محنت میں عظمت ہے ، کامیابی کا راز محنت میں پوشیدہ ہے

کامیابی ہر اس شخص کو ملتی ہے جو محنت کرتا ہے۔کوئی بھی کامیابی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوا کرتی۔ انسان محنت کرئے تو کامیابی اس کے قدم چومتی ہے، کیونکہ محنت کامیابی کی کنجی ہے۔

ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے سارے عقلمند اور دانا لوگ اکٹھے کئے اور اُن سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ ایک ایسا نصاب ترتیب دو جس سے میرے ملک کے نوجوانوں کو کامیابی کے اصولوں کا پتہ چل جائے، میں ہر نوجوان کو اُس کی منزل کا کامیاب شخص دیکھنا چاہتا ہوں۔

یہ دانا لوگ مہینوں سر جوڑ کر بیٹھے اور ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھ کر بادشاہ کے پاس لائے۔ کتاب اپنے آپ میں ایک خزانہ تھی جس میں کامیابی کیلئے اصول و ضابطے، حکمت و دانائی کی باتیں، کامیاب لوگوں کے تجربات و قصے اور آپ بیتیاں و جگ بیتیاں درج تھیں۔

بادشاہ نے کتاب کی ضخامت دیکھتے ہی واپس لوٹا دی کہ یہ کتاب نوجوانوں کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، کیونکہ اسے پڑھتے پڑھتے ان کی عمریں بیت جائیں گے اور وہ اس کتاب میں دیئے گئے کن کن اصولوں پر عمل کریں گے اس لیے جاؤ اور اسے مختصر کر کے لاؤ۔

یہ بھی پڑھیے : یقین کیا ہے، کامیابی اور ناکامی میں یقین کا کردار

یہ دانا لوگ کتاب کو ہزاروں صفحات سے مختصر کر کے سینکڑوں صفحات میں بنا کر لائے تو بھی بادشاہ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اور کہا کہ مزید مختصر کر کے لاؤ، یہ لوگ دوبارہ کتاب کو سینکڑوں صفحات سے مختصر کر کے بیسیوں صفحات کی بنا کر لائے تو بھی بادشاہ کا جواب انکار میں ہی تھا۔

بادشاہ نے اپنی بات دہراتے ہوئے اُن لوگوں سے کہا کہ تمہارے یہ قصے کہانیاں اور تجربے نوجوانوں کو کامیابی کے اصول نہیں سکھا پائیں گے۔ آخر کار مہینوں کی محنت اور کوششوں سے مملکت کے دانا لوگ صرف ایک جملے میں کامیابی کے سارے اصول بیان کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اور وہ جملہ یہ تھا۔

"بغیر محنت کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔”

پس اس جملے کو کامیابی کا سنہری اصول قرار دیدیا گیا۔ اور طے پایا کہ یہی اصول ہی ہمت اور جذبے کے ساتھ کسی کو کامیابی کے ساتھ منزل کی طرف گامزن رکھ سکتا ہے۔

بعض نوجوان آسان طریقوں سے نوکری حاصل کر لینے کو ہی کامیابی تصور کر لیا کرتے ہیں۔ پھر سالوں کے بعد کام کی زیادتی اور تنخواہ کی کمی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔ تو کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟ کیوں کہ انہوں نے بغیر محنت کے حاصل ہونے والی کامیابی کی خواہش کی تھی۔

اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ: کامیابی کیلئے منتخب کئے ہوئے آسان اور مختصر راستے (شارٹ کٹس) ہمیشہ کم فائدے اور کم لذت دیا کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس جو لوگ محنت اور مشقت کے ساتھ راتوں کو جاگ جاگ کر کام کیا کرتے ہیں اُن کی آمدنیاں اور فوائد تنخواہوں سے ہزار ہا درجے اچھی ہوا کرتی ہیں اور وہ ایک بہتر زندگی جیا کرتے ہیں۔

دنیا میں کسی بھی انسان نے سفارش اور رشوت سے وہ ترقی حاصل نہیں کی جو محنت سے حاصل کی، ورنہ دلی کا کوئی عام سا لڑکا کبھی شاہ رخ خان نہ بنتا اور امیتابھ بچن کا بیٹا پندرہ سال سے فلموں میں آنے کے باوجود اسٹار نہ بن سکا، ایسا نہیں ہوتا، ہاں یہ ضرور ہے کہ سفارش یا رشوت کے بل بوتے پر کوئی باپ اپنے بیٹے کو میدان تک تو پہنچا دے گا لیکن وکٹ پر کھڑے ہوکر بلا اسے خود ہی گھمانا ہوگا اور اس وقت قسمت سفارش دیکھ کر نہیں آتی، آپ کے پاس محنت سے آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے : مثبت اور منفی سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات

تاریخ گواہ ہے کہ ہر عظیم مؤجد، شخصیت، کاریگر یا عالم نے اپنی راحت و آرام والی زندگی کو فنا کر کے ہی کامیابیاں حاصل کیں۔ تھامس ایڈیسن ایسے لوگوں میں سے ایک مثال ہے جس نے بلب کی موجودہ شکل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کرنے کیلئے ایک ہزار مرتبہ کوششیں کیں۔ اگر وہ اس قانون (جان لو کہ بغیر محنت کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوا کرتی) پر اعتقاد رکھنے والے نا ہوتا تو شاید دس بار ناکامیوں کا منہ دیکھنے کے بعد اپنے نظریئے کو سمیٹ لیتا۔

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اسلام پر لانے کیلئے کتنی کوششیں کیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوۃ حق کو لوگوں تک پہنچانے کیلئے کتنی اذیتیں اور تکلیفیں اُٹھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے کیسے صبر کیئے؟ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسی نیند کو جانتے تک بھی نہیں تھے جس نیند سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں، اور اسی بے آرامی میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نہایت ہی شفقت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کرتی تھیں: آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) آرام کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ سو کیوں نہیں جاتے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اے خدیجہ، نیندیں تو اب چلی گئیں۔ جی ہاں، یہ ہمت و استقامت اور اللہ پر یقین اور بھروسے کی داستان ہے۔ اور اسی کٹھن محنت کے نتیجہ میں ہی تو کامیابی اور فلاح ملا کرتی ہے۔

عمر بن عبدالعزیز سے جب ان کے اہل خانہ کہتے کہ ہمارے لئے تھوڑی سی فراغت نہیں نکالو گے؟ تو وہ کہتے تھے: کیسی فراغت ، کیسی فرصت اور کیسا آرام؟ اب تو شجرۃ طوبیٰ (جنت میں ایک درخت کا نام) کے نیچے بیٹھ کر ہی آرام ملے گا (یعنی جنت میں جا کر ہی آرام نصیب ہوگا)۔

امام احمد بن حنبل کی سیرت بیان کرتے ہوئے ابی زرعۃ لکھتے ہیں کہ: احمد (بن حنبل) دس دس لاکھ احادیث یاد رکھتے تھے۔ تو کیا یہ دس لاکھ احادیث سو کر اور عیش و آرام سے یاد ہو جاتی تھیں؟ محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کا ہمارے پاس سے ایسے گزر ہوا کہ انہوں نے اپنی جوتیاں ہاتھوں میں اُٹھائی ہوئی تھیں اور وہ بغداد کے گلی کوچوں میں ایک درس سے نکل کر دوسرے درس میں جانے کیلئے بھاگتے پھرتے تھے۔

سندر انڈیا کے علاقے چنائی میں رہنے والے ایک عام سے لڑکے تھے، کوئی بات ایسی خاص نہ تھی جو انھیں عام لڑکوں سے جدا کرتی، گھر کے حالات بھی کوئی بہت زیادہ اچھے نہیں تھے، ان کے والد ایک چھوٹی سی کمپنی میں الیکٹریکل انجینئر تھے، بہت غریب نہیں تھے وہ لوگ، لیکن ایک اسکوٹر خریدنے کے لیے بھی سندر کے والد کو تین سال تک پیسے جوڑنے پڑے تھے۔

سندر کے والد نے اپنے بیٹے کے ساتھ ایک اچھی بات کی، دن بھر جب وہ کام کرکے واپس آتے تو تھکن کی شکایت نہیں کرتے کہ سارا دن انھیں بھاری مشینوں کے ساتھ کام کرنا پڑا بلکہ وہ اپنے بیٹے کو یہ بتاتے کہ زندگی میں انھیں کیا چیلنج ملے اور انھوں نے ان کا کس طرح سامنا کیا۔ اس سے سندر کو زندگی کی مشکلات یا ان کا حل ڈھونڈنا ایک گیم جیسا لگنے لگا نہ کہ امتحان جیسا، جسے آپ جوش سے کھیلتے ہیں ڈر کر محض پار کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔

سندر کے والد اس سے بھی مشورہ کرتے کہ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ پھر وہ سندر کو پانچ منٹ اکیلے سوچنے کو چھوڑ دیتے اور کہتے اب تم اس کا حل نکالو جس سے ان میں لیڈر شپ کوالٹی اور سیکھنے کی استعداد پیدا ہوتی، چاہے سندر کا بتایا ہوا حل درست نہ بھی ہوتا پھر بھی ان کے والد ان کی ہمت افزائی کرتے جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے : خوشی کیا ہے اور کیسے حاصل ہوتی ہے؟

سندر کے والد نے انھیں یہ بھی سکھایا کہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی اہمیت سمجھو، اپنی یادداشت کو بہتر بنانے کی کوشش کرو جس پر سندر نے بچپن سے ہی کام کیا، ان کے والد کسی بھی وقت، کسی بھی رشتے دار کا فون نمبر پوچھ لیتے اور وہ انھیں یاد ہوتا اسی لیے انھیں زندگی میں یاد کیا کوئی نمبر کبھی نہیں بھولا۔

دماغی محنت کے ساتھ وہ جسمانی محنت بھی کرتے، کرکٹ کھیلتے اور اس میں اپنی پوری جان لگادیتے، اسی لیے وہ اپنے اسکول کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی تھے، سندر میں کچھ بہت خاص نہیں تھا لیکن ان کے والد نے انھیں خاص بننے کا طریقہ سمجھایا جو محنت ہے اور انھیں اعتماد دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، خود حالات بہت اچھے نہیں تھے لیکن پھر بھی اپنے دونوں بیٹوں کو انڈیا کے بہترین انجینئرنگ کالج میں بھیجا۔

سندر نے انجینئرنگ مکمل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالر شپ پر امریکا آگئے۔ انھوں نے یہاں دو ماسٹرز کیے اور پھر اپنے کیریئر کا آغاز امریکا سے ہی کیا، 2004 میں انھوں نے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی گوگل میں کام کرنا شروع کیا لیکن سندر اس کمپنی کے ہزاروں ملازمین میں سے ایک تھے، کوئی بڑی یا خاص پوزیشن نہیں تھی لیکن انھوں نے محنت، اعتماد اور مسائل کا سامنا کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی اپنی خوبیوں کو اور جلا بخشی۔

آج 2015 میں پوری دنیا سندر کا نام لے رہی ہے۔سندر پچھائی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی گوگل کے CEO ہیں، ان کی نیٹ ورتھ اس وقت ڈیڑھ سو ملین ڈالرز ہے اور دنیا کے ٹاپ ٹین اسٹرانگ سی اوز میں سے ایک ہیں۔

آج ان کا چرچا دنیا بھر میں ہے لیکن آج بھی جب وہ کسی بڑی میٹنگ میں ہوتے ہیں اور کسی مسئلے میں پھنس جاتے ہیں تو وہ کمرے سے پانچ منٹ کے لیے نکل جاتے ہیں اور پھر اس کا حل لے کر واپس آتے ہیں، اس پانچ منٹ میں وہ وہی بچہ ہوجاتے ہیں جو جانتا ہے کہ محنت کریں تو قسمت بھی آپ کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہمارے ہر بچے میں ’’سندر‘‘ موجود ہے، اسے ختم نہ ہونے دیں، اپنے بچوں کو سمجھا دیں کہ آج ’’سندر‘‘ وہاں ہوسکتا ہے تو کل تم کیوں نہیں؟؟

چاہے آپ کے وسائل نہ بھی ہوں پھر بھی بچوں کو یہی یقین دلانا چاہیے کہ کل تم دنیا کے سب سے کامیاب انسان بنوگے، تم کو بڑے ہوکر نوکری صرف اس لیے نہیں کرنی ہوگی کہ اپنا گھر چلاؤ بلکہ اس لیے کہ آج محنت کرنی ہے تاکہ آنے والے کل میں دنیا کو بدل سکو، اگر بچہ خود یہ سوال کرے کہ میں یہ سب کیسے کرسکتا ہوں؟ تو اسے جواب دیں کہ جیسے سندر پچھائی نے کیا۔

راجر فیڈرر دنیائے ٹینس کے بے تاج بادشاہ ہیں، ان کی ٹینس کورٹ میں مہارت کے سبھی معترف ہیں۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ وہ ایک وقت میں کورٹ میں بطور بال بوائے کام کرتے تھے۔انہوں نے اپنے فنی کئیرئیر کاآغازاپنے آبائی علاقے میں بیسل ٹورنا منٹ میں بطور بال بوائے کے طور پر کام کیا،جو سوئس انڈورز میں کھیلے گئے۔اسکے بعد وہ عام بچوں کی طرح آرمی میں بھی گئے ۔

راجر فیڈرر نے 1998 میں پروفیشنل ٹینس کھیلنا شروع کی اور 2002 سے لے کر نومبر 2014 تک وہ مسلسل دنیا کے دس بہترین ٹینس کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل رہے۔اور اس وقت عالمی رینکنگ میں دوسری پوزیشن پر ہیں۔

ابو حاتم الرازی کہتے ہیں کہ میں نے علم کے حصول کیلئے ڈھائی ہزار میل کا پیدل سفر کیا۔ اور اسی طرح ماضی و حاضر کی تاریخ کے صفحات پلٹتے جائیے، آپ دیکھیں گے کہ کامیاب لوگوں نے اپنی زندگی کے اوائل اور جوانی میں کس قدر کٹھن اور سخت محنت کی، مگر اس کے بعد وہ اپنی محنتوں کے ثمر سے بھی تو خوب بہرہ ور ہوئے۔

آج تاریخ جن لوگوں کے ناموں سے سجی ہوئی ملتی ہے اُن کی زندگیاں محنت سے عبارت ہیں، اور پھر اسی محنت کے ثمرات سے انہوں نے دنیا و آخرت میں (بإذن الله) کامیابی اور فلاح پائی۔

کامیابی مسلسل محنت اور جدوجہد سے ملتی ہے۔ مسلسل جدو جہد سے مراد ہے مسلسل لگے رہنا۔ اور ’’اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید(مایوس) نہ ہونا‘‘۔انسانی فطرت ہے کہ انسان جلد اکتا جاتا ہے یا مایوس ہوکر جدوجہد ترک کردیتا ہے ۔ انسان کی یہی جلد باز فطرت اسے کوئی بھی کام استقلال کے ساتھ نہیں کرنے دیتی۔

انسان جب کسی کام کو شروع کرتا ہے تو بہت بہت بڑی امیدیں اس کے ساتھ وابستہ کرلیتا ہے۔ اب چونکہ انسان کی فطرت میں جلد بازی کا عنصر ہے اس لیے وہ اپنے کام یا اعمال کا نتیجہ بھی فوری طور پر دیکھنا چاہتاہے۔ چنانچہ جب فطرت اپنے تقاضوں کو پورا کرتےہوئے اس کےکام کے نتائج کوقدرےتاخیر کے ساتھ ظاہرکرتی ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے۔

اس کائنات کی عمر ، اس میں موجود ستاروں ، سیاروں اور کہکشائوں کی تخلیق اور ان کے اندر پایا جانے والا وہ عظیم الشان نظامِ قدرت جو ان کو سنبھالتا ہے نہایت صبرو تحمل کے ساتھ اپنی دھن میں لگا ہوا ہے۔ کسی چیز کو کہیں جانے کی جلدی نہیں ۔انسان اس دنیاوی زندگی کے لیے بہت دوڑ دھوپ کرتا ہے، حالانکہ اگر وہ صبر کے ساتھ ایک کام میں لگا رہے تو قدرت پر واجب ہوجاتا ہے کہ اسے کامیابی عطا کرے۔

بعض اوقات کسی انسان کی کامیابی قدرت کی جانب سے اس لیے بھی مؤخر کردی جاتی ہے کہ یا تو اسے اس کامیابی کے بدلے کچھ اور بڑی چیز عطا کرنا مقصود ہوتی ہے یا اس کام میں اس انسان کے لیے خیر نہیں ہوتی۔ اسی لیے قرآن پاک میں صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے: ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔

مسلسل جدو جہد درحقیقت انسانی صبرو تحمل کا امتحان ہوتی ہے۔ قرانِ پاک نے کسی بھی طرح کی محنت کے لیے ایک بنیادی اُصول مقررکیا ہے اوریہ ہے کہ "انسان کے لیے کوشش کے سوا کچھ نہیں” انسان مسلسل محنت کرسکتاہے، نتائج کی ذمہ داری اُس کی نہیں ہے۔ایک حدیثِ اقدس کے مطابق ’’جو جما رہا وہ اُگ گیا‘‘۔ یعنی جس نے مسلسل محنت کی وہ ضرور کامیاب ہوا۔

دنیا میں بہت سے افراد ایسے ہیں کہ وہ کسی کام کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں ، پھران کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کام کو کریں، پھر اسباب اور ذرائع پرغور کرکے انہیں بھی اکٹھا کر لیتے ہیں اور اس کام کا آغاز ہو جاتا ہے۔چند دن تک تو وہ کام بہت خوش و خروش سے کیا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس میں کمی واقعی ہوجاتی ہے ۔

پہلے سا شوق نہیں رہتا اور پھر ایک دن آتا ہے جب یہ تمام اسباب و وسائل اپنے مطلوبہ نتائج پیدا کرنے کی بجائے سرد مہری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان پر گرد جمنے لگتی ہے اور جو کام بہت خوش و خروش سے شروع کیا گیا تھا۔ اس کا انجام بجز خسارے کے اور کچھ نہیں نکلتا۔ یہ تعمیری کام مطلوبہ نتائج تک نہیں پہنچتے ! آخر کیوں ؟

اس لیے کہ کسی بھی کام کو اس کے مطلوبہ نتائج تک پہنچانے کے لیے صرف یہی ضروری نہیں کہ انسان میں شوق اور ہمت ہو، ایک بہت ضروری چیز تسلسل کے ساتھ محنت کرنا بھی ضروری ہے۔ جو لوگ کسی کام کو تسلسل اور محنت کے ساتھ کرتے رہتے ہیں وہ اپنی ناؤ کو ایک دن ضرور ساحل تک پہنچا کرہی رہتے ہیں ـ
انسان دائرہ شریعت میں رہ کر اپنی روزی کمانے کے لیےجو اور جیسی بھی محنت کرے خواہ وہ محنت جسمانی ہو یا دماغی، اسلام اس کی اجازت دیتا ہے اور اجازت ہی نہیں دیتا ہے بلکہ محنت کر نے پر ابھارتا ہے اور جو لوگ اپنا پسینہ بہا کر اپنی روٹی حاصل کرتے ہیں ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

اسلام ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو بغیر محنت کے دوسرو ں کے سہارے اپنا پیٹ پالتے ہیں،اسلام جسمانی اور معمولی محنت کے کام کرنے والوں کووہی بلنددیتا ہے۔ جو مملکت کی بڑی سے بڑی شخصیت کو حاصل ہوتا ہے اور یہ حق ان کو محض نظری اور قانونی طور پر نہیں دیا گیا ہے بلکہ اسلام کے اصلی نمائندوں نے اپنے عمل اور اپنی سیرت سے اس کا ثبوت دیا ہے۔

انبیا ء کرام جو اپنے اخلاق و کردار اور عزت و شرافت کے اعتبار سے پوری انسانیت کا جو ہر ہیں انہوں نے خود محنت اور مزدوری کی ہے اوردوسروں کی بکریاں چرا کر اور گلہ بانی کر کے روزی کمائی ہے۔

محنت کی عظمت حدیث مبارکہ کی روشنی میں

اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔ ( مشکٰوۃ ص24)

حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے اپنی روزی کماتے تھے اسی طرح حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مزدوری کا قرآن پاک میں جو ذکر ہے اس کا ذکر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے آٹھ یادس برس تک اس طرح مزدوری کہ کہ اس پوری مدت میں وہ پاک دامن بھی رہے اور اپنی مزدوری کو بھی پاک رکھا۔ (مشکٰوۃ ص 252)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چند انبیاء کرام ہی کااُسوہ پیش نہیں کیا بلکہ ایک حدیث میں فرمایا : خدا نے جتنے انبیاء بھیجے ہیں ان سب نے بکریاں چرائی ہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔ فرمایا ہاں میں بھی چند قیرا طوں کے عوض اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ (مشکٰوۃ ص 258 باب الاجارہ)

ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی محنت کی کمائی۔ (مشکٰوۃ ص 242)

حدیث میں ہے کہ ایک انصاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دست سوال دراز کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تمہارے پاس کوئی سامان ہے ؟جواب دیا ایک کمبل اور ایک پانی پینے کا پیالہ ہے۔ فرمایا اسے لے آؤ وہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ اس کو کون خریدتا ہے۔ ایک صحابی نے اس کی قیمت ایک درہم لگائی۔

یہ بھی پڑھیے: امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا وظیفہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس سے زیادہ میں کوئی قیمت دے سکتا ہے ؟ایک دوسرے صحابی دو درہم قیمت دینے پر تیار ہو گئے۔ آپ نے یہ چیزیں ان کے حوالہ کیں اور دو درہم ان سے لے کر انصاری کو دے دئیے کہ ایک درہم کی کلہاڑی لے کر آؤ اور ایک درہم کا غلہ خرید کر گھر میں رکھ دو۔

انہوں نے اس کی تعمیل کی جب وہ کلہاڑی لے کر آئے اور ایک درہم کا غلہ خرید کر گھر میں رکھ دیا تو حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس کلہاڑی میں دستہ لگایا اور ان کے ہاتھ میں دے کر فرمایا کہ جاؤ ا س سے لکڑی کاٹ کاٹ کر بیچو، پندرہ دن تک تم میرے پاس نہ آنا،

پندرہ دن کے بعد جب وہ حاضر خدمت ہوئے تو پوچھا کیا حال ہے؟ عرض کیا ا س سے میں نے دس درہم کمائے ہیں، جن میں سے چند درہم کے کپڑے خرید ے اور چند درہم سے غلہ وغیرہ خریدا ہے۔ آپ نے فرمایا کیا بھیک مانگ کر قیامت کے دن ذلت اُٹھانے سے یہ بہتر نہیں ہے۔ (مشکٰوۃ ص 163)

ایک دن حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اپنے صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرماتھے کہ ایک قوی اورمضبوط نوجوان کو دیکھا گیا کہ وہ ذکر وفکر کی نشست میں بیٹھنے کی بجائے تیزی سے بازار کی جانب رواں دواں ہے۔صحابہ کرام نے اس پر تاسف کا اظہار کیا اورکہا کہ کاش یہ شخص کسب میں اتنی عجلت کی بجائے ذکر میں مشغول ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے : کامیابی کا راز خود اعتمادی میں ہے

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسانہ کہوکیونکہ اگر کوئی شخص اپنی اپنے والدین اوراپنے بال بچوں کی کفالت کی غرض سے ایسا کرتا ہے تو یہ بھی اللہ رب العزت کے راستے میں جدوجہد ہی کا ایک حصہ ہے۔

آپ نے یہ بھی ارشادفرمایا ہے کہ سچا اوردیانت دار تاجر قیامت کے دن صدیقین اورشہدا کے ساتھ اٹھے گا اوریہ بھی ارشاد ہے کہ (اپنے) ہاتھ سے کسب کرنے والا مسلمان اللہ کا حبیب ہے ۔نیز یہ بھی ارشادہے کہ ہاتھ سے کمائی کرنے والے کامال سب سے زیادہ حلال اورطیب ہے۔

صحابہ کرام رزق حلال کے لیے ہر قسم کی محنت و مشقت کرتے تھے۔ مختلف پیشوں کے ذریعہ سے اپنی روزی کماتے مثلاً حضرت خباب بن ارت لوہار تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود چرواہے تھے، حضرت سعدبن ابی وقاص تیر سازتھے، حضرت زبیر بن عوام درزی تھے، حضر ت بلا ل بن رباح گھریلو نوکر تھے، حضر ت سلمان فارسی حجام تھے۔ حضرت عمر و بن العاص قصائی تھے۔حضر ت علی کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے۔

حضرت ابوبکر کپڑا بیچتے تھے۔ خلیفہ بن جانے کے بعد بھی وہ کپڑوں کی گٹھڑی کمر پر لاد کر گھر سے نکلے تو راستہ میں حضرت عمر اور ابو عبیدہ ملے انہوں نے کہا اب آپ یہ کام کیسے کر سکتے ہیں آپ تو اب مسلمانوں کے معاملات کے والی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا اپنے بال بچوں کو کہاں سے کھلاؤں ؟

ازواج مطہرات گھروں میں اُون کاتتی تھیں، کھالوں کی دباغت کرتی تھیں۔ حضرت زینب کھالوں کی دباغت کرتی تھیں۔ (اسلام کا نظام تعلیم ص52)حضرت اسماء بنت ابی بکر جانوروں کی خدمت اور جنگل سے لکڑیاں چن کر لا نے کا کام کرتی تھیں (صحیح البخاری ج 3 ص121)کچھ خواتین کھانا پکا کر فروخت کر نے کا م کرتی تھیں (صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب فاذاقضیت الصلوۃ ج1 ص128)

کچھ دودھ نکال کر فروخت کرتی تھیں۔ (ابن عبدالحکم کی سیرت عمر بن عبدالعزیز مترجم ص12۔ 13) کچھ دایہ کا کام کرتی تھیں (صحیح البخاری، کتاب الطلاق) کچھ بچوں کا ختنہ کرتی تھیں (سلطان احمد کی اسلام کا نظریہ جنس ص 251)، کچھ زراعت کرتی تھیں (بخاری ج 1 ص 554)، کچھ تجارت کرتی تھیں (بخاری ج1 ص752)، کچھ خو شبو فروخت کرتیں تھیں کچھ کپڑا بنتی تھیں (بخاری ج1 ص735)

کچھ بڑھئی کا کام کرتی تھیں (بخاری ج 1 ص736)۔ حضرت عائشہ نے زینب بنت حجش زوجہ رسولﷺ کے بارے میں فرمایا۔ ” تعمل بید ھاوتصدق ” وہ اپنی محنت سے کماتیں اور للہ کی راہ میں صدقہ کرتیں تھیں (صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ ج 3 ص554)۔

یہ بھی پڑھیے : سکون کیا ہے، ذہنی سکون کیسے حاصل ہوتا ہے؟

اسلام نے جو ذہنیت پیدا کی تھی اس کی وجہ سے اس زمانہ میں کوئی شخص بھی بے کار رہنا پسند نہیں کرتا تھا چنانچہ صحابہ میں بہت کم ایسے لوگ تھے جو کسی نہ کسی پیشہ سے وابسطہ نہ ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں یہ عام جذبہ پیدا کر دیا تھا کہ وہ کسی پر اپنا معاشی بار ڈالنا پسند نہیں کرتے تھے۔ (اسلامی قانون محنت ص140)

  • محنت کی عظمت مضمون
  • محنت میں عظمت ہے محنتی لوگ
  • کامیابی کا راز محنت میں پوشیدہ ہے

یاد رکھئیے کہ جوانی میں آرام پرستی اور آسان راستوں (شارٹ کٹس) کا انتخاب سستی،لا پروائی اور کم ہمتی کی علامت ہے۔ بے شک اسی طرز سے زندگی گزاریئے مگر یہ یاد رکھیئے کہ نا تو آپ کسی تاریخ کا حصہ بننے جا رہے ہیں اور نا ہی کسی نے آپ کو یاد رکھنا ہے۔ آپ کی زندگی ، آپ کا وجود ، آپ کا فنا ہوجانا اور آپ کی موت اس دنیا کیلئے بے مقصد اور فضول ہے۔

اللہ ہمیں خیر و برکت سے نوازے اب بھی وقت ہے کہ اُٹھ کھڑے ہوں، ہمت کے اسلحہ اور عزم کی ڈھال اُٹھا کر، تھکن کو بھلا کر محنت کے ساتھ، تاکہ آئندہ کی زندگی خوشیوں کے ساتھ گزرے اور عظمت کے ساتھ موت کا سامنا ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں