خوشی کیا ہے اور کیسے حاصل کی جاتی ہے

خوشی ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے ۔جس میں ہم اطمینان، سکون، فرحت و مسرت کی کیفیت محسوس کرتے ہیں۔خوشی کا تعلق  لوگوں کی خواہشات اور ٹارگٹس سے ہوتا ہے۔خوشی کی کوئی مادی حیثیت نہیں ہوتی یہ انسان کے اندر سے پھوٹنے والے ایک احساس کا نام ہے، جس کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔

خوشی اندرونی سکون اور اطمینان کی کیفیت کا نام ہوتا ہے۔ اور یہ اس وقت حاصل ہوتی ہےجب آپ کو وہ چیز مل جاتی ہے، جس کی آپ کو خواہش ہوتی ہے یا جب حالات و واقعات آپ کی خواہش کے مطابق ہوتے ہیں۔ اگر حالات و واقعات آپ کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتے تو پھر خوش ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔

خوشی کا پیمانہ

خوشی کا پیمانہ ہر ایک کے لیے الگ ہوتا ہے۔ ہر کوئی مختلف انداز میں اپنے لیے خوشی تلاش کرتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشی کا انحصار ہمارے گردو پیش کے حالات سے ہے۔ ایک چیز جو کسی خاص وقت میں خوشی دیتی ہے، ضروری نہیں کہ دوسری بار ملنے پر بھی وہ خوشی کا احساس پیدا کر سکے۔

بعض لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر خوش ہو جاتے ہیں۔کوئی سیر و تفریح کر کے خوش ہے تو کوئی کسی اچھے ریسٹورنٹ میں اپنی پسند کا کھانا کھا کر جھوم رہا ہے۔ کوئی محبوبہ کا پیغام پا کر خوش ہے تو کوئی امتحان میں کامیابی حاصل کر کے خوش ہے۔ کوئی دوست کی مدد کر کے خوش ہے تو کوئی انعام و ٹرافی ملنے پر خوشی سے پھولا نہیں سما رہا۔

ایک مزدور کو اگر شام کے وقت اس کی دیاڑی (مزدوری) سے پچاس،سو روپے زائد مل جائیں تو وہ خوشی سے نہال ہو جاتا ہے، دو دن سے بھوکے شخص کو اچانک اچھا کھانا مل جائے تو اس کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔شوہر آفس سے آدھا گھنٹہ پہلے آ جائے تو بیگم خوشی سے نہال ہو جاتی ہے۔

بیگم کو خوش کرنے کے آسان طریقے

بچوں کو بغیر پروگرام کے اچانک کسی تفریح جگہ پہ لے جائیں تو وہ خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے۔ اس طرح کام چور لوگ بھی صبح سے شام تک اپنے فرائض میں ڈنڈی مار کر خوش ہوتے ہیں۔ اور ایماندار لوگ صبح سے شام تک محنت کر کے حق حلال کی روزی کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

خوشی کا حصول

دنیا میں ہر فرد خوشی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ہر فرد خوشی اور سکون حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ زندگی کو خوشگوار یا ناخوشگوار بنانے کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں اور دوسروں کا اس میں معمولی سا کردار ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص ہر وقت، ہر لمحے خوش نہیں رہ سکتا۔

خوشی اور ناخوشی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اگر ناخوشی نہ ہو تو خوشی کا احساس نہیں ہوتا۔ خوشی کے حصول کی ابتداء ان عناصر کو جاننے سے ہوتی ہے جو خوشی مہیا کرتے ہیں اور جو دکھ کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے بعد ایک شخص ان عناصر سے بچتا ہے جو دکھ کا سبب بنتے ہیں اور ان عناصر کو اختیار کرتا ہے جو خوشیوں تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ یہی خوشی کے حصول کا طریقہ ہے۔

کسی دانشور نے بڑی شاندار بات کہی کہ "جو پسند ہے اسے حاصل کریں یا پھر جو حاصل ہو جائے اسے پسند کر لیں تو آپ پرسکون ہو جائیں گے”

خوشی اور کامیابی

دنیا کے زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ خوشی کا تعلق کامیابی سے ہے، یعنی جب ہم کامیاب ہوں گے تو ہم خوش ہوں۔ لیکن دیکھنا پڑے گا کہ اگر کامیابی کا مطلب مادی چیزوں کا حصو ل ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہے ان کے پاس دنیا کی ہر چیز ہوتی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ خوشی کو دولت اور کامیابی سے خریدا جا سکتا ہے۔

فرض کریں اگر آپ کے سامنے دو آپشن رکھے جاتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ آپ کو دنیا جہاں کی ساری سہولتیں اور آسانیاں دے دی جائیں لیکن خوشی اور سکون نہ دیا جائے۔ اور دوسری یہ کہ آپ کی کچھ خواہشیں پوری کر دی جائیں کچھ نہ ہوں، لیکن آپ کو خوشی اور سکون دے دیا جائے تو آپ کون سا آپشن منتخب کریں گے۔

ہمارے ملک میں بہت بڑی تعدادایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنی محنت اور کوشش سے غربت اور افلاس کو شکست دے امیری کی منازل بڑی تیزی کے ساتھ طے کی ہیں۔اب جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ آج زیادہ خوش ہیں یا اس وقت جب مال و دولت کی اتنی فراوانی نہیں تھی تو ان کا جواب ہوتا ہے جب غربت و  تنگدستی تھی اس وقت زیادہ خوشی و سکون تھا۔

انسان کی زندگی کا اصل مقصد خوشی اور سکون کا حصول ہوتا ہے۔ ہم سب زندگی میں اچھے سے اچھے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہر انسان کی انتہائی، حتمی اور آخری خواہش ہوتی ہے کہ وہ خوش و خرم زندگی بسر کرے۔ اس خوشی کے لیے وہ ہر چیز ہر کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

دولت سے خوشی کا حصول

بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا کہ پیسے سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات کسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔ پیسے سے آپ ایسی بہت سے چیزیں لے سکتے ہیں جو زندگی میں مسرت کا احساس دلانے کے لیے درکار ہوتی ہیں ۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے اور یہ بھی کہ وہ کیسے حاصل ہوا ہے۔

محنت سے کمایا ہوا پانچ روپے کا سکہ بھی جب ہتھیلی پر آتا ہے تو وہ خوشی کا احساس جگاتا ہےاور ناجائز ذرائع سے حاصل کیا جانے والا قارون  کا خزانہ، بھی سوائے خلش کے کچھ نہیں دیتا۔نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خوش رہنے اور خوش و خرم زندگی گزارنے کے لیے آپ کو ایک خاص حد تک پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر آپ کی آمدنی اس سطح سے کم ہے تو اس میں اضافہ کر کے آپ اپنے لیے مزید خوشیاں خرید سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کی آمدنی اس حد سے زیادہ ہے تو پھر اس کے بعد جیسے جیسے آمدنی بڑھتی ہے، خوشی کا احساس کم ہوتا جاتا ہےاور پھر وہ مقام آ جاتا ہے جہاں پیسے سے آپ اپنے لیے خوشیاں نہیں بلکہ پریشانیاں خریدتے ہیں۔

بعض لوگ دوسروں کو دکھاوے کے لیے ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کیریئر اور زندگی سے بہت خوش ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو چیک کرنے کے لیے صرف ایک ہی سوال کافی ہےکہ فرض کریں  اگر آپ کا دس کروڑ کا انعام نکل آئے تو آپ کیا کریں گے؟

اگر تو وہ کوئی اور کاروبار ، بزنس، یا گاڑی بنگلہ  وغیرہ کی بات کرے تو سمجھیں وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں ہے۔اور دولت ملنے کے بعد بھی خوش نہیں رہے گا۔

خوشی اور خواہشات کا تعلق

زیادہ تر لوگ اپنی خواہشوں کی تکمیل کوخوشی تصور کرتے ہیں۔جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کیونکہ کسی خاص مقصد میں کامیابی حاصل کر لینے کے بعد خوشی زیادہ دیر تک نہیں رہی، اس کی بنیادی وجہ ہے کہ انسان ایک مرتبہ اپنے ہدف کو حاصل کرلینے کے بعد نئے خواب کے پیچھے بھاگنا شروع کردیتا ہے اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

جس کی بہترین مثال آج کل کی  نوجوان نسل ہے۔ کیونکہ جب تک یہ کچھ نہیں کما رہے ہوتے ہیں تو اچھے روزگار اور اچھی سواری کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن جب یہ اپنا کیریئر بنا لیتے ہیں اور گاڑی بھی ان کے پاس آ جاتی ہے تو ان کی خواہشات بڑھ جاتی ہیں، اور وہ اپنی زندگی کو پہلے سے بھی بدتر سمجھنے لگتے ہیں۔

انسان کسی حال میں خوش نہیں ہوتا۔ جیسے ہی ایک خواب کی تکمیل ہوتی ہے۔ دوسرے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔  زیادہ حاصل کرنے کی خواہش بری نہیں لیکن کسی خاص مقصد کے حصول کو خوشی کا ذریعہ سمجھنا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔

جیسے ہی آپ کا ایک مقصد پورا ہوگا، ایک نیا ہدف سامنے آجائے گا اور آپ پرانی کامیابی  حاصل کرکے بھی اتنی خوشی حاصل نہیں کرپائیں گے۔

انسان دولت کا پچاری ہے۔ جس کی بڑی وجہ انسان کی خواہشات ہیں ،جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتی، وہ کہتے ہیں کہ ہر خواہش ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے خواہشات کا تعلق ہماری ضرورتوں سے ہوتا ہے، جوں جوں ضرورتیں بڑھتی جاتی ہیں خواہشات بھی بڑھتی جاتی ہیں،

سائیکل سے موٹرسائیکل کی خواہش، موٹر سائیکل سے کار کی، کار سے پنجارو کی، پنجارو سے ہیلی کپٹرکی، غرض دولت سے سب کچھ مل جاتا ہے۔ لیکن ایسی دولت کا کیا فائدہ کہ بندہ نہ تو آرام سے کھانا کھا سکے، نہ چائے کے کپ کو انجوائے کرسکے، نہ موسم کی خنکی کو انجوائے کر سکے اور نہ ہی اپنی فیملی میں اکھٹے بیٹھ کر انجوائے کرسکے۔

کوشش کرنی  چاہیے کہ اپنی ضرورتوں کو پورا کیا جائے اور خواہشات کے پیچھے نہ بھاگا جائے کیو نکہ ضرورتیں کم ہو سکتی ہیں لیکن خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔اور یہی خواہشات ہم سے ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیاں چھین لیتی ہیں اور ہمیں پتا ہی نہیں چلتا۔

حقیقی خوشی کیا ہے

کروڑ پتی اور ارب پتی بننے کے بعد جب لوگ اپنا مقام بنا لینے کے بعد جب اپنی کیفیت پر غور کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ ہم اندر سے خالی ہیں خوشی تو میسر ہی نہیں ۔اتنا مال و دولت بنانے کے بعد بھی ذرہ سا بھی فائدہ نہیں ہوا۔

اسی لیے تو دنیا کا امیر ترین شخص  بل گیٹس(مائیکروسافٹ کا بانی) اورزرگ برگ (فیس بک کا مالک)اپنا سب کچھ لوگوں میں بانٹ رہے ہیں۔ کیونکہ جو خوشی بانٹنے میں ہے وہ بنانے میں کہاں۔جب تک ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی، ہم مال و دولت تو بناتے جائیں گے لیکن خوشیوں سے دور ہوتے جائیں گے۔

ہمارے ملک میں ایک بڑ طبقہ ایسا ہے جس کے پاس بہت پیسہ ہے اور وہ بغیر کسی غرض کے اپنی کمائی کا ایک بڑاحصہ لوگوں کی فلاح و بہبود،خوراک، صحت اور تعلیم پہ لگا رہےہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خوشی کے راز کو پانا شروع کر دیا ہے ۔

بانٹنے والا شخص دنیا کا ذہین شخص ہے کیو نکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کاروبار شروع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے جو کسی کی ذر ے کے برابر نیکی کوضائع نہیں کرتی تو کیسے ممکن ہے کہ وہ بانٹنے والے کو سکون اور خوشی نہ دے۔

آپ اس وقت تک خوش رہتے ہیں  جب تک آپ اپنی زندگی کا کسی اور کے ساتھ موازنہ نہیں کرتے۔خوشی کسی شے کی محتاج نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ لوگ جن کے پاس دنیا جہاں کی ہر شے ہے کبھی ناخوش نہ ہوتے۔

ایک عام انسان خوش بھی ہوتا اور ناخوش بھی۔ ہنستا بھی ہے  اور روتا بھی۔ کبھی پریشانی میں رات بھر جاگتا ہے تو کھبی بے فکرہو کر لمبی  تان کر سوجاتاہے ۔جب ایک انسان ہمیشہ خوش نہیں رہا سکتا تو پھر ہمیشہ پریشان کیوں رہا جائے؟

اگر پریشانی کے اسباب موجود ہیں تو خوشی کے امکان کو بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔  اگر تلخ اور طنزیہ جملوں کو سوچ کر کڑھا جا سکتا ہے تو میٹھے بولوں کو یاد کرکے خوشی سے پھولا بھی جا سکتا ہے۔ اگر ناکامیوں کا دکھڑا سنایا جا سکتا ہے تو کامیابیوں کی شیخی بھی بگاڑی جاسکتی ہے۔

اگر ہر دن گئے کل کا ماتم کیا جا سکتا ہے توپھر ہر  آنے والے کل کا جشن بھی تو منایا جاسکتاہے سچ تو یہ ہے کہ اگر بغیر کوشش کے ناخوش ہوا جا سکتا ہے تو پھر کوشش کرکے خوش بھی تو  رہا جاسکتا ہےناں۔

خوشی کے لیے کوشش کرنا بظاہر احمقانہ سی بات لگتی ہے لیکن یہ صرف تب تک ہے  جب تک کہ نہ کی جائے۔ کوشش یہ ہے کہ روتے ہوئے بچے کو ہنسا دیا جائے۔ راستہ بھول جانے والے مسافر کو رستہ دیکھا دیا جائے۔ کسی سے کچھ کہہ لیا جائے کسی سے کچھ سن لیا جائے۔اور جو ناراض ہیں انھیں منا لیا جائے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جو لوگ اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، زیادہ تر خوش رہتے ہیں، اس لیے اکثر و بیشتر اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے وقت نکالیں،

خوشی نہ ملنے کی وجوہات:

ہمارے ہاں ناخوش رہنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم خود کو خوش رکھنے کے بجائے دوسروں کو ناخوش دیکھنے میں زیادہ مسرت محسوس کرتے ہیں۔ یعنی ہم دوسروں کی خوشیوں سے جلتے ہیں۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ اگر دنیا میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہوتی جو دوسروں کی ناخوشی سے زیادہ اپنی خوشی کی خواہش کرتے تو یہ دنیا چند سال  میں جنت بن جاتی۔

ہماری ناخوشی کی بہت سے وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم مسائل حل کرنے کے بجائے ہر وقت روتے اور کڑھتے رہتے ہیں، اور محض شکوے شکایت پر زندگی گزار دیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک عورت کے پاس ایک جن آیا اور اس نے کہا کہ تم جو بھی خواہش کرؤ گی وہ میں پوری کر دوں گا، اس نے کہا کہ مجھے دنیا کی خوبصورت ترین لڑکی بنا دو، جن نے پھونک ماری اور وہ دنیا کی خوبصورت ترین لڑکی بن گئی، دوسرے دن جن اس کی پروسن کے پاس گیا اور کہا کہ تم بھی مجھے اپنی ایک خواہش بتاؤ میں وہ پوری کر دوں گا، تو اس عورت نے کہا کہ میری پروسن کو واپس پہلی حالت پر لے آؤ، یہ ہے ہماری حالت جس کی وجہ سے ہم خوشیوں سے کوسوں دور ہیں۔

اگر کوئی ہم سے یہ سوال کرئے کہ پچھلے سال ہم کس موقع پر خوش ہوئے تھے تو ہم میں سے بہت سے سوچ میں ڈوب جائیں گے، اور شاید فوری طور پر اس سوال کا جواب نہ دے پائیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کو الجھنوں میں اتنا الجھا لیا ہے کہ ہمیں اپنی خوشی کا پل بھی یاد نہیں رہتا۔

Khushi kya hai aur kaise hasil hoti hai

اس تحریر سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

3 comments

    1. خوشی کا تعلق  لوگوں کی خواہشات اور ٹارگٹس سے ہوتا ہے۔ یہ انسان کے اندر سے پھوٹنے والے ایک احساس کا نام ہے، جس کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک تعلیم کے حصول میں کامیابی خوشی کی وجہ ہے۔ تو آپ کے لئے اصل خوشی یہی ہو گی۔ آپ ہماری تحریر کامیابی کیا ہے پڑھیں، آپ کو کامیابی اور خوشی دونوں کے بارے میں وضاحت کے ساتھ معلومات مل جائیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں