نومولود بچے کی نگہداشت کیسے کی جائے | بچے کی پیدائش کے پہلے چھ ہفتے

پہلے بچے کی پیدائش کے بعد آپ کی ایک ایسی روٹین شروع ہوجاتی ہے جس کی آپ پہلےسے عادی نہیں ہوتیں۔ کیونکہ بچے کے دنیا میں آنے سے آپ کی زندگی نہایت ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اور بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جس کا انسان کو پتا نہیں ہوتا۔ اس لیے ایزی استاد میں آج ہم آپ کو نومولود بچے کے ابتدائی چھ ہفتے کے بارے میں کچھ مفید مشورے دے رہے ہیں۔ جو آپ کے لیے مشعل راہ ہوں گے۔

پہلی مرتبہ ماں بننے والی خاتون کو اپنے بچے کی نگہداشت مسلمان ماں ہونے کے ناطے اسلامی اصولوں کے مطابق کرنی چاہیے۔ نومولود بچے کی ساری کائنات ماں کی گود اور ماں کے دودھ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے ماں کو دو سال تک دودھ پلانے کی ہدایت کی ہے۔ اگر کسی وجہ سے ماں اپنا دودھ نہ پلا رہی ہو تو فیڈر سے دودھ پلانے کے لئے بھی ماں اپنے بچے کو گود میں لے کر سینے سے لگا کر پلائے۔

نومولود بچے کی نگہداشت کیسے کی جائے

چھوٹے بچوں کو مچھراور مکھیوں سے بچانا بہت ضروری ہے، بچوں کوان سے بچانے کے لیے مچھر دانی کا استعمال ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو پوری آستین کے کپڑے اور پاجامے پہنائے جائیں۔اور انہیں ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر سکرین کی شعاعوں سے دور رکھا جائے ۔ کیونکہ ان کی نازک جلد اس کے مضر اثرات بہت جلد قبول کر لیتی ہے۔

پہلی بار ماں بننا، پہلی بار ماں بن کر کیا کریں، بچے کی پرورش کیسے کریں

یہ بھی پڑھیے: ہونٹوں کو خوبصورت، دلکش، نرم و ملائم اور گلابی بنانے کے طریقے

بچے کو موسم کی مناسبت سے روشن اور ہوا دار کمرے میں رکھیں ۔اور نیند کے دوران آرام دہ بسترپر چھوڑیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ شور شرابہ نہ ہو کیونکہ اس طرح بچے ڈسٹرب ہو جاتے ہیں اور ایک مرتبہ نیند ٹوٹ جائے تو وہ دوبارہ بہت مشکل سے آتی ہے اور جب بچہ سو جائے تو اس پر اپنا دوپٹہ ضرور رکھیں کیونکہ بچے ماں کی خوشبو سے مانوس ہوتے ہیں۔ اور اسی خوشبو سے وہ اپنی ماں کو پہچانتے ہیں۔

نومولود بچے کا پہلا ہفتہ

پہلے بچے کی پیدائش کے بعد جو سب سے بڑا اور انوکھا امتحان ایک عورت کے لیے ہوتا ہے وہ بچے کو دودھ پلانے کا ہے۔  شروع کے چند دن بچے کو دودھ پلانے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔ لیکن دھیرے دھیرے یہ تکلیف ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا مسئلہ بچے کو اٹھانے کا ہوتا ہے۔

کیونکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بالکل چھوٹا سا ہوتا ہے۔ اور انسان اسے اٹھاتے ہوئے ڈرتا ہے کہ کہیں اسے کچھ ہو نہ جائے۔  مگرآپ  ایسا کرنے میں ذرا بھی نہ ڈریں کیونکہ ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے بچے جو پورے دن میں دو گھنٹے ماں باپ کی گود میں رہتے ہیں ان میں بڑھوتری زیادہ اچھی ہوتی ہے اور وہ روتے بھی کم ہیں۔

نومولود کو گود میں لیتے وقت سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ ضرور رکھیں کیونکہ اس کی گردن کی ہڈی اس وقت کمزور ہوتی ہے۔ کسی بھی حالت میں اسے بازوؤں سے پکڑ کر نہ اٹھائیں۔ اور نہ ہی زور زور سے اچھالیں۔ سرسوں یا زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھوں کی مالش سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔بچے کی ناف اگرچہ خود بخود جھڑ جاتی ہے لیکن اس کی بہت زیادہ حفاظت کریں۔

بچے کی اجابت کا رنگ سبزی مائل کالا ہو سکتا ہے اور وقت کے ساتھ یہ بھی خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پہلے ہفتے میں دوست ، رشتہ دار وغیرہ بھی ملاقات کے لیے آتے ہیں اگر آپ جوائنٹ فیملی میں نہیں رہتی ہیں تو کوئی جزوقتی ملازمہ رکھ لیں، اور دین اسلام کے مطاق بچے کی پیدائش کے ساتویں دن اس کے سر کے بال مونڈا دینے چاہیں ۔ اور ان بالوں کے وزن کے مطابق چاندی کا صدقہ کرنا مستحب ہے۔

نومولود بچے کا دوسرا ہفتہ

یہ وہ وقت ہے کہ آپ کو صرف اپنی اور اپنے بچے کی صحت کی پرواہ کرنی چاہیے اور گھر کے کاموں سمیت ہر چیز بھلا دینی چاہیے کیونکہ آپ ابھی پیدائش کے مرحلے سے گزر کر آئی ہیں ۔ آپ کا بچہ چوبیس گھنٹوں میں پندرہ سے سولہ گھنٹے چھوٹے چھوٹے وقفوں میں سوئے گا۔ بچے کی اجابت کا رنگ زردی مائل ہونا شروع ہو جائے گا۔

بچے کی پیدائش کے بعد ماں کی بھر پور توجہ بچے کے لیے بہت ضروری ہے، ماں دیکھ بھال کرنے والی ہو گی تو وہ بچے کی ضروریات کا ہر  وقت خیال رکھے گی۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے اور کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو ڈبے یا گائے اور بھینس کا دودھ استعمال کراتے ہوئے صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھیں

فیڈر مناسب انداز سے گرم پانی میں ابال کر جراثیم سے پاک کریں اور دودھ پلانے کے فوری بعد فیڈر کو اچھی طرح دھو کر رکھے اور اس میں دودھ بچ گیا ہو تو اسے کسی برتن میں نکال لیا جائے۔ فیڈر کے نپل کو زیادہ پرانا نہ ہونے دیں اور اس میں چپچپاہٹ محسوس ہونے سے پہلے ہی تبدیل کردیں اور مکھیاں قطعی نہ لگنے دیں۔

نومولود بچے کا تیسرا ہفتہ

آپ کی روٹین لائف اپ سیٹ ہونی شروع ہو گئی ہے۔ بچہ اب اپنا وزن بڑھانے لگا ہے۔ ہر ہفتے وہ تقریباً چھ وے آٹھ اونس وزن بڑھائے گا۔ اگر بچہ بہت زیادہ روتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو پیٹ کی ہوا تنگ کرتی ہے۔

ماں کو اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بچے کا بستر گیلا نہ رہے خاص طور پر رات کے اوقات میں کیونکہ زیادہ تر بچوں کو ٹھنڈ اسی وجہ سے لگتی ہے۔ بستر کے گیلے پن کے سبب بچے کو سردی بھی محسوس ہوتی ہے اور وہ مسلسل بے چینی و بے اطمینانی محسوس کرتا ہے۔ بچے کی نیپی یا پیمپر وقتاً وقتاً چیک کرنا بہتر رہتا ہے کیونکہ اس سے صفائی کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں اور بچہ پر سکون نیند لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حاملہ خواتین دوران حمل کون سی غذائیں استعمال کریں

چھوٹے بچے کا چوتھا ہفتہ

اپنے نومولود کے ساتھ آپ آسانی سے گھومنے جا سکتی ہیں۔ بچے کی روزانہ تیل کی مالش کیا کریں۔ اس نے اب اپنے سونے کے اوقات بھی بنا لیے ہیں ۔ اسے ایسے کپڑےپہنانے چاہیں جو آسانی سے اتارے بھی جا سکیں۔ بچے کے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ سینے پہ یا کندھوں کے پیچھے ہاتھ رکھ کر چیک کریں۔ کبھی بھی بچے کے ہاتھ پیر یا منہ کو ہاتھ لگا کر اندازہ مت کریں۔

چھوٹے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو چوٹ سے بچائیں کیونکہ نوزائیدہ کیلئے ہلکی سی چوٹ بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ زیادہ بہتر ہو گا کہ بچہ پالنے یا جھولے میں آرام کرے جہاں سے گرنے کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔ تاہم عام بستر پر لٹائیں تو دونوں اطراف تکیہ رکھ کر رکاوٹ لگا دیں تاکہ لڑھک کر نیچے گرنے کا احتمال نہ ہو۔ چھوٹے بچوں کو گود میں نہ دیں جو کہ اسے سنبھال نہ سکیں۔

بچه کیسے پیدا هوتا ھے؟ بچہ نہ ہونے کی وجوہات

نظر بد سے بچانے کیلئے بچے کے گلے اور ہاتھوں میں کالے دھاگے باندھنے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ ہفتوں اور مہینوں تک ہاتھوں اور گلے میں بندھے کالے دھاگے پر لاکھوں جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں اور جب بچہ ان دھاگوں کو منہ میں ڈالتا ہے تو یہ بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

شیر خوار بچے کا پانچواں ہفتہ

اس ہفتے شاید آپ اپنی طبیعت میں تھکاوٹ اور سستی محسوس کر رہی ہوں گی۔ بات بے بات رونے کا دل چاہ رہا ہو گا۔ اپنے کھانے پینے میں تبدیلی لے آئیے۔ صحت مندانہ غذا کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

پانی خوب پیئں۔ کہیں گھومنے پھرنے جائیے ۔ آپ کے بچے نے آوازیں نکالنی شروع کر دی ہیں اس سے آنکھوں میں دیکھ کر باتیں کیجیے۔ آپ کے جواب دینے سے وہ بہت خوش ہو گا۔

اس کے رونے پر دھیان دینا شروع کیجیے کہ وہ کس وقت کس بات پر روتا ہے ، جیسا کہ کب وہ بھوک یا پیاس کی وجہ سے روتا ہے، کب سونا چاہ رہا ہے کہیں اس کو گرمی یا سردی تو نہیں لگ رہی۔نومولود کی نگہداشت کیلئے ضروری ہے کہ ماں کو بچے کی چھوٹی چھوٹی تکلیف کا اچھی طرح علم ہو۔ چھوٹے بچوں میں پیٹ کا درد، اپھارہ اور دستوں کی بیماریاں عام ہیں جو کہ بے احتیاطی یا صفائی کے فقدان کے باعث ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: دوستی کیا ہے، سچے اور مخلص دوست کیسے بنائے جائیں

شیر خوار بچے کا چھٹا ہفتہ

بہت سی ماؤں کے لیے چھٹا ہفتہ ایک خوشگوار احساس لے کر آتا ہے، اس وقت آپ تمام گزری ہوئی تکالیف کو بھلا چکی ہوتی ہیں، بچے کی مسکراہٹ آپ کے اندر ایک نئی توانائی بھر دیتی ہے۔ جب وہ ہنسے تو آپ اسے مزید گدگدائیں اس سے وہ اور زیادہ ہنسے گا۔

بیٹا پیدا کرنے کا طریقہ، بیٹا کیسے پیدا ہوتا ہے، بچے کی پیدائش کے وقت کتنا درد ہوتا ہے

چھٹے ہفتے میں بہت سے بچے رات میں پانچ سے چھ گھنٹے کے لیے لگاتار سونا شروع کر دیتے ہیں۔ بچے کو دودھ پلاتے ہوئے سونے کی عادت مت ڈالیں۔ ہو سکے تو اس کو بستر پر لٹا کر سلانے کی کوشش کریں۔

بچے کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ماں کا اولین فریضہ ہے۔ عام طور پر بچہ رو کر اپنی بھوک کا اظہار کرتا ہے اور اسے کسی مخصوص ٹائم ٹیبل کے مطابق غذا نہیں دی جا سکتی لہٰذا اس بارے میں ہر وقت محتاط رہیں۔ نومولود کی صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھیں کیونکہ صاف ستھرا بچہ ہی صحت مند رہتا ہے، بیمار ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری مشورہ کریں۔

بچے کے پیٹ میں ہوا بھر جانا

ہر سو میں سے بیس بچے اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ بچے کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن اس کے رونے سے آپ ضرور پریشان ہو جاتی ہیں۔ بچے کے لیے ضروری ہے کہ دودھ پلانے کے فوراً بعد بچے کو کندھے سے لگا کر ڈکار ضرور دلوائیں۔تاکہ شیر خوار  بچہ جو دودھ اگلتا ہے وہ پھیپھڑوں میں واپس پلٹنے سے کوئی حادثہ نہ ہو سکے۔

اگر بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے تو ماں کو چاہیے کہ وہ غذا میں زیادہ چکنائی ، مرچوں والی اور بادی اشیاء کا استعمال کم سے کم کریں۔ اگربچہ بوتل کا دودھ پیتا ہے تو معیاری بوتل اور نپل کا استعمال کریں۔ تاکہ بچہ کم سے کم ہوا اندر لے جا سکے۔ بچے کے پیٹ پر کلاک وائزClock Wise تیل کی مالش کریں۔

یہ بھی پڑھیے: محبت کیا ہے اور یہ کیسے ہوتی ہے، مکمل تفصیل اردو میں

بچے کی ناف کی صفائی

بچے کی ناف کو روزانہ صاف کریں تاکہ کسی بھی طرح کا انفیکشن نہ ہونے پائے۔ گیلی روئی سے صاف کر کے خشک روئی سے پونچھ دیں۔ صابن ہر گز استعمال نہ کریں۔ اگر آپ کو ناف سرخ یا سوجی ہوئی محسوس ہو یا اس میں سے کسی قسم کا اخراج ہو رہا ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ بچے کو نہلانے سے ناف پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور ایک سے دو ہفتے میں یہ اپنے آپ جھڑ جاتی ہے۔

نومولود بچے کو نہلانا

بچے کو پہلی بار نہلانا

بچے کو پہلی بار نہلانا بہت سی ماؤں کے لیے پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ اچھے ہسپتالوں میں گھر آنے سے قبل ماؤں کو باقاعدہ بچے کو نہلانا سکھایا جاتا ہے۔ بچے کو نہلانے کے لیے ہمیشہ نیم گرم پانی استعمال کرنا چاہیے۔ نہلانے سے پہلے پانی کو ہمیشہ پہلے اپنی کہنی پر ڈال کر چیک کریں۔

کیونکہ بچے کے جسم کا درجہ حرارت کہنی سے مطابت رکھتا ہے ۔ ہو سکے تو بچے کو باتھ ٹپ میں نہلائیں۔ مطلوبہ سامان پہلے ہی سے اپنے پاس رکھ لیں، سر، آنکھیں، گردن، ناک ، کان کو اچھی طرح صاف کریں۔ بچے کو نہلاتے وقت ایک سکینڈ کے لیے بھی اکیلا مت چھوڑیں۔ نہلانے کے بعد اچھی طرح تولیے سے خشک کریں۔

نئی مائیں بچوں کی نگہداشت کیلئے گھر کے بزرگوں سے مشورہ ضرور کریں کیونکہ تجربہ سب سے بڑا استاد ہوتا ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے۔ کہ کون سا کام کب اور کس طرح کرنا ہے۔اور پہلے بچے کی پیدائش کے بعد تجربہ ہی آپ کو سب کچھ سیکھا دے گا۔ اور اگلے بچے کی پیدائش کے بعد آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔

نومولود بچے کی نگہداشت کیسے کریں سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتی ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر سکتی ہیں۔ تاکہ آپ کی سہلیوں وغیرہ کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

4 comments

  1. وعلیکم السلام
    چھ ہفتوں کے بعد لڑکی کی روٹین کی لائف شروع ہو جاتی ہے، اور پھر دو سال تک یہی کچھ کرنا پڑتا ہے جو پہلے چھ ہفتوں میں کیا ہے، تاہم چھوٹے بچوں کی پرورش کیسے کریں سے متعلقہ تحریر جلد پبلش کی جائے گی

  2. السلام و علیکم. چھ ہفتوں کے بچے کی ناف سوج کر بلب کی شکل میں باہر نکل آئے تو کیا کرنا چاہیے؟

    1. وعلیکم السلام،
      بچے کے زیادہ رونے کی وجہ سے ناف سوج جاتی ہے، کیونکہ جب بچہ روتا ہے اور زور لگاتا ہے تو اس کا اثر اس کی ناف پر پڑتا ہے، اس لیے کوشش کریں کہ ایسے اقدامات کریں کہ بچے کو رونا نہ پڑے، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ، وقت کے ساتھ ساتھ یہ خود اندر ہو جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں