برطانیہ میں تین اپریل مسلمانوں کو سزا دینے کے طور پر منایا جائے گا

مسلمانوں کو تنگ کرو اور انعام پاؤ، Punish a Muslim Day

برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی کی پولیس ملک کے مختلف شہروں میں متعدد افراد کو ملنے والے اس نفرت انگیز خط کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے جس میں مسلمانوں پر حملوں کی ترغیب دی گئی ہے۔

اس خط میں 3 اپریل 2018 کو پنش اے مسلم ڈے یعنی مسلمانوں کو سزا دینے کا دن کے طور پر منانے کا کہا گیا ہے۔ خط میں مسلمانوں کے خلاف مختلف پرتشدد اقدمات اور ان کے نتیجے میں ملنے والے پوائنٹس کا ذکر ہے۔ جن کی تفصیل بذیل ہے۔

 1 مسلمان کو زبانی ہراساں کرنا 10 پوائنٹس
 2 مسلمان عورت کے سر سے سکارف کھینچنا 25 پوائنٹس
 3 مسلمان کے چہرے پر تیزاب پھینکیں50 پوائنٹس
 4 مسلمان کو زدو کوب (مارنا) کرنا 100 پوائنٹس
 5 مسلمان کو بجلی کے جھٹکوں وغیرہ سے ٹارچر کریں 250 پوائنٹس
6 مسلمان کو پستول، چاقو، گاڑی یا دیگر طریقوں سے ہلاک یا ذبح  کریں500  پوائنٹس
 7 مسجد کو بم سے اڑائیں یا آگ لگائیں 1000 پوائنٹس
 8 مکہ پر ایٹمی ہتھیار پھینکیں 2500 پوائنٹس

تین اپریل 2018 کو برطانیہ کے شہری جتنے زیادہ پوائنٹس حاصل کریں گے۔ اُس کے مطابق ان کی رینکنگ کی جائے گا اور اُسی حساب سے انعام و اکرام بھی دیا جائے گا۔

Punish a Muslim Day letter

free download punish a muslim day letter

نفرت پر مبنی اس خط کے حوالے سے لندن پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے افسران اس خط کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان کو اس حوالے سے متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس کے چیف سپریٹینڈینٹ مارٹن سنوڈن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم مذہب کی بنیاد پر نفرت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور افسران اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کی مکمل تحقیقات کریں گے۔”

Punish a Muslim Day سے متعلقہ ویڈیو ثبوت

مارٹن سنوڈن کے بقول "ان خطوط کا مقصد مسلمانوں کو ڈرانا اور ان کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

برطانیہ میں مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر نظر رکھنے والے فلاحی ادارے "ٹل ماما” کے مطابق اس حوالے سے انھیں مختلف شہروں سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ٹل ماما کے مطابق اس خط میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جس کے بعد ملک کی مسلمان کمیونیٹی میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔

برطانیہ میں حکمران جماعت کے ممبر پارلیمنٹ اور وزیر برائے لوکل گورنمنٹ ساجد جاوید نے اس بارے میں ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ "مسلم مخالف خطوط کے حوالے سے پریشان کن اطلاعات سامنے آئی ہیں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ برطانوی مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ حملوں کے خوف سے آزاد زندگی گزار سکیں، ہم نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے۔”

ادھر گزشتہ روز پاکستانی نژاد رکنِ پالیمنٹ محمد یاسین کو بھی ایک مشکوک پارسل بیجھا گیا تھا جس کو پولیس نے قبضے میں لے لیا تھا تاہم اس پارسل سے کوئی نقصان دہ چیز برآمد نہیں ہوئی۔

محمد یاسین نے جو آج برطانوی ایوانِ زیریں کی کارروائی میں شریک تھے، بی بی سی اردو کو بتایا کہ مشکوک پارسل کے بارے میں وہ اس وقت صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

خیال رہے کہ محمد یاسین کو یہ پارسل پارلیمنٹ کے پتے پر بھیجا گیا تھا۔ پاکستانی نژاد رکنِ پارلیمنٹ محمد یاسین کو بھیجے گئے اس پارسل کو بھی نفرت پر مبنی خطوط کی کڑی کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

اس تحریر سے متعلقہ اپنی رائے کے اظہار، تحریر سے متعلقہ مزید معلومات کے حصول اور سوالات پوچھنے کے لیے کمنٹس کیجیے۔ آپ کے ہر سوال ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

یہ تحریر بے لوث جذبہ خدمت خلق کے تحت شائع کی جا رہی ہے۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو اپنے دوست احباب کو محبت کے ساتھ اِس کے مطالعہ کی ترغیب دینے کے لیے فیس بک اور واٹس اپ پر شیئر کیجیے۔ تاکہ انسانیت کی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں