شادی شدہ زندگی اور ازدواجی تعلقات کی کامیابی کا راز

شادی ایک خوبصورت بندھن ہے، اس بندھن کو تحفظ دینے اور مزید مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شادی شدہ افراد ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی اور خوش مزاجی سے پیش آئیں، اور زندگی کی تلخیوں کا علاج باہمی تعاون سے تلاش کریں۔ یہی طریقہ ہے جس سے زندگی مشکل سے مشکل حالات میں بھی ناخوشگوار رخ اختیار نہیں کرے گی۔

شوہر اور بیوی دونوں ایک گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہیں، اگر گاڑی ایک ایک پہیہ (ٹائر) خراب ہو جائے تو گاڑی نہیں چل سکتی۔ اسی طرح ازدواجی زندگی میں میاں اور بیوی ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھیں۔

زیادہ تر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شادی سے پہلے خود کو سنوارنے اور سجانے کے لیے گھنٹوں آئینے کے سامنے گزار دیتے ہیں، شادی کے بعد بھی چند دنوں تک یہ معمول قائم رہتا ہے لیکن رفتہ رفتہ جب زندگی معمول پر آنے لگتی ہے تو شوہر اور خاص طور پر اکثر بیویاں خود پر توجہ دینا چھوڑ دیتی ہیں۔ بیگم گھر کے کاموں ، بچوں اور دوسری مصروفیات میں لگ جاتی ہے اور شوہر کو دفتری کام سے فرصت نہیں ملتی۔

بیوی کو اپنے شوہر سے جذباتی اور قلبی لگاؤ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ نازک فرق میاں اور بیوی کے درمیان ناچاقی کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ جو مرد اپنی بیویو ں سے کم کم بو لتے ہیں ۔ ان کی باتوں پر توجہ نہیں دیتے ، انہیں اس با ت پر خاص توجہ دینی چاہیے کہ ان کی بیویاں ان کی آواز سننے کے لیے بیتا ب رہتی ہیں ۔

حتیٰ کہ اگر دفتر سے ان کے شوہر کا فون آجائے اور انہیں ایک جملہ ہی سننے کو مل جائے تو گھنٹوں شوہر کی آواز ان کے کانو ں میں رس گھولتی رہتی ہے ۔ شوہروں کو چاہئے کہ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر آتے وقت چند جملے دل لگی اور چاہت کے انداز میں ضرور کریں تاکہ وہ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کی باتوں کو سو چ کر خوش و خرم رہے۔

یہ بھی پڑھیے: بیوی کو خوش کرنے کے طریقے

اکثر بیویاں اپنے آپ کو سجا سنوار کر نہیں رکھتیں اور یوں شوہر ان پر توجہ دینا کم کر دیتے ہیں۔ وہ خود بھی اس بات سے آہستہ آہستہ لاپرواہ ہو جاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی خوبصورتی ماند پڑنے لگتی ہے اور جب انہیں شوہر کی طرف سے تعریفی جملے اور ستائشی نظریں نہیں ملتیں تو ان کا اپنے اوپر سے اعتماد کم یا ختم ہونے لگتا ہے۔

پھر جب کسی خاتون کے شوہر کو دوسری خواتین زیادہ خوبصورت نظر آنے لگتی ہیں تو وہ ان کی تعریف کرنے لگتے ہیں تب ایسی بیویاں عدم تحفظ، حسد اور شکوک و شبہات کا شکار ہونے لگتی ہیں۔

اپنے اوپر توجہ، اپنے آپ کو پرکشش رکھنا، خوش اخلاقی سے ایک دوسرے کی خامیوں کو دور کرنے کی اچھے انداز میں کوشش، بچوں کی پرورش اور ایک دوسرے کے لیے بھرپور توجہ ناصرف آپ کو انفرادی طور پر پرسکون، مطمئن اور خوش رکھے گی بلکہ آپ کی ازدواجی زندگی کے تمام دن، شادی کے ابتدائی دنوں کی طرح پرکشش، حسین اور مطمئن گزریں گے۔ آزما کر دیکھ لیجیے۔

خوشگوارازدواجی تعلقات کے لیے ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینے چاہیں۔ اپنے جیون ساتھی سے اپنے خلوص اور محبت کا اظہار کرتے رہنا چاہیے، اس طرح آپ کی ازدواجی زندگی کی ڈور مضبوط ہوتی جائے گی اور آپ کا گھرانہ خوش و خرم رہے گا۔

قابل رشک ازدواجی زندگی اور بہترین تعلقات کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی گفتگو کے علاوہ تاثرات کے ذریعے کہی گئی بات بھی سمجھتے ہوں۔ گویا نگاہوں کی زبان جاننے ہوں، کھل کر اپنے احساسات کا اظہار کرنے والے ہوں۔

شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے اور اس خیال رکھنے پر انہیں ایک دوسرے کے مشکور بھی ہونا چاہیے۔ بنیادی طور پر خاوند اور بیوی ایک دوسرے سے اپنے بہترین برتاؤ اور سلوک کا اظہار کرتے ہیں لیکن دونوں کو صرف ایک دوسرے کو لبھانے اور وقت گزاری کے لیے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ پرخلوص محبت کا اظہار ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں شادی شدہ زندگی میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

بالفرض آپ کے شوہر کے پاس آپ کے لیے وقت نہ بھی ہو تب بھی خود پر توجہ دیتی رہیں۔ اگر شوہر آپ کی تعریف نہیں کرتا ، آپ کی خوبصورتی کو نہیں سراہتا، پھر بھی دن میں کچھ وقت نکال کر آئینے کے سامنے اس طرح بیٹھیں اور اپنا جائزہ لیں جیسا کہ شادی سے پہلے یا شادی کے بعد کچھ عرصہ تک آپ آئینے کے سامنے بیٹھتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: شوہر کو خوش کرنے کے طریقے

جب آپ کے اندر اعتماد پیدا ہو گا تو آپ کو اپنے شوہر کی توجہ حاصل ہو ہی جائے گی۔ جب آپ جازب نظر دکھائی دیں گی تو شوہر ضرور آپ کی طرف متوجہ ہو گا۔

اگر آپ کسی راستے کے راہی ہیں یا رشتے میں میاں بیوی ہیں تو سفر کی منزلیں آسانی سے طے پاسکتی ہیں اگر آپ دونوں ایک دوسرے کی خامیوں اور خوبیوں کا اندازہ کرنے کے بعد سفر کی ابتداء کریں کیونکہ اگر آپ مرد ہیں یا عورت، کسی بھی ایک فیصلہ کے متعلق آپ دونوں کی آراء مختلف ہوسکتی ہیں ۔

میاں بیوی شادی کے بندھن سے منسلک ہونے کے بعد ایک بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لئے ہم آہنگی سے زندگی کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہوتے ہیں اگر دونوں میں ہم آہنگی کا عنصر نہیں ہوگا تو زندگی کی راہیں کٹھن اور دشوار گزار ہوجائیں گی ۔

خاوند کو بیگم کے نفسیاتی پہلوؤں اور بیوی کو شوہر کی سائیکالوجی کا اندازہ ہونا ضروری ہے ۔ اسی نا آشنائی کے سبب اکثر میاں بیوی کے درمیان ایک ایسی ناخوشگوار فضا قائم ہو جاتی ہے جہاں دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں اور خامیوں کو ہدف کا نشانہ بناتے ہوئے ہر وقت تنقید کرتے ہیں یوں دونوں کے درمیان ایک نا چاہتے ہوئے بھی مقابلہ کی فضاء قائم ہوجاتی ہے.

وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جستجو بڑھتی جاتی ہے۔ دونوں اس بات سے لا علم رہتے ہیں کہ جانا کہاں تھا اور جا کہاں رہے ہیں ۔میاں بیوی میں مقابلہ کی اس دوڑ میں دونوں کے اندر ایک اور انسان پنپنے لگتا ہے جو موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ مخالف فرد کو کیسے زک پہنچائی جائے۔

یہ بھی پڑھیے: بیگم کو اپنی مٹھی میں رکھنے کے لاجواب طریقے

یاد رہے کہ جیسے جیسے رشتہ ازدواج سے منسلک افراد کے مابین یہ کشمکش بڑھتی جاتی ہے تو دونوں طرف محبت بھی کم ہو تی جاتی ہے جس کے نتائج بہت ہی تکلیف دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ شادی زندگی بھر کا اٹوٹ بندھن ہے، اسے پرکشش اور اثر انگیز بنانے کے لیے اپنے پیار کو کم نہ ہونے دیں۔

ایسی خواتین جو خود کو اپنے شوہروں کے لیے فٹ اور اسمارٹ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، خود پر بھرپور توجہ دیتی ہیں۔ خوبصورت نظر آنے اور شوہر کی توجہ اپنے اوپر مرکوز رکھنے کے لیے خود کو سنوارتی ہیں۔۔۔ ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ ایسی خواتین کے شوہر مکمل طور پر ان کی طرف راغب رہتے ہیں۔ یوں ایسے جوڑوں کی زندگی میں شادی کے برسوں گزرنے کے بعد بھی خوشیاں برقرار رہتی ہیں۔

یہی تمام باتیں شوہروں پر بھی صادق آتی ہیں۔ شوہروں کو اپنے کام میں اس حد تک نہیں جت جانا چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کے لیے بھی وقت نہ نکال سکیں۔ انہیں اس کے درمیان توازن رکھنا چاہیے۔ گھر پر بیگم کے ساتھ کام نبٹانا ، اسے توجہ دینا، اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا، بچوں کے معاملے میں آپس میں مشورہ کرنا، گھریلو معاملات میں دلچسپی لینا، بیوی کی تعریف کرنا، اچھا ماحول پیدا کرتا ہے۔

اس کے علاوہ شوہروں کواپنے اوپر بھی توجہ دینی چاہیے۔ باقاعدہ ورزش، چہل قدمی، متوازن غذا، آرام اور ذہنی سکون ان کو فٹ رکھے گا۔

شوہروں کو اپنی وہ عادت ترک کرنے کی کوشش بھی کرنے چاہیے جن کی وجہ سے لوگوں کے درمیان بیوی کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ شوہر کو بیگم پر حکم نہیں بلکہ درخواست کرنی چاہیے۔ اس طرح بیوی کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ خوشی خوشی شوہر کی بات مانتی ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کو آپس میں اچھی ذہنی ہم آہنگی رکھنی چاہیے۔ ایک دوسرے کی پسند، خواہش و طلب کا خیال رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: میاں اور بیوی کی سوچوں اور خیالات میں فرق کی مکمل تفصیل اردو میں

ماہرین نفسیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے بے جا توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیں۔ اگر میاں بیوی دونوں ہی ایک دوسرے سے بے جا توقعات وابستہ کر لیں اور دونوں یا کوئی ایک ان توقعات پر پورا نہ اتر سکے تو لامحالہ رنجش اور بدمزگی پیدا ہو جائے گی۔

اگر دونوں میں سے کوئی ایک مختلف روایات کی تکمیل کے موقع پر خود اپنے لیے تو الگ معیار رکھے جبکہ دوسرے کے لیے الگ معیار۔۔۔تو یہ بات آپس میں تلخیاں پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔

جس طرح ایک شوہر چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی خدمت کرے اس کی دلجوئی کرے، اسی طرح بیوی بھی چاہتی ہے کہ اس کا شوہر اس کا ہر طرح سے خیال رکھے، اور اس کی جائز ضروریات پورا کرے، اس کے لیے وقت نکالے، اگر بیگم کو سسرال میں کوئی مشکل پیش آئے تو اس کا ساتھ دے اور اس کی مشکل کو سمجھے، نہ کہ اس پر ہی تنقید کرتا رہے۔

شادی ایک خوبصورت رشتہ ہے جس کے دامن میں ایک عظیم مقصد خوشی اور سکون کا حصول ہے لیکن بعض جوڑوں کیلیے یہ رشتہ ایک اذیت ناک دکھ میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ شادی کے وقت یہ عہد کیا جاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ایک دوسرے سے جدائی کو موت تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بعض اوقات کچھ ادھوری توقعات یا اردگرد کے عوامل کے ہاتھوں دلوں میں کچھ ایسی غلط فہمیاں پال لی جاتی ہیں جن کے باعث دونوں قلبی طور پر ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اور محبت جیسا پاکیزہ احسا س ختم ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام میں پسند کی شادی کا تصور، پسند کی شادی نہ ہونے کی وجوہات

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گھریلو ناچاقی ،رشتوں کے تقدس سے ناآشنائی کے باعث طلاق کی شرح میں روز بروز خوف ناک حد تک اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔اسی فیصد شادیاں قائم رہنے کی وجہ سماج میں بدنامی کا خوف یا اولاد کے مستقبل کا احساس بن جاتا ہے اور اسی خوف، ڈر کی وجہ سے اس رشتہ کو مجبوری بنا کر زندگی گزار دیتے ہیں کیونکہ ہمارا سماج اس بات کا شعور ہی نہیں رکھتا کہ رشتوں میں ہم آہنگی کیسے پید ا کی جاتی ہے ۔

شادی کرنے کا مقصد وہدف محض جنسی تسکین کو تصور کیا جاتا ہے۔ اس بات سے لاعلمی ہوتی ہے کہ اس کا بنیادی مقصد مل جل کر خوشی،غمی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ انسان ایک معاشرتی جانور ہے اسکی فطرت تنہا زندگی بسر کرنے کی سوچ کی نفی کرتی ہے۔شادی کا تعلق ایک جیون ساتھی کا ساتھ ہے جس کے شانہ بشانہ زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنا ہے اس رشتے میں جنس مخالف سے جنسی تعلق ضرور ہے لیکن ہدف یہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کم عمر میں شادی کرنے کے حیرت انگیز فوائد

سوال یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی کی مدد سے محبت کیسے بڑھ سکتی ہے ایک دوسرے کو اہمیت دینے سے محبت کا یہ رشتہ تادیر قائم رہ سکتا ہے اگر خدانخواستہ دونوں کے درمیان لڑائی جھگڑے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا مقابلہ بڑھ چکا ہو اس موقع پر ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ کی اہمیت کو جاننے کے لئے رشتہ ازدواج میں آنے والی دراڑ کے روٹس یا وہ خامیاں تلاش کریں کہ جس کی وجہ سے محبت کا یہ رشتہ نفرت میں نہ چاہتے ہوئے بدل رہا ہے۔

آپس میں بیٹھ کر یہ طے کریں کہ ان معاملات کا ہماری زندگی سے واسطہ ہے اور ان سے نہیں ہے۔ کیا اہم ہے اور کیا نہیں۔ ہمارے گھر میں یہ گفتگو ہونی چاہئے یا یہ بات چیت زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں۔ سا تھ ہی باونڈری سیٹ کریں کہ ایک دوسرے کے کن معاملات میں دخل نہیں دینا۔ پھر اس معاہدہ پر مکمل عمل کیا جاے اس دوران ایک دوسرے کو سپورٹ کریں تا کہ یہ اچھی عادت پختہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیے: شادی کرنے سے مرد اور عورت کو کیا فائدہ ہوتا ہے

اسی طرح ایک دوسرے کی عزت کریں اور اہمیت کو تسلیم کریں۔ فرض کریں اگر آپ پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور آپ کا لائف پارٹنر گھریلو خاتون ہے تو آپ اپنی مضبوط پوزیشن پر رہ کر اس کی کمزور پوزیشن یا معاملات کو زیر بحث نہ لائیں کیونکہ یہ معاملہ محبت کو دوری اور پھر نفرت میں بدل دیتا ہے محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ دوسرے فرد کو ہارنے نہ دیا جائے اور عملی طور پریہ تاثر دیا جائے کہ تمہاری جیت ہی میری جیت ہے تمہارا آگے بڑھنا کامیاب ہونا میری کامیابی یا جیت ہوگی۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بچوں کے سامنے ہرگز جھگڑا یا بحث بحث نہ کریں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے بچوں سے ایک دوسرے کی برائی کرتے رہتے ہیں۔ اس عمل سے بچے اپنے والدین کی عزت کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور بہت سے نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔

خوشگوار گھریلو ماحول کا قیام احترام، برداشت اور قربانی کے جذبات کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ لو میرج ہو یا ارینجڈ، اسکی کامیابی کیلیے میاں اور بیوی دونوں کا بنیادی معاملات پر ایک پیج پر ہونا پہلی شرط ہے۔ اگر میاں اور بیوی ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھیں تو نہ صرف ان میں پیار و محبت بڑھے گا بلکہ وہ گھر کو جنت بھی بنا سکتے ہیں۔

اس تحریر کے حوالہ سے اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں