عشق ، محبت اور پیار کے موضوع پر خوبصورت اردو شاعری

کسی مانوس لمحے میں ، کسی مانوس چہرے سے
محبت کی نہیں جاتی محبت ہو جاتی ہے


مجھے کانٹا چبھے اور تیری آنکھوں سے لہو ٹپکے
تعلق ہو تو ایسا ہو ، محبت ہو تو ایسی ہو


نہیں پسند محبت میں ملاوٹ مجھ کو
اگر وہ میرا ہے تو خواب بھی میرے دیکھے


تسکین محبت کے فقط دو ہی طریقے تھے
یا دل نہ بنا ہوتا ۔ یا تم نہ بنے ہوتے


دل و دماغ متفق نہ ہوئے پاک و ہند کی طرح
یہ محبت تو مجھے مسئلہ کشمیر لگتی ہے


مجھ  میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے
میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں


کچھ خاص نہیں بس اتنی سی ہے داستان محبت میری
ہر رات کا آخری خیال، ہر صبح کی پہلی سوچ ہو تم


جو دو اجازت تو تم سے اک بات پوچھیں
جو سیکھا تھا ہم سے، وہ عشق اب کس سے کرتے ہو


میں نے کب مانگا ہے تم سے اپنی وفاؤں کا صلہ
بس درد دیتے رہو، محبت بڑھتی رہے گی


ہم تو محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فرازؔ
ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھا​ ہے


سو بار کہا میں نے انکار ہے محبت سے
ہر بار صدا آئی تم دل سے نہیں کہتے


کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر عشق نہ کرتے تو حکومت کرتے


یہ بھی پڑھیے : محبت کیا ہے، یہ کیوں اور کیسے ہوتی ہے۔؟


نیند بھی نیلام ہو جاتی ہے بازار عشق میں
اتنا آسان نہیں ہوتا کسی کو بھول جانا


کوئی تو بات ہے آخر میری مہمان نوازی میں
کہ غم ایک بار آتے ہیں تو پھر واپس نہیں جاتے


دو قدم اگر ساتھ چلنا ہے تو ذرا سوچ لینا
ہم محبت اور نفرت میں قبر تک ساتھ دیتے ہیں


کب دعاؤں کا محتاج ہوتا ہے
عشق تو لا علاج ہوتا ہے

عشق کے اپنے اصول ہوتے ہیں
عشق کا اپنا روج ہوتا ہے

عشق کے عین سے عبادت ہے
عشق روح کا اناج ہوتا ہے

عشق جسموں کو سر نہیں کرتا
عشق کا ذہنوں پر راج ہوتا ہے

عشق میں شاہ فقیر ہوتے ہیں
عشق کانٹوں کا تاج ہوتا ہے

عشق میں کوئی حد نہیں ہوتی
عشق میں نہ کل نہ آج ہوتا ہے

عشق خود ہی ظلم کرتا ہے
عشق خود ہی احتجاج ہوتا ہے


سنا ہے مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے
اک بار تمہیں مانگ کر دیکھیں گے خدا سے


ترک عشق میری لغت میں نہیں ہے
تیرا یہ لفظ میرے سر سے گزر جاتا ہے۔


اس لفظِ محبت کا اتنا سا فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے​


محبت کرو تو آداب محبت بھی سیکھو
فارغ وقت کی بیقراری محبت نہیں ہوتی


محبت مل نہیں سکتی، مجھے معلوم ہے صاحب
مگر خاموش بیٹھا ہوں، محبت کرجو بیٹھا ہوں


جو محبت کا راستہ روکے
ایسے ہر ضابطے پہ لعنت ہو


کس نے کہا تجھے کہ انجان بن کے آیا کر
میرے دل کے آئینے میں مہمان بن کے آیا کر
پاگل اک تجھے ہی تو بخشی ہے دل کی حکومت
یہ تیری سلطنت ہے تو سلطان بن کے آیا کر


محبت کر کے دیکھی ہے محبت صاف دھوکہ ہے
یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ، کون کسی کا ہوتا ہے


ہم کو آتا نہیں زخموں کی نمائش کرنا
خود ہی روتے ہیں تڑپتے ہیں سو جاتے ہیں


ہم ہی کو کیوں دیتے ہو پیار کا الزام
کبھی خود سے بھی پوچھو! اتنے پیارے کیوں ہو؟


محبت معانی و الفاظ میں لائی نہیں جاتی
یہ وہ نازک حقیقت ہے جو سمجھائی نہیں جاتی​


جو آنکھ بھی ملانے کی اجازت نہیں دیتا
دل اس کو نظروں میں بسانے پہ تلا ہے


تجھ سے عشق کر لیا اب خسارہ کیسا
دریائے محبت میں جو اتر گئے اب کنارہ کیسا
اک بار تیرے ہو گئے، بس ہو گئے
روز روز کرنا نیا استخارہ کیسا


خوشیوں کا وقت بھی کبھی آ ہی جائے گا
غم بھی تو مل رہے ہیں تمنا کئے بغیر


تم یاد نہیں کرتے تو ہم گلہ کیوں کریں
خاموشی بھی تو اک ادا ہے محبت نبھانے کی


مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا


یہ بھی پڑھیے : اسلام میں پسند کی شادی کا تصور – پسند کی شادی نہ ہونے کی وجوہات


حال جب بھی پوچھو خیریت بتاتے ہیں
لگتا ہے محبت چھوڑ دی انہوں نے


اک تیری محبت کی خاطر
جانے کس کس کا احترام کیا


آؤ کبھی یوں بھی میرے پاس تم ایسے
کہ آنے میں لمحہ اور جانے میں زندگی گزر جائے


دنیا تیرے وجود کو کرتی رہی تلاش
ہم نے تیرے خیال کو دنیا بنا لیا


دشمنوں سے محبت ہونے لگی مجھ کو
جیسے جیسے اپنوں کو آزماتے چلے گئے


کوئی پوچھتا ہے مجھ سے میری زندگی کی قیمت
مجھے یاد آ جاتا ہے تیرا ہلکا سا مسکرانا


تیرے عشق میں ہوئے ایسے متوالے
چھوڑ دی تسبیح توڑ دیئے پیالے


استادِ عشق سچ کہا تو نے، بہت نالائق ہوں میں
مدت سے اک شخص کو اپنا بنانا نہیں آیا


یوں وفا کے سلسلے مسلسل نہ رکھ کسی سے
لوگ ایک خطا کے بدلے، ساری وفائیں بھول جاتے ہیں


میں نے دل کے دروازے پہ لکھا اندر آنا منع ہے
عشق مسکراتا ہوا بولا معاف کرنا میں اندھا ہوں


پوچھتا ہے جب کوئی کہ دنیا میں محبت کہاں ہے
مسکرا دیتا ہوں میں اور یاد آ جاتی ہے ماں


محبت مجھے تجھ سے نہیں تیرے کردار سے ہے
ورنہ حسین لوگ تو بازار میں عام بکا کرتے ہیں


اتر جاتے ہیں کچھ لوگ دل میں اس قدر
جن کو دل سے نکالو تو جان چلی جاتی ہے


اُنہیں یہ شوق ہے کہ محبت کی بھیک میں مانگوں
مجھے یہ ضد کہ تقاضہ میرا  اُصول نہیں


ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پیار و محبت سے بھرپور اردو شاعری پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں


اس کی آنکھوں میں نظر آتا ہے سارا جہاں مجھ کو
افسوس کہ اُن آنکھوں میں کبھی خود کو نہیں دیکھا


بکھرا وجود،ٹوٹے خواب، سلگتی تنہائیاں
کتنے حسین تحفے دے جاتی ہے یہ محبت


لپٹا ہے میرے دل سے کسی راز کی صورت
وہ شخص کہ جس کو میرا ہونا بھی نہیں ہے
یہ عشق و محبت کی روایت بھی عجیب ہے
پانا بھی نہیں ہے اسے کھونا بھی نہیں ہے


ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں


ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تو نام بھی تجھ سا رکھے


ابتدائے عشق ہے بچو روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا


یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔


تیرے عشق کی انتہا چانتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں


مجھ میں بے لوث محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
تم اگر چاہو تو میری سانسوں کی تلاشی لے لو


وقت اور وہ دو ہی گواہ تھے میری محبت کے
ایک گزر گیا ۔ ۔ ۔ ۔ دوسرا مکر گیا


بات بات پر مسکراتے ہو کیوں بار بار
جان لینے کے طریقے تو اور بھی بہت ہیں


حسن کا کیا کام ، سچی محبت میں
آنکھ مجنوں ہو تو۔۔۔ ہر لیلیٰ حسین لگتی ہے


الزام محبت کے ڈر سے چھوڑ دیا شہر اپنا
ورنہ یہ چھوٹی سی عمر پردیس کے قابل تو نہ تھی


تم کیا جانو محبت کے میم کا مطلب
اگر مل جائے تو معجزہ نہ ملے تو موت


آنکھوں سے شروع ہو کر کہانی الفت تک جا پہنچی
جب ہم کو ہوش آیا تو بات محبت تک جا پہنچی


محبت ملی تو نیند بھی اپنی نہ رہی فراز
گمنام زندگی تھی تو کتنا سکون تھا



آپ کو ان اشعار میں سے کون سا شعر سب سے اچھا لگا ہے، کمنٹس کیجیے،
کمنٹس میں آپ اپنی پسند کا شعر بھی لکھ سکتے ہیں، اگر آپ کو یہ پوسٹ اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔

3 comments

اپنی رائے کا اظہار کریں