حسد کیا ہے حسد کے نقصانات، حسد کا علاج | حسد جلن اور رشک میں فرق

حسد کیا ہے۔ حسد کی تعریف

دوسرے کی اچھی قسمت کی وجہ سے پہنچے والی تکلیف کو حسد کہتے ہیں۔ حسد ایک منفی جذبہ ہے جو اپنی کمتری کے احساس کی وجہ سے ابھرتا ہے۔ ہمارے مذہب میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ برتری کا معیار تقویٰ ہے۔ لیکن حساس دل و دماغ کا مالک انسان ہر چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی اپنی برتری جتانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

اس دنیا میں جب سے انسان نے مل کر رہنا شروع کیا ہے مقابلے کی فضاء بھی قائم ہو گئی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سب ساتھی ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوسکتے ہیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا انسان کی فطرت ہے۔ جس کی بڑی وجہ انفرادیت کا احساس ہے۔ انسان کو قدرت نے دیگر تمام مخلوقات پر برتری تو عطا کی ہے لیکن ہر وجود کو دوسرے سے مختلف تخلیق کر کے اعلیٰ و ادنیٰ کی تفریق بھی کر دی ہے۔

انسان کے پاس جوں جوں وسائل بڑھتے گئے طرز زندگی بہتر ہوتی گئی اور مقابلے کی فضاء بھی وسیع تر ہوتی چلی گئی۔ یوں جلن، حسد اور نفرت جیسے منفی جذبات کا اظہار کھلے عام ہونے لگا۔ یوں تو یہ تینوں ہی انسان کے لیے مضر ہوتے ہیں لیکن ان میں سے سب سے خطرناک جذبہ حسد کا ہے جو کسی انسان کی بربادی کا باعث بن سکتا ہے۔

حسد کیا ہے حسد کے نقصانات

حسد آدمی کو اللہ تعالی کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے، کہتے ہیں اللہ تعالی کی سب سے پہلی نافرمانی حسد ہی کی وجہ سے واقع ہو ئی۔ شیطان نے آدم علیہ السلام کو حسد کی وجہ سے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا، پھر سب سے پہلے قتل کا باعث بھی یہی بنا کہ قابیل نے ہابیل کو حسد کی بنا پر قتل کر دیا۔

قرآن پاک کی سورۃ فلق میں ہے

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
’’اور حاسد کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جب وہ حسد کرے۔‘‘

حاسد ہمیشہ اپنی قسمت اور مقدر سے نالاں رہتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ان گنت نعمتیں جو اس کو حاصل ہیں بھول جاتا ہے۔ اس طرح حسد کرنے والا خدا کا شکر ادا کرنے سے بھی قاصر رہتا ہے۔

حاسد در اصل اللہ تعالی پر ناراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو وہ نعمت(جس کی اس کو خواہش ہے) کیوں دی، پھر بندے پر اس کے کسی جرم کے بغیر ناراض ہوتا ہے کیونکہ اس نعمت کے حصول میں اس کا کچھ اختیار نہیں ہوتا، تو حاسد در اصل اللہ اور اللہ کے بندوں کا بھی دشمن ہے۔

حسد اور جلن (جیلسی ) میں فرق

عام طور پر جلن (جیلسی) اور حسد کو ہم معنی تصور کیا جاتا ہے لیکن ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ جیلسی درحقیقت ایک طرح کے خوف کی پیداوار ہے۔ یہ کیفیت اپنی کسی صلاحیت یا چیز کے چھن جانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جلن رکھنے والا محرومی کا شکار نہیں ہوتا بلکہ محرومی کے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ عام زندگی میں اس طرح کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔

ایک ذہین طالب علم کلاس میں ہمیشہ پہلی پوزیشن لیتا ہے، اچانک اس کی کلاس میں ایک نیا طالب علم آتا ہےجو اسی کی طرح ذہین اور لائق ہوتا ہے۔ تو پہلے طالب علم کو خدشات لاحق ہوتے ہیں کہ کہیں اس کی اہمیت میں کمی نہ آئے۔ یہ خدشات اس کے دل میں نئے طالب علم کے لیے منفی جذبات پیدا کرتے ہیں جسے جلن یا جیلسی کہا جاتا ہے۔

خدشات کے صحیح ثابت ہونے پر یہ منفی جذبات اور بھی گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح کے جذبات کا دفاتر میں بھی تجربہ کیا جاتا ہے، جہاں پر ملازم کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے کام کی ہی تعریف کی جائے اور وہ خود اچھی صلاحیتوں کا مالک ہونے کے باوجود اپنے ساتھی ملازمین سے صرف اس لیے جلن محسوس کرتا ہے کہ وہ اس کی خواہش کو پورا کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ خواتین میں بھی خوبصورتی اور ستائش کے حوالے سے ایک دوسرے کے لیے جیلسی کا عنصر پایا جاتا ہے۔

اس کے برعکس حسد کے جذبات اس وقت ابھرتے ہیں جب ایک شخص میں وہ اصاف ہوتے ہیں نہیں ہیں جو سامنے والے شخص میں موجود ہوتے ہیں۔ حسد کسی خوف کے تحت نہیں بلکہ احساس کمتری کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک نالائق طالب علم کے ذہن میں ذہین طلبہ کے لیے منفی جذبات، ناپسندیدہ ملازم کا افسر یا اس کے نورنظر ملازم کی طرف منفی جذبہ، واجبی صورت والی لڑکی کا خوبصورت اور غریب کا امیر کے لیے نفرت امیز رویہ حسد کی بڑی مثالیں ہیں۔

حسد کے جذبات انسان میں ناخوشی کی کیفیت کو تقویت دیتے ہیں۔ کچھ لوگ حسد کا مثبت پہلو ترقی کی ترغیب کو گنواتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، حسد سے ملتی جلتی ایک اور کیفیت رشک ہے۔

حسد کیا ہے حسد کے نقصانات

حسد اور رشک میں فرق

رشک کرنے والا دراصل اپنے مقابل شخص کی خوبی سے متاثر ہو کر اس سے آگے نکلنے کی تگ و دو میں ہوتا ہے۔ وہ خود کو برتر منوانے کے لیے دوسروں سے زیادہ محنت اور کوشش کرتا ہے۔ گویا دوسروں کی ترقی سے ترغیب لیتا ہے۔

لیکن حسد کرنے والا ایسی کوئی ترغیب نہیں لیتا بلکہ فقط اس بات پر کڑھتا ہے کہ دوسرے شخص کے پاس وہ شے یا صلاحیت کیوں ہے۔ اس کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ دوسروں کو جو نعمت یا خوبی ملی ہے وہ ان سے چھن جائے۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ رشک ایک مثبت اور حسد ایک منفی جذبہ ہے۔

حسد کیا ہے حسد کے نقصانات

انسان یوں تو اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ کرتا ہی رہتا ہے لیکن جب کسی دوسرے کو میسر سہولیات اور آسائشیں اس میں احساس محرومی اور اس شخص کے لیے منفی جذبات کا باعث بنیں تو سمجھ لیں کہ یہ شخص حسد کی آگ میں جل رہا ہے۔ حسد ایک خطرناک کیفیت ہوتی ہے۔ جو خود حسد کرنے والے کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہے۔

حسد کا جذبہ

حسد ایک تخریبی جذبہ ہے۔ یہ تخریب کاری صرف ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ دو افراد کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ حسد کرنے والا ایک طرف تو دوسرے کی صلاحیت پر کڑھتا ہے اور دوسری طرف اس شخص سے اس کی خوشی چھیننے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

حسد احساس محرومی کا نتیجہ ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمزوری یا کمی ضرور ہوتی ہے لیکن ہر شخص اپنی محرومی یا کمی کے نتیجہ میں دوسروں سے حسد نہیں کرتا بلکہ صرف ان لوگوں میں یہ منفی جذبہ پروان چڑھتا ہے جو احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔

احساس محرومی کا شکار لوگ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو انسانی محرومی کی وجہ سے خود کو پس منظر میں رکھتے ہیں، ان لوگوں میں حسد نہیں ہوتا بلکہ یہ خوف کے دباؤ میں رہتے ہیں اور دوسروں سے مقابلہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔

ایسے افراد مایوسی، تنہائی اور کمتری کا شکار رہتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو نہ تو خود کوئی شے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اسے دوسروں کے پاس دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں حسد کا جذبہ جنم لیتا ہے۔

حسد کا الفاظ میں اظہار یہ ہے۔ جو میرے پاس نہیں وہ اس کے پاس کیوں ہے؟ یہ جذبہ اس وقت زیادہ شدید ہو جاتا ہے جب مدمقابل شخص حسد کرنے والے سے زیادہ باصلاحیت نہ ہو یا پھر اس سے کم تر ہی ہو۔ ساتویں کلاس کی ایک طالبہ اپنی کلاس مانیٹر کی بلا وجہ شکایتیں لگایا کرتی تھی اور اسے تنگ بھی کیا کرتی تھی۔ ٹیچرز کے دریافت کرنے پر اس نے کوئی وجہ نہیں بتائی۔ بچی کے والدین سے رابطہ کیا گیا۔ والدہ نے گھر میں جب اس سے بات کی تو اس نے مانیٹر کے لیے جن الفاظ کا اظہار کیا وہ کچھ یوں تھا:

"ہماری مس بھی ہر کسی کو مانیٹر بنا دیتی ہیں۔ وہ تو اتنی کالی کلوٹی سی ہے، اس کے ابو کے پاس گاڑی بھی نہیں ہے، اسے مانیٹر نہیں بنانا چاہیے۔ میں تو کبھی اس کی بات نہیں مانوں گی”

اس طرح کے جذبات کا اظہار اکثر وہ بچے کرتے ہیں کہ جن میں مالی طور پر مستحکم ہونے کا غرور گھر سے ملتا ہے اور وہ لیاقت و ذہانت کو کچھ اہمیت نہیں دیتے۔ اس لیے انہیں یہ برداشت نہیں ہوتا کہ ان کی بجائے کوئی اور خاص طور پر کوئی غریب گھر کا بچہ کلاس میں اہمیت یا پوزیشن حاصل کرے۔

حسد کے نقصانات

حاسد کو یہ بات کھاتی ہے کہ دوسرے شخص کو کوئی آرام، فائدہ یا اچھی چیز نصیب ہی کیوں ہوئی۔ یہ سوچ اسے مقابل شخص کی طرف معاندانہ ردعمل پر مائل کرتی ہے۔ وہ اسے نقصان پہنچا کر خوشی محسوس کرتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ مقابل شخص سے وہ سہولیات یا آرام چھین لیا جائے جو خود اسے نصیب نہ ہوا۔ ہمارے معاشرے میں اس طرح کی بڑی مثال کالا علم (کالا جادو) ہے۔

حاسدانہ جذبات کے حامل لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو نقصان پہنچانے کے لیے سفلی کے عاملوں کا سہارا لیتے ہیں اور انہیں برباد کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ کاروبار میں نقصان، مالی بدحالی، شادی میں رکاوٹ، ازدواجی تعلقات میں کشیدگی اور اولاد پر بندش جیسے مکروہ اعمال کی بنیاد زیادہ تر حسد ہی ہوتی ہے۔

حسد کیا ہے حسد کے نقصانات

یوں تو حاسد دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن دراصل وہ خود کو بھی نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔ حاسد کے ذہن پر ہر وقت اپنی محرومی کا افسوس سوار رہتا ہے۔ وہ اپنے سے برتر شخص کو دیکھ کر غصے میں آ جاتا ہے یوں اپنے آپ کو خود ہی ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں اس کا ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی بہتری کے بارے میں کچھ سوچ ہی نہیں پاتا۔

حاسد شخص کے دل میں منفی جذبات ہی موجزن رہتے ہیں۔ گویا وہ دوسروں کی بھلائی کے لیے بہت کم ہو سوچتا ہے۔ ظاہر ہے جس شخص کا دل کالا ہو گا وہ صحت مند سرگرمیوں کا حصہ بن ہی نہیں سکتا۔

حسد ایک ایسی ہی بیماری ہے جس کا شکار دنیا ہی میں نفسیاتی اذیت اٹھاتا اور دل ہی دل میں گھٹ کر مختلف ذہنی و جسمانی امراض میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔یعنی حاسد کی سزا کا عمل اس دنیا ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن پاک میں حسد کرنے والے کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے کیونکہ وہ اس باؤلے پن میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو کھا جاتی ہے

لہٰذا دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے اس بیماری کو جاننا اور اس سے بچنے کی تدابیر اختیا ر کرنا ضروری ہے۔

حسد کرنے والا چونکہ دوسروں کی خوبیوں کو برداشت نہیں کر سکتا اس لیے ان کی کسی بات پر تعریف یا پذیرائی نہیں کرتا۔ اگر تعریف کرتابھی ہے تو اس اندازمیں کہ اس کے اندر نفرت اور طنز واضح ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے لوگ اس کی صحبت میں خوش نہیں ہوتے۔ اور اس سے دور رہنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

یوں ایک طرف تو حاسد تنہائی اور دوسری طرف عدم تحفظ کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جس شخص سے ہر کوئی دور جاتا رہے اس میں کئی طرح کے خوف اور احساس عدم تحفظ پروان چڑھتے ہیں۔

حسد ایک ضرر رساں جذبہ ہے اس لیے اس پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔ یہ جذبہ انسان کی شخصیت کو بری طرح تباہ کر دیتا ہے اور حاسد کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو پاتا۔ حاسدانہ خیالات انسانی ذہن پر غالب آ جائیں تو ساری دنیا دشمن نظر آنے لگتی ہے۔

یوں حاسد اپنا ہی نقصان کرتا چلا جاتا ہے۔ بامقصد کاموں کے بجائے وہ دوسروں کی صلاحیتوں پر کڑھنے اور انہیں نقصان پہنچانے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ اپنی محرومیوں پر جھنجھلاہٹ اس کے رویے میں تلخی کو اور بھی گہرا کر دیتی ہے۔

حسد میں مبتلا ہونے کی صورتیں

حسد میں مبتلا ہونے کی درج ذیل صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اس لیے حسد میں مبتلا ہونے والا شخص ہر وقت کڑھتا رہے گا کہ یہ چیزیں اس کے پاس ہیں تو میرے پاس کیوں نہیں ہیں۔

  • دوسروں کے اچھے کپڑوں، زیورات، مکان، گاڑی، موبائل اور دیگر سامان حسد میں مبتلا ہونے کی ایک صورت ہوتی ہے۔
  • بعض لوگ دوسروں کی شخصیت کے ظاہری اوصاف مثلاً شکل و صورت، ظاہری خدوخال اور رہن سہن کو برداشت نہیں کر پاتے اور حسد کرتے رہتے ہیں۔
  • اچھی عزت، بلند شہرت، دولت کی فروانی، اعلیٰ قابلیت یا عہدہ دوسروں کو حسد میں مبتلا کر دیتا ہے۔
  • باطنی خصوصیات مثلاً خوش اخلاقی، ملنساری، دینداری اور ہردلعزیزی سے جلنا بھی حسد کی ایک قسم ہے۔
  • کسی کی ترقی سے جلنا جیسے کاروبار کی ترقی، اعلیٰ تعلیم یا اچھی ملازمت، اچھی پوزیشن وغیرہ
  • دسروں کی اچھی صحت، تندرستی، اطمینان، خوشی اور راحت کو برداشت نہ کرنا بھی حسد کی ایک شکل ہے۔
  • رشتے داروں میں اگر کوئی اچھی پوزیشن پر ہے تو اس سے جلن، اگر کسی کے بچے ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں تو اس بات پر جلن، پس اگر یہ کہا جائے کہ حسد میں مبتلا رہنے کی بے شمار صورتیں ہو سکتی ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

حسد احادیث کی روشنی میں

  • حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کرحسد نہ کرنے لگو۔ ( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1218)
  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اللہ تعالی کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے (قطع تعلق کرے)۔ (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1003)
  • ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے بچتے رہیں گے۔(طبرانی فی الکبیر)
  • حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” تم میں جو شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو اس سے زیادہ مالدار اور اس سے زیادہ اچھی شکل و صورت کا ہو (اور اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر رنج و حسرت ہو، خدا کا شکر ادا کرنے میں سستی و کوتاہی واقع ہوتی ہو اور اس آدمی کے تئیں رشک و حسد کے جذبات پیدا ہوتے ہوں) تو اس کو چاہئے کہ وہ اس آدمی پر نظر ڈال لے جو اس سے کمتر درجہ کا ہے (تاکہ اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر خدا کا شکر ادا کرے اور نعمت عطا کر نے والے پروردگار سے خوش ہو”
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ ایک دوسرے پر حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور نہ بغض رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بن کر رہو۔

حسد کا علاج کیسے کیا جائے

حسد کی کیفیت سے نکلنے کے لیے آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں۔

  • دوسروں کے ساتھ موازنہ اس نیت سے ہر گز نہیں کرنا چاہے کہ آپ ان سے کمتر ہیں بلکہ دوسروں کی صلاحیتوں کو دیکھ کر استفادہ کریں، یعنی خود کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔
  • اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کریں۔ جو کچھ آپ کو عطا کیا گیا ہے اس پر اپنی تعریف کریں۔
  • یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف اور منفرد ہے۔ جو کچھ آپ کو حاصل ہے وہ ہر کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ جو صفات آپ میں ہیں وہ دوسروں میں نہیں۔ اس لیے ضروری نہیں کہ جو کچھ دوسروں کے پاس ہے وہ آپ کے پاس بھی ہو۔ اپنی انفرادیت کو دوسروں کی شخصی صفات سے موازنہ کر کے نقصان نہ پہنچائیں۔
  • کمتری کے احساس کو ہر گز غالب نہ آنے دیں جہاں احساس کمتری اور احساس محرومی کا غلبہ ہوتا ہے وہیں سے منفی سوچ کا آغاز ہوتا ہے۔
  • جن نعمتوں پرآپ دوسروں سے حسدکرتے ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ آپ کو بھی مل جائیں
  • دوسروں کی اچھی قسمت پر افسوس کرنا ایک منفی ردعمل ہے۔ اس سے پرہیز کریں۔
  • حسد سے نجات پانے کے لئے مفید عمل یہ ہے کہ حسد کے تقاضے کے برعکس اس شخص کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے،
  • برتر کی بجائے کمتر کی طرف دیکھیں اور جو کچھ آپ کو حاصل ہے اس پر شکر ادا کریں۔
  • اپنے آپ کو صحت مند سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔
  • دوسروں پر بلا وجہ تنقید سے پرہیز کریں اور اسے دوستوں سے بھی دور رہیں جو اس عادت کا شکار ہیں۔
  • دوسروں کی تعریف کیا کریں۔ اس طرح آپ منفی سوچ سے دور رہیں گے۔
  • اپنا تجزیہ وقتاً فوقتاً کرتے رہا کریں اور منفی باتوں کو ختم کر کے اچھی عادات کو اپنایا کریں۔
  • وہ مادی چیزیں جو آپ کو حسد پر مجبور کرتی ہیں انہیں عارضی اور کمتر سمجھتے ہوئے جنت کی نعمتوں کو یاد کریں۔
  • حسد کا علاج یہ ہے کہ حسد کرنے والا یہ سوچے کہ حسد کا نقصان دین و دنیا میں مجھے ہی ہو گا۔ جس سے میں حسد کرؤں گا اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا، نہ اس دنیا میں نہ آخرت میں، بلکہ اسے دین و دنیا میں میری وجہ سے فائدہ ہی ہو گا۔

حسد سے متعلقہ یہی تحریر آپ رومن اردو میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔

حسد کے حوالہ سے  اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

One comment

اپنی رائے کا اظہار کریں