دوستی کیا ہے، سچے اور مخلص دوست کیسے بنائے جائیں۔

دوستی کی تعریف

دوستی ایک خوبصورت اور انمول رشتہ ہے۔جس نے اپنے دامن میں کائنات کے سبھی رنگ سمیٹے ہوئے ہیں۔محبت، خلوص، اعتبار، بھروسہ، شوخی، بے تکلفی، شرارت اور احترام سبھی اس کے رنگ ہیں۔ہر رشتے کا اپنا مقام و احترام ہوتا ہے۔

ہر رشتہ آپ سے الگ الگ حقوق کا متقاضی ہوتا ہے۔ والدین محبت و احترام چاہتے ہیں۔بہن بھائی کا رشتہ خلوص و بے تکلفی کا تقاضا کرتا ہے۔میاں بیوی کا رشتہ محبت و اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔اولاد کا رشتہ توجہ، محبت اور رہنمائی چاہتا ہے-

لیکن دوستی کا رشتہ یہ واحد رشتہ ہے جس میں ہر رنگ ہےہر آہنگ ہے۔محبت بھی ہے اور اعتبار بھی، بے تکلفی بھی ہے اور توجہ بھی، بھروسہ بھی ہے اور شرارت بھی، شوخی بھی ہے اور احترام بھی۔

دوستی سے متعلقہ یہی مضمون آپ رومن اردو میں بھی پڑھ سکتے ہیں

ہر رشتے میں کوئی نہ کوئی اچھا رنگ ہوتا ہے۔لیکن دوستی میں سارے رنگ ہوتے ہیں۔انسان کی زندگی میں کچھ انمول موتی ہوتے ہیں لیکن ہم ان موتیوں سے نا واقف ہوتے ہیں۔یہ موتی ہماری ویران زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں۔

زندگی میں بہت سارے لوگ آتے اور جاتے ہیں ۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی بھر رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ ان سے ایک خاص رشتہ  ایک خاص تعلق ہوتا ہےجسے  دوستی کانام دیا جاتا ہے۔

انسان کے لیے سچے دوستوں کی ضرورت اس کی دوسری ضروریات اور اس کے اپنے عز یز و اقارب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔انسان کو زندگی کے ہر ایک موڑ پرسچے اور مخلص دوست کی ضرورت پڑتی ہے۔

کبھی کبھار تو دوستوں اور رشتہ داروں میں فرق ہی محسوس نہیں ہوتا۔ اگرچہ رشتہ داروں سے خون کا تعلق ہوتا ہے لیکن دوست سے بھی تو دل کا رشتہ ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اچھا دوست ایک نعمت سے کم نہیں ہوتا۔

آپ کے بہت سے دوست ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان تمام دوستوں میں ایسے دوست انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو آپ کے ساتھ مخلص ہوں۔ اس بات کا اندازہ آپ صرف اس وقت لگا سکتے ہیں کہ جب آپ مشکل میں ہوں، اور آپ کے دوست آپ کے کام آئیں۔ یقین جانیے کہ ایسے ہی دوست آپ کی زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔

دوستی کارشتہ

دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو ہم خوداپنی مرضی سے بناتے اورنبھاتے ہیں۔ دوستی ہی ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان کی پہچان کراتا ہے ۔ دوستی کا رشتہ ہر غرض سے پاک ہوتا ہے۔ہمیشہ بچپن کے دنوں کی دوستیاں ساری عمر ساتھ دیتی اور یاد رہتی ہیں۔

ایک شخص کے دوسرے شخص پر بہت زیادہ اثرات رونما ہوتے ہیں اورانسان اپنی مزاج کے مطابق ہی کسی دوسرے انسان سے دوستی کرتا ہے۔کہتے ہیں کہ دوستی ایک بینک اکاؤنٹ کی مانندہوتی ہے۔

اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش اس میں رقم جمع کرنے کے مترادف ہے۔ جتنی رقم آپ جمع کرواتے جائیں گے۔دوستی کارشتہ (بینک بیلنس )اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ رقم جمع کیے بغیر آپ اپنے اکاؤنٹ میں سے مسلسل پیسے نہیں نکلوا سکتے۔

قدرت کا انعام

دوستی قدرت کا ایک بہت بڑا انعام اور اس کی خاص رحمت اور خاص نعمت ہے۔دوستی ایک عظیم جذ بہ ہے۔دوستی ایک احساس کا نام ہے۔کبھی نہ ختم ہونے والا احساس ۔ دوستی کا رشتہ ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک ہوتا ہے۔

دوستی کا رشتہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے زیادہ مضبوط ہوتاہے ۔جس طرح دیوارکی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دیتی ہے بالکل ا س طرح ایک دوست دوسرے دوست کوگرنے سے بچاتا ہے اور اور ہر مشکل وقت میں ایک مضبوط چٹان کی طرح اس کے ساتھ کھڑاہوتا ہے۔

دوستی میں انفرادیت

اکثر لوگ دوستی کے لیے ہم آہنگی کو اولین شرط قرار دیتے ہیں۔کیونکہ ایک جسے ذہنوں والے لوگ جلد گھل مل جاتے ہیں۔یہ بات کسی حد تک غلط ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ ہماری زندگی میں کوئی ایسا شخص آتا ہے جس کے جذبات ہم سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔

لیکن کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ہمارے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ ہمارا اچھا دوست بن جاتا ہے۔ مختلف خیالات اورجذبات رکھنے والے لوگ ہر معاملے میں مختلف سوچ رکھتے ہیں۔

یہی چیز ان کے تعلق کی بنیاد میں سمجھوتہ اور ایثار پیدا کرتی ہے۔ جو ان کی دوستی کو کافی آگے تک لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ ایک دوسرے کے پائیدار ساتھی ثابت ہوتے ہیں۔

دوستی میں بحث کی گنجائش

اگر آپ کسی سے بات نہیں کرتے ہیں، کسی سے لڑتے جھگڑتے نہیں، کسی کو اپنے دل کا حال نہیں سنا سکتے، کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے تکلفی سے بات نہیں کر سکتے یاکسی کے ساتھ تفریح نہیں کر سکتے تو پھر آپ زندہ لوگوں میں شمار بھی نہیں ہوتے۔

کیا آپ اپنے دوستوں سے بحث کے بعد ان کے نتائج کو منفی رخ دیتے ہیں۔۔؟مثلاً آپ جس سیاسی لیڈر کو پسند کرتے ہیں، آپ کا دوست اسے نا پسند کرتا ہے اور آپ ہمیشہ اسے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

حالانکہ کسی کو پسند یا نا پسند کرنے کے اس چھوٹے سے معاملے میں دوستی میں خرابی پیدا کرنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔

بیوی کو کیسے خوش رکھا جائے، جانیے مکمل تفصیل اردو میں

موضوعات کی حدود

آج کے زمانے میں اچھی اور سچی دوستی کو پرکھنے کا معیار یہ ہے کہ آپ کو ایک ایسا دوست ملے کہ جس کے ساتھ آپ سب کچھ شیئر کر سکیں۔دوستی میں سب کچھ شیئر کرنا ہی اچھے دوست کی سب سے بڑی نشانی ہے۔

لیکن یاد رکھیے ہر قسم کا تعلق جو کسی بھی بنیادوں پر استوار ہو، ایک باؤنڈری لائن پر آ کر ختم ہو جاتا ہے۔ اسے عام زبان میں دوستی کی حدود کہتے ہیں۔ جسے کبھی بھی پار نہیں کرنا چائیے۔

مثلاً کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنے کسی دوست کی فیملی کے بارے میں کچھ ایسی بات کر جاتے ہیں۔ جو اسے بری محسوس ہوتی ہے۔ لیکن وہ آپ کے سامنے کچھ نہیں کہہ پاتا۔ اس طرز کے رویوں سے آپ کی دوستی میں واضح دراڑ پڑ سکتی ہے۔

خاص طور پر شادی شدہ دوستو ں کو اس معاملے میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ بعض حالات میں کوئی ایک چھوٹی سی غلط بات بدگمانی کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا ایک اچھے اور عقلمند دوست کا فرض ہے کہ وہ ایسی باتوں سے حتی الامکان گریز کرے۔

اگر آپ پروفشنل ہیں تو ممکن ہے کہ آپ اپنے دوستوں کے لیے مناسب وقت نہیں نکال پاتے ہوں، کیونکہ آپ کی مصرفیت آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ بہرحال یہ آج کے اکثر لوگوں کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں سب سے مشکل کام دوستوں سے معذرت کرنا ہوتا ہے۔

آپ بھی اگر اس قسم کی صورتحال میں ہیں تو خدارا ایک دوسرے کی پریشانیوں کو سمجھیں، کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، ایسی صورتحال کو دوستی کا امتحان سمجھ کر اس میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں۔

آج کل سوشل میڈیا کا بخار سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ خاص کر نوجوان نسل جب دیکھو، فیس بک، ٹوئیٹر ،یوٹیوب اور ویٹس اپ پر لگی رہتی ہے۔سوشل میڈیا پر ہزاروں لاکھوں دوست ہیں۔ہر ایک پوسٹ پر سینکڑوں ، ہزاروں لائکس اور کمنٹس مل رہے ہیں۔ لیکن حقیقی دنیا میں کوئی انہیں سو روپے بھی ادھار نہیں دیتا۔

سوشل میڈیا نے حقیقی دوستی کا تقدس پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ نوجوانوں فیس بک اور ٹوئیٹر پر بارہ بارہ گھنٹے گزار دیتے ہیں لیکن دوست سے بات کرنے کے لیے بارہ منٹ نہیں نکال سکتے۔

سچےاور مخلص دوستوں کی پہچان

دوست بھروسہ مند اور وفادار ہوتے ہیں  اور ہمارے راز دار بھی ہوتے ہے۔ہمارے غموں میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی خوشیوں میں یاد رکھتے ہیں۔ہمیشہ اچھا مشورہ دیتے ہیں، جو ہمارے لیے مفید ہوتا ہے،سچے دوست اپنے دوستوں کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

دوست ہمیشہ بے غرض اور بے لوث ہوتے ہیں، دوستی میں اپنا فائدہ نہیں ڈھونڈتے۔سچے دوست مدد کو یوں پہنچتے ہیں جیسے اسی موقع کی تلاش میں تھے۔دوست ہماری غلطیوں کو معاف کر دیتا ہے اور ہمیں کسی کے سامنے رسوا ءیا شرمندہ نہیں ہونے دیتے۔

ہماری اداسی دور کرنے کے لیے عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ تاکہ ہمارا دل بہل جائے۔جب ہم اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں اور ظاہری طور پر مسکرارہے ہوتے  ہیں توایک دوست ہی ہوتا ہے جوہماری کیفیت سمجھ لیتا ہے ۔ہم  چہرے پر چاہے جتنی مسکراہٹ سجا لیں ،دوست سب سے پہلے پہچان لیتا ہے۔

کیوں کہ دوست ہم سے زیادہ ہمیں جانتے ہیں۔اچھا اور مخلص دوست وہی ہوتا ہے جو آ پ کو تمام تر برائیوں اور مشکل ترین حالات کے باوجود قبول کرتا ہے۔جو آپ کی خامیوں کو نظر انداز کرتا ہے اورصحیح راستے کی طرف آپ کی اصلاح کرتا ہے۔ایک اچھا دوست ہمیشہ آپ سے پیار کرتا ہے نہ کہ آپ کی دولت اور آپ کی شہرت سے۔

اچھا اور مخلص دوست وہ ہوتا ہے کہ جب آپ مایوس ہو جاتے ہیں تو وہ آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اور وہ آپ کی اندر ایک نیا جذبہ، نئی سوچ اورنیا جنون پیدا کرتا ہے۔سچا اور مخلص دوست آپ کو تب بھی قبول کرتا ہے۔ جب ساری دنیا آپ سے منہ موڑ لیتی ہے۔اورسب رشتے ناتےتوڑ جاتے ہیں۔

دوست کیسے بنائیں اور دوستی کیسے نبھائیں

دوست بنانا آسان لیکن دوستی نبھانا مشکل اور زندگی بھر دوستی قائم رکھنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس کے باوجود قابل تعریف ہیں وہ لوگ جو نہ صرف دوستی کرتے ہیں۔ بلکہ قابل اعتماد دوست بن کردوستی کا رشتہ تاحیات قائم رکھتے ہیں۔

دائمی دوستی کے لئے وفاداری لازمی ہے۔ سچا دوست وہی ہے جس پر آپ کا اعتبار ہو، آپ کا راز ، راز رکھ سکے۔ اچھا دوست بننے کے لیے آپ کا مزاج اچھا ہونا چاہیے۔

بدمزاج اور کم ظرف لوگوں کے ساتھ کوئی بھی دوستی رکھنا پسند نہیں کرتا۔اور نہ ہی لوگ ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو اپنی باتوں سے دوسروں کے جذبات مجروح کرتے ہوں۔ہم سب ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ہماری سوچ، جذبات اور خیالات دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔

اور یہی اختلاف توازن تعلقات قیام کرنے میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔۔ محبت یہی درس دیتی ہے کہ ایک دوسرے سے ناراض ہوئے بغیر کس طرح اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ طویل فاصلے پر رہنے والوں کے درمیان دوستی برقرار رکھنے کیلئے آپ کو چاہیے کہ باقاعدگی سے فون، انٹرنیٹ یا خط کے ذریعے ان سے رابطے میں رہیں۔

ایک ماہرنفسیات کا کہنا ہے کہ ہنسی زندگی کی موسیقی ہے۔ اور ہنسی اچھے دوستوں کو ایک دوسرے کے اور بھی قریب لے آتی ہے۔ اس لیے آپ اپنے اندر ظرافت کے پہلو کو اجاگر کریں ۔ اپنے دوست کو لطائف سنائیں اور دوست کے دن کو روشن بنائیں۔

اپنے دوستوں کوبھی کبھی کبھار آپ اپنی مدد کرنے کا موقع ضرور فراہم کریں۔ اس طرح دوستوں کو اس بات کا احساس رہے گا کہ آپ کو ان کی ضرورت ہے۔ جس طرح آپ اپنے دوست کی مدد کر کے خوش ہوتے ہیں۔ اسے بھی موقع دیں کہ وہ بھی آپ کی مدد کر کے خوش ہو۔

دوستی ہر مرض کی دوا

ہر درد کی دوا، ہر دکھ کا علاج ، ہر کامیابی کا راستہ ، ہر بیماری کی صحت  یابی  دوستی میں ہے۔ یہ وہ واحددوا ہے جو ہر ایک حاصل کر سکتا ہے۔اس انمول دوا کی قیمت صرف محبت ہے۔جو ہر کوئی ادا کر کے خرید سکتا ہے۔

بس یہ محبت ملاوٹ سے پاک ہونی چاہیے۔ اور یہ جذبہ پرخلوص ہونا ضروری ہے۔اس کے حصول کی صرف ایک ہی شرط ہے اگر آپ دوستی حاصل کرنے کے آرزو مند ہیں تو اپنی صحت کو غصے اور نفرت سے زیادہ مضبوط بنائیے۔ عاجزی اور میانہ روی اختیاز کیجئے۔ کیونکہ تھوڑا سا جھک جانا ٹوٹ جانے سے بہتر ہے۔

ارشاد نبوی ہے۔ اللہ سب سے زیادہ اس کو دوست رکھتا ہے جو اس کے بندوں کو دوست رکھتا ہو۔ بہترین دوست وہ ہے جو تمہاری لغزشوں کو فراموش کردے اور تمہارے احسانات کو یاد رکھے۔

تعلقات قائم رکھنا

عقلمندانسان وہ ہے جو اپنے دوستوں سے تعلقات خراب ہونے پر آپس میں پیدا شدہ بدمزگی کو جلد از جلد دورکر کے نئے سرے سے دوستی قائم کرنا جانتا ہو۔ اس سے بھی زیادہ عقلمندشخص وہ ہوتاہے

جو اتنا محتاط رہتا ہے کہ اپنے دوستوں کے ساتھ کبھی ناچاقی پیدا ہی نہیں ہونے دیتا۔ دوست ہمیشہ آپ کے ہر سکھ دکھ میں ساتھ دیتا ہے۔دوست ہمیشہ برے وقت میں ایک مضبوط سہارا ہوتا ہے اور ہمیشہ ساتھ دیتاہے۔اکثراوقات کچھ منافق لوگ دوست ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں. ایسے دوست دشمن کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔

دوستی میں احتیاطیں

دوستی کے اس لازوال رشتے میں کچھ باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔پیسہ دوستی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ پیسوں میں عجیب سی ایک کشش ہوتی ہے۔ جو انسان کو اپنی طرف کھنچتی ہے۔

جب دوست کو پیسےبطور قرضہ دیئے ہوں یا قرض کی واپسی کا معاملہ ہو تو وہاں دوستی متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔اس لیے اس معاملہ میں احتیاط ضروری ہے۔دوستی خراب کرنے والی چیزوں میں سے دوسری بڑی چیز تنقید ہے۔

جب ایک شخص اپنے دوست پر بلاوجہ بات بات پر تنقید یا طنز کرنے کی کوشش کرتا ہے،تو ان کی دوستی متاثر ہوسکتی ہے۔کیونکہ اکثر دوست تنقید کا برا مان جاتے ہیں۔جو لوگ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے اکثر جھگڑا فساد کرتے رہتے ہیں یا بلا وجہ طنز یا تنقید کرتے رہتے ہیں، ان کے دوست بھی کم ہی ہوتے ہیں۔

جوشخص چاہتا ہے کہ اس کے دوستوں کی تعداد بھی زیادہ ہو اور وہ وفادار بھی ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ دوستوں سے غیر ضروری بحث مباحثوں میں الجھنے سے گریز کرے۔دوستی دماغ سے نہیں بلکہ دل سے کی جاتی ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوستی کو دکھاوے اور دھوکے سے قائم کیا جا سکتا ہے،

وہ  اپنی زندگی میں ہمیشہ دھوکہ ہی کھاتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ اگر خوشامد اور چاپلوسی سے پانچ دس سادہ لوح دوست بنا بھی لیں۔تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ اپنی دوستی کو زیادہ عرصہ تک قائم رکھ سکیں گے۔

دوستی انسان کا بہترین اثاثہ ہوتی ہے جو اسے کسی بھی کسی بھی حال میں نہیں کھو نی چاہیے۔انسان کو ہمیشہ اپنے دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے ان کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔اکثر اوقات انسان اپنے دوستوں کو بھول جاتا ہے۔

اور ایسا تب ہی ہوتا ہے جب انسان کامیابی کی منازل کو طے کر لیتا ہے اور اپنے تمام دوستوں کو بہت نیچ سمجھنے لگتا ہے اوران سے تعلق رکھنا باعث شرم سمجھتا ہے۔یہ بات دوستی کے اصولوں کے خلاف ہے۔انسان کو ہمیشہ اپنے دوستوں کو ہر دل عزیز رکھنا چاہیے۔

دوستی کا حق ہی تب ادا ہوتا ہے جب انسان عرش پر پہنچ کر اپنے دوست کو کبھی فراموش نہ کرے۔ دوستی کے رشتے کو معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی حدود میں رکھیے- اور اس رشتے کو بے اعتدالی اور زیادتی کے پہلو سے بچایا جائے- تب ہی اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگتے ہیں۔

آج کل کی مصروف ترین زندگی میں ہم اس قدر الجھ کر رہ گئے ہیں کہ ہم اپنے دوستوں کو ذرا بھی وقت نہیں دے پاتے اورہم لوگ اپنے دوستوں سے اکثر یہ شکوہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ ہم سے دور ہو گیا ہے اور ہمیں وقت نہیں دے پاتا۔

دوستی میں ناکامی کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔اگر ہمارا دوست ہمیں کوئی کام کہ دے تو ہم کوئی بہانہ بنا کر اسے ٹال دیتے ہیں اور ہم ان سے یہ امید کرتے ہیں کہ ہمارا دوست ہر کام ہر مصبیت میں ساتھ دے۔

جب ہم کسی کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے اس کے کام نہیں آتے توپھر ہم یہ تصور کیسے کر سکتے ہیں کہ وہ بھی ہماری ضرورت کو پورا کرئے گا۔

نوٹ:  اس تحریر سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں