شوہر کو خوش رکھنے کے آسان طریقے

شوہر کو خوش رکھنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے ، اس کے لیے بس تھوڑی سے سمجھدداری، سلیقہ مندی اور ایک خاص قسم کی دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جوبیوی اپنے شوہر کے دل پر حکومت کرنا چاہتی ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی خوشی کو اپنی خوشی اور شوھرکے غم کو اپنا غم سمجھے۔

سیانوں کا کہنا ہے کہ بیوی بننا کوئی آسان کام نہیں ہے کہ جسے ہر کوئی نادان اور نااہل لڑکی آسانی سے نبھا سکے۔کیونکہ یہ عورت کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ وہ چاہے تو ہنستے بستے گھر کو برباد کر دے یا اس گھر کی مالکہ بن کر دکھائے۔ عورت اگر اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے تو اسے جہنم میں بھی بدل سکتی ہے۔

بیوی اپنے شوہر کو ترقی کی بلندیوں پر بھی پہنچا سکتی ہے اور تنزلی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ عورت اگر شوہر داری کے فن سے آگاہ ہو تو وہ ایک عام مرد کو بلکہ ایک نہایت معمولی اور نااہل مرد کو ایک لائق اور با صلاحیت شوھر میں تبدیل کر سکتی ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے عورت کا جہاد یہی ہے کہ وہ بحیثیت بیوی کے اپنے فرائض کو بخوبی سر انجام دے۔

اچھی بیگم صرف وہی ہوتی ہے جو خود کوصرف اپنے شوہر سے منسوب رکھتی ہے، اور اس کی ہر بات اور ہر نصیحت کو اپنے لیے حکم کا درجہ سمجھ کر پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور دوسروں کی موجودگی میں اپنے خاوند کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرتی، بلکہ اس کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے۔اگر شوہر جھوٹ بھی بھول رہا ہو تو اس کو نہیں ٹوکتی اور شوھر کی غیر موجودگی میں اپنے شوہر کی کہی ہوئی ہر بات کا دفاع کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ہونٹوں کو خوبصورت، دلکش، نرم و ملائم اور گلابی بنانے کے طریقے

بے وقوف عورت شوہر کو اپنا غلام بناتی ہے اور خود غلام کی بیوی بن جاتی ہے عقلمند عورت شوھر کو بادشاہ بناتی ہے اور خود بادشاہ کی ملکہ بنتی ہے۔اچھی اور سمجھ دار بیوی شوہر کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنا کر اس کی محبوبہ بنتی ہے اور کبھی اس کی ماں بننے کی کوشش نہیں کرتی ۔

شوہر کو خوش رکھنے کے طریقے

دنیا میں بے شمار ایسی عورتیں ہیں کہ جنہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کو کیسے خوش رکھ سکتی ہیں۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ کیسے آپ شوھر کو خوش رکھ سکتی ہیں۔

  • مردوں کو ایسی عورتیں بہت پسند ہوتی ہیں جو ان کی چیزوں کو حفاظت اور سلیقے کے ساتھ اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ اس لیے گھر کی صفائی کرتے وقت اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔
  • بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر سے اکثر و بیشتر پیار و محبت کی باتیں کرتی رہے ۔ اس سے شوھر کو اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ اس کی بیوی اس سے کتنی محبت کرتی ہے۔
  • جب آپ کا شوہر کام کے سلسلے میں دفترجائے تو اسے باہر دروازے تک چھوڑنے جائیں، اور جب وہ کام سے تھکا ہارا واپس آئے تو مسکراہٹ کے ساتھ اس کا استقبال کریں۔
  • صرف ان لوگوں سے ملیں جنہیں آپ کا شوہر پسند کرتا ہے، اور ان لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھیں جن سے آپ کی شوھر کی نہیں بنتی، چاہے وہ آپ کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
  • اچھی بیوی کو کسی طور پر بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ جب اس کا شوہر گھر پر ہو تو وہ پڑوس میں جائے، اور زیادہ دیر کے لیے شوھر کو گھر پر اکیلا چھوڑے۔ خاص کر چھٹی والے دن تو ایسا بالکل نہ کیا جائے، کیونکہ چھٹی والا دن ہی ہوتا ہے جب خاوند کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنا دن اپنی بیگم کے ساتھ گزارے۔
  • باتھ روم کے آئینے پر لپ سٹک سے اپنے شوہر کے نام کوئی پیغام لکھ دیں تا کہ جب آپ کا شوھر دفتر سے تھکا ہوا آئے اور واش روم جائے تو اس پیغام کو پڑھ کر مسکرائے بنا نہ رہ سکے ۔یا اس کے سرہانے کسی کارڈ پر کوئی پیار بھرا پیغام لکھ کر چھوڑ دیں کہ جس سے آپ کی محبت ظاہر ہوتی ہو۔
  • اگر شوہر کو دفتر سے کچھ دن کی چھٹیاں ملی ہوں تو خاوند کو خوش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسا اقدامات کیے جائیں کہ خاوند کو ایسا محسوس ہو جیسے وہ ہنی مون کے دن گزار رہا ہے۔
  • ہمیشہ شوہر کے لیے سجتی اور سنورتی رہیں اور وہی لباس اور جوتے پہنیں جو آپ کے شوھر کو پسند ہوں، اس سے شوھر اپنی بیگم کی طرف زیادہ راغب ہوتا ہے۔
  • بیوی کو چاہے کہ اس کے دل میں جو بھی بات ہے اس کا اظہار اپنے شوہر سے کر دے اور یہ انتظار نہ کرئے کہ شوہر اس کی فیلنگ سمجھے گا، کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ خاوند اپنے کام میں اتنا الجھا ہوتا ہے کہ اسے بیوی کی فیلنگ محسوس ہی نہیں ہو رہی ہوتیں۔
  • ایسی باتیں کریں جو آپ کے شوہر کو زیادہ پسند ہوں ،شوہر سے جب کوئی بھی بات کریں تو یہ دیکھیں کہ آیا وہ آپ کی بات دلچسپی اور توجہ سے سن رہا ہے۔ اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کے شوھر کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں تو بات کا موضوع بدل دیں۔
  • شوہر سے میٹھے اور دھیمے لہجے میں بات کریں۔ اورکبھی بھی شوہر کے سامنے جلی کٹی نہ سنائیں۔اس سے شوہر کے دل میں آپ کے لیے نفرت پیدا ہو گی۔
  • کھیل کود جہاں صحت کے لیے اچھے ہوتے ہیں وہیں میاں اور بیوی کا مختلف کھیلوں میں ایک ساتھ حصہ لینا پیار و محبت کو بڑھاتا ہے۔
  • جس طرح ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اسی طرح شوہر کو خوش رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بیوی بھی اپنے خاوند کی کبھی کبھار تعریف کر دیا کرے۔
  • بیوی کو چاہیے کہ گھر کا ماحول ایسا بنائے کہ اس کا شوھر جب کام سے تھکا ہواگھر واپس آئے تو سکون محسوس کرئے۔
  • بیوی کو شوہر کی مسکراہٹ کا مسکراہٹ سے جواب دینا چاہے۔ اور کوشش کرنی چاہے کہ اس کے لبوں پر ہمیشہ مسکراہٹ ہی رہے۔
  • کوئی بھی عورت اس وقت اپنے خاوند کو خوش نہیں رکھ سکتی جب تک کہ اسے اپنےشوہر کی سلامتی کی فکر نہ ہو، شوھر کی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ بیوی اپنی دعاؤں میں بھی اپنے گھر والے کو یاد رکھے۔
  • مرد ہو یا عورت ، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ کہیں سیر و تفریح کے لیے جائے اور انجوائے کرے، اس لیے اگرآپ کا شوہر آپ کو کہیں باہر لے جا رہا ہے تو خوشی خوشی اس کے ساتھ جائیں۔
  • مردوں کو ایسی بیویاں بہت اچھی لگتی ہے جو ان کی پسند کے مطابق خریداری کرتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ نے اچھی بیگم بننا ہے تو جیسا آپ کا شوہر چاہتا ہے ویسی خریداری کریں۔ اور جو چیز خاوند کو پسند ہے وہی خریدیں۔

یہ بھی پڑھیے: رنگ گورا کرنے کے قدرتی طریقے

  • بیوی ایک طرح سے کک (باورچی ) ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا فرض ہے کہ وہ شوہر کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے کھانے پکائے،اور جو چیز خاوند کی فیورٹ ہو اس پر زیادہ دھیان دے کہ کہیں خراب نہ ہوجائے۔
  • اگر بیوی مستقل کے پالان تیار کرنے میں شوہر کو مشورے دے یا دونوں مل کر پلان تیار کریں تو خاوند کو بہت اچھا لگتا ہے۔
  • شوہر پر بلا وجہ شک کرنا اچھا نہیں ہوتا، ایک اچھی بیگم وہی ہوتی ہے جو خاوند پر بلا وجہ کا شک نہیں کرتی بلکہ پورا اعتماد کرتی ہے۔
  • عورت کو کبھی بھی خود کو مرد سے افضل نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی گھر کا سربراہ بننے کی کوشش کرنی چاہے، یہ مردوں کا کام ہوتا ہے ، اور وہی اسے بہتر طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں۔
  • انسان خطا کا پتلا ہوتا ہے، اس لیے شوہر سے بھی کبھی کبھار غلطی ہو سکتی ہے، ایسے میں اگر وہ معافی مانگ رہا ہو تو فوراً معاف کردینا چاہے۔ کچھ عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بہت منتیں کروا کر راضی ہوتی ہیں ، ایسا بالکل نہیں کرنا چاہے۔
  • اگر کبھی بیگم سے غلطی ہو جائے تو اسے بھی چاہے کہ فوراً سے پہلے اپنے خاوند سے معافی مانگ لے، اور خاوندکے ساتھ اپنے ازدواجی تعلقات کو مزیدیادگار بنائے۔اس سے خاوند ساری نارضگی و رنجش بھول جائے گا۔
  • جس طرح شوہر اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے ، اسی طرح بیگم کا بھی حق ہے کہ وہ جب بھی کوئی وعدہ کرئے اسے ہر حال میں پورا کرے، وعدہ پورا نہ کرنے سے مرد کی نظر میں عورت کی کوئی عزت نہیں رہتی۔

یہ بھی پڑھیے: دوران حمل کون کون سی غذاؤں کا استعمال کیا جائے

  • شوہر کو چونکہ باہر کام کرنا ہوتا ہے اس لیے روزانہ کام کر کر کے وہ بہت تھک جاتا ہے ، اس لیےشوھر کی تھکاوٹ اتارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مہینے میں ایک آدھ بار شوہر کے پورے جسم کو اچھے سے دبا کر مالش کی جائے۔
  • اگر کام سے آنے کے بعد شوہر تھکاوٹ محسوس کر رہا ہو یا اس کے سر میں دور ہو توبیوی کا فرض ہے کہ وہ اس کے سر کی مالش کرے اور اسے اچھی سی چائے بنا کردے۔
  • اگر شوہر گھر پر ہو تو ٹیلی ویژن پر اس کی مرضی اور پسند کے پروگرام لگائیں۔ یا اگر آپ دونوں کوچیز ایک ساتھ دیکھ رہے ہیں اور وہ چیز آپ کے شوھر کو اچھی لگ رہی ہے تو آپ بھی اس میں دلچسپی لیں اور اس چیز پر اپنی رائے بھی دیں۔
  • شوہر کا خوش رکھنے کا پہلا اور آخری فارمولا یہی ہے کہ ازدواجی امورمیں شوہر کو کبھی مایوس نہ کیا جائے۔
  • اچھی بیوی وہی ہوتی ہے جو اپنے خاوند سے کچھ نہیں چھپاتی، اگر آپ کے ساتھ بڑے سے بڑا مسئلہ بھی ہو جائے تو اسے اپنے خاوند کے علم میں ضرور لائیں۔ کیونکہ بعض عورتیں بعض باتیں اپنے خاوند سے چھپا لیتی ہیں اور وہی باتیں جب خاوند کو باہر سے پتا چلتی ہیں تو اسے بہت دکھ ہوتا ہے۔
  • اگر آپ کا خاوند پردیس میں ہے تو اسے گھر بار،پڑوس اور رشتے داروں میں ہونی والی اونچ نیچ سے اگاہ کرتی رہیں، اور کوشش کریں کہ خاوند کو ایسی کوئی بات نہ بتائی جائے کہ جس سے وہ پردیس چھوڑ کر چلا آئے۔
  • اگر آپ کے گھر میں کوئی عزیز یا رشتے دار آ جائیں تو ان کی موجودگی میں شوہر کو زیادہ عزت دیں، اس سے شوھر بہت خوش ہوتا ہے۔
  • اپنے بیڈ روم میں شوہر کی تصویر نصب کریں، یا پھر اپنی شادی کی کوئی تصویر لگائیں۔
  • میاں اور بیوی میں کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے "کوڈ ورڈر” ضروری ہیں، یہ کوڈ ورڈز ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی دوسروں کو سمجھ نہیں آتی اور جب کوئی ایک جیون ساتھی اسے بولتا ہے تو دوسرے کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھار کوڈ ورڈز کا استعمال ضروری ہے۔
  • فارغ اوقات میں شوہر کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے سے بھی شوہر بہت خوش ہوتا ہے۔
  • میاں اور بیوی کا رشتہ اعتماد پر چلتا ہے ، مرد ایسی عورت کو بہت پسند کرتے ہیں جو ان پر مکمل اعتماد کرتی ہو۔

شوہر کو خوش رکھنے سے متعلق اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتی ہیں۔

آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ تاہم اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر سکتی ہیں۔ تاکہ آپ کی سہلیوں وغیرہ کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں