والدین میں علیحدگی کے بچوں پر اثرات

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں رشتوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اگر یہ کہا جائے کہ ہماری قدروں کا دارو مدار ہی انہی پر ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ والدین کا باہمی رشتہ اور باہمی تعاون بچے کی شخصیت پر بہت اثر انداز ہوتا ہے۔

والدین کے درمیان لڑائی جھگڑے اور تلخیوں سے بچے خوف زدہ ہو جاتے ہیں، اور خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، ان لڑائی جھگڑوں کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہ صورت حال جہاں والدین  کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ وہیں اس کے  بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہر موڑ پر بچے کو اس محرومی کا احساس ہوتا ہے۔ اور ان کے ذہن میں پہلا سوال یہی آتا  ہے کہ اب ان کا خیال کون رکھے گا۔

والدین کی علیحدگی کا بچوں پر اس حد تک اثر ہوتا ہے کہ سکول میں دوستوں کے سوالات کے جوابات دینا بھی ان کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔

بچوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات

والدین کے علیحدہ ہونے سے  بچوں  کے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں

  • جیسے سب کے والدین ساتھ رہتے ہیں، میرے والدین اکٹھے کیوں نہیں رہتے۔
  • دوسرے بچوں کے والدین ان کو تحائف دیتے ہیں،میرے والدین کیوں نہیں دیتے۔
  • دوسرے بچوں کے والدین بچوں کو سکول چھوڑنے آتے ہیں، میرے والدین ایسا کیوں نہیں کرتے۔
    اس طرح دیگر سوالوں کے جوابات جب بچے کو نہیں ملتے تو اس کے اندر  ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

سنگل پیرنٹ چائلڈ

ایسے بچے جو ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے زیر سایہ پرورش پاتے ہیں، سنگل پیرنٹ چائلڈ کہلاتے ہیں۔ سنگل پیرنٹ چائلڈ ضروری نہیں کہ والدین میں علیحدگی کی وجہ سے ہی ہو، بلکہ بعض اوقات ماں یا باپ کا وفات پا جانے کی صورت میں بھی بچہ سنگل پیرنٹ چائلڈ کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ ماں باپ میں علیحدگی کی وجہ سے بھی بچہ سنگل پیرنٹ ہو جاتا ہے۔

طلاق کی صورت میں بچہ یا تو ماں کے پاس ہوتا ہے، یا باپ کے پاس۔ طلاق کی صورت میں والدین کے درمیان علیحدگی کا جو کورٹ پروسیجر ہوتا ہے اس میں بچہ ذہنی طور پر پریشانی کا شکار رہتا ہے۔ یوں سنگل پیرنٹ چائلڈ کی زندگی سوالیہ نشان بن کر رہ جاتی ہے۔ بچے کی پرورش کے ضمن میں ماں باپ دوں کی اہمیت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو دنیا کی کوئی بھی تحقیق جھٹلا نہیں سکتی ہے۔ کیونکہ قسمت کے فیصلوں کے سامنے کسی کا کوئی زور نہیں چلتا۔

بچوں کی پرورش کے ضمن میں وقت اور حالات کے ساتھ سمجھوتہ بہترین ہتھیار ہوتا ہے۔ کیونکہ سنگل پیرنٹ چائلڈ کی محرومیوں کو دنیا بھر کی خوشیاں بھی ختم نہیں کر سکتی ہیں۔

طلاق کے مقدمے کے دوران بچے کو درپیش مسائل

ماں باپ کی علیحدگی کی صورت میں بچے کی کفالت اور پرورش کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ جب تک ان کے درمیان یہ مقدمہ چلتا رہتا ہے، تب تک بچہ بھی کشمکش کا شکار رہتا ہے۔

اگر بچہ ماں کے پاس ہے تو کورٹ بچے کو باپ سے ملنے کی اجازت اور وقت مقرر کر دیتی ہے۔ اس ساری صورتحال میں بچہ اگر ماں کے پاس ہوتا ہے تو کورٹ والد کی آمدنی دیکھ  کر یہ طے کرتی ہے کہ ہر مہینے باپ کو کتنی ادائیگی کرنی ہے اور لڑکا ہے تو اس کے بالغ ہونے اور لڑکی ہے تو اس کی شادی ہونے تک باپ خرچے کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔

مقدمے کے دوران دوسرا اہم فیصلہ بچے کی کسٹڈی کا ہوتا ہے۔ اگر بچہ ماں کے پاس ہے تو باپ کورٹ میں ملے گا اور اگر باپ کے پاس ہے تو ماں کورٹ کی اجازت سے بچے کو مل سکتی ہے۔ جب تک کہ بچے کی مستقل کسٹڈی کا فیصلہ نہ ہو جائے۔ بچے کا بہتر مستقل داؤ پر لگا رہتا ہے۔

طلاق کی شرح

ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ہاں عدالتوں میں ہر روز طلاق کے دو سو کیسز فائل ہوتے ہیں۔ یہ شرح ہمیں متوجہ کر رہی ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔

ہمیں اس مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہیے کہ آخر کیوں بہت سے شادی شدہ جوڑے چھوٹی چھوٹی باتوں اور مسائل سے تنگ آ کر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے کورٹ کے دروازے کھٹ کھٹاتے ہیں۔

علیحدگی کے بعد ماں کی ذمہ داری

اگر مقدمے میں جیت ماں کی ہوتی ہے تو پھر بچے کہ ذمہ داری اس کے سپرد کر دی جاتی ہے، تو ایسے میں اس کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ اپنے بچے کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نہ چھوڑے۔

ماں کی کوشش اپنی جگہ لیکن ایسے بچوں میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے۔ اعتماد ہمیشہ سماجی روابط سے آتا ہے، اپنے عزیز واقارب اور لوگوں میں اٹھنے بیٹھے اور باہمی میل ملاپ سے انسان کی شخصیت میں پختگی آتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں یہ اعتماد اور سماجی روابط بناے کا رجحان بچہ ہمیشہ اپنے باپ سے لیتا ہے، جبکہ اکثر مائیں ایسے رجحانات دینے میں یکسر ناکام رہتی ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماحول اور رجحانات میں بھی تبدیلی آئی ہے اور خواتین بھی زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

لیکن اگر اس دوڑ میں شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی خواتین کو بھی شامل کر لیا جائے تو ایسی خواتین کا تناسب بہت کم ہے جو اپنے بچوں کی پرورش بھرپور اور مردوں کے انداز میں کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ صرف ماں کے زیر سایہ پرورش پانے والے اکثر بچے قوت فیصلہ سے محروم رہتے ہیں، ان میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا کہ  وہ انی زندگی کے اہم فیصلے کریں اور پھر ان پر قائم بھی رہیں۔

ایسے بچے عموماً ذہنی  کشمکش کا شکار رہتے ہیں۔ کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں ،بلکہ بعض اوقات تو وہ اس معاملے میں دوسروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت میں اعتماد کی کمی بڑھتی جاتی ہے۔

ایسے بچے اگر فیصلہ کر بھی لیں تو وقت پر نہیں کر پاتے ، جس کی وجہ سے کامیابی ان سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔ انسانی زندگی میں وقت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

اگر وقت ہاتھ سے نکل جائے تو کچھ بھی باقی نہیں بچتا۔ یوں آپ اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہی زندگی داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔اس حوالے سے بہت ساری تحقیقات سامنے آئی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ایسے بچے جن کے والد بچپن میں انتقال کر جائیں، عام بچوں کی نسبت ان کی طبیعت میں فرق نمایاں ہوتا ہے، کیونکہ ان کو اپنے پاؤں پر خود ہی کھڑے اور زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر قسم کی کامیابی اپنی محنت کے بل پر حاصل کرنی ہوتی ہے۔

لہذا اس سارے عمل کے دوران ان کی شخصیت میں ایک ایسا اعتماد پیدا ہوتا ہے جو ان کو بڑے سے بڑے فیصلہ کرنے اور چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ باپ کی عدم موجودگی میں بچہ اتنا پُر اعماد ہو ۔

علیحدگی کے بعد باپ کی ذمہ داری

اگر مقدمہ باپ جیت جائے تو بچہ اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ ۔ماں کی طرح ہر باپ کی  بھی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچے کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے اور ایسی تمام سہولیات فراہم کرے جو ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے درکارہیں۔

قدرتی امر ہے کہ ماں جس انداز سے بچوں کی پرورش کرتی ہے وہ باپ نہیں کر سکتا، ماں کی شفقت اور پیار میں اتنا اثر ہوتا ہے کہ بچہ تمام تر محرومیاں بھول جاتا ہے۔

والد کا پیار اور تمام تر کوششیں بھی بچے کی اس محرومی کو دور نہیں کر سکتی ہیں۔ صرف باپ کے زیر سایہ پرورش پانے والے بچوں کی طبیعت الگ ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے ماں کی گود اور اس کا پیار نہیں دیکھا ہوتا،

لہذا ایسے بچو ں کو رشتو ں کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ رشتے بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بچے کسی پر اعتماد نہیں کرتے

کوئی بھی ان کی طرف ہاتھ بڑھائے یا اس کی مدد کرنا چاہے تو ایسے میں ان کے ذہن میں عجیب و غریب خیالات جنم لینے لگتے ہیں کہ پتا نہیں یہ میری طرف دوستی کا ہاتھ کیوں بڑھا رہا ہے ، وغیرہ وغیرہ۔

شک کرنا بذات خود ایک بیماری ہے جو مزید کئی بیماریوں کو جنم دیتی ہے جیسے لوگ ضرورت سے زیادہ شکی مزاج ہوتے ہیں وہ نہ صرف نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان میں کچھ کا رجحان جرم اور نشے کی طرف زیادہ ہو سکتا ہے۔

یوں ماں کے زیر سایہ پرورش پانے والے بچوں میں اس قسم کے مسائل کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ باپ کے زیر سایہ پرورش پانے والے بچوں کی شخصیت توڑپھوڑ کا شکار رہتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

سنگل پیرنٹس والدین کی ذمہ داری

سنگل پیرنٹس پر اپنے بچوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ان کو بہت احتیاط سے چلنا پڑتا ہے ہر قدم پر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کہیں بچے کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے۔

اس کے علاوہ میاں بیوی کے آپس میں رشتوں میں تکرار اور لڑائی جھگڑے سے بھی بچے کی شخصیت مسائل کا شکار رہتی ہے۔

ایزی استاد اب رومن اردو میں بھی

بچوں کی پیدائش کے بعد والدین کو اپنے درمیان کی چپقلش کو بھول کر ان کے مستقل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔اور کوشش کرنی چاہیے کہ وقت اور حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا جائے لیکن کبھی بچوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔

لہٰذا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل بچوں کے معاملے کو مل جل کر حل کر لینا ضروری ہے۔ والدین کی جانب سے شعوری طور پر بچوں کو یہ احساس دلایا جانا چاہیے کہ اس سارے معاملے میں ان کا کوئی قصور نہیں۔

بچوں کو یہ تسلی ہونی چاہیے کہ والدین اکٹھے نہ رہنے کے باوجود بھی ان کا خیال رکھیں گے۔

بچوں کے سامنے والدین کو ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے۔ اس سے ایک طرف والدین کا احترام کم ہوتا ہے اور دوسرا بچے ذہنی الجھن، مایوسی یا ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں

جس سے ان کی تعلیم اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔علیحدگی کے باوجود والدین کو بچوں کے بارے میں گفتگو کا سلسلہ منقطع نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے ٹوٹ جانے سے بچوں کی پرورش کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا (فیس بک، ٹیوئٹر، وغیرہ )پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں