پاکستان کی قومی اسمبلی (ایوان زیریں) سے متعلقہ مکمل معلومات

مجلس شوریٰ یا پارلیمینٹ پاکستان میں وفاقی سطح پر اعلی ترین قانون ساز ادارہ ہے۔ اس ادارے میں دو ایوان شامل ہیں۔ ایوان زیریں یا قومی اسمبلی اور ایوان بالا یا سینیٹ۔

پاکستان کی قومی اسمبلی، ریاستِ پاکستان کا ایوان زیریں ہے جس میں انتخابات کے ذریعے منتخب کی گئے ارکان یا ارکان ہوتے ہیں جو براہ راست عوام منتخب کرتے ہیں اور ان کو ایم این اے یا  قومی اسمبلی کا رکن کہا جاتا ہے۔

قومی اسمبلیِ پاکستان جب تشکیل پاتی ہے اس کے بعد وہ پانچ سال کے عرصے تک ہوتی ہے اس کے بعد الیکشن کرائے جاتے ہیں اور نئی اسمبلی بنتی ہے۔ قومی اسمبلی میں کل 272 نشستیں ہیں جن میں 60 خواتین اور 10 غیر مسلم کے لیے محفوظ ہیں۔

قومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ جس کی صدارت اسپیکر کرتا ہے۔ جو صدراور ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین کی عدم موجودگی میں ملک کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ عموماً وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے جو قائد ایوان بھی ہوتا ہے۔

قومی اسمبلی کے اراکین کثیر الجماعتی انتخابات کے ذریعے عوام کی جانب سے منتخب کیے جاتے ہیں جو پانچ سال میں منعقد ہوتے ہیں۔ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی نشست کے لیے مقابلہ کرنے والے امیدواروں کا پاکستانی شہری ہونا 18 سال سے زائد العمر ہونا ضروری ہے۔

آئین پاکستان کی شق 58 کے تحت صدر پاکستان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پانچ سالہ مدت ختم ہونے سے قبل بھی اسمبلی کو تحلیل کر دے تاہم اس کے لیے عدالت عظمی ٰ کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسمبلی تحویل ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہوتا ہے۔

شرائط رکنیت

قومی اسمبلی کے رکن کے لیے پاکستان کا شہری ہونا لازم ہے اس کی عمر پچیس سال سے کم نہ ہو ،نام بطور ووٹر اس حلقے میں درج ہو جہاں سے وہ انتخاب لڑ رہا ہوں۔ کسی سرکاری عہدہ پر فائز نہ ہو۔ دماغی طور پر دست ہو۔ کسی ملازمت سے بد عنوانی کے تحت نکالا نہ گیا ہو۔ کسی اخلاقی جرم میں دو سال سے کم سزا ہو۔ نظریہ پاکستان ،افواج پاکستان اور عدلیہ کے خلاف بیان نہ دیا ہو ۔

شرائط رائے دہندہ

رائے دہندہ پاکستان کا شہری ہو۔ اس کی عمر کم از کم اٹھارہ سال ہو، اس کا نام انتخابی فہرست میں ہو۔ دماغی طور پر مفلوج نہ ہو۔

اراکین کا انتخاب

قومی اسمبلی کے اراکین کا انتخاب متعلقہ انتخابی حلقے کے ووٹرز براہ راست اپنے ووٹوں سے کرتے ہیں۔

واحد رکنیت کی پابندی

اگر کوئی امیدوار ایک سے زیادہ حلقوں میں انتخاب جیت جاتا ہے تو اسے ایک نشست کے سواء باقی تمام نشستوں سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

رکنیت کا خاتمہ

اگر کوئی رکن مسلسل چالیس اجلاسوں میں غیر حاضر رہے تو اس کی رخنیت منسوخ ہو جائے گی۔ اگر کوئی رکن اپنی رضا مندی سے اپنی رکنیت ختم کرنا چاہتا ہو تو وہ اسپیکر کو اپنا استعفیٰ دے سکتا ہے۔ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد سیاسی جماعت کا سربراہ اپنی جماعت کے کسی بھی رکن پارلیمینٹ کو جماعت کی پالیسی کی خلاف ورزی اور فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے پر ان کی رکنیت ختم کر سکتا ہے۔

اجلاس کی طلبی اور التوا

صدر مملکت یا خود وزیر اعظم کے مشورہ سے مشترکہ یا کسی ایوان کا اجلاس طلب کر سکتا ہے اور خود ہی اسے ملتوی کر سکتا ہے۔ لیکن قومی اسمبلی کے کم از کم سال میں تین اجلاس ہونے چاہئیں جن میں کم از کم 130 دن کا کام ہونا ضروری ہے اور دو اجلاسوں کے درمیان 120 دن کا وقفہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اسمبلی کے ایک چوتھائی ارکان اجلاس بلانا چاہیں تو وہ اسپیکر سے درخواست کرسکتے ہیں اور یہ اجلاس سپیکر ہی ملتوی کرتا ہے۔ کیونکہ اسمبلی کا اجلاس اگر سپیکر بلائے تو وہ اجلاس کا مقام اور اس کے ملتوی کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔

اسمبلی کی معیاد

آئین میں اسمبلی کی مدت پانچ سال مقرر ہے جو اس کے پہلے اجلاس سے شمار ہوگی۔ اس سے قبل اسے برخاست کیا جاسکتا ہے ۔

قومی اسمبلی کا کورم

اسمبلی کے کورم کے لیے ایک چوتھائی ارکان کی حاضری ضروری ہے۔ اگر کورم کم ہو تو اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا جاسکتا ہے۔ اسمبلی میں تمام فیصلے حاضر ارکان کی اکثریت سے کیے جاتے ہیں۔

قومی اسمبلی کا ہیڈ کوارٹر

قومی اسمبلی کے تمام اجلاسوں کی کارروائی کے لیے ایک مستقل ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں واقع ہے جو پارلیمنٹ ہاؤس کہلاتا ہے ۔

قومی اسمبلی کے اراکین کے لیے مراعات

اسمبلی کے ارکان کو بہت سی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ اسمبلی میں کی ہوئی بات پر ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس کی اسمبلی کی بات پر مقدمہ ہو سکتا ہے۔ ارکان اسمبلی کو اپنے خیالات کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ہر رکن کو مقررہ تنخواہ اور دیگر الاؤنس ملتے ہیں۔ اسمبلی کی کارروائی کے دوران ارکان کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر گرفتار کرنا ضروری ہو تو اسپیکر سے اجازت لینا ضروری ہے ۔

حلف

ہر رکن قومی اسمبلی کے لیے ضروری ہے کہ حلف اٹھائے ورنہ وہ اسمبلی کی کارروائی میں شامل نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ حلف مقرر شدہ ہے جو آئین میں درج ہے۔ اس حلف کے ذریعے وہ ملک سے وفاداری کا عہد کرتا ہے۔

قومی اسمبلی میں کارروائی اور طریق کار کے قواعد آپ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی کی نشستیں

آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے۔ جس کی نشستوں کی تقسیم آبادی کے تناسب سے ہوتی ہے۔ 342 میں سے 272 نشستوں پر اراکین براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں مذہبی اقلیتوں کے لیے 10 اور خواتین کے لیے 60 نشستیں بھی مخصوص ہیں، جنہیں 5 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کے درمیان نمائندگی کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔

علاقہ!عام نشستیںخواتینکل نشستیں
صوبہ پنجاب14835183
صوبہ سندھ611475
صوبہ خیبر پختونخوا350843
صوبہ بلوچستان140317
فاٹا1212
وفاقی دار الحکومت22
اقلیتوں کے لیے مخصوص1010
کل نشستیں28260342

قومی اسمبلی کے حلقہ جات کی تفصیل

خیبر پختونخوا کے حلقہ جات

1          این اے-1 (پشاور-I)

2          این اے-2 (پشاور-II)

3          این اے-3 (پشاور-III)

4          این اے-4 (پشاور-IV)

5          این اے-5 (نوشہرہ-I)

6          این اے-6 (نوشہرہ-II)

7          این اے-7 (چارسدہ-I)

8          این اے-8 (چارسدہ-II)

9          این اے-9 (مردان-I)

10        این اے-10 (مردان-II)

11        این اے-11 (مردان-III)

12        این اے-12 (صوابی-I)

13        این اے-13 (صوابی-II)

14        این اے-14 (کوہاٹ)

15        این اے-15 (کرک)

16        این اے-16 (ہنگو)

17        این اے-17 (ایبٹ آباد-I)

18        این اے-18 (ایبٹ آباد-II)

19        این اے-19 (ہری پور)

20        این اے-20 (مانسہرہ-I)

21        این اے-21 (مانسہرہ-II)

22        این اے-22 (بٹگرام)

23        این اے-23 (کوہستان)

24        این اے-24 (ڈیرہ اسماعیل خان)

25        این اے-25 (ڈیرہ اسماعیل خان-ضم-ٹانک)

26        این اے-26 (بنوں)

27        این اے-27 (لکی مروت)

28        این اے-28 (بونیر)

29        این اے-29 (سوات-I)

30        این اے-30 (سوات-II)

31        این اے-31 (شانگلہ)

32        این اے-32 (چترال)

33        این اے-33 (دیر بالا)

34        این اے-34 (دیر زیریں)

35        این اے-35 (مالاکنڈ محفوظ شدہ علاقہ)

قبائلی علاقہ جات کے حلقہ جات

36        این اے-36 (قبائلی علاقہ-I)

37        این اے-37 (قبائلی علاقہ-II)

38        این اے-38 (قبائلی علاقہ-III)

39        این اے-39 (قبائلی علاقہ-IV)

40        این اے-40 (قبائلی علاقہ-V)

41        این اے-41 (قبائلی علاقہ-VI)

42        این اے-42 (قبائلی علاقہ-VII)

43        این اے-43 (قبائلی علاقہ-VIII)

44        این اے-44 (قبائلی علاقہ-IX)

45        این اے-45 (قبائلی علاقہ-X)

46        این اے-46 (قبائلی علاقہ-XI)

47        این اے-47 (قبائلی علاقہ-XII)

وفاقی دارالحکومت کے حلقہ جات

48        این اے-48 (اسلام آباد-I)

49        این اے-49 (اسلام آباد-II)

پنجاب کے حلقہ جات

50        این اے-50 (راولپنڈی-I)

51        این اے-51 (راولپنڈی-II)

52        این اے-52 (راولپنڈی-III)

53        این اے-53 (راولپنڈی-IV)

54        این اے-54 (راولپنڈی-V)

55        این اے-55 (راولپنڈی-VI)

56        این اے-56 (راولپنڈی-VII)

57        این اے-57 (اٹک-I)

58        این اے-58 (اٹک-II)

59        این اے-59 (اٹک-III)

60        این اے-60 (چکوال-I)

61        این اے-61 (چکوال-II)

62        این اے-62 (جہلم-I)

63        این اے-63 (جہلم-II)

64        این اے-64 (سرگودھا-I)

65        این اے-65 (سرگودھا-II)

66        این اے-66 (سرگودھا-III)

67        این اے-67 (سرگودھا-IV)

68        این اے-68 (سرگودھا-V)

69        این اے-69 (خوشاب-I)

70        این اے-70 (خوشاب-II)

71        این اے-71 (مياںوالی-I)

72        این اے-72 (مياںوالی-II)

73        این اے-73 (بھکر-I)

74        این اے-74 (بھکر-II)

75        این اے-75 (فیصل آباد-I)

76        این اے-76 (فیصل آباد-II)

77        این اے-77 (فیصل آباد-III)

78        این اے-78 (فیصل آباد-IV)

79        این اے-79 (فیصل آباد-V)

80        این اے-80 (فیصل آباد-VI)

81        این اے-81 (فیصل آباد-VII)

82        این اے-82 (فیصل آباد-VIII)

83        این اے-83 (فیصل آباد-IX)

84        این اے-84 (فیصل آباد-X)

85        این اے-85 (فیصل آباد-XI)

86        این اے-86 (جھنگ-I)

87        این اے-87 (جھنگ-II)

88        این اے-88 (جھنگ-III)

89        این اے-89 (جھنگ-IV)

90        این اے-90 (جھنگ-V)

91        این اے-91 (جھنگ-VI)

92        این اے-92 (ٹوبہ ٹیک سنگھ-I)

93        این اے-93 (ٹوبہ ٹیک سنگھ-II)

94        این اے-94 (ٹوبہ ٹیک سنگھ-III)

95        این اے-95 (گجرانوالہ-I)

96        این اے-96 (گجرانوالہ-II)

97        این اے-97 (گجرانوالہ-III)

98        این اے-98 (گجرانوالہ-IV)

99        این اے-99 (گجرانوالہ-V)

100      این اے-100 (گجرانوالہ-VI)

101      این اے-101 (گجرانوالہ-VII)

102      این اے-102 (حافظ آباد-I)

103      این اے-103 (حافظ آباد-II)

104      این اے-104 (گجرات-I)

105      این اے-105 (گجرات-II)

106      این اے-106 (گجرات-III)

107      این اے-107 (گجرات-IV)

108      این اے-108 (منڈی بہاو الدین-I)

109      این اے-109 (منڈی بہاو الدین-II)

110      این اے-110 (سیالکوٹ-I)

111      این اے-111 (سیالکوٹ-II)

112      این اے-112 (سیالکوٹ-III)

113      این اے-113 (سیالکوٹ-IV)

114      این اے-114 (سیالکوٹ-V)

115      این اے-115 (نارووال-I)

116      این اے-116 (نارووال-II)

117      این اے-117 (نارووال-III)

118      این اے-118 (لاہور-I)

119      این اے-119 (لاہور-II)

120      این اے-120 (لاہور-III)

121      این اے-121 (لاہور-IV)

122      این اے-122 (لاہور-V)

123      این اے-123 (لاہور-VI)

124      این اے-124 (لاہور-VII)

125      این اے-125 (لاہور-VIII)

126      این اے-126 (لاہور-IX)

127      این اے-127 (لاہور-X)

128      این اے-128 (لاہور-XI)

129      این اے-129 (لاہور-XII)

130      این اے-130 (لاہور-XIII)

131      این اے-131 (شیخوپورہ-I)

132      این اے-132 (شیخوپورہ-II)

133      این اے-133 (شیخوپورہ-III)

134      این اے-134 (شیخوپورہ-IV)

135      این اے-135 (شیخوپورہ-V)

136      این اے-136 (شیخوپورہ-VI)

137      این اے-137 (شیخوپورہ-VII)

138      این اے-138 (قصور-I)

139      این اے-139 (قصور-II)

140      این اے-140 (قصور-III)

141      این اے-141 (قصور-IV)

142      این اے-142 (قصور-V)

143      این اے-143 (اوکاڑہ-I)

144      این اے-144 (اوکاڑہ-II)

145      این اے-145 (اوکاڑہ-III)

146      این اے-146 (اوکاڑہ-IV)

147      این اے-147 (اوکاڑہ-V)

148      این اے-148 (ملتان-I)

149      این اے-149 (ملتان-II)

150      این اے-150 (ملتان-III)

151      این اے-151 (ملتان-IV)

152      این اے-152 (ملتان-V)

153      این اے-153 (ملتان-VI)

154      این اے-154 (لودھراں-I)

155      این اے-155 (لودھراں-II)

156      این اے-156 (خانیوال-I)

157      این اے-157 (خانیوال-II)

158      این اے-158 (خانیوال-III)

159      این اے-159 (خانیوال-IV)

160      این اے-160 (ساہیوال-I)

161      این اے-161 (ساہیوال-II)

162      این اے-162 (ساہیوال-III)

163      این اے-163 (ساہیوال-IV)

164      این اے-164 (پاکپتن-I)

165      این اے-165 (پاکپتن-II)

166      این اے-166 (پاکپتن-III)

167      این اے-167 (وہاڑی-I)

168      این اے-168 (وہاڑی-II)

169      این اے-169 (وہاڑی-III)

170      این اے-170 (وہاڑی-IV)

171      این اے-171 (ڈیرہ غازی خان-I)

172      این اے-172 (ڈیرہ غازی خان-II)

173      این اے-173 (ڈیرہ غازی خان-III)

174      این اے-174 (راجنپور-I)

175      این اے-175 (راجنپور-II)

176      این اے-176 (مظفرگڑھ-I)

177      این اے-177 (مظفرگڑھ-II)

178      این اے-178 (مظفرگڑھ-III)

179      این اے-179 (مظفرگڑھ-IV)

180      این اے-180 (مظفرگڑھ-V)

181      این اے-181 (لیہ-I)

182      این اے-182 (لیہ-II)

183      این اے-183 (بہاولپور-I)

184      این اے-184 (بہاولپور-II)

185      این اے-185 (بہاولپور-III)

186      این اے-186 (بہاولپور-IV)

187      این اے-187 (بہاولپور-V)

188      این اے-188 (بہاولنگر-I)

189      این اے-189 (بہاولنگر-II)

190      این اے-190 (بہاولنگر-III)

191      این اے-191 (بہاولنگر-IV)

192      این اے-192 (رحیم یار خان-I)

193      این اے-193 (رحیم یار خان-II)

194      این اے-194 (رحیم یار خان-III)

195      این اے-195 (رحیم یار خان-IV)

196      این اے-196 (رحیم یار خان-V)

197      این اے-197 (رحیم یار خان-VI)

سندھ کے حلقہ جات

198      این اے-198 (سکھر-I)

199      این اے-199 (سکھر-II)

200      این اے-200 (گھوٹکی-I)

201      این اے-201 (گھوٹکی-II)

202      این اے-202 (شکارپور-I)

203      این اے-203 (شکارپور-II)

204      این اے-204 (لاڑکانہ-I)

205      این اے-205 (لاڑکانہ-II)

206      این اے-206 (لاڑکانہ-III)

207      این اے-207 (لاڑکانہ-IV)

208      این اے-208 (جیکب آباد-I)

209      این اے-209 (جیکب آباد-II)

210      این اے-210 (جیکب آباد-III)

211      این اے-211 (نوشہروفِيروز-I)

212      این اے-212 (نوشہروفِيروز-II)

213      این اے-213 (نوابشاہ-I)

214      این اے-214 (نوابشاہ-II)

215      این اے-215 (خیرپور-I)

216      این اے-216 (خیرپور-II)

217      این اے-217 (خیرپور-III)

218      این اے-218 (حیدرآباد-I)

219      این اے-219 (حیدرآباد-II)

220      این اے-220 (حیدرآباد-III)

221      این اے-221 (حیدرآباد-IV)

222      این اے-222 (حیدرآباد-V)

223      این اے-223 (حیدرآباد-VI)

224      این اے-224 (بدین-I)

225      این اے-225 (بدین-II)

226      این اے-226 (میرپورخاص-I)

227      این اے-227 (میرپورخاص-II)

228      این اے-228 (میرپورخاص-III)

229      این اے-229 (تھرپارکر-I)

230      این اے-230 (تھرپارکر-II)

231      این اے-231 (دادو-I)

232      این اے-232 (دادو-II)

233      این اے-233 (دادو-III)

234      این اے-234 (سانگھڑ-I)

235      این اے-235 (سانگھڑ-II)

236      این اے-236 (سانگھڑ-III)

237      این اے-237 (ٹھٹھہ-I)

238      این اے-238 (ٹھٹھہ-II)

239      این اے-239 (کراچی-I)

240      این اے-240 (کراچی-II)

241      این اے-241 (کراچی-III)

242      این اے-242 (کراچی-IV)

243      این اے-243 (کراچی-V)

244      این اے-244 (کراچی-VI)

245      این اے-245 (کراچی-VII)

246      این اے-246 (کراچی-VIII)

247      این اے-247 (کراچی-IX)

248      این اے-248 (کراچی-X)

249      این اے-249 (کراچی-XI)

250      این اے-250 (کراچی-XII)

251      این اے-251 (کراچی-XIII)

252      این اے-252 (کراچی-XIV)

253      این اے-253 (کراچی-XV)

254      این اے-254 (کراچی-XVI)

255      این اے-255 (کراچی-XVII)

256      این اے-256 (کراچی-XVIII)

257      این اے-257 (کراچی-XIX)

258      این اے-258 (کراچی-XX)

بلوچستان کے حلقہ جات

259      این اے-259 (کوئٹہ)

260      این اے-260 (کوئٹہ-ضم-چاغی-ضم-مستونگ)

261      این اے-261 (پشین-ضم-زیارت)

262      این اے-262 (قلعہ عبداللہ)

263      این اے-263 (لورالائی)

264      این اے-264 (ژوب-ضم-قلعہ سیف اللہ)

265      این اے-265 (سبی-ضم-کوہلو-ضم-ڈیرہ بگٹی)

266      این اے-266 (نصیرآباد)

267      این اے-267 (کچھی)

268      این اے-268 (قلات-ضم-مستونگ)

269      این اے-269 (خضدار)

270      این اے-270 (آواران-ضم-لسبیلہ)

271      این اے-271 (خاران-ضم-پنجگور)

272      این اے-272 (کیچ-ضم-گوادر)

خواتین کے لیے مختص نشستوں کے لحاظ سے پنجاب کے حلقہ جات

1          حلقہ این اے۔273

2          حلقہ این اے۔274

3          حلقہ این اے۔275

4          حلقہ این اے۔276

5          حلقہ این اے۔277

6          حلقہ این اے۔278

7          حلقہ این اے۔279

8          حلقہ این اے۔280

9          حلقہ این اے۔281

10        حلقہ این اے۔282

11        حلقہ این اے۔283

12        حلقہ این اے۔284

13        حلقہ این اے۔285

14        حلقہ این اے۔286

15        حلقہ این اے۔287

16        حلقہ این اے۔288

17        حلقہ این اے۔289

18        حلقہ این اے۔290

19        حلقہ این اے۔291

20        حلقہ این اے۔292

21        حلقہ این اے۔293

22        حلقہ این اے۔294

23        حلقہ این اے۔295

24        حلقہ این اے۔296

25        حلقہ این اے۔297

26        حلقہ این اے۔298

27        حلقہ این اے۔299

28        حلقہ این اے۔300

29        حلقہ این اے۔301

30        حلقہ این اے۔302

31        حلقہ این اے۔303

32        حلقہ این اے۔304

33        حلقہ این اے۔305

34        حلقہ این اے۔306

35        حلقہ این اے۔307

خواتین کے لیے مختص نشستوں کے لحاظ سے سندھ کے حلقہ جات

36        حلقہ این اے۔308

37        حلقہ این اے۔309

38        حلقہ این اے۔310

39        حلقہ این اے۔311

40        حلقہ این اے۔312

41        حلقہ این اے۔313

42        حلقہ این اے۔314

43        حلقہ این اے۔315

44        حلقہ این اے۔316

45        حلقہ این اے۔317

46        حلقہ این اے۔318

47        حلقہ این اے۔319

48        حلقہ این اے۔320

49        حلقہ این اے۔321

خواتین کے لیے مختص نشستوں کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کے حلقہ جات

50        حلقہ این اے۔322

51        حلقہ این اے۔323

52        حلقہ این اے۔324

53        حلقہ این اے۔325

54        حلقہ این اے۔326

55        حلقہ این اے۔327

56        حلقہ این اے۔328

57        حلقہ این اے۔329

خواتین کے لیے مختص نشستوں کے لحاظ سے بلوچستان کے حلقہ جات

58        حلقہ این اے۔330

59        حلقہ این اے۔331

60        حلقہ این اے۔332

اقلیتوں کے لیے مختص نشستوں کے حلقہ جات

1          حلقہ این اے۔333

2          حلقہ این اے۔334

3          حلقہ این اے۔335

4          حلقہ این اے۔336

5          حلقہ این اے۔337

6          حلقہ این اے۔338

7          حلقہ این اے۔339

8          حلقہ این اے۔340

9          حلقہ این اے۔341

10        حلقہ این اے۔342

قومی اسمبلی کے مختلف ادوار

1        1947ء تا 1954ء‏

2        1955ء تا 1958ء‏

3        1962ء تا 1965ء

4        1965ء تا 1969ء‏

5          1972ء تا 1977ء‏

6          1977ء‏

7          1985ء تا 1988ء‏

8        1988ء تا 1990ء‏

9          1990ء تا 1993ء‏

10        1993ء تا 1996ء‏

11        1997ء تا 1999ء‏

12        2002ء تا 2007ء‏

13        2008ء تا 2013ء‏

14       2013ء تا 2018ء‏

قومی اسمبلی سے متعلقہ مزید معلومات کے حصول کے لیے آپ Rules of Procedure & Conduct of Business in National Assembly 2007 پڑھ سکتے ہیں۔ جس میں قومی اسمبلی سے متعلقہ تمام اردو زبان میں دستیاب ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں