غصہ کیا ہے۔ غصے کے اسباب، نقصانات اور علاج

غصہ آنا انسان کی اور اس پر قابو پانا مومن کی نشانی ہے۔ غصہ حماقت سے شروع ہوکر ندامت پر ختم ہوتا ہے۔غصہ کرنا دوسرے کی غلطی کی سزا خود کو دینا ہے۔غصے کا منفی انداز میں اظہار بعض اوقات پریشانی کا سبب بن جاتا ہے ، خاص طور پر تب جب اس سے کسی کو نقصان پہنچنے یا کسی کے جذبات مجروح ہونے کا خطرہ ہو ۔ غصے کے وقت سہی فیصلہ لینا یا سوچنا سمجھنا اس لیے بھی مشکل ہوجاتا ہے چونکہ غصہ بن بلائے آتا ہے اور ذہن کو کچھ دیر کے لیے سن کردیتا ہے۔

انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے اندر سے بچہ ہی رہتا ہے، اس وجہ سے لوگ بچوں کی طرح چاہتے ہیں کہ ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق ہو اور جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ غصے میں آجاتے ہیں۔آج کے دور میں لوگوں میں قوت برداشت بہت کم ہو گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پہ غصہ آجاتا ہے۔

اگرکوئی آپ کو دھوکہ دے، آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرئے،یاآپ کو بنا کسی وجہ کے تنقید کا نشانہ بنائے تو آپ کو غصہ آنے لگتا ہے ۔ غصے کا تعمیری انداز میں اظہار اکثر مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ غصہ کے وقت انسان جذبات میں بہہ کر صحیح اور غلط کی تمیز بھول جاتا ہے اور اس کا غصہ معاملات کو بہتر بنانے کے بجائے ان کے بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے ۔

تم انسان کے دل میں چاقو گھونپ کر باہر نکال سکتے ہو لیکن چاقو کے باہر نکلنے کے بعد تم ہزار بار بھی معذرت کرو معافی مانگو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا وہ زخم اپنی جگہ باقی رہے گا۔ یاد رکھو زبان کا زخم چاقو سے کہیں بد تر اور دردناک ہوتا ہے۔ اس لیے غصے نہ کرؤ، کیونکہ قابل سے قابل آدمی کو بھی بے وقوف بنادیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ انسان کی عقل کا اندازہ غصے کی حالت میں لگانا چاہیے۔

غصہ وہ چیز ہے جس سے انسان کے اندر سخت ہیجان پیدا ہوتا ہے ، چہرہ سرخ ہوجاتا ہے ، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے ، نبض کی رفتار تیز ہوجاتی ہے ، سانس چڑھنے لگتی ہے حتی کہ ایک سنجیدہ و خوبصورت انسان خوفناک اور وحشت ناک شکل اختیار کرلیتا ہے ۔صرف یہی نہیں غصے کے وجہ سے انسان ایسی حرکات کر بیٹھتا ہے جو اس کے لئے ہلاکت و بربادی کا سبب بن جاتی ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ انھیں تب غصہ آتا ہے جب کوئی غلط بات یا کام ہو۔ لیکن، بات تو تب ہے کہ کوئی گاڑی اونچے نیچے راستوں پر بھی اچھی چلے کیونکہ ہموار سڑک پر تو ہر گاڑی اچھی چلتی ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے : قوت برداشت کامیابی کی کنجی ہے

ایک لڑکے کو غصہ بہت زیادہ آتا تھا۔ بات بات پر طیش میں آجاتا تھا۔ اس کے باپ نے اس کو بولا کہ اب جب بھی تمہیں غصہ آئے گا اور تم چیخو گے یا کسی کو مارو گے تو اس کے بعد تم نے باہر جا کردیوار میں ہتھوڑی سے کیل ٹھوکنا ہے۔ جیسے ہی لڑکا غصہ کرتا، با ہر جا کر دیوار میں کیل ٹھوکتا۔

پہلے دن اس نے رات کو سونے سے پہلے جب کیل گنے تو پورے پینتیس کیل تھے۔ تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور سمجھ گیا کہ اس کو علاج کی ضرورت تھی۔ اگلے دن پھر اسی طرح تیس کیل تھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کیلوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی کیونکہ کیل ٹھوکنے میں جتنی دیر اور جان لگتی تھی لڑکا سوچتا تھا کہ اس سے بہت بہتر تھا کہ وہ غصہ نہ کرتا تو وہ اکثر خود کو روک لیتا۔

اسی طرح کرتے کرتے ایک دن ایسا آیا کہ اسے کوئی کیل ٹھوکنا نہیں پڑا۔ چنانچہ اس نے اپنے باپ کو بتایا۔ باپ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور بولا کہ اب سے تمہاری نئی ڈیو ٹی ہے، اب جب بھی تم غصے کو کنٹرول کرو گے تو باہر جا کر پہلے سے لگائے ہوئے ایک کیل کو باہر نکال لینا۔۔ٹھیک ہے؟

لڑکا مان گیا۔ پھر جب بھی اس کو غصہ آتا اور وہ اپنا غصہ پی جاتا تو باہر جا کردیوار سے اپنے پرانے ٹھونکے ہوئے کیلوں میں سے ایک نکال لیتا۔ جس دن سارے کیل نکال لیے تو اس نے اپنے باپ کو بتایا کہ ابو میں نے آج سارےکیل نکال لیے ہیں۔ باپ نے اس کو شاباش دی اور بولا کہ آؤ میرے ساتھ دیوار کو دیکھیں۔ دیوار کی حالت دیکھی تو اس میں سوراخ ہی سوراخ تھے۔

بیٹا تم نے اپنے غصے کو کنٹرول کر کے بہت اچھا کیالیکن اب اس دیوار کو ذرا غور سے دیکھو!! یہ پہلے جیسی نہیں رہی اس میں یہ سوراخ کتنے برے لگ رہے ہیں ،جب تم غصے سے چیختے چللاتے ہو اور الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو تو اس دیوار کی طرح تمہاری شخصیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے

یہ بھی پڑھیے : حسد کیا ہے، حسد کے نقصانات اور حسد سے بچنے کے طریقے

غصے میں بولے ہوئے الفاظ کسی کا بھی دل دکھاتے ہیں، لوگوں کی دل آزاری کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ غصہ تو ختم ہو جاتا ہے مگر اس سے ہم دوسروں کو جو چوٹ لگاتے ہیں وہ ان سوراخوں کی طرح ان کے دل پر ہمیشہ اپنے نشان چھوڑ دیتی ہے۔ اس لیے یاد رکھو کہ غصہ بہترین دوستی اور مضبوط ترین ناتوں کو نیست و نابوط کر دیتا ہے۔ اس سے حد درجہ پرہیز کرو۔

جب کوئی آپ کو غصہ دلاتا ہے تو آپ کی جذباتی کیفیت آپ کو یاتو بھاگنے یا پھرمقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتی ہے ۔ اس سے آپ کو طاقت بھی ملتی ہے اور اپنا دفاع کرنے کی ہمت بھی۔ اس قوت اور جذباتی بہاؤکا جسم سے غصے کی شکل میں باہر نکلنا ضروری ہے ۔ اگرایسا نہ ہو تو یہ جمع ہوتے ہوتے جسم و ذہن پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کردیتا ہے۔

غصے کے بارے میں قرآنی آیات

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے غصے پر قابو پانے والوں کی تعریف فرمائی ہے:
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب غصے میں آتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا:

الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ ’’وہ لوگ جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے ہیں۔‘‘

وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 
’’اگر تمہیں شیطان کی طرف سے چو کا لگے (یعنی شیطان غصے کو مشتعل کر دے) تو اللہ کی پناہ مانگ یقینا وہی سننے والا ، جاننے والا ہے۔‘‘

اللہ تبارک وتعالی نے جہاں اپنے مومن ومخلص بندوں کی متعدد صفات بیان کی ہے وہیں ان کی یہ صفات بھی بیان کی ہے کہ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ 
یعنی وہ اپنے غصے کو پی جاتے اور روک لیتے ہیں اور قدرت کے باوجود حلم سے کام لے کر عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔

حدیث مبارکہ


عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ – رضى الله عنه – أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صلى الله عليه وسلم – قَالَ « لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِى يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ  
’’حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بہت زیادہ طاقتور وہ نہیں جو (مقابل کو) بہت زیادہ بچھاڑنے والا ہے ، بہت زیادہ طاقتور صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘

سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، وہ آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے ان میں سے ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا او رگلے کی رگیں پھول گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ کہ اگر یہ وہ کلمہ کہہ لے تو اس کی یہ حالت ختم ہو جائے اگر یہ کہہ لے : (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) تو جو کچھ اس پر گزر رہی ہے ختم ہو جائے۔ الحدیث ۔(بخاری: 3282)

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ  ’’ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے توخاموش ہو جائے۔‘‘ (احمد، صحیح الجامع: 693)

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء رجل فقال : يا رسول الله أوصني فقال : لا تغضب ، ثم ردد مرارا فقال : لا تغضب 
( صحيح البخاري) 
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص خدمت نبوی میں حاضر ہوا ، اور عرض پرداز ہوا کہ آپ مجھے کوئی وصیت کردیجئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غصہ نہ کرو ، پھر اس نے کئی بار یہی سوال کیا اور ہر بار یہی جواب دیتے رہے : تم غصہ نہ کرو ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پہلوان وہ نہیں جو اپنے مد مقابل کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقی پہلوان وہ ہے کہ جب اسے غصہ آئے تو اپنے آپ پر قابو پالے ۔(صحیح بخاری و مسلم ، بروایت : ابو ہریرہ)

غصے پر قابو کیسے پایا جائے؟

کامیاب زندگی گزارنے کا راز یہ ہے کہ آپ اپنے جذبات کے تابع نہیں بلکہ جذبات آپ کے تابع ہوں ۔ غصے کو اپنا تابع بنانے سے پہلے اس کے پیچھے چھپی وجہ کو سمجھنا ضروری ہے ۔ غصہ اکثر کسی گہری چوٹ کی وجہ سے آتا ہے ۔ماضی میں ہم نے جو جو تکالیف برداشت کی ہوتی ہیں وہ آگے چل کر ہمارے غصے کی وجہ بن جاتی ہیں ۔

کسی بھی ایسی صورتحال میں جہاں ہمیں دکھ یا چوٹ پہنچنے کا خطرہ ہوغصہ ہمارا پہلا ردعمل ہوتا ہے ۔ یہ اس تکلیف سے بچنے یا اسے چھپانے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ تکلیف دور کرنے کے لیے اس کو تسلیم کرنا ضروری ہے ۔ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہمیں غصہ آرہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں کوئی تکلیف یاکوئی پریشانی ضرورہے ۔

اگر ہم اپنی تکلیف کو پہچاننے اور اس کو تسلیم کرنے لگیں گے تو ایسی صورتحال میں ہمارے لیے اپنے جذبات پر قابو پانااور ان کا سہی انداز میں اظہار کرنا آسان ہو جائے گا ۔غصے کے وقت محسوس ہونے والی علامات کو پہچاننے کی کوشش کریں ۔ دل کی دھڑکن تیز ہوجانایا جسم کا اکڑنا چند عام علامات ہیں جو اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب آپ کو غصہ آرہا ہوتا ہے ۔

غصے کے وقت خود سے پوچھیں،”کیا میں اتنے غصے میں ہوں کہ خود پہ قابو نہیں رکھ سکتا؟”اگر جواب ہاں ہو تو خود کو اس جگہ سے ہٹا لیں۔ کھلی فضا میں جائیں ، لمبی لمبی سانسیں لیں۔ غرض یہ کہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کریں ۔ غصے کا مثبت انداز میں اظہار ضروری ہے۔

اگر آپ کا خود پر قابو نہیں ہوگا تو آپ اپنی بات سہی طرح دوسرے تک پہنچا نہیں پائیں گے اور آپ کا غصہ مزید بڑھ جائے گا ۔ جس بات پر آپ کو غصہ ہے کھل کر اس بارے میں بات کریں ۔ دوسروں کی آرا کااحترام کرتے ہوئے اپنے خیالات اور اعتراضا ت کا اظہار کریں ۔ اگر آپ دوسروں کی سوچ کا احترام کریں گے تو لوگ آپ کے موقف کو بھی سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

زیادہ غصہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم خوف زدہ ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں لگنے لگتا ہے کہ اگر ہم نے غصے کا اظہار نہ کیا تو لوگ ہمیں دبا دیں گے یا ہماری بات کو اہمیت نہیں دینگے۔ سب سے پہلے اپنے دل سے یہ خوف نکال دیں ۔ اپنابچاؤ کرنے میں ہم اپنی رائے کا اظہار نہیں کر پاتے۔

جب کسی مباحثے کے دوران آپ کو غصہ آنے لگے تو پہلے تو لمبی لمبی سانسیں لیں (اس سے آپ کے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا آسان ہوجائے گا پھر بات کرنا آسان ہوجائے گا)اور پھر اپنے غصے کو دبانے اور چھپانے کے بجائے خود اعتمادی سے اس کا اظہار کریں اور اس کی وجہ بتائیں ۔ اپنے جذبات کو زبان دیں ۔ جس دن آپ کو اپنے جذبات کوبامعنی اور مثبت الفاظ کی شکل دینا آجائے گا اس دن آپ کا غصہ آپ کا دشمن نہیں بلکہ دوست بن جائے گا!

لوگوں کو زیادہ غصہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ پانی کم پیتے ہیں اور ورزش نہیں کرتے، جبکہ میڈیا میں دکھایا جانے والا تشدد بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

غصہ کے علاج

غصہ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے کہ اگر فوری اور صحیح علاج نہ کیا گیا تو اس کا اثر باہمی نا اتفاقی ، حسد و کینہ ، بغض و نفرت ، گالی و گلوچ حتی کہ مارپیٹ ، قتل و خونریز ی ، طلاق اور مال و اولاد پر بد دعا کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ، اس لئے اپنے دین و ایمان پر حریص شخص کے لئے ضروری ہے کہ اس مرض کا علاج کرے ۔اور ان اسباب سے پرہیز کرے جو غصہ بڑھاتے ہیں

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوچ کررہے تھے ان میں کا ایک غصے میں آگیا ، اس کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اس کی رگیں پھول گئیں،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہہ لے تو اس کی یہ کیفیت دور ہوجائے ، وہ کلمہ ہے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) چنانچہ جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ان میں سے ایک شخص اس غصہ ہونے والے شخص کے پاس گیا اور کہنے لگا :

کیا تم جانتے ہو کہ ابھی ابھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا : اس نے جواب دیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ ہیں میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جسے اگر یہ پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے ، وہ کلمہ ہے : اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اس شخص نے کہا کہ کیا تو مجھے پاگل سمجھ رہا ہے ۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم )

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت : یعنی ایک مومن یہ سوچے کہ اللہ اور اس کے رسول نے غصہ آنے پر صبر سے کام لینے اور لوگوں کی غلطی کو معاف کردینے کا حکم دیا ہے ،
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ( سورة فصلت : 34)

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر قرآن حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ، اس سے مراد غصہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کو معاف کرنا ہے ۔ ( صحیح بخاری معلقا )

  1. اللہ و رسول کی محبت : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قیس کے ایک شخص سے فرمایا : تمہارے اندر دو ایسی عادتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کےرسول پسند کرتے ہیں ، برد باری اور سنجیدگی ۔ ( صحیح مسلم بروایت ابن عباس ) ۔بردباری یعنی غصہ کی حالت میں انتقام کی طاقت کے باوجود صبر سے کام لینا ۔
  2. جنت میں داخلہ : ایک صحابی نے سوال کیا اے اللہ کے رسول مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ اس پر عمل کرلوں تو مجھے جنت مل جائے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غصہ نہ کرو تمہیں جنت میں داخلہ مل جائے گا ۔ (الطبرانی الاوسط : بروایت ابو داود )
  3. اللہ کے غضب سے بچاو : ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتا ہے کہ وہ کونسا عمل ہے جو مجھے اللہ کے غضب سے محفوظ رکھےآپ نے فرمایا : تم غصہ نہ کرو (اللہ تعالی تم پر بھی غصہ نہ ہوگا) مسند احمد بروایت عبدا للہ بن عمرو
  4. بہت بڑے اجر کا حصول :ارشاد نبوی ہے کہ : اللہ تعالی کے نزدیک غصہ کا گھونٹ پی جانے سے زیادہ اجر والا کوئی اور گھونٹ پینا نہیں ہے ۔ (ابن ماجہ ، بروایت عبد اللہ عمر)
  5. جنت کی حور : ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم : جو شخص انتقام کی قدرت کے باوجود غصہ پی جاتا ہے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے بلا کر فرمائے گا کہ آج تم جنت کی جس حور کا انتخاب کرنا چاہو جاکر انتخاب کرلو ۔ (ابو داود الترمذی ، بروایت انس بن معاذ)
  6. ذکر الہی : جیسے ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ” پڑھنا ۔ جیساکہ زیر بحث حدیث میں بیان ہوا ہے ۔
  7. جس حالت پرہے اسے بدل دے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اگر وہ کھڑا ہوتو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہوتو لیٹ جائے ۔ (سنن ابو داود ، بروایت ابو ذر) ۔ اور اگر مناسب سمجھے تو وہ جگہ چھوڑ کر ہٹ جائے ۔
  8. خاموشی : آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : اگر کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہوجائے۔(مسند احمد بروایت ابن عباس)
  9. برے نتائج پر غور : غصہ کو پی جانے کا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ دینی و دنیوی نتائج پر غور کرے کہ بسا اوقات ایک شخص غصہ میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجاتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں