سوشل میڈیا کے نقصانات ، سوشل میڈیا کے منفی اثرات

سوشل میڈیا کے جہاں بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے نقصانات کی بھی ایک لمبی لائن ہے۔ سوشل میڈیا کے نقصانات میں وقت کا ضیائع سر فہرست ہے۔زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ آپ کام کرنے کے لیے کمپیوٹر آن کرتے ہیں لیکن فیس بک، ٹوئٹر یا کسی دوسری سوشل میڈیا کی سائٹ پر اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا اور وہ کام وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے جس کے لیے آپ نے کمپیوٹر آن کیا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا کیا ہے اور ہماری زندگی پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے

سوشل میڈیا کے نقصانات

سوشل میڈیا نے جہاں ہماری زندگی کوبے حد آسان بنا کر معاشرے اور لوگوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں وہیں اس کے منفی اثرات نے لوگوں کی زندگیوں کو مشکلات اور پریشانیوں سے دوچار کر دیا ہے۔ 

  • سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور رشتے داروں کو وقت نہیں دے پاتے۔جس کی وجہ سے وہ حقیقی رشتوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر تولوگوں نے پانچ ہزار دوست بنائے ہوتے ہیں لیکن گھر میں جو چار افراد رہ رہے ہوتے ہیں ان کے بارے میں پتا ہی نہیں ہوتاکہ کون کس حال میں ہے۔
  • سوشل میڈیا کی وجہ سے دوست اور رشتے دار بھی چھوٹتے جا رہے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب لوگ خوشی اور غمی کے معاملات پر ایک دوسرے کے گھر جایا کرتے تھے ۔ اور دوسروں کی خوشی یا غم میں برابر کے شریک ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب سوشل میڈیا کی بدولت یہ تمام معاملات نیٹ پہ ہی بھگتا دئیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اپنائیت اور خلوص ختم ہوتا جا رہا ہے۔
  • سوشل میڈیا کے غیر ضروری اور بلاوجہ استعمال سے طالب علموں کا بہت سا وقت ضائع ہورہا ہے ۔ سوشل میڈیا نے طالب علموں سے کتابیں چھین لی ہیں، آج کی نوجوان نسل کتابوں کو اتنی اہمیت اور وقت نہیں دیتی، جتنا انٹرنیٹ کو دیا جا رہا ہے،اسی وجہ سے نہ صرف تعلیم کا حرج ہورہا ہے، بلکہ امتحان میں نمبر بھی کم آرہے ہیں۔
  • سوشل میڈیا پر کھلی آزادی ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں کو کسی قسم کا کوئی ڈر نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے جس شخص کے دل میں جو بات آتی ہے وہ شیئر کر دیتا ہے۔ اس طرح بے حیائی کا کھلے عام اظہار ہوتا ہے۔ اور بے معنی ، بے شائشہ اور بے ہودوہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔اور بعض لوگ تو گالیوں اور غیبت سے بھی باز نہیں آتے۔
  • سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ تر لوگ جعلی اکاؤنٹ بنا کر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ایسے لڑکے لڑکیوں کے ناموں سے اپنا اکاؤنٹ بنا کر دیگر لڑکوں کو بے وقوف بنانے اور پھنسانے کا ڈرامہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بھولے بھالے لوگ نہ صرف بے وقوف بنتے ہیں بلکہ ذہنی طور پرمفلوج ہو کر زند گی کے دیگر معاملات میں بھی فیل ہو جاتے ہیں۔
  • سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کسی بھی خبر یا افواہ کو بغیر تحقیق کے پوری دنیا میں نشر کر دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بے تحاشہ اطلاعات ہوتی ہیں ،اب ان میں کتنی حقائق پر مبنی ہیں۔ اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہوتا۔ اور بعض خبریں یا افواہیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن شخصیات کے متعلق ہوتی ہیں ان کو متعلقہ چیز کے بارے میں پتا ہی نہیں ہوتا۔
  • سوشل میڈیاکی وجہ سے ذہنی، اخلاقی اور جسمانی صحت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ نوجوان کی بڑی تعداد اس کے ذریعے بہت سے غلط کام بھی کر رہی ہے۔جس کی وجہ سے نہ صرف ملک و قوم کا وقار مجروع ہوتا ہے۔ بلکہ بیرونی دنیا میں ہماری کوئی عزت نہیں رہتی۔
  • سوشل میڈیا کو جاسوسی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں وہ مختلف اداروں اور ممالک کی نظروں میں ہوتا ہے۔ اور بعض مغربی ممالک تو اس چیز کوہمارے ہی خلاف بطور پراپیگنڈابھی استعمال کرتے ہیں۔
  • سوشل میڈیا کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر کچھ اور ہوتے ہیں اور حقیقی زندگی میں کچھ اور، مطلب سوشل میڈیا پر تو ہم بہت خوش اخلاق ، ملنسار، مہذہب، دوسروں کے غم میں شریک ہونے والے ہوتے ہیں جبکہ حقیقی زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
  • سوشل میڈیا کی وجہ سے دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے ۔ اوردوسری تہذیبوں کے اثرات ہماری زندگی پر پڑنے لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔
  • سوشل میڈیا کی وجہ سے پرائیویسی بالکل ختم ہو گئی ہے۔ اگر کسی بھی گھر میں کوئی بھی ذاتی یا نجی تقریب منعقد ہو تو اگلے دن آدھی دنیا ان کی تقریبات کی تصویریں دیکھ رہی ہوتی ہے۔
  • سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال نے نہ صرف ہمیں اپنی فیملی گھر بار، دوستوں، رشتے داروں سے دور کر دیا ہے بلکہ اس کی وجہ سے ہم اپنے دین اسلام سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں جو کہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

آخری بات:

انٹرنیٹ ، موبائل، سو شل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ دو سال کا بچہ بھی گیمز میں مگن ہے ، باپ واٹس اپ پر چیٹ کر رہا ہے تو ماں فیس بک پر سٹیٹس اپ لوڈ کر رہی ہے اور بیٹی یوٹیوب سے ویڈیو سرچ کر رہی ہے۔ اور حالت یہ ہو گئی ہے کہ  کسی کے پاس کسی دوسرے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں