔ایسی سوچ ایک چبھن بن کر ہر لمحہ انسان کی زندگی کی ہر خوشی کو ڈسنے کے لئے تیار رہتی ہے۔

اپنی سوچوں کو منظم کرنا سیکھیں۔ جب آپ کی سوچیں منظم ہوں گی تو آپ کے اعمال بھی اسی طرح منظم ہوں گے۔صحیح سوچ کا انتخاب کریں۔ خود کوغلط سوچ کی طرف مائل نہ ہونے دیں۔ مثبت سوچ مثبت نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔اور وہ لوگ جو کامیابی کی توقع کرتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی ساری کامیابیوں اور کامرانیوں کی بنیاد مثبت سوچ اور مثبت طرز عمل ہوتا ہے۔

مثبت سوچ اور مثبت انداز فکر کیسے اپنائیں؟

منفی انداز فکر ایک ایسا عمل ہے جو خود بخود عمل پذیر ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مثبت سوچ کو اپنانے کے لئے تھوڑا سا تردد کرنا پڑتا ہے۔ سوچ کے اس برے انداز کو ترک کرنے اور اچھی سوچ اپنانے کے لیے کچھ تجاویز ہیں جن پر عمل کرنے سے آپ یقیناً کامیابی کی ساری سیڑھیاں آسانی سے چڑھ جائیں گے۔

اورآپ جو چاہتے ہیں وہ بھی ممکن ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف آپ دلعزیز بن جائیں گے بلکہ آپ کو ترقی، خوشحالی اور ذہنی سکون بھی میسر ہو گا۔

ماحول کی تبدیلی

اگر آپ کے دوست اور واقف کار منفی خیالات کے مالک ہیں اور ہر وقت زندگی سے شکایت ہی کرتے رہتے ہیں اور کسی بھی بہتر کام کے لیے کوئی بھی عملی اقدام نہیں اٹھاتے۔ آپ کیسے کوئی مثبت خیال یا کوئی اچھا تصور ذہن میں لا سکتے ہیں اور اس کو عملی جامہ بھی پہنا سکتے ہیں؟

جب کہ آپ کے اردگرد کے لوگ، آپ کے یاردوست ہر وقت پریشانی کی باتیں کرتے رہیں اور اپنی زندگی سے کچھ نہ ملنے کا رونا روتے رہیں۔ اس طرح کے ماحول میں آپ بھی مایوسی کو اپنائیں گے۔ آپ کو ضرورت ہے ماحول بدلنے کی۔

پلٹ پلٹ کر ماضی کے تجربات کو دیکھنے والے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ ماضی کسی کا اچھا گزرا ہوتا ہے اور کسی کا بہت ہی برا۔ جن کا ماضی بڑا تابناک اور روشن تھا اور حال میں بڑے بے حال ہیں وہ حال کا رونا روتے رہتے ہیں اور ماضی کے خوشیوں کو یاد کرتے رہتے ہیں اور جن کا حال اچھا ہے مگر ماضی مشکالات کی نذر ہوا۔ ماضی کو یاد کرتے اور کہتے ہیں کہ ایسا ہوتا تو بہتر تھا ایسا کیوں ہوا۔ یہ ہوتا مگر وہ نہ ہوتا۔

جب ہم پریشان اور ذہنی الجھاؤ کا شکار ہوتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی پریشانیاں بھی دیوہیکل نظر آتی ہیں۔ ریسرچ نے یہ ثابت کیا ہے کہ نیا اور مختلف ماحول اس حالت سے چھٹکارا دلانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مثلاً اگر پڑھتے ہوئے آپ کا دماغ کسی نقطے پر اٹک جاتا ہے اور آپ اسے حل کرنے سے قاصر ہیں تو ذہن پر بوجھ ڈالنے کے بجائے کوئی اور کام شروع کردیں یا کسی باغیچے وغیرہ میں ٹہلنے کیلئے چلے جائیں۔

ماحول کی تبدیلی آپ کے ذہن سے بوجھ ہٹا دے گی اور آپ پھر دوبارہ تازہ دم ہوکر نئے سرے سے پڑھائی شروع کردیں۔ یہ عمل یقینا آپ کا مسئلہ حل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا کیونکہ تازہ دم ہونے کے بعد آپ کا دماغ مسئلے کے حل کیلئے نئی جہتوں پر کام شروع کردے گا اور یہی جہتیں آپ کی ممد و معاون ثابت ہوں گی۔

بہار کی امید ہر رات کا سویرا ہے، اندھیرے کے بعد اجالے نے آنا ہی ہے۔ آپ کو ہمیشہ روشن پہلو کی طرف ہی غور کرنا چاہیے۔ جیسے ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ایک رخ بالکل تاریک ہوتا ہے وہاں کچھ نہیں ہوتا دوسرا رخ تصویر کا روشن پہلو ہوتا ہے۔ اس پر کچھ نہ کچھ نظر آ رہا ہوتا ہے۔

مقاصد کا عزم

منفی کو مثبت میں بدلنے کا ایک آسان طریقہ کچھ کرنے کا عزم ہے۔ اگر آپ زندگی کا کوئی مقصد بنا لیتے ہیں تو پھر اس کو پورا کرنے کے لیے آپ جدہوجہد بھی کریں گے اور جب آپ اس مقصد کو پانے کے لیے دوڑتے رہتے ہیں تو پھر آپ اپنے خیالات میں منفی پہلو کیسے لا سکتے ہیں۔

کسی بھی بڑے مقاصد کے حصول کے لیے اس کے چھوٹے چھوٹے حصے کر لیں۔ جیسے چھت پر چڑھنے کے لیے آپ کو ایک ایک سیڑھی سے گزرنا پڑتا ہے تبھی آپ چھت پر پہنچ پاتے ہیں۔ اسی طرح بڑا مقصد حاصل کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات کریں۔ اس سے آپ اس عزم کو حاصل کر پائیں گے۔

یاد رکھیں کہ ماحول جتنا بھی خراب ہو، اس میں جتنے بھی منفی پہلو ہوں مگر مثبت پہلو بھی بہر حال ضرور موجود ہوتے ہیں، بات صرف ان کو ڈھونڈنے کی ہے۔ اگر آپ کبھی کسی ایسی سچوایشن میں گھر جائیں تو اپنے ذہن سے مسئلے کے حل کو نکال کر صرف ایک منٹ کیلئے اس کے منفی اور مثبت پہلوؤں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔

اگر آپ کو 10 منفی پہلو نظر آئیں گے تو یقینا 5 مثبت پہلو بھی نظرآئیں گے جو آپ کیلئے مسئلے کو سلجھانے میں معاون ہوں گے۔ منفی پہلوئوں پر بھی غور کریں اور انہیں بطور چیلنج قبول کریں تو آپ کا ذہن زیادہ بیدار اور چست انداز میں عمل پیرا ہوگا۔

ہر ایک کی زندگی میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ کوئی نہ کوئی مسئلہ ہر ایک کے ساتھ لگا رہتا ہے، کیونکہ اس دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ جسے سب کچھ ملا ہو، ہر کسی کو کوئی نہ کوئی مسئلہ یا کوئی نہ کوئی شکایت ضرور ہے،

اس لیے یہ سوچیں کہ آپ اس کشتی کے اکیلے سوار نہیں ہیں۔ اس طرح کے حالات و واقعات اور بھی بہت سے لوگوں کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ اس لیے اپنی صحت خراب نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیے: کامیابی کا راز

مشکلات اور پریشانیوں سے لڑنے کے لیے سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہے بہتر سوچ اور مثبت خیال، جتنا آپ اپنے آپ کو مثبت اور بہتر سمجھیں گے ویسے ہی نتائج آپ کی صحت اور زندگی پر نظر آئیں گے اور آپ خوش و خرم زندگی بسر کریں گے، دوسرے لوگ بھی آپ کی صحبت میں خوش رہیں گے۔ اس مثبت انداز فکر کو اپنانے کے لیے آج سے ہی بلکہ ابھی سے ہی کوشش شروع کر دیں، قدرت بھی آپ کا ساتھ دے گی۔

اپنے آپ کو تبدیل کریں

مثبت سوچ کو اپنانے کے لیے آپ کو سب سے پہلے اپنے رویہ اور طرز عمل دونوں میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔ کیونکہ خوشی کوئی ایسا عنصر نہیں ہے کہ جسے آپ ہر طرز عمل اپنا کر حاصل کرلیں گے۔اس مقصد کیلئے آپ اپنی زندگی کے وہ حالات و واقعات یاد کریں کہ جس نے آپ کی شخصیت کو موڑنے میں اہم کردار ادا کیا، آپ کو خوشی سے روشناس کروایا اور آپ کو پسندیدہ شخصیت بننے میں مدد دی۔

ان واقعات میں آپ کی دیرینہ دوست سے ملاقات، اپنے پسندیدہ مقام یا شہر کی طرف سفر یا تعلیمی میدان میں کامیابی وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ یہ حالات و واقعات آپ کو اپنا طرز عمل اور رویہ تبدیل کرنے میں معاون ہوں گے۔

نیند اورکھانا

تھکن اور بھوک دو ایسی چیزیں ہیں کہ جو خوشی کا احساس ختم کر دیتی ہیں۔ اگر آپ نیند پوری نہیں کرتے تو آپ ذہنی الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ نیند کی کمی آپ کی قوت فیصلہ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی یعنی منفی اثرات پیدا کرتی ہے، اگر آپ نے نیند پوری لی ہے اور سیر شکم ہیں تو آپ کی سوچنے سمجھنے اور جانچنے پرکھنے کی صلاحیت پوری طرح بیدار ہوتی ہے جو ایک مثبت پہلو ہے۔

ایک ریسرچ کے مطابق عدالتوں کے جج صاحبان لنچ سے پہلے صرف30فیصد لوگوں کو پیرول یا ضمانت پر رہائی دیتے ہیں جبکہ لنچ کے بعد وہ سیر شکم ہوتے ہیں تو یہی تناسب 30 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہوجاتا ہے۔ آپ بھی اپنے کھانے اور سونے کی عادت کو درست طریقے پر ڈال کر مثبت رویے کا حصول ممکن بناسکتے ہیں۔

نئے لوگوں سےمیل جول اور دوستی

کسی بھی چیز کی زیادتی اچھی نہیں ہوتی، اور ایک ہی چیز کے بار بار استعمال سے انسان بور ہو جاتی ہے، اسی طرح ماحول کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہم نئے نئے لوگوں سے میل جول بڑھائیں اور نئے دوست بنائیں۔ کیونکہ ہر مسئلے پر ہر دفعہ ایک ہی قسم کے لوگوں سے بات چیت کرنے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو ہمیشہ وہی گھسے پٹے جملے اور خیالات سننے کو ملیں گے۔

ہر دفعہ ایک ہی قسم کے لوگوں سے ایک ہی قسم کی گفتگو بوریت پیدا کر دیتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے گفتگو کریں جن سے آپ نے پہلے صلاح مشورہ نہ کیا ہو۔ اس مقصد کیلئے آپ اپنے سے کمر عمر، زائد العمر، اپنی پروفیشنل فیلڈ اور اسٹیٹس سے کم یا زیادہ حیثیت کے حامل لوگوں سے گفتگو کرسکتے ہیں۔

اس سے آپ کو یقینا ایسے کئی نکات سے آگاہی حاصل ہوگی کہ جن کے بارے میں آپ پہلے بالکل نہیں جانتے تھے۔اس طرح کی نئی معلومات یقینا آپ کیلئے ممدو معاون ثابت ہوں گی۔اگرآپ کسی محفل میں شریک ہوں تو چھپ کر اور کنارے لگ کر مت بیٹھے رہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ ملیں جلیں‘ ان کے ساتھ گفتگو کریں اور ہمیشہ نئے لوگوں سے مل کر ان کو دوست بنائیں ان سے رابطے میں رہیں۔

وقت کا استعمال

بہترین زندگی کا انحصارآپ کی اپنے وقت کو درست استعمال کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ کچھ لوگ اپنے وقت کی بالکل پروا نہیں کرتے اس لیے زندگی بھی ان کی زیادہ پرواکرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ مگر جو لوگ وقت کا بہتر مصرف جانتے ہیں وہ زندگی برتنا بھی جانتے ہیں۔ وہ لوگ اپنی جذباتی اور سماجی زندگی میں بہترین ہوتے ہیں۔

وقت کا استعمال ہی آپ کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے یا پھر تنزل کی طرف، زندگی ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں اس لیے زندگی کو اتنا مصرف بھی نہ کیجیےکہ آپ کے پاس کسی بھی طرح سوچنے کا وقت ہی نہ ہو، نہ ہی اتنا فارغ رہیے کہ اچھا سوچتے سوچتے منفی سوچنا شروع کر دیں۔

فارغی اچھی نہیں ہوتی کیونکہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے اور پھر اس گھر میں ایسے خیالات بھی بن سکتے ہیں جو شیطان چاہے گا، شیطان کو ہرانے کے لیے اپنے وقت کو مثبت بنائیے۔ فارغ رہ کر سوچ کی عادت ترک کر دیں اگر سوچنا ہی ہے تو کوئی بہتر خیال سوچیں۔

ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا خاتمہ

آج کے زمانے میں سب سے بری بیماری ذہنی دباؤ ہے۔ ذہنی دباؤیا ٹینشن قوت فیصلہ اور صحت کا دشمن ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی قسم کے برے حالات کو بدترین بناسکتا ہے اور خاص طور پر حافظے اور ذہنی صلاحیتوں پر منفی انداز میں اثر انداز ہونے کی قوت سے مالا مال ہوتا ہے۔ اس لیے خود کو ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مثبت سوچ کی طرف مائل کرنے کی پریکٹس کریں۔

ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ جو لوگ خود کو یہ سکھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ سردرد، کمر درد اور دیگر کئی قسم کے عارضوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ دباؤ یا پریشانی کی بنیادی وجہ تلاش کریں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ظاہری طور پر آپ جس چیز کیلئے پریشان ہیں باطنی طور پر مسئلہ وہ نہ ہو۔

مثلاً اگر آپ نے کوئی پریڈینٹیشن دینی ہے اور آپ دباؤ میں ہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ کا مسئلہ پریزینٹیشن نہ ہو بلکہ آپ اس لیے پریشان ہوں کہ آپ کا باس آپ سے مطمئن ہوگا یا نہیں۔اس طرح اگر آپ پریشانی کی بنیادی وجہ تلاش کرلیں تو اس کا حل ڈھونڈنا آسان ہوجائے گا۔

ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کے حوالے سے آپ ہماری تحریر ڈپریشن کیا ہے، ڈپریشن کی علامات، وجوہات اور علاج پڑھ سکتے ہیں۔

اندیشے اور تشویش سے نجات

منفی سوچ میں اندیشے سرفہرست ہوتے ہیں۔ اندیشے ہماری خود اعتمادی کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔آج کے دور میں اکثر لوگ اس مرض کا شکار ہیں، اس مرض میں لوگوں کے ذہن میں خوف بیٹھ جاتا ہے۔ یہ خوف بے حد پریشان کن ہوتاہے۔ اس کی سب سے بری بات یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے خیالات کوخود ہی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوپر سے وہ پرسکون نظر آنا چاہتا ہے مگر اس کے اندر خوف (اندیشے اور تشویش جیسے محرکات) بڑھتے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: حسد کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے

اکثر لوگ اچھے کاموں کی طرف سے اس لیے منہ موڑ لیتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان کی عمر موزوں نہیں رہی یعنی جیسے اب بڑھاپے میں کیا تعلیم حاصل کرنا‘ یہ ایک منفی سوچ ہے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ علم حاصل کرو”مھد سے لحد تک“ ماہرین نفسیات بھی مانتے ہیں کہ سیکھنے اور سمجھنے کا عمل مرتے دم تک جاری رہتا ہے۔ ذہن نشین رکھیں کہ بسا اوقات بہت سی صلاحیتوں کا ظہور کافی عمر گزر جانے کے بعد ہوتا ہے۔

بہت سے کام بہت سے لوگ صرف اس منفی سوچ کی وجہ سے نہیں کر پاتے کہ ہمارے پاس اس کام کیلئے سرمایہ اور وسائل نہیں یا ہمارے پاس ویسی توانائی نہیں جو اس کام کی تکمیل کیلئے ضروری ہے ایسی منفی سوچ احساس محرومی کو بڑھاتی ہے اور ہم موجود وسائل کو بھی اپنے کام کیلئے بروئے کارنہیں لاپاتے

لہٰذا اس سوچ کو بھی بدلنا ازحد ضروری ہے۔اس کے علاوہ جسمانی معذوری بھی ایک بڑے اندیشے کے طور پر دیکھنے میں آتی ہے۔ یعنی معذور افراد میں منفی سوچ زیادہ پائی جاتی ہے اور اگر دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو منفی سوچ بذات خود ایک بڑی معذوری ہوتی ہے۔

اکثر لوگ تعلیم کی کمی کی وجہ سے بھی منفی سوچ کی زد میں رہتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تعلیم صرف وہ ہی نہیں جو سند وغیرہ کی محتاج ہے بلکہ تعلیم ذہنی نشوونما کا نام ہے۔ کم تعلیم یافتہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ سند کے بغیر بھی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔سعادت حسن منٹو کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ تعلیمی طور پر کوئی سند یافتہ نہیں تھے مگر وہ دنیا کے بااثر ادیب بنے۔

musbat soch aur manfi soch ke zindagi per asrat

آخری بات

کسی بھی شعبے میں کامیابی کے لیے مثبت سوچ اور رویے کا کردار بنیادی ہے۔ کامیابی کا آغاز مثبت سوچ اور رویے سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیشہ مثبت سوچیں۔ کیونکہ سوچ آپ کے کنٹرول میں ہوتی ہے آپ مثبت بھی سوچ سکتے ہیں اور منفی بھی۔

لہذا دھیاں سے سوچئے، کیونکہ جیسا آپ سوچیں گے ویسا ہی ہو جائے گا۔ اس لیے اگر اچھا نہیں سوچ سکتے تو کم از کم برا تو نہ سوچیں۔ ہر خرابی میں خیر کا پہلو تلاش کریں، اور جونہی کوئی منفی خیال آئے اسے فوراً مثبت میں بدل دیں۔ انشاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

مثبت سوچ کے حوالہ سے اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں