سوچوں اور خیالات سے نجات کا طریقہ، دماغ اور سوچ کو کنٹرول کرنا

منفی سوچ یا برے خیالات کیا ہوتے ہیں اور یہ کیوں آتے ہیں؟ کیا ان پر مکمل طور پر قابو پانا ممکن ہے؟ بری یا خوفزدہ کرنے والی یادوں کو کیسے کم یا ختم کیا جاسکتا ہے؟ یہ تحریر پڑھ کر آپ کو آپ کے تمام سوالوں کا جواب مل جائے گا۔

تاہم یہ تحریر پڑھنے سے پہلے آپ ہماری تحریر مثبت سوچ اور منفی سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات پڑھ لیں، اس سے آپ کو انسانی سوچ کے بارے میں مکمل اور واضح معلومات مل جائیں گی۔ اس کی بعد یہ تحریر پڑھ کرآپ نہ صرف اپنی منفی سوچوں اور خیالات کو ختم کر سکتے ہیں، بلکہ ان سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑا کر اپنے دماغ اور سوچوں کو کنٹرول بھی کر سکتے ہیں۔

سوچیں انسان کی زندگی کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ بعض سوچیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہوتیں، یہ ہمارے وہ خواب اور منزلیں ہوتی ہیں جن تک ہم پہنچ نہیں پاتے اور ان کے بارے میں سوچتے چلے جاتے ہیں، مثال کے طور پر:

فلمیں دیکھ دیکھ کر بعض لوگوں کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی کسی فلم میں ہیرو کا کردار ادا کریں، اب حقیقت میں ہوتا یہ ہے کہ وہ اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ کسی سکول کے ڈرامے میں کوئی کردار کر سکیں، اور ان کواس بات کا پتا ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی ہیرو نہیں بن سکتےاوراگر کبھی موقع مل بھی گیا تو وہ ایکٹنگ نہیں کر سکیں گے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہیرو بننے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔

ان کی سوچ انہیں ہیرو بننے کے لیے کبھی ایک راستہ دکھاتی ہے تو کبھی دوسرا، کبھی خیالات میں وہ ایک فلم میں ایکٹنگ کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جب وہ کامیاب ہو جائیں گے تو کیا ہو گا؟ ان کی زندگی ، رہن سہن کیسا ہو جائے گا، لوگ ان کی عزت کریں گے وہ جہاں بھی جائیں گے لوگ ان کو خوش آمدید کہیں گے۔ اور ایسی ہی لامتناہی ختم نہ ہونے والی سوچیں انسان کا جینا حرام کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے : خوشی کیا ہے اور کیسے حاصل ہوتی ہے؟

اسی طرح بعض لوگوں کے دلوں میں کرکٹ میچ دیکھ کر یہ خواہش انگڑائی لیتی ہے کہ وہ بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں سلیکٹ ہو جائیں۔ اور پوری قوم ان کی عزت کرے۔ اور وہ کھیل کے دوران ایسی کارکردگی دکھائیں کہ ہر کوئی واہ واہ کر اٹھے۔

ایسے میں اُن کی سوچ کبھی ان کو باؤلر بنا دیتی ہے تو کبھی بیٹسمین، کبھی وہ آل راؤنڈر بن جاتے ہیں تو کبھی ایسی فیلڈنگ کرتے ہیں کہ جو آج تک کبھی کسی نے نہ کی ہو گی۔ بات صرف یہاں تک نہیں رہتی، سوچ سوچ میں کبھی وہ ایک ریکارڈ توڑتے ہیں تو کبھی ایسا ریکارڈ بناتے ہیں جو کبھی ٹوٹ نہ سکے۔

ورلڈ کپ ختم ہو جاتا ہے لیکن سوچوں کا یہ تسلسل کبھی ختم نہیں ہوتا۔اس قسم کی سوچیں صرف کرکٹ میچ کے بارے میں نہیں کسی بھی پسندیدہ کھیل کے بارے میں ہو سکتی ہیں۔

اسی طرح بعض لوگوں کے دلوں میں سیاست دان بن کر ملک میں راج کرنے کی خواہش اور سوچ ہوتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگ اپنی سوچوں میں ماڈل، ایکٹر، فلم ساز، سنگر، موسیقار،کمپیئر،بلڈرز، ڈان،ارب پتی، کھرب پتی۔۔۔ اور پتہ نہیں کیا کیا ہوتے ہیں۔

بعض لوگ جس شعبے میں کام یا نوکری کر رہے ہوتے ہیں، وہاں پر اچھا نام کمانے یا بڑا عہدہ اور مراعات حاصل کرنے کی سوچوں میں گم رہتے ہیں۔ ایسے میں ان کی سوچیں وہ شارٹ کٹ تلاش کرنے میں لگی رہتی ہیں کہ جن سے ان کا کام تو کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور ان کا بڑا عہدہ یا مقام مل جائے۔پوسٹ کی طوالت کی وجہ سے ہر شعبہ کی مثال نہیں دی جا سکتی۔

یہ تو ہو گئیں وہ خواہشات اور خواب جو انسان کبھی پورے نہیں کر سکتا، اور اس کی سوچیں خواہ مخواہ میں ان کے گرد گھومتی رہتی ہیں۔ اب کچھ سوچیں اس سے ہٹ کر بھی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر:

آپ ہر ایک سے ساتھ اچھائی کر رہے ہیں اور ہر کوئی آپ کے ساتھ برا کر رہا ہے۔ یا آپ کسی کے ساتھ ہمدرد اور فیئر ہیں۔ اور وہ آپ کو کوئی غلط بات یا گالی وغیرہ دے دیتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ اینٹ کا جواب پتھر سے دے دیتے ہیں پھر تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر آپ اسے اس کے لہجے میں جواب نہیں دیتے ، تو آپ کی سوچیں آپ کا جینا حرام کر دیں گی۔

یہ بھی پڑھیے : کامیابی کیا ہے، کامیاب زندگی کا راز اور کامیابی کے سنہرے اصول

کبھی یہ سوچ آئے گی کہ اس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔ میں نے تو کبھی اُس کے ساتھ ایسا نہیں کیا، وہ ہوتا کون ہے میرے بارے میں ایسی بات کرنے والا، یا اُس کی ہمت کیسے ہوئی میرے بارے میں ایسی بات کرنے کی۔

بعض دفعہ حسد (جلن، جیلسی) سے بھی منفی سوچیں جنم لیتی ہیں۔ اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ مثال کے طور پر اُس کے پاس یہ چیز کیوں ہے، اللہ پاک نے اُسے اتنا کچھ دیا ہے جبکہ اس کی اوقات تو ایک ٹکے کی نہ تھی۔ اف اللہ اُس نے گاڑی بھی خرید لی ہے۔ حسد میں عورتیں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔ جو دوسروں کی چھوٹی چھوٹی چیز ، جوتوں، کپڑوں اور رہن سہن تک جیلسی محسوس کرتی ہیں۔

سوچوں کی ایک تیسری قسم بھی ہوتی ہے۔ اور یہ ایسی سوچیں ہوتی ہیں جو ہم کسی سے شیئر نہیں کر سکتے ، اس لیے وہ ہر وقت دماغ میں گھومتی رہتی ہیں۔ شیئر نہ کرنے کی وجہ سے ہم ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ فرض کریں ایک شخص مردانہ کمزوری میں مبتلا ہے تو وہ تو ہر وقت یہی سوچتا رہے گا کہ اُس نے اپنی قوت باہ میں اضافہ کیسے کرنا ہے۔

سوچوں کی ایک چوتھی قسم ہوتی ہے، جس میں آپ کسی چیز سے ڈر ، خوف یا گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں، اور اِس چیز کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں، ایسی سوچیں دماغ کے لاشور میں ہوتی ہیں، اور جیسے ہی کوئی واقع رونما ہوتا ہے یہ انسانی ذہن پر حاوی ہو کر خوف ، ڈر اور گھبراہٹ کی کیفیت پیدا کر دیتی ہیں۔ اس قسم کے معاملات کی مثال اور مکمل تفصیل کے لیے آپ ہماری تحریر دل کی گھبراہٹ ڈر اور خوف کی علامات وجوہات اور علاج پڑھ سکتے ہیں

منفی سوچوں اور برے خیالات کو ختم کرنے کا طریقہ

دنیا کے ماہرین نے لاتعداد کوششیں کی ہیں کہ ایسا کوئی طریقہ یا ادویات ایجاد کی جائیں کہ جن سے انسان میں منفی سوچوں اور برے خیالات کو ختم کیا جا سکے، تاہم انہیں ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

الحمدوللہ ایزی استاد میں ہم آج آپ کو ایک ایسا طریقہ بتائیں گے کہ جس پر عمل کرنے کے بعد آپ کی منفی سوچیں اور برے خیالات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں ہیں۔ اگر ہم اپنے دعوے میں ناکام ہوئے تو آپ ہمیں فراڈئیے سمجھتے ہوئے کبھی ہماری ویب سائیٹ پر دوبارہ نہ آنا،

لیکن اگر ہمارے طریقے کے استعمال سے آپ نے اپنی سوچوں پر قابو پا لیا اور منفی سوچوں اور برے خیالات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ ایزی استاد کی ویب سائیٹ کو روزانہ نہ صرف وزٹ کریں بلکہ پرموٹ بھی کریں۔

جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا کہ ہم کیسی کیسی عجیب و غریب چیزوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں کہ جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا، یا جن کو ہم حاصل نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی ان کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔

ایسا کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم نے ایسی سوچوں کو کبھی دماغ سے نکالنے کی کوشش ہی نہیں کی ہوتی۔ اور اگر کوشش کی ہوتی ہے تو یہ سوچیں دماغ میں اپنی جڑیں اتنی پختہ بنا چکی ہوتی ہیں کہ کسی طریقے سے ختم ہی نہیں ہوتیں۔

طریقہ

کسی ایسے کمرے میں بیٹھ جائیں، جہاں پر شور و غل نہ ہو، شور و غل سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسانی آوازیں نہ آئیں بلکہ جانوروں، پرندوں، گاڑیوں اور مشینوں کی آوازیں بھی نہیں آنی چاہیں۔ اور نہ ہی اس کمرے میں کوئی اور فرد موجود ہو، اب کسی آرام دہ جگہ پر بیٹھ جائیں۔ آپ کے پاس کم از کم دو درجن سفید کاغذ اور ایک ایسی پنسل (بال پوئنٹ،پن) ہونی چاہیے جوروانی کے ساتھ چلتی رہے۔

پرسکون بیٹھنے کے بعد کاغذ اور پنسل لیں اور لکھنا شروع کر دیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ لکھنا کیا ہے۔ جو بھی آپ کے دماغ میں آ رہا ہے وہ لکھتے جائیں ۔اگر کسی نے آپ کے ساتھ کچھ غلط کیا ہے تو وہ لکھیں۔ اُس کی اِس حرکت سے آپ میں کیا احساسات بیدار ہوتے ہیں وہ لکھیں۔

بلفرض آپ اسے گالیاں دینا چاہتے ہیں تو وہ تحریر کریں، اس سے بدلہ لینا چاہتے ہیں ، تو بدلہ لینے کا طریقہ کار لکھیں۔ اسے چوٹ یا نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ کار لکھیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالیں۔

اسی طرح کسی اور شخص ادارے یا محکمے سے آپ کوجو مسئلہ ہے وہ لکھیں۔ آپ کی پرموشن نہیں ہو رہی، آپ کو کوئی مقام نہیں مل رہا، کوئی آپ کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے ، کوئی محکمہ یا ادارہ یا اس کے لوگ آپ کو تنگ کر رہے ہیں۔ جو بھی مسئلہ ہے وہ تحریر کریں۔

وہ کام کیوں نہیں ہو رہا اس کی وجہ تحریر کریں، کون وہ کام نہیں ہونے دے رہا اور کیوں نہیں ہونے دے رہا، وجوہات لکھیں، اب اِس مسئلے کی وجہ سے آپ پر کیا بیت رہی ہے وہ تحریر کریں، اور آپ کا جو دل دکھا ہے اس کی کیفیت لکھیں، اور ایسے میں آپ کو اس شخص کے بارے میں کیا اقدامات کرنے کا دل کر رہا ہے وہ تحریر کریں۔

یاد رکھیں، ہر چیز سچ سچ لکھنی ہے ، کسی بات پر جھجک اور ندامت محسوس نہیں کرنی، اگر کسی کو گالی یا کوئی اور سزا دینی ہے تو وہ تحریر کریں۔ اسی طرح آپ اپنے اس خواب (منزل) کے بارے میں بھی تحریر کریں جو آپ کو نہیں مل سکتی، لیکن آپ اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔

مثلاً کرکٹر ،ایکٹر،سیاست دان وغیرہ بننے کے بارے میں، اور آپ یہ مقام کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ کو آپ کی منزل مل جاتی ہے تو کیا ہو گا، لوگوں کی آپ کے بارے میں کیا رائے ہو گی، یعنی جو کچھ آپ سوچتے رہتے ہیں وہ سب تحریر کریں۔

یہ بھی پڑھیے : سکون کیا ہے، ذہنی سکون اور اطمینان قلب کیسے حاصل ہوتا ہے؟

یاد رکھیں۔ آپ نے اپنے ہاتھ کو آزاد چھوڑنا ہے او ر جو جو ذہن میں آتا جا رہا ہے وہ لکھتے جانا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ تسلسل کے ساتھ لائنوں میں خوشخط لکھیں۔آپ کسی صفحے پر پندرہ لائنیں اور کسی پر دو لائنیں بھی لکھ سکتے ہیں۔ اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر لکھ سکتے ہیں،

اردو اور انگریزی میں لکھ سکتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ بس لکھتے جانا ہے ، جو بھی ذہن میں آ رہا ہے۔ بعض مقامات پر آپ کو کچھ لکھنے کا دل نہیں کرئے گا ، اور آپ کو ڈرائنگ بنانے کے خواہش ہو گی تو ڈرائنگ کرنا شروع کر دیں، دائرے بنائیں، رنگ بھریں، جو بھی کریں، ساتھ ساتھ دماغ میں سوچتے جائیں کہ میں اور کیا کیا سوچتا رہتا ہوں، آج سب کچھ ان کاغذات پر منتقل کروں گا۔

آپ نے وہ چیزیں بھی لکھنی ہیں جو آپ نے آج تک کسی سے شیئر نہیں کیں۔ اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی چیزیں جب آپ کاغذ پر تحریر کریں گے تو آپ کے دماغ کا غبار ذہن سے نکل کر کاغذ میں منتقل ہو جائے گا۔

لکھتے لکھتے اک سٹیج ایسی آئی گی کہ آپ کے پاس لکھنے کو کچھ باقی نہیں بچے گا۔ اب کاغذ اور پنسل رکھ دیں۔ اور آنکھیں بند کر کے سکون کی حالت میں سوچیں کہ کچھ رہ تو نہیں گیا۔

جب آپ کو یقین آ جائے کہ آپ نے سب کچھ لکھ دیا ہے تو کاغذ اور پنسل کو وہیں چھوڑ دیں۔ اور آپ دس سے پندرہ منٹ کےلئے کمرے سے باہر آ جائیں۔ اور خود کو تازہ دم کریں، آپ محسوس کریں کہ آپ بالکل فریش ہو گئے ہیں۔ اور آپ کی ساری سوچیں آپ کے ذہن سے نکل کر کاغذ پر منتقل ہو گئی ہیں۔

اب دوبارہ کمرے میں جائیں۔ اور آپ نے جو کچھ لکھا تھا وہ پڑھنا شروع کریں، جیسے جیسے آپ پڑھتے جائیں گے آپ کو خود پر ہنسی آتی جائے گی کہ دیکھو میں کتنا پاگل تھا جو یہ کچھ سوچا کرتا تھا۔ حالانکہ حقیقت میں یہ چیزیں کچھ بھی نہیں ہیں۔

یہاں پر آپ نے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان لوگوں کو معاف بھی کر دینا ہے۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ معاف کرنے سے آپ میں بڑا پن آئے گا اور آپ کا دل و دماغ ایک نئی تازگی و فرحت محسوس کرئے گا۔

اپنی لکھی ہوئی ایک ایک چیز کو بغور پڑھیں، اور سوچیں کہ میں یہ کیوں سوچا کرتا تھا۔ آپ کو اپنی سوچیں احمقانہ لگیں گئیں، اور آپ کو شرم محسوس ہو گی کہ آپ ایسی گھٹیا چیزیں سوچا کرتے تھے۔ بغور مطالعہ کرنے کے بعد آپ نے کاغذات کو آگ لگا دینی ہے۔

ایسا کرنے سے آپ کی تمام سوچیں جو آپ کے دماغ سے نکل کے کاغذ پر منتقل ہوئیں تھیں، آگ لگنے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں ہیں۔ اور آپ نے اپنے دل کی بھڑاس بھی نکال لی ہے اور وہ چیزیں بھی شیئر کر دی ہیں جو آپ کسی کو بھی نہیں بتا سکتے تھے۔ اور آپ کو کوئی ڈر بھی نہیں ہے کیوں کہ سب کچھ جل کر راکھ ہو چکا ہے۔

اب آپ کمرے سے باہر نکلیں گے تو آپ کوایسا محسوس ہو گا کہ جیسے آپ آج ہی پیدا ہوئے ہیں۔ دماغ بالکل فریش اور تازہ دم ہو گا۔ اور دماغ میں کسی قسم کا کوئی فتور، کوئی غلط سوچ اور برا خیال نہیں ہو گا۔

اب اگر آپ نے اس طریقے سے سبق سیکھا تو آپ کو فضول ، گندی اور منفی سوچوں سے نفرت ہو جائے گی۔ اور آپ ایسی سوچوں کو دماغ میں گھسنے ہی نہیں دیں گے، اگر بلفرض کوئی سوچ آ بھی جائے گی تو ذہن کو جھٹک دیں گے کہ یہ بےکار اور فضول کی سوچ ہے۔

How to Control your Mind and Thoughts in Urdu and Hindi

آخر میں ہماری تجویز یہی ہے کہ آپ اس عمل کو سال میں کم از کم ایک بار ضرور کریں۔ تاکہ آپ بالکل فریش اور تازہ دم ہو جایا کریں۔ اور ساتھ ہی آپ ہماری تحریر مثبت اور منفی سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات ضرور پڑھیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں