اسلام میں پسند کی شادی کا تصور | پسند کی شادی نہ ہونے کی وجوہات

شادی کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت دونوں کو پسند اور ناپسند کا پورا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو بچوں پر جبر و سختی سے اپنی مرضی مسلط کرنے سے منع کیا ہے۔ تاہم دوسری طرف بچوں کو بھی ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے والدین کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے ہی اپنے جیون ساتھی کا چناؤ کریں۔

پسند کی شادی اسلام میں ممنوع نہیں ہے لیکن پسند کی شادی کے لئےآج کل کی نوجوان نسل نے جو رواج اپنا رکھا ہے،وہ خاندانوں کو جوڑنے کی بجائے لڑائی و فساد پر آمادہ کرتا ہے۔کیونکہ آج کل کی نوجوان نسل کے افراد شرم و حیا چھوڑ کرگھر والوں کی عزت تار تار کرکے اور غیر اسلامی اطوار اپناکراور بے حیائی کا لبادہ اوڑھ کر پسند کی شادی پر بضد ہوتے ہیں۔

شادی کی اہمیت قرآن وسنت کی روشنی میں

شرعی نقطہ نظر سے نکاح ایک خاص اہمیت و فضلیت کا حامل ہے۔ نکاح کی اہمیت اور اس کی بنیادی ضرورت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے لے کر شریعت محمدی ﷺ تک کوئی ایسی شریعت نہیں گزری جو نکاح سے خالی رہی ہو۔نکاح صرف دو افرادکے درمیان سماجی بندھن، شخصی ضرورت اور طبعی خواہش کا نام نہیں بلکہ یہ دو خاندانوں میں باہمی الفت اور ملاپ کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔

قرآن پاک کی سورہ النساء میں ہے
تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں۔ (سورۃ النساء 3)

قرآن پاک نے پسند کی شادی کا حکم دے کر مرد وعورت پر احسان عظیم کیاہے۔تاہم ہمارے معاشرے میں پسند یا ناپسند لڑکے لڑکی کی نہیں، صرف ماں باپ کی دیکھی جاتی ہے۔ بلاشبہ شادی والدین کے مشورے اور رضامندی سے کرنی چاہیے، مگر والدین کو بھی قرآن کریم کے ان احکامات کو مدنظر رکھ کر بچوں کے حق میں فیصلہ کرنا چاہیے اور اپنی مرضی کو اولاد پر ٹھونسنا نہیں چاہیے۔

دوسری طرف بچوں کا بھی حق ہے کہ وہ پسند کی شادی کرنے سے قبل والدین کو راضی کر لیں تاکہ مستقل میں وہ آپ کا ساتھ دے سکیں، اور خدا نہ کرے جب کوئی مسئلہ بن جائے تو آپ کو اپنے والدین کی پوری پوری حمایت حاصل ہو۔

قرآن پاک کی سورۃ نور میں ہے
اور نکاح کرا دیا کرو تم لوگ ان کے جو تم میں سے بےنکاح ہوں۔ (سورۃ نور 32)

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔
"اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو”۔ (سورۃ البقرۃ 332)

حدیث شریف میں ہے "جو کوئی نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے کیوں کہ نکاح پرائی عورت کو دیکھنے سے نگاہ کو نیچا کر دیتا ہے اور حرام کاری سے بچاتا ہے، البتہ جس میں قوت نہ ہو تو وہ روزہ رکھے کیوں کہ روزہ رکھنے سے شہوت کم ہوجاتی ہے” (بخاری، کتاب النکاح)

’اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے وہ شادی کر لے اور جس میں طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے۔ روزہ اس کو خصی کر دیتا ہے۔ (شہوت کم کر دیتا ہے)‘‘ (البخاری، الجامع الصحیح، جلد 5، صفحہ 1950)

حدیث پاک میں ہے کہ جب کوئی بندہ (مسلمان) شادی کرتا ہے تو اس نے اپنے نصف دین کو مکمل کر لیا۔ پس باقی نصف کے بارے میں وہ اللہ سے ڈرے۔

اس طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ تم میں سے جب کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دے، پھر اگر وہ خوبیاں دیکھ سکے جو اس کے نکاح کا سبب بن سکیں، تو دیکھے‘‘۔ اس حدیث سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنا اور پسند کرنا جائز ہے۔ (ابوداؤد ، جلد 2 ، صفحہ 228)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ثیبہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور نہ باکرہ کا بغیر اس کی اجازت کے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! باکرہ کی اجازت کس طرح معلوم ہوسکتی ہے، فرمایا کہ اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔ (بخاری، کتاب النکاح)

بلکہ ایک دفعہ حضوراکرم ﷺ کے دور مبارک میں ایک عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر ہوا، اس نے آپﷺ سے عرض کیا تو آپ نے اس کا نکاح فسخ کردیا ۔

ایک بالغ لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ اور کہا اس کے باپ نے اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کر دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا (کہ نکاح رکھو یا توڑ دو)۔ (ابوداؤد)

حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ کہتی ہیں کہ میرے والد نے ایک جگہ میرا نکاح کردیا اور میں ثیبہ تھی اور مجھے وہ نکاح منظور نہ تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے میرا نکاح فسخ کردیا۔ (بخاری، کتاب النکاح)

ارشاد نبویﷺ ہے: ’’میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں پس جس نے میری سنت سے رو گردانی کی وہ میرے طریقے پر نہیں۔ ‘‘ (البخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح، بیروت، دار ابن کثیر الیمامہ، 1407ھ، جلد 5، صفحہ 1949)

ایک مقام پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب کوئی بندہ (مسلمان) شادی کرتا ہے تو اس نے اپنے نصف دین کو مکمل کر لیا۔ پس باقی نصف کے بارے میں وہ اللہ سے ڈرے۔ ‘‘ (المنذری، عبدالعظیم، ابومحمد، الترغیب و الترھیب، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1417ھ، جلد 3، صفحہ 29)

یہ بھی پڑھیے: محبت کیا ہے اور یہ کیسے ہوتی ہے؟

پسند کی شادی کرنے کا طریقہ

کہتے ہیں کہ جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ لیکن پسند کی شادی کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ ہی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس لیے پسند کی شادی کرنے سے قبل اپنے والدین کومکمل اعتماد میں لے کرقرآن و حدیث کا حکم سنا کر قائل کرتے ہوئے قدم اٹھانا ضروری ہے۔

کیونکہ اگر گھر والے چار نا چار لڑکی یا لڑکے کی ضد کی وجہ سے اسے پسند کی شادی کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں تو ہو سکتا ہے مستقبل میں ہر وقت پسند کی شادی کرنے والوں کو طنزیہ جملوں کا سامنا کرنا پڑے۔

والدین کا ہم پر بہت حق ہوتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے نہ صرف ہمیں پال پوس کر بڑا کیا ہوتا ہے بلکہ ہماری اعلیٰ تعلیم تربیت بھی کی ہوتی ہے۔ اس لیے ہمارا بھی حق ہے کہ ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتے ہوئے قبول کریں۔

اور اگر وہ بے جوڑ رشتہ طے کردیتے ہیں تو ان سے لڑائی جھگڑا کرنے کے بجائے ان کو سمجھانے اور قائل کرنے کی کوشش کریں کہ آپ اس کے ساتھ خوش نہیں رہیں گے۔ اور جس کے ساتھ آپ پسند کی شادی کرنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں بھی والدین کو قائل کریں کہ وہ آپ کے لیے کتنی ضروری ہے، اور یہ کہ وہ کتنی اچھی ہے اور ان کا کتنا خیال رکھے گی۔

جو نوجوان پسند کی شادی کے معنی کو غلط معنی پہنا کر شادیاں کرتے ہیں انکی شادیاں اکثر ناکام ہوتی ہے ۔اللہ نے جب مردو زن کو پسند کی شادی کرنے کا حلال طریقہ بتایا ہے تو اس راہ کو اختیار کرکے شادی کرلی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

اسلام نے جہاں اس بات کی اجازت دی ہے کہ ایک مسلمان خاتون کا نکاح بلاتمیز رنگ ونسل، عقل وشکل اور مال وجاہت ہر مسلمان کے ساتھ جائز ہے وہاں اس نے انسانی فطرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ اس عقد سے متاثر ہونے والے اہم ترین افراد کی رضامندی کے بغیر بے جوڑ نکاح نہ کیا جائے تاکہ اس عقد کے نتیجے میں تلخیوں، لڑائی جھگڑوں کا طوفان برپا نہ ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیے: بیگم کو کیسے خوش رکھا جائے، مکمل تفصیل اردو میں

پسند کی شادی نہ ہونے کی وجوہات

ماں باپ بچوں سے کتنا پیار کرتے ہیں اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس کے خود بچے ہوں، بچے والدین کو بہت پیارے ہوتے ہیں اور ان کی پرورش والدین نے پوری ذمہ داری اور دیانت داری سے کی ہوتی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی اولاد کو کبھی گرم ہوا بھی لگے۔

یہ بھی پڑھیے: والدین میں علیحدگی کے بچوں پر اثرات

اب ہوتا یہ ہے کہ جب بچے جوان ہوتے ہیں تو انہیں کوئی نہ کوئی پسند آ جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے اندر جو طبعی تقاضے رکھے گئے ہیں ان میں ایک اہم چیز صنف مخالف کی طرف کشش ہے۔

بچپن میں یہ جذبات محدود ہوتے ہیں لیکن جیسے جیسے بچے جوان ہوتے جاتے ہیں اس تقاضائے طبعی میں شدت اور کشش میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اور بسا اوقات یہ کشش اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بچوں کے پاس پسند کی شادی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔

بچوں میں یہ کشش محبت کا سبب بنتی ہے اور اس کشش کی وجہ سے وہ صنف مخالف کے طرف کھینچے چلے جاتے ہیں، اور ہر وقت کال یا ایس ایم ایس پر ایک دوسرے سے بات کرتے رہتے ہیں، یہ چیز والدین کو خوفزدہ کر دیتی ہے۔

اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اولاد کو کسی دوسرے نے ان سے چھین لیا ہے ۔ اور اس چھینے والے کے لیے ان کے دل میں نفرت کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور وہ کسی صورت ایسے لڑکے یا لڑکی کواپنی بہویا داماد بنانا پسند نہیں کرتے۔ جو ان سے ان کی اولادکو چھین کر لےجائے۔

ایسے میں ضرورت اس امر کہ ہے کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہو جائے اور آپ اس سے پسند کی شادی کرنا چاہیں تو والدین کے سامنے اس سے رابطہ نہ رکھیں، اور والدین پر کبھی بھی ظاہر نہ ہونے دیں کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں یا آپ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔

اگر والدین کو معلوم ہو جائے تو بھی والدین کو پسند کی شادی کرانے پر مجبور نہ کریں بلکہ ایسے اقدامات کریں کہ والدین خود آپ کی پسند کی شادی کرنے پر راضی ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیے : عشق، محبت کے موضوع پر خوبصورت اردو شاعری

پسند کی شادی نہ ہونے کی دوسری بڑی وجہ دو گھرانوں میں مطابقت نہ ہونا ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے والدین اعتراض کرتے ہیں۔اب ہوتا یہ ہے کہ لڑکے یا لڑکی کو اپنی فیملی اپنے کزنز وغیرہ میں سے کوئی نہ کوئی پسند آ جاتا ہے اور گھر والوں کے اس فیملی کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوتے۔ اورلڑکا اور لڑکی یہ سمجھتے ہیں کہ سب اچھا ہے ۔

جبکہ دونوں خاندانوں کی ماضی سے کوئی رنجش چلی آ رہی ہوتی ہے جس کا بچوں کو پتا نہیں ہوتا اور انہیں ایک دوسرے سے پیار ہو جاتا ہے۔ایسے میں ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ سب سے پہلے وہ وجہ تلاش کی جائے جس کی وجہ سے دونوں خاندان ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں دیکھنا بھاتے۔

اس کے بعد اس وجہ کو دور کرتے ہوئے دونوں خاندانوں کویکجا کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے رشتے کے لیے راہ ہموار کرنا چاہیے۔

پسند کی شادی نہ ہونے کی تیسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ والدین کی شادی بھی پسند کی نہیں ہوئی ہوتی، اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچوں کی پسند کی شادی ہو۔ والدین اپنا بدلہ اپنے بچوں سے لیتے ہیں۔

جیسے جب کوئی لڑکی بہو بن کر آتی ہے اور ساس اس پر ظلم و ستم کرتی ہے تو وہ یہ بدلے اپنی بہو سے ساس بن کر لیتی ہے۔ ویسے ہی والدین یہ گوارہ نہیں کرتے کہ ان کی شادی تو ان کی مرضی سے نہیں ہوئی تو ان کے بچے اپنی شادی اپنی مرضی سے کیوں کریں۔

یہی تحریر آپ رومن اردو میں بھی پڑھ سکتے ہیں

اس تحریر کے حوالہ سے اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

6 comments

اپنی رائے کا اظہار کریں