ریڈار (راڈار) کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

ریڈار Radio Detection and Ranging کا مخفف ہے۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ٹرانسمیٹرTransmitter، ریسورReceiver، اور انڈیکیٹرIndicator۔ٹرانسمیٹر سے بہت بلند فریکوئنسی رکھنے والی ریڈیائی لہروں کو فضاء میں بھیجا جاتا ہے جو ہوا میں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔

ریڈیائی لہریں جب کسی جہاز، مٹی کے تودوں، برفیلی چٹانوں، عمارتوں اور دوسری چیزوں سے ٹکرا کر لوٹتی ہیں تو ریسیور انہیں وصول کرتا ہے۔ یہی حاصل شدہ ریڈیائی لہریں جب انڈیکیٹر میں سے گزرتی ہیں تو انڈیکیٹر پر شے کے وجود کا اظہار ہوتا ہے۔

ریڈار کی ایجاد

دوسرے عالمگیر جنگ میں جرمنوں نے ایسے ہوائی جہاز بنا لیے تھے جو برقی لہروں کی مدد سے چلتے تھے وہ نہایت برق رفتاری سے آتے اور برطانیہ کی آبادیوں پر اندھا دھند بم برسا کر چلے جاتے ، برطانیہ کو یہ فکر ہوئی کہ کسی طرح ان جہازوں اور بموں کا وقت سے پہلے پتہ لگا لے تاکہ تباہی سے بچ سکے۔ چنانچہ انگریز سائنس دانوں نے سوچ بچار اور تجربوں کے بعد ریڈار ایجاد کر لیا جو تین چار سو میل کے دائرے میں ہر ہوائی جہاز کی خبر آناً فاناً دے دیتا تھا۔

ریڈار کی خصوصیات

ریڈار سے دور دور کی چیزیں نہ صرف دیکھی جا سکتی ہیں بلکہ ان کا درمیانی فاصلہ بھی آسانی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ رات کی تاریکی ہو یا کالی گھٹا ، کوئی چیز ریڈار کو مشاہدے سے نہیں روک سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے جادوئی آنکھ بھی کہا جاتا ہے۔

جنگ اور امن ہر دو صورتوں میں راڈار (ریڈار) ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ دور کسی مقام پر واقع ہوائی یا بحری جہازکا وجود، فاصلہ، اس کی سمت حرکت اور رفتار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ریڈار ہوئی اور بحری جہازوں کے لیے پہاڑوں ، برف کے تودوں اور جھیلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ہر موسم میں رہنمائی کا کام انجام دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بلیو وہیل کیا ہے اور اس گیم کی وجہ سے لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں

بحری جہاز کے کپتان اس کی مدد سے تنگ بندرگاہوں میں جہاز کو کسی دوسرے جہاز، چٹان، یا لائیٹ ہاؤس سے ٹکرائے بغیر منزل مقصود تک پہنچا سکتے ہیں جبکہ ہوائی جہاز کے پائلٹ اس کے ذریعہ نا صرف زمین پر جنگل، کھیت، دریا، ریلوے لائن، پل اور عمارتوں کے وجود کا پتہ لگا سکتے ہیں بلکہ ان کی بناوٹ کی معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ پائلٹ اس کی مدد سے ناصرف طوفانی بارش کے آثار کا پتہ لگاتے ہیں بلکہ کہر اور دھند کی موجودگی میں جہاز کو محفوظ طریقے سے نیچے اتار سکتے ہیں۔

ریڈار کی فریکونسی

ریڈار کے سگنل کیلئے ایسی فریکونسی (Frequency) کا انتخاب کیا جاتا ہے جو دُھند، برف باری، بارش وغیرہ سے متاثر نہ ہو۔ جو راڈار موسمی حالات کا پتہ لگانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں، ان کی فریکونسی ایسی ہوتی ہے جو موسمی حالات سے متاثر ہوتی ہیں۔ آج کل دفاعی مقاصد کے علاوہ موسمی تغیرات اور سڑکوں پر تیز رفتار گاڑیوں کی شناخت کرنے کیلئے بھی ریڈار کا استعمال زیادہ سے زیادہ ہوتا جارہا ہے۔

موسمی ریڈار

بدلتے ہوئے موسم پر نظر رکھنے کے لیے جو ریڈار استعمال کیے جاتے ہیں انہیں موسمی ریڈار کہا جاتا ہے۔ یہ موسمی راڈار موسم کی پیش گوئی میں ایک اہم حصہ ادا کرتے ہیں۔ چونکہ ریڈیائی لہروں کے مخصوص اشارے پانی کے قطروں سے انعکاس کرتے ہیں اس لیے ریڈار کو، برسنے والے بادلوں کا فاصلہ اور ان کی سمت حرکت معلوم کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کب، کہاں اور کتنی بارش ہو گی۔ موسمی ریڈار کے ذریعہ آندھی اور طوفان کے آغاز اور سمت پر مستقل نظر رکھی جا سکتی ہے۔

امریکی ماہرین کے خیال میں موسمی ریڈار سے لیس 20 ہوئی جہاز جن کا رابطہ ایک کمپیوٹر سے ہو تو ساری دنیا میں کہیں پر بھی موسم کا حال معلوم کیا جا سکتا ہے۔ سٹیلائیٹ سے منسلک راڈار کے ذریعہ موسم کا حال معلوم کرتے ہوئے نہ صرف کسی مقام پر آندھی اور طوفان کی پیش قیاسی کی جا سکتی ہے بلکہ زمین کا سروے کرتے ہوئے اس بات کا پتہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سطح زمین کے نیچے اور سمند کی تہہ میں معدنی ذخائر کس حصے میں موجود ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں پولیس ، ریڈار کے ذریعہ حس سے زیادہ تیز رفتار چلائی جانے والی موٹر گاڑیوں کا پتہ لگاتی ہے اور ممنوعہ علاقوں میں کسی غیر قانونی داخے یا جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے پر بھی نظر رکھتی ہے۔

جنگ کی صورت میں لڑاکا طیاروں میں نصب ریڈار، دشمن ملک کے طیاروں کو نشانہ بنانے میں مدد دیتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے ذریعے طیارہ سے دشمن ملک کی سرزمین کا نقشہ بھی حاصل کرتا ہے۔ تاکہ بمباری کرنے میں نشانہ لیا جا سکے۔

جنگ میں ریڈار ایک رازدارانہ ہتھیار کے طور پر کام آتا ہے۔ فوجی اس کے ذریعے دشمن کو دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن وہ دشمن کو نظر نہیں آتے۔ اس کے ذریعہ دوست اور دشمن ملک کے جہازوں میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ ریڈار کو ناصرف بری، بحری اور ہوئی جنگ بلکہ خلائی جنگ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ریڈار (راڈار) کے حوالہ سے  اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں