سورج سے متعلق دلچسپ اور حیرت انگیز معلومات

سورج ایک ایسا ستارہ ہے جو نظام شمسی کے مرکز میں واقع ہے۔ ہماری زمین سمیت تمام سیارے اس کے گرد گردش کرتے ہیں۔ سورج کا زمین سے فاصلہ تقریباًً 149598000 کلومیٹر ہے اور اس کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ 19 سیکنڈ لگتے ہیں۔

تاہم یہ فاصلہ سال بھر یکساں نہیں رہتا۔ جنوری کے پہلے ہفتے یہ فاصلہ سب سے کم تقریباًً 147000000 کلومیٹر اور جولائی کے پہلے ہفتے میں سب سے زیادہ تقریباًً 152000000 کلومیٹر ہوتا ہے۔

سورج کی حدت

سورج دراصل انتہائی گرم گیس کا بہت بڑا گولا ہے اس کی حدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے جسم کا درجہ حرارت صرف 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کا 100 ڈگری سینٹی گریڈ، گرم سرخ لوہے اور آگ کے شعلے کا درجہ حرارت 500 سے 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔

بچے ہکلاتے کیوں ہیں ! وضو کے صحت پر اثرات

1500 ڈگری سینٹی گریڈپر لوہا بھی پگھل کر پانی کی طرح بہنے لگتا ہے۔ اور3000 ڈگری سینٹی گریڈ پر لوہا بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے۔ لیکن سورج کا کم از کم درجہ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اور یہ تو اس کی سطح کا درجہ حرارت ہے۔

مرکز میں تو اس کا درجہ حرارت 20000000 (دو کروڑ) ڈگری سینٹی گریڈتک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی سطح پر کوئی چیز ٹھوس یا مائع حالت میں نہیں رہ سکتی۔ سورج کو 38000000000000 (380 کھرب) واٹ کا بلب کہا جاتا ہے۔

 سورج کی سطح

سورج کی سطح بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنی ہے۔ اس میں ہائیڈروجن کا تناسب تقریباً74فیصدبلحاظ کمیت یا 92فیصد بلحاظ حجم اور ہیلیم کا تناسب تقریباًً24فیصد بلحاظ کمیت یا 7 فیصد بلحاظ حجم ہے۔

اس کے علاوہ دوسرے عناصر جیسے لوہا، نکل، آکسیجن، سیلیکان، سلفر، میگنیشیم، کاربن، نیون، کیلشیم اور کرومیم معمولی مقدار میں موجود ہیں۔

سورج سے حرارت کا خراج

سورج دنیا کو کئی کھرب واٹ توانائی فراہم کرتا ہے۔ هیروشیما میں صرف ایک ایٹمی دھماکے سے اتنی تباہی ہوئی لیکن سورج میں ہر لمحے لاکھوں کروڑوں ایٹمی دھماکے ہو رہے ہیں اور وہی توانائی روشنی اور حرارت کی شکل میں ہم تک پہنچ رہی ہے۔

سورج زیادہ تر توانائی دو طرح کے ایٹمی عمل سے حاصل اور خارج کرتا ہے، دونوں میں ہائیڈروجن ہیلیم گیس میں تبدیل ہوتی رہتی ہے اور اس کا کچھ حصہ تباہ ہو کر توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

صرف ایک سیکنڈ میں یہ 45 لاکھ ٹن ہائیڈروجن تباہ کر ڈالتا ہے۔ اس کے باوجود سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق سورج کئی سالوں سے ابھی تک صرف30فیصد ہائیڈروجن کو ہیلیم اور دوسرے عناصر میں تبدیل کر سکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج ابھی تک اپنی زندگی کے نصف تک بھی نہیں پہنچا ہے۔

سورج کا رنگ

سورج کا رنگ سفید ہوتا ہے ۔ تاہم فضاء میں روشنی کے انتشار کے باعث اکثر زردی مائل نظر آتا ہے۔۔ یہ روشنی کی کچھ طول موجوں کو منہا کرنے والا اثر ہے جس کے تحت روشنی میں سے چھوٹی طول موجیں، جن میں نیلی اور بنقشی روشنی شامل ہیں، نکل جاتی ہیں۔

باقی ماندہ طول موجیں انسانی آنکھ کو زردی مائل دکھائی دیتی ہیں۔ آسمان کا نیلا رنگ اسی الگ ہونے والی نیلی روشنی کے باعث ہے۔

 انسانی زندگی پر اثرات

سورج کی حرارت اور روشنی پر ہی ہماری زندگی کا دارومدار ہے۔اس سے حاصل ہونے والی توانائی دھوپ کی شکل میں توانائی ضیائی تالیف کے ذریعے زمین پر موجود تمام حیات کو خوراک فراہم کرتی ہے اگر زیادہ دیر تک یہ نہ نکلے تو ہم سب منجمد ہو کر رہ جائیں۔

سورج کی حرارت ہی ہوا میں حرکت پیدا کرتی ہے جو بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہے اور وہ  بارش  برساتے ہیں۔

ہمارے اردگرد ہوا میں بے شمار جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ سورج کی شعاعیں انہیں ہلاک کر کے ہماری حفاظت کرتی ہیں۔ ہمارے کھانے پینے کے لیے خوارک فراہم کرنے والی تمام فصلیں سورج کی روشنی اور حرارت کی برکت سے ہی تیار ہوتی ہیں۔ یہ نہ نکلے تو کوئی فصل تیار ہی نہیں ہو سکتی۔

سورج سے ہمیں وٹامن ڈی حاصل ہوتا ہے جس سے ہڈیوں ، پٹھوں اور قوت مدافعت کو طاقت ملتی ہے ۔اس کی شعائیں جلد کی خارش کو ختم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی شعائیں انسانی  موڈ پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں ۔

سورج کی شعاؤں سے دماغ میں ایسے کیمیکل پیدا ہوتے ہیں جو ذہنی تناؤ کم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اس کی شعاؤں سے  دل کی شریانیں کھلی رہتی ہیں اور انسان کا بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ  مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں