مجھے کیوں نکالا ، حقائق کی روشنی میں جوابات

نواز شریف اتنے شریف ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ وہ نا اہل کیوں ہوئے ہیں۔ نواز شریف کا بار بار ایک ہی سوال کہ مجھے کیوں نکالا؟ پی ٹی آئی نے جوابات کے ڈھیر لگا دیئے۔لیکن کیا مجال ہے کہ اُن کو پھر بھی سمجھ آئی ہو۔

میاں صاحب: مجھے کیوں نکالا؟

  • میاں صاحب! آپ نے کرپشن کی  اور منصب کے غلط استعمال سے قومی خزانہ لوٹا۔
  • آپ نے چوری کا مال بچانے کیلئے بچوں کے نام پر جائیدادیں اور آف شور کمپنیاں بنائیں، اس لئے نکالا گیا۔
  • میاں صاحب! آپ نے اداروں کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی اپنے حقیقی ذرائع آمدن سے متعلق گمراہ کیا۔
  • میاں صاحب! آپ کے خلاف کرپشن کے  28 نیب ریفرنس دائر ہوئے۔
  • آپ نے گوشواروں میں غلط معلومات درج کر کے کالا دھن چھپانے کی کوشش کی۔
  • میاں صاحب! آپ وعدے کے باوجود لندن اپارٹمنٹس کی ملکیت کے دستاویزات دینے میں ناکام رہے۔
  • میاں صاحب آپ نے اسحاق ڈار کی معاونت سے منی لانڈرنگ کی، پارلیمان اور قوم سے خطاب میں جھوٹ بولا۔
  • آپ کے اثاثے آپ کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔
  • آپ نے عدالت میں جعلی دستاویزات جمع کرائیں ۔ کیلبری فونٹ کا استعمال کیا، جو اس وقت مارکیٹ میں آیا ہی نہیں تھا۔
  • میاں صاحب! آپ وزیراعظم ہوتے ہوئے دوسرے ملک کا اقامہ / شہریت رکھتے ہیں۔
  • پانچ معزز ججوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ  صادق اور امین نہیں رہے۔

میاں صاحب کا سوال: مجھے پانچ منٹ میں کیوں نا اہل قرار دے دیا۔
عوام کا جواب: پانچ منٹ میں نہیں، ایک سال سے زائد عرصہ تک کیس چلا ہے۔

میاں نواز شریف صاحب یہ سوال پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں، اور عوام ان کو جواب دے دے کر عاجز آ گئی ہے، لیکن کیا مجال ہے کہ ان کو سمجھ آئی ہو۔

اب تو پی ٹی آئی نے نیا گانا (نیو سونگ) بھی ریلیز کر دیا ہے، جس کا ٹائیٹل ہے کہ مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے

جب پیپلزپارٹی کے منتخب وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو عدلیہ کی جانب سے نااہل کیا گیا تھا، اس وقت میاں نواز شریف نے عدالت کے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی تھی، لیکن اب جب خود نااہل ہوئے ہیں تو بار بار یہی سوال دہرائے جا رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟

حالانکہ جس عدالت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نکالا تھا، جس کی حمایت میاں نواز شریف صاحب نے کی تھی، اسی عدالت نے میاں نواز شریف صاحب کو نکالا ہے، اب بھی اسی عدالت کے فیصلے کو بھی دل سے تسلیم کرنا چاہیے اور یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ مجھے کیوں نکالا؟

صادق و آمین کی شق

اسی طرح جب پیپلزپارٹی نے آئین کی دفعہ 62،63 صادق و امین میں ترمیم کی بات کی تھی، اس وقت تو میاں نواز شریف صاحب نے اس کی مخالفت کی تھی اور اب جب خود اسی شق کی وجہ سے نااہل ہوئے ہیں تو اب کہہ رہے ہیں کہ اس میں ترمیم ہونی چاہیے۔

میاں صاحب کل خود روڈ پر آنے اور کنٹینر والی سیاست کے خلاف تھے۔ اور آج  وہی خود کر رہے ہیں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔یہ کوئی اچھا رویہ نہیں ہے کہ جو بات اپنے فائدے کی ہو، اسے تو تسلیم کر لیا جائے اور جو اپنے فائدے کی نہ ہو، اسے مستردکردیا جائے۔

نواز شریف کا طرز عمل

نوازشریف کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سپریم کورٹ نے انہیں نااہل قرار دے کر 20 کروڑ عوام کی توہین کی ہے۔ نوازشریف کا یہ طرزعمل بھی ہرگز صحیح نہیں کہ وہ ایک جلسہ عام یا مختلف جلسوں میں عوام سے یہ پوچھیں کہ کیا ان کو سپریم کورٹ کا فیصلہ منظور ہے؟ یا وہ اسے مسترد کرتے ہیں؟

اگر یہی سلسلہ چل نکلا تو پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے جلسوں میں بھی عوام سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا وہ نوازشریف کی نااہلی کے فیصلہ کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت؟ ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے جلسوں میں نوازشریف کے خلاف ہی رائے دی جائے گی۔ اس لیے نواز شریف صاحب کو چاہیے کہ وہ اپی سوچ اپنا طرز عمل بدلیں، وگرنہ اگلے الیکشن میں اس سے کہیں زیادہ بے عزتی ہو جانی ہے۔

نوٹ: اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں