لالچ بری بلا ہے ۔ لالچ کے عنوان پر پانچ سبق آموز کہانیاں

لالچ بے شمار گناہوں کا سر چشمہ ہے۔ دنیا کی ہر چیز خصوصاً مال و دولت کو ضرورت سے بہت زیادہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے کو لالچ کہتے ہیں۔ لالچ بری بلا ہے ، لالچ انسان کو اندھا کر دیتا ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ لالچ انسان کو حیوان بنا دیتا ہے۔ لالچی انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔

ایزی استاد میں ہم آج کو لالچ بری بلا کے عنوان سے پانچ سبق آموز کہانیاں سنائیں گے۔ جن کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ لالچ کی حرص انسان کو بے شمار مصائب میں مبتلا کر دیتی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور لالچی شاگرد

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے ، راستے میں ایک جگہ رکے اور شاگرد سے پوچھا کہ تمہاری جیب میں کچھ ہے؟ اس نے کہا:میرے پاس دو درہم ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا:یہ تین درہم ہو جائیں گے ، قریب ہی آبادی ہے ، تم وہاں سے تین درہموں کی روٹیاں لے آؤ۔

وہ گیا اور تین روٹیاں لیں ، راستے میں سوچنے لگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم میرے تھے جبکہ روٹیاں تین ہیں ، ان میں سے آدھی روٹیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کھائیں گے اور آدھی روٹیاں مجھے ملیں گی ، لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھا لوں ،

چنانچہ اس نے راستے میں ایک روٹی کھالی اور دو روٹیاں لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ آپ نے ایک روٹی کھالی اور اس سے پوچھا:تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں؟ اس نے کہا:دو روٹیاں ملی تھیں ، ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے کھائی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں سے روانہ ہوئے ،

راستے میں ایک دریا آیا ، شاگرد نے حیران ہو کر پوچھا:اے اللہ کے نبی!ہم دریا عبور کیسے کریں گے جبکہ یہاں تو کوئی کشتی نظر نہیں آتی؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:گھبراؤ مت ، میں آگے چلوں گا تم میری عبا کا دامن پکڑ کر میرے پیچھے چلتے آؤ ، خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کرلیں گے۔

چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا ، خدا کے اذن سے آپ نے دریا کو اس طرح پار کر لیا کہ آپ کے پاؤں بھی گیلے نہ ہوئے۔ شاگرد نے یہ دیکھ کر کہا:میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان! آپ جیسا صاحب اعجاز نبی تو پہلے مبعوث ہی نہیں ہوا۔

آپ نے فرمایا:یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا؟ اس نے کہا:جی ہاں!میرا دل نور سے بھر گیا ، پھر آپ نے فرمایا:اگر تمہارا دل نورانی ہوچکا ہے تو بتاؤ روٹیاں کتنی تھیں؟ اس نے کہا :حضرت روٹیاں بس دو ہی تھیں۔

پھر آپ وہاں سے چلے ، راستے میں ہرنوں کا ایک غول گزر رہا تھا ، آپ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا ، وہ آپ کے پاس چلا آیا۔ آپ نے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا۔ جب دونوں گوشت کھا چکے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس کی کھال پر ٹھوکر مار کر کہا:’’‘‘ اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا۔ ہرن زندہ ہوگیا اور چوکڑیاں بھرتا ہوا دوسرے ہرنوں سے جا ملا۔

شاگرد یہ معجزہ دیکھ کر حیران ہوگیا اور کہنے لگا:اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے آپ جیسا نبی اور معلم عنایت فرمایا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا؟ شاگرد نے کہا:اے اللہ کے نبی!میرا ایمان پہلے سے دوگنا ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا:پھر بتاؤ کہ روٹیاں کتنی تھیں؟ شاگرد نے کہا :حضرت روٹیاں دو ہی تھیں۔

دونوں راستہ چلے گئے ، ایک پہاڑی کے دامن میں سونے کی تین اینٹیں پڑی تھیں ، آپ نے فرمایا:ایک اینٹ میری ہے اور ایک اینٹ تمہاری ہے اور تیسری اینٹ اس شخص کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی۔ یہ سن کر شاگرد شرمندگی سے بولا:حضرت تیسری روٹی میں نے ہی کھائی تھی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس لالچی شاگرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا:تینوں اینٹیں تم لے جاؤ ، یہ کہہ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں سے روانہ ہوگئے اور لالچی شاگرد اینٹوں کے قریب بیٹھ کر سوچنے لگا کہ انہیں کیسے گھر لے جائے۔ اسی دوران تین ڈاکو وہاں سے گزرے

انہوں نے دیکھا ، ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں ہیں ، انہوں نے اسے قتل کردیا اور آپس میں کہنے لگے کہ اینٹیں تین ہیں اور ہم بھی تین ہیں۔ لہذا ہر شخص کے حصے میں ایک ایک اینٹ آتی ہے ، اتفاق سے وہ بھوکے تھے ، انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دئیے اور کہا کہ شہر قریب ہے تم وہاں سے روٹیاں لے آؤ ، اس کےبعد ہم اپنا اپنا حصہ اٹھالیں گے ،

وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں تو دونوں ساتھ مرجائیں گےاور تینوں اینٹیں میری ہوجائیں گی ، ادھر اس کے دونوں ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اپنے اس ساتھی کو قتل کردیں تو ہمارے حصہ میں سونے کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ آئے گی۔

جب ان کا تیسرا ساتھی زہر آلود روٹیاں لے کر آیا تو ان دونوں نے منصوبہ کے مطابق اس پر حملہ کر کے اسے قتل کردیا ، پھر جب انہوں نے روٹی کھائی تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے مرگئے ، واپسی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی رکھی ہیں جبکہ ان کے پاس چار لاشیں بھی پڑی ہیں۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھر ی اور فرمایا: "دنیا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے”۔ ( انوار نعمانیہ سے ماخوذ)

لالچ کی سزا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ اس کو سکے جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ اس کے پاس ایک تھیلی تھی۔ وہ اپنے تمام سکے اس تھیلی میں رکھتا تھا۔ اوراپنی تھیلی کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ روزانہ سکے ڈالنے کی وجہ سے اس کی تھیلی پوری طرح بھر چکی تھی۔ اب وہ اپنی تھیلی کی اور بھی زیادہ حفاظت کرنے لگا تھا۔

ایک دن وہ ایک ٹوٹے ہوئے پل کے اوپر سے جارہا تھا۔ اس پل کے نیچے سے دریا بہتا تھا۔ اچانک اس بیچارے کا پاؤں پھسل گیا اور وہ اس میں جا گرا۔ وہ بہت مشکل سے وہاں سے نکل آیا مگر افسوس کہ وہ اپنی سکوں کی تھیلی وہاں کھوبیٹھا۔ اس نے اس کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔

آخر اس نے اعلان کروایا کہ جو شخص اس کی سکوں والی تھیلی ڈھونڈ کر لائے گا ، وہ اس کو اس میں سے دس سکے انعام کے طور پر دے گا۔ ایک دن اس کے پاس ایک کسان آیا ، اس کے پاس اس کی اشرفیوں والی تھیلی تھی۔ اس کسان نے وہ تھیلی اس نوجوان کے ہاتھ میں تھمادی۔

وہ لڑکا اس تھیلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ، مگر جب کسان نے اپنا انعام مانگا تو اس لڑکے کے دل میں لالچ آگیا۔ اس نے کہا کہ تم پہلے ہی اس میں سے اپنا انعام چرا چکے ہو ، اس میں ایک انڈے کی شکل کا ایک موتی تھا جوکہ اب اس میں نہیں ہے ، میں تمہیں عدالت میں لے کر جاؤں گا اور اپنا حساب پورا کروں گا۔ اس کسان نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا ، مگر وہ لڑکا نہ مانا۔ آخر کار وہ اس کو عدالت میں لے گیا۔ ان دونوں نے اپنا اپنا مسئلہ بیان کیا۔

جج صاحب ان دونوں کی باتوں کو بڑے غور سے سنتے رہے۔ اب فیصلہ سنانے کا وقت آگیا تھا۔ جج صاحب نے لوگوں کو مخاطب کرکے ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا آپ کے خیال سے جس طرح سے یہ تھیلی بھری ہوئی ہے ، کیا اس میں اتنی گنجائش ہے کہ اس میں ایک انڈے کی جسامت کا موتی تو کیا ، کوئی سکہ بھی آسکے؟

لوگوں نے جج صاحب کو جواب دیا کہ نہیں پھر جج صاحب نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس تھیلی میں کسی اور چیز کے اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے یہ تھیلی اس نوجوان کی نہیں ہے کیونکہ اس نوجوان کے الفاظ کے مطابق اس میں ایک انڈے کی جسامت کے برابر موتی کی جگہ ہے ، اس لئے یہ تھیلی اس نوجوان کی نہیں ہے اور قانون کے مطابق یہ تھیلی جس شخص کو ملی ہے ، اب اسی شخص کی ہے۔ اس لالچی لڑکے نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا مگر اس کی کسی نے ایک نہ سنی۔ اس طرح اس کو اس کے لالچ کی سزا ملی گئی۔

سونے کا انڈا دینے والی مرغی اور لالچی عورت کی داستان

کسی گاؤں میں ایک بہت غریب بوڑھی عورت رہتی تھی۔ روزانہ کھیتوں میں کام کرتی جس سے روزانہ بہت تھوڑے پیسے مل جاتے۔ ایک دن اس کے پاس بہت سارے پیسے اکٹھے ہوگئے اس کو بہت بھوک لگ رہی تھی اس نے سوچا بازار سے جاکرمرغی لاتی ہوں۔ وہ ایک دکان پر گئی اس نے دکان والے سے کہا مجھے دوسو روپے والی مرغی دے دو۔ اس آدمی نے اسے گندی سی مرغی دے دی۔ وہ مرغی لے کرگھرآئی اور اس کو صاف ستھرا کیا۔

صبح ہوئی تواس نے مرغی کے گھرمیں دیکھا تومرغی نے سونے کا انڈا دیا تھا۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ دوسرے دن مرغی نے پھر سونے کا انڈہ دیا تو اُس عورت نے سوچاکہ روز روز ایک انڈے کا انتظار کون کرئے ، کیوں نہ میں مرغی کو ذبح کر کے سارے انڈے ایک ساتھ نکال لوں ، اس سے میں بہت جلد امیر ہو جاؤں گی۔

چنانچہ اس نے چھری لی اور مرغی کو ذبح کر دیا ، لیکن اس میں سے کچھ نہ نکلا۔ اور مرغی کے ذبح ہونے سے سونے کے انڈے بھی غائب ہو گئے۔ اس طرح لالچ کی وجہ سے وہ عورت پھر سے غریب ہو گئی۔

لالچی سنار اور غریب کسان کی کہانی

کسی گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ کسان سارا دن اپنے کھیت میں محنت کرتا۔ کسان کے پڑوس میں ایک سنار کا گھر تھا۔ یہ سنار امیر ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد لالچی بھی تھا۔ ایک مرتبہ کسان نے اپنے کھیت میں کدوؤں کی فصل اگائی ۔ فصل بہت اچھی ہوئی اور کھیت بڑے بڑے کدوؤں سے بھر گیا۔

ایک کدو تو اتنا بڑا ہو گیا کہ اس جیسا کدو پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ کسان بہت خوش ہوا اور اس نے سوچا کہ کیوں نہ یہ غیر معمولی کدو بادشاہ سلامت کو پیش کر دوں۔ وہ اسے ایک گاڑی میں رکھ کر بادشاہ کے دربار میں لے گیا اور بادشاہ سے عرض کیا۔

حضور! میرے خیال میں یہ دنیا کا سب سے بڑا کدو ہے۔ اسے آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔
بادشاہ اس نایاب کدو کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور وزیر کو حکم دیا کہ اس کدو کے برابر جواہرات تول کرکسان کو دے دیئے جائیں ۔ کسان نے ہیرے جواہرات بیچ کر نیا مکان اور سازو سامان خرید لیا۔

سنار کو جب کسان کے دولتمند ہونے کا راز معلوم ہوا تو وہ حسد کی آگ میں جلنے لگا۔ آخر اسے ایک ترکیب سوجھی ، اس نے سوچا کہ اگر میں اپنے بنائے ہوئے خاص زیور بادشاہ کی خدمت میں پیش کروں گا تو بادشاہ مجھے بہت دولت دے گا۔ اس نے اپنے بنائے ہوئے خاص زیور پوٹلی میں باندھے ۔ پوٹلی لے کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا۔ بادشاہ سلامت ! میں یہ خاص زیور آپ کے حضور میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

بادشاہ نے اس کا تحفہ قبول کرتے ہوئے سوچا کہ اس کے بدلے میں اسے کیا انعام دیا جائے ، اچانک اس کی نظر غیر معمولی کدو پر پڑی ۔ بادشاہ نے اسے کدو دیتے ہوئے کہا۔ میرے دربار کی سب سے نایاب چیز یہ کدو ہے جو ایک کسان لایا تھا میں تمہیں یہ ہی کدو عطا کرتا ہوں۔
سنار یہ سن کر بہت سٹپٹایا ، اس نے لرزتی ہوئی آواز میں بادشاہ کا شکر یہ ادا کیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ اس کے ذہن میں یہ جملہ گونج رہا تھا۔ لالچ بری بلا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں: مال کی حرص اور عمر کی حرص۔ (بخاری شریف )

لالچ کا انجام

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر ایک آدمی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا ، اتنی زمین اسے الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ہو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔

یہ سن کر وہ شخص چل پڑا ۔ چلتے چلتے ظہر ہو گئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاہیے ، مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں ، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاہیے۔

الغرض ، واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا ۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ہے۔ وہ جتنا تیز چلتا اسے یوں لگتا ، جیسے سورج بھی اُس قدر تیزی سے ڈھل رہا ہے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کے بجائے گویا لگتا تھا پِگھلنا شروع ہو گیا تھا۔

وہ شخص دوڑنا شروع ہو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نظر آ رہا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا ، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رہا تھا ، مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رہا تھا ۔

آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے ’’اسٹارٹنگ پوائنٹ‘‘ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رہے تھے ، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا تھا۔ جس جگہ وہ گرا تھا ، ہیں اس کی قبر بنائی گئی اور قبر پر کتبہ لگایا گیا ، جس پر لکھا تھا: ’’اس شخص کی ضرورت بس اتنی جگہ کی تھی جتنی جگہ اس کی قبر ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھیے : غرور کا سر نیچا – ایک سبق آموز کہانی

حدیث شریف میں ہے:’’ اگر آدمی کے پاس دو وادیاں بھر سونا ہو جائے تو پھر بھی وہ تیسری وادی کو طلب کرے گا کہ وہ بھی سونے سے بھر جائے ، اور ابن آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی ، اور جو شخص اس سے توبہ کرے اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول فرما لے گا۔ ‘‘ (مشکٰوۃ)

لالچی کتے کی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کتا بہت بھوکا تھا اور کھانے کی تلاش میں اِدھر اُدھر مارا مارا پھررہا تھا۔ اچانک اس کو ایک ہڈی ملی اس نے ہڈی کو منہ میں دبایا اور چل پڑا۔ وہ ایک نہر کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر نہر میں پڑی اور اس کو اپنا عکس دکھائی دیا۔ جب اس نے دیکھا کہ ایک کتا جس کے منہ میں بھی ایک ہڈی ہے اس کو دیکھ رہا ہے۔

تو اس نے سوچا کیوں نہ وہ اس کتے کی ہڈی بھی چھین لے۔ اس طرح اس کے پاس دو ہڈیاں ہو جائیں گی۔ پھر اس نے سوچا کہ چلو رہنے دو ایک ہڈی تو ہےناں۔لیکن اس کی یہ سوچ اس کے لالچ پر غالب نہ آ سکی اور اس کے دل میں یہی خواہش اٹھی کہ اگر ایک کے بجائے دو ہڈیاں مل جائیں تو مزہ آ جائے گا۔

یہ سوچ کر اس نے دوسرے کتے کو ڈرانے کے خاطر بھونکنے کے لیے منہ کھولا۔اور صرف ایک بھوں کرکے رہ گیا۔کیونکہ اس کے منہ میں دبی ہوئی ہڈی اس کے منہ سے پانی میں گر گی اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتی ہوئی نکل گئی۔اب اس کتے کو بڑا افسوس ہوا کہ لالچ میں آ کر اس سے ایک ہڈی بھی گئی۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ لالچ کا برا انجام ہوتا ہے۔

لالچ بری بلا ہے کہ عنوان سے درج بالا کہانیاں آپ کو کیسی لگی ہیں ، کمنٹس کر کے بتائیے گا۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کر دیں۔ شکریہ

اپنی رائے کا اظہار کریں