سوشل میڈیا کیا ہے۔ اور ہماری زندگی پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے۔

پوری دنیا میں سوشل میڈیا بڑی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہےاورسوشل میڈیا کسی بھی خبر کو دوسروں تک پہنچانے کا تیز ترین ذریعہ بن کر سامنے آ رہا ہے سوشل میڈیا کی وجہ سے چھوٹی سی خبر محض چند لمحات میں ایک فرد سے ہوتی ہوئی کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔

آج کے دور میں کوئی بھی شخص سوشل میڈیا سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔کیونکہ ٹیلی ویژن، اخبارات اور دوسرے ذرائع سے خبروں کا اتنا ذخیرہ نہیں ملتا۔ جتنا سوشل میڈیا فراہم کر رہا ہے۔

ہر فیلڈ سے متعلقہ معلومات

آج کے دور میں سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگوں کو زندگی کےہر شعبہ سے متعلق بہت زیادہ معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔دنیا کے کسی علاقے میں کچھ بھی ہورہا ہو، پلک جھپکنے کی دیر ہے۔ دنیا کا ہر شخص اس سے آگاہ ہوجاتا ہے۔ جبکہ ماضی میں اس کے لیے بہت زیادہ وقت درکار ہوتا تھا۔اور پھر بھی لوگوں تک اصل خبر نہیں پہنچ پاتی تھی۔

سوشل میڈیا ہی کی وجہ سے لوگوں کوتعلیم، صحت، سیاست، مذہب، کھیل، سماجی امور غرض ہر ایک شعبہ کے بارے میں نت نئی معلومات باآسانی میسر ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ کسی بھی خبر، معلومات یا مضمون کو کس طریقے سے اور کون سے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جائے۔

سوشل میڈیا کے ہماری زندگی پر اثرات

سوشل میڈیا پر کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی ۔ اس لیے یہاں لوگ ہر قسم کی بات کرجاتے ہیں۔جس کا بعض اوقات انہیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ اپنی پسند کے مطابق لوگوں سے دوستی کر سکتے ہیں۔ ان سے رابطے بڑھا سکتے ہیں۔جب رابطے بڑھ جاتے ہیں تو تعلق مزید گہرا ہو کر سچی دوستی یا شادی میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب لوگ اپنے رشتے داروں ، عزیزوں کی شکل دیکھنے کے لئےترس جایا کرتے تھے لیکن سوشل میڈیا نے اس مشکل کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ اب لوگ واٹس ایپ ،سکائپ، ایمو کے ذریعے گھنٹوں اپنے پیاروں سے نہ صرف بات کر سکتے ہیں۔ بلکہ ان کو ویسے ہی دیکھ بھی سکتے ہیں جیسے کہ وہ آپ کے سامنے بیٹھے ہوں۔

اس کے علاوہ دوسرے ممالک کی تہذیب وتمدن سے وہ لوگ بھی آگاہ ہو رہے ہیں جو کبھی ان ممالک میں گئے ہی نہیں۔ اس طرح اب کسی کی خوشی یا غم کے بارے میں آپ فوری طور پر نہ صرف آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔ بلکہ سوشل میڈیا کے پیغامات کے ذریعے ان کے ساتھ ان کے مطابق شمولیت بھی اختیار کرسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور ہم

اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ آج کے زمانے میں سوشل میڈیا کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں انٹرنیٹ فیس بک سے شروع ہوکر فیس بک پر ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اچھا خاصے تخلیق کار وں سے لے کر فنکاروں تک سبھی فیس بک کے شیدائی نظر آتے ہیں۔

اچھا خاصا لکھنے والے لوگ بھی فیس بک کو ہی اوڑھنا بچھونا بناکر بیٹھے ہیں۔ اور اپنی قیمتی تحریروں کا سرمایا فیس بک پر لٹا رہے ہیں۔حالانکہ انہیں پتا نہیں ہے کہ فیس بک کی شہرت یا حوصلہ افزائی نہایت ہی عارضی ہے۔ لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ فیس بک جس کام کے لیے بنی ہے اس سے وہی کام لیں بلکہ اچھی طرح لیں، مگر سستی اور عارضی شہرت و حوصلہ افزائی کے پیچھے نہ بھاگیں

سوشل میڈیا بمقابلہ بلاگنگ

فیس بک یا ٹوئٹر وغیرہ پرآپ چاہے کتنی ہی قیمتی چیز شیئر کریں، ایک دو دن تو اس کا بہت چرچا ہوگا مگر پھر وہ ایسے غائب ہوگی ۔جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک، ٹوئیٹر کا استعمال صرف انفارمیشن اورنیوز کی حد تک محدود رکھا جائے۔ اوراگر لکھنے لکھانے کا ارادہ ہے تو اس کے لئے بلاگ یا فورم کا انتخاب کیا جائے۔

بلاگ یا فورم پر لکھا ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔ آپ لکھنا چھوڑ بھی دیں گے تو آپ کی پرانی تحریروں سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں ہیں۔ بلاگ پر لکھا مواد تلاش میں آسان ہوتا ہے، اور سب سے بڑھ کر سرچ انجن (گوگل وغیرہ )بلاگ کو سوشل میڈیا سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بلاگ اور بلاگنگ کے حوالے سے آپ ہماری پوسٹ بلاگ کیا ہوتا ہے، بلاگ، بلاگر اور بلاگنگ میں فرق پڑھ سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داری

سوشل میڈیا پر خبریں، معلومات اور اطلاعات آگ کی طرح پھیلتی ہیں، اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ بغیر اطمینان اور تصدیق کے سوشل میڈیا پر دی گئی کوئی بھی معلومات شیئر یالائک نہ کریں۔

بلکہ اس طرح کی معلومات اور پیغام شیئر یا لائک کرنے والے کو سمجھائیں کہ وہ ایسی چیزیں آگے پھیلانے سے گریز کرئے۔ ممکن ہے کہ ہماری اس کوشش سے یہ سلسلہ تھم جائے؟ اس صورت حال کا تدارک کرنے کی کوشش ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

سوشل میڈیا کے منفی اثرات

یہ کہنا بالکل غلط نہ ہو گا کہ سوشل میڈیا بے لگام ہوتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا سے ہر طرح کی معلومات، خبریں، اور مواد بغیر کسی تصدیق کے ایک وائرس کی طرح پھیلتا جاتا ہےسوشل میڈیا پر معلومات کو آگے پہنچانے اور مزید پھیلانے کے لیے صرف ایک بٹن دبانا پڑتا ہے۔ معلومات درست ہوں یا غلط، کوئی بھی شخص تصدیق و تحقیق کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتا۔

خاص کر جب معلومات مذہبی نوعیت کی ہوں، جن میں بہت سے ثواب کی نوید، یا پھر شیطان کے روکنے کا ذکر کیا گیا ہو، اس وقت تو سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد بغیر تحقیق و تصدیق کے بس شیئر کیے جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا کے نقصانات کی مکمل تفصیل

عام آدمی کی تو بات ہی الگ ہے،اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات بھی اسی رو میں بہے چلے جارہے ہیں ۔جس کی وجہ سے من گھڑت خبریں ، مواد منٹوں ، سکینڈوں میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جیسے کہ:

  • اگر آپ کو فلاں نمبر سے کال آئے تو اٹینڈ نہ کریں کیونکہ اٹینڈ کرنے کی صورت میں ایک دھماکہ ہو گا اور آپ کا موبائل پھٹ جائے گا۔
  • اگر آپ کو فلاں نمبر سے میسج آئے تو جواب نہ دیں ، کیونکہ جواب دینے کی صورت میں آپ کے موبائل کا سارا ڈیٹا چوری ہو جائے گا۔
  • آج رات بارہ بچے موبائل فون بند کردیں کیونکہ خلا سے بہت خطرناک قسم کی تابکاری اور دوسری لہریں زمین پر آرہی ہیں جو موبائل فون کے ذریعے انسان کو نقصان پہنچائیں گی۔
  • فلاں اداکار، فنکار، کرکٹریا ساست دان نے فلاں سے شادی کر لی، یا فلاں بات کہہ دی، حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہوتا۔
  • یہ پوسٹ اپنے دوستوں کو شیئر کریں نہیں تو آپ کو گنا ہ ملے گا۔یاجب یہ پوسٹ آپ شیئر کریں گے تو شیطان آپ کو روکے گا۔گر آپ نے روکنا نہیں ہے۔

اسی طرح آئے روز خود ساختہ کرامات و معجزات کی کہانیاں، خود ساختہ روایات کی معلومات اور اطلاعات گردش میں رہتی ہیں، جنہیں لوگ بغیر تصدیق و تحقیق کے شیئر کرتے چلے جاتے ہیں۔

جس کی وجہ سے ان کا پھیلایا ہوا پیغام نہ جانے کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتا ہے۔اور لوگ اس سے نہ جانے کیا کچھ اثر لیتے ہیں۔ان کا پیغام لوگوں کی سوچوں اور زندگیوں پر کیا اثرات مرتب کرتا ہو گا۔ اس کا تصور بھی محال ہے۔

ہمارے پیارے رسول اکرم ﷺ نے بھی بغیر تصدیق کے بات آگے پھیلانے سے منع فرمایا ہے۔سوشل میڈیا کا استعمال برا نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کے استعمال کے کوئی نقصانات ہیں۔ کسی بھی چیز کو اچھا یا برا ہم خود بناتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم سوشل میڈیا کا استعمال کن مقاصد کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے حوالہ سے اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں