رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں اور سعادتوں کا مہینہ ہے

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود اور ان گنت رحمتیں، اور سعادتیں سموئے ہوئے ہے۔ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے کے لئے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانوں کو تحفہ عطا کیا ہے۔

رمضان کا مہینہ  رحمتوں، برکتوں اور اللہ پاک کی بےشمار نعمتوں والا مہینہ ہے۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت، درمیانی مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے، یہ نیکیوں کے موسم بہار اور برائیوں کے موسم خزاں کا مہینہ ہے ، جس میں رب کی خوشنودی اور جنت کے حصول حاصل ہوتا ہے۔

یہ مقدس مہینہ ہم سب کو صبر کا درس دیتا ہے کہ کس طرح ہم صبر کرکے اور اپنی نفسانی خواہشات پہ قابو پا کر اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں یعنی ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں یہ اللہ پاک کا قرب اور خوشنودی حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ویسے تو ہم پورا سال عبادات کرتے ہی ہیں لیکن اس مبارک ماہ میں عبادت کا ثواب کئی گناہ بڑھ جاتا ہے۔

رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے جوکہ بہت ہی عظمت اور برکتوں والا مہینہ ہے ۔ اس عظیم الشان مہینے کا پانا یقیناً اللہ تعالی کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے۔اسی مقدس و مبارک مہینے میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہ قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ اسی مقدس مہینہ میں ایک رات کو لیلتہ القدر کہا جاتا ہے۔ جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔

رمضان المبارک کی سب سے اہم فضیلت اور برکت یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا جو کل انسانیت کے لئے نہ صرف خیرو برکت کا موجب ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات اور سرچشمہ رشد و ہدایت بھی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا‘‘۔

رمضان المبارک وہی وہ مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالی جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طرح گمراہ نہ کر سکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے

اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔

انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی غرض و غایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔

اللہ رب العزت نے بعض چیزوں کو بعض پر فضیلت دی ہے جس طرح مدینہ منورہ کو تمام شہروں پر، مسجد حرام کو تمام مساجد پر، ایک مومن کو تمام انسانوں پر، ایک ولی کو تمام مومنوں پر، ایک صحابی کو تمام ولیوں پر، نبی کو تمام صحابہ پر، رسول کو تمام نبیوں پر اور رسولوں میں تاجدار کائنات سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاص فضیلت اور مقام و مرتبہ حاصل ہے۔

اسی طرح قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر، جمعہ کے دن کو تمام دنوں پر، لیلۃ القدر کو تمام راتوں پر اور ماہ رمضان کو تمام مہینوں پر خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’پس تم میں سے جوکوئی اس مہینے کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے‘‘۔

اللہ رب العزت وہ عظیم ذات ہے جس کی رحمت اور مغفرت کے دروازے ہر وقت ہر ایک کے لئے کھلے رہتے ہیں اور اس کی رحمت کا دریا ہر وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا سائباں ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنی رحمت کے سائے میں لئے رکھنا اس عظیم ہستی کی شان کریمی ہے۔ وہ رحمن و رحیم ذات اپنی کمزور اور بے بس مخلوق پر کرم فرمانے، گناہگار بندوں کی خطاؤں کو معاف فرمانے اور انعامات سے نوازنے کے بہانے تلاش کرتی ہے۔

رمضان المبارک میں بارگاہ الہٰی سے رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہوتی ہے اس کا ہر لحظہ انوار و تجلیات اور رحم و کرم لئے ہوتا ہے۔ اس ماہ مقدس میں اللہ تعالیٰ کے خزانے مومنوں کے لئے کھلے ہوتے ہیں۔ دستِ سوال دراز کرنے والے کی جھولی بھردی جاتی ہے۔ سوالی گو ہر مراد سے اپنا دامن بھر بھر تھک تو سکتے ہیں مگر دینے والے داتا کے خزانوں میں کمی نہیں آتی ہے۔

رمضان المبارک کی نورانی اور پاکیزہ ساعتیں عالم افق پر سایہ فگن ہیں۔ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول بے حد اور بے حساب ہوتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ نوافل ادا کرنے والے کو فرائض کا ثواب عطا کرتے ہیں اور رب کائنات اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ وہ سوال کرے تو اسے عطا کیا جائے۔

ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ وہ مغفرت طلب کرے تو اسے بخش دیا جائے، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے۔ وہ بندہ نواز اپنے بندوں کو نوازنے اور انہیں معاف کرنے کے بہانے تلاش کرتا ہے۔ رمضان المبارک میں رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا اندازہ اس حدیث مبارکہ کی روشنی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

رمضان مبارک کے پہلے دوسرے اور تیسرے عشرے کی دعا اور دعائیں

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیطان (زنجیروں میں) جکڑ دیئے جاتے ہیں‘‘۔

شیاطین کا کام لوگوں کو بہکانا، برائی کی طرف مائل کرنا اور اچھے کاموں سے روکنا ہے۔ رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے شیاطین پابند سلاسل کردیئے جاتے ہیں۔ ماہ مبارکہ میں اس کے ظالمانہ کام روک دیئے جاتے ہیں اورلوگوں کی اکثریت اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے۔

گناہوں میں منہمک رہنے والے افراد کی اکثریت نیکی کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ نماز پڑھنے لگتے ہیں، قرآن مجید کی تلاوت اور ذکرو اذکار کی محافل میں شریک ہونے لگتے ہیں جن گناہوں کا علی الاعلان ارتکاب کیا جاتا تھا اس سے باز آجاتے ہیں گویا نیک کام کرنے کے لئے ساز گار ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔

رمضان المبارک کی پرنور ساعتوں کے آغاز کے ساتھ ہی ہر شخص نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے اور رب کائنات کی رحمت کی برسات کا نزول ہر خاص و عام پر ہوتا ہے اور ذات باری تعالیٰ ہر شخص کو اپنے سایہ رحمت سے ڈھانپ لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عبادت اور ذکر و اذکار میں مشغول دیکھ کر فخر کرتا ہے۔

دست دعا بلند کرنے والوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ گناہوں کی بخشش کے طلبگاروں کے گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے اور رب کائنات کی رحمت کی عنایت معمول سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عقیدہ ختم نبوت کیا ہے۔ ختم نبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آدمی کا ہر عمل اس کے لئے ہے اور ہر نیکی کا ثواب دس گناہ سے لے کر سات سو گنا تک ہے سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا عطا کرتا ہوں‘‘۔

روزہ ایک حسین اور پوشیدہ عبادت ہے اس میں دیگر ظاہری عبادات، نماز، زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کی نسبت ریاکاری کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔ دوسری عبادات کا حال لوگوں کو معلوم ہوسکتا ہے لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہے اس لئے روزے کو اللہ تعالیٰ نے خالص اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’بنی آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے روزہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں‘‘۔

ماہ مبارک میں روزہ دار مخصوص اوقات میں کھانا پینا اور نفسانی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ترک کردیتا ہے تو اللہ رب العزت اس کے بدلے میں بے پناہ اجرو ثواب سے نوازتا ہے اور اس کے تمام سابقہ گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے حدیث مبارکہ میں ہے:

’’حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان اور حصول ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کرتا ہے تو وہ گناہوں سے یوں پاک ہوجاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا‘‘۔

ماہ مبارک میں روزہ دار اپنی عبادت و ریاضت کے ذریعے رحمت خداوندی سے مستفید ہوتے ہیں اور جھولیاں بھر بھر کر مراد پاتے ہیں۔ شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو قید کرکے نیکیوں کے لئے سازگار ماحول پیدا کردیا ہے تاکہ انسانوں کے لئے ترک اطاعت اور گناہوں کے کرنے کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے

اور اگر کوئی شخص ایسے سازگار ماحول میں بھی اپنی بخشش و مغفرت نہ کرواسکے تویہ اس کی کم بختی اور بدنصیبی ہوگی۔ حدیث مبارکہ میں ایسے شخص کو بدنصیب کہا گیا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا وہ شخص بڑا ہی بدنصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اسکی (مغفرت کے) مہینہ میں بخشش نہ ہوئی تو پھر) کب ہوگی؟

روزہ اور تلاوت قرآن پاک انسان کے ایسے اعمال ہیں جو بندوں کے حق میں شفاعت کریں گے۔ اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے روز بندہ مومن کے لئے شفاعت کریں گے۔

روزہ عرض کرے گا اے اللہ! دن کے وقت میں نے اس کو کھانے اور شہوت سے روکے رکھا پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور قرآن کہے گا میں نے رات کو اسے جگائے رکھا پس اسکے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ پس دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی‘‘۔

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس ماہ رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور بڑے شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس (مہینہ) میں اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا۔‘‘

طبرانی کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :”رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آگیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔

اس میں شیاطین کو (زنجیروں میں) جکڑ دیا جاتا ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہو گی؟”

جنت میں انسانوں کے اعمال کے اعتبار سے کئی دروازے ہیں۔ دنیا میں کئے جانے والے نیک اعمال کے بدلے میں جنت میں اس عمل کے دروازے سے داخل کیا جائے گا۔ باب الریان جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جو روزہ داروں کے لئے مخصوص ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔

’’حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن روزہ دار اس میں سے داخل ہوں گے اور ان کے سوا اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا۔

رمضان کی اہمیت کے بارے میں ا ﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد سے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے آپ ﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا۔’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بحالت ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں‘‘۔

ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے آپ نے یکے بعد دیگرے تین مرتبہ فرمایا آمین ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ! یہ آمین کیسی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل ؑ نے تین باتیں کہیں، میں نے ہر ایک کے جواب میں کہا آمین۔

حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: برباد ہو وہ، جس کو رمضان کا مہینہ میسر آیا اور اُس نے اس مہینہ میں عبادت کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے، اس کے جواب میں میں نے کہا آمین۔

پھر حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: برباد ہو وہ شخص جس کو ماں باپ کی خدمت کا موقع ملا اور اس نے ان کی خدمت کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے۔ میں نے کہا آمین۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: برباد ہو وہ شخص جس کے سامنے میرا نام لیا گیا اور اس نے مجھ (آنحضرت ﷺ ) پر درود نہیں پڑھا۔ میں نے کہا آمین۔

’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا جبکہ رمضان شروع ہوچکا تھا: تمہارے پاس برکتوں والا مہینہ آگیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے، رحمت نازل فرماتا ہے، گناہوں کو مٹاتا ہے اور دعائیں قبول فرماتا ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں پر نظر فرماتا ہے اور تمہاری وجہ سے اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے۔ بدبخت ہے وہ شخص جو اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہا‘‘۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی ہو جاؤ۔ رمضان شریف کی بہت فضلیت ہے، روزہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے رکھا جاتا ہے۔  اللہ اور آپ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کو روزہ ہے یا نہیں۔

روزے میں آپ کو اللہ تعالیٰ سے خصوصی تنہائی میں رابطے کا موقع ملتا ہے۔ روزہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان راز ہے۔روزہ تنہائی کی عبادت ہے۔ روزہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرانے کا طریقہ ہے۔ روزہ آپ نےخالص اللہ تعالیٰ کے لیے رکھا ہوتا ہے۔

شب قدر اور اس کی فضیلت

رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے جو خیرو برکت اور قدرو منزلت کی حامل ہے۔ اللہ رب العزت نے سورۃ القدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اسے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ اس رات جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اترتے ہیں اور ہر شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو اللہ کی عبادت میں مشغول ہو۔

جس شخص کی یہ ایک رات عبادت میں گزری گویا اس نے ایک ہزار مہینے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارے۔ اس رات کی جانے والی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے اس لئے افضل قرار دیا گیا ہے

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سابقہ لوگوں کی عمروں سے آگاہ فرمایا گیا تو آپ نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کرسکیں گے؟ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو لیلۃ القدر عطا فرمادی جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ القدر کی ساعتوں میں عبادت و اطاعت کی تلقین فرمائی ہے اور اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ کی خوشنودی مقصود ہو ریاکاری یا بدنیتی کا عنصر نہ ہو اور آئندہ کے لئے یہ عہد کرلے کہ وہ برائی کا ارتکاب نہیں کرے گا۔ ایسے شخص کے لئے یہ رات مغفرت کی نوید بن کر آتی ہے۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ جو ماہ تم پر آرہا ہے اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتا ًمحروم ہو۔

شب قدر کو تمام عالم اسلام سے مخفی رکھا گیا ہے تاکہ اس کی تلاش میں متعدد راتیں عبادت میں گزریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کے بندے راتوں کو جاگ کر عبادت کریں اور اس کے تعین کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔

رمضان میں سب سے اچھی سننے اور پڑھنے والی چیز اللہ کی کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ اس لیے رمضان شریف میں اس کی تلاوت کو معمول بنا لینا چاہیے۔ اس کے لیے اس ماہ کی حرمت کے لیے باوضو رہو، کم گو ہو جاؤ۔ آپ کا روزہ نگاہ، خیال اور سوچ کا بھی روزہ ہے۔ اپنے دل ، خیال اور سوچ پر دربان بن کے بیٹھ جاؤ۔ جو خیال جو سوچ اللہ کریم کی طرف سے ہے اسے آنے دو، اس کے علاوہ باقی سب کو روک دو۔

جس نے ( روزہ میں ) جھوٹ بولنا اور برے عمل نا چھوڑے تو اللہ تعالی کو کوئی حاجت نہیں کے وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے ( صحیح بخاری )

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس رمضان کو ہمارے لیے مغفرت، برکت اور آسانیوں کا ذریعہ بنائیں۔ اور تمام امت مسلمہ پہ اپنا کرم فرمائیں اور ہمیں اپنے محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائیں۔ آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں