خوف کا علاج – ایک سبق آموز کہانی

خوف کا علاج (تحریر : شیخ سعدی شیرازی)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ کشتی میں بیٹھ کر دریا کی سیر کر رہا تھا۔ کچھ درباری اور چند غلام بھی ساتھ تھے۔ ان میں ایک غلام ایسا تھا جو پہلے کبھی کشتی میں نہ بیٹھا تھا اس لیے وہ بہت خوفزدہ تھا اور ڈوب جانے کے خوف سے رو رہا تھا۔ بادشاہ کو اس کا اس طرح رونا اور خوف زدہ ہونا بہت ناگوار گزر رہا تھا لیکن غلام پر منع کرنے اور ڈانٹنے ڈپٹنے کا بالکل اثر نہ ہوتا تھا۔

کشتی میں ایک جہاندیدہ اور دانا شخص بھی سوار تھا ۔ اس نے غلام کی یہ حالت دیکھی تو بادشاہ سے کہا کہ اگر حضور اجازت دیں تو یہ خادم اس خوفزدہ غلام کا ڈر دور کر دے؟ بادشہ نے فوراً اجازت دے دی اور دانشمند شخص نے غلاموں کو حکم دیا کہ اس شخص کو اٹھا کر دریا میں پھینک دو۔

غلاموں نے حکم کی تعمیل کی اور رونے والے غلام کو اٹھا کر دریا کے اندر پھینک دیا ۔ جب وہ تین چار غوطے کھا چکا تو دانا شخص نے غلاموں سے کہا کہ اب اسے دریا سے نکلا کر کشتی میں سوار کر لو۔ چنانچہ غلاموں نے اس کے سر کے بال پکڑ کر کشتی میں بٹھا لیا اور وہ غلام جو ذرا دیر پہلے ڈوب جانے کے خوف سے بڑی طرح رو رہا تھا بالکل خاموش اور پر سکون ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا۔

یہ بھی پڑھیے : غرور کا سر نیچا – ایک ناقابل فرموش کہانی

بادشاہ نے حیران ہو کر سوال کیا کہ آخر اس بات میں کیا بھلائی تھی کہ تم نے ایک ڈرے ہوئے شخص کو دریا میں پھنکوا دیا تھا اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اب خاموش بھی ہوگیا ہے؟

دانا شخص نے جواب دیا جناب والا! اصل بات یہ تھی کہ اس شخص نے کبھی دریا میں غوطے کھانے کی تکلیف نہ اٹھائی تھی۔یہ نہ تو پہلے کبھی کشتی میں بیٹھا اور نہ ہی دریا میں ڈوبا۔ لہذا یہ نہیں جانتا تھا کہ دریا میں ڈوبنے سے بہتر ہے کشتی میں بیٹھارہا، جب اسے دو چار غوطے لگے تو اسے کشتی کی اہمیت کا پتہ چل گیا۔ اور یہ پرسکون ہو کر کشتی میں بیٹھ گیا۔

یہ بھی پڑھیے : امتحان میں کم مارکس آنا کوئی غلط بات نہیں – ایک سبق آموز واقعہ

کسی بھی مرض کا اس وقت تک علاج نہیں کیا جا سکتا جبکہ تک کہ اس مرض کی تشخیص نہ ہو جائے اس طرح خوف ، گبھراہٹ اور بے چینی کا علاج کرنے میں ان تمام محرکات کو مدنظر رکھا جاتا ہے جو خوف اور گھبراہٹ کا سبب بنتے ہیں۔

ایزی استاد میں ہم آپ کو خوف ، گھبراہٹ اور بے چینی کے علاج کے بارے میں مکمل تفصیل بتا چکے ہیں۔ اگر آپ نے وہ تحریر نہیں پڑھی یا دوبارہ سے پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔

یہ بھی پڑھیے: دل کی گھبراہٹ، بے چینی اور خوف کی علامات، وجوہات اور علاج

اگر آپ کو یہ کہانی اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں