والدین کے ساتھ حسن سلوک، والدین کے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں

والدین وہ ہستی ہیں جن کا دنیا میں کوئی نعم البدل ہی نہیں ہے۔ والدین کا پیار ساون کی جھڑی کی مانند ہوتا ہے جس کی ہر بوند سے پیار کا امرت ٹپکتا ہے۔ والدین وہ چھاؤں ہیں۔ جس کے سائے میں اولاد کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں، اگر کسی کویہ نعمت حاصل ہے اور وہ اُن کی خدمت واطاعت کررہا ہے تو وہ بڑاسعادت مند اوراللہ کا محبوب بندہ ہے۔

جب بچہ پیدا ہو تا ہے تو اُس کی پرورش کے لیے باپ محنت و مشقت کرتا ہے ، سردی ہو یا گر می ،صحت ہو یا بیما ری، وہ اپنی اولاد کی خاطر کسبِ معاش کی صعوبتوں کو برداشت کرتا ہے اورجو بھی کما کر لاتا ہے،بچے پر خرچ کر دیتا ہے۔ ماں قطرہ قطرہ لہودے کر بچے کو پیدا کرتی ہے۔ وہ اولاد کی پیدائش سے پہلے بھی تکلیف اٹھاتی ہے اوربعد میں بھی بچے کو گرمی و سردی سے بچانے کی خاطر خود گرمی و سردی برداشت کرتی ہے ، بچے کی پرورش کرتی ہے ،اس کو دودھ پلاتی ہے،

جب بچہ بیمار ہوجاتا ہے تو ماں باپ بے چین ہو جاتے ہیں ، ان کی نیندیں حرام ہو جاتیں ہیں، بچے کے علاج و معالجہ کی خاطر والدین ڈاکٹروں کے چکر لگاتے ہیں۔  غرض والدین اپنی راحت و آرام اور اپنا سب کچھ بچوں کی خاطر قربان کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اورنیکی کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔ والدین کے حقوق ادا کرنا درحقیقت اللہ کی تابعداری ہےماں باپ کی خدمت کاثواب جہاد سے بھی بڑھ کر ہے اوراس کااجر و ثواب حج اور عمرے کے برابر ہے۔ ماں باپ کے قدموں میں رہنا جنت کی طرف پہنچاتا ہے، اس سے عمراوررزق میں اضافہ ،عبادات اور دعائیں اللہ پاک کی بارگاہ میں ضرور قبول ہوتی ہیں۔

ماں باپ کی نافرمانی کرنایا اُنہیں اذیت وتکلیف دینا گناہ کبیرہ اور بہت بڑی محرومی ہے۔ ماں باپ کے نافرمان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتااور موت سے پہلے ہی اُسے دنیا میں ذلت و رسوائی اور اپنے کئے کی سزاملتی ہے۔

والدین کے حقوق

والدین کے حقوق کی فہرست بہت طویل ہے۔ اگر والدین کی ریاضت ، مرتبےاوردرجہ کو دیکھا جائے تو اولاد اگر اپنی پوری زندگی بھی ان کے حقوق کی ادائیگی میں صرف کردےتو بھی وہ والدین کا حق ادا نہیں کر سکتی۔

اپنے بیوی بچوں کی طرح اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنا، ان کی کفالت اور دیگر ضروریاتِ زندگی (کھاناپینا،لباس، علاج )کو پورا کرنا بھی اولادپر فرض ہے۔ نیز والدین کی ضروریات کے مطابق مخصوص رقم ہرمہینے اُن کوپیش کی جائے تا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق خرچ کر سکیں۔ والدین کے حقوق پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ہر حکم کی تعمیل کی جائے۔  اُن کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے : والدین میں علیحدگی کے بچوں پر اثرات

والدین کے آرام وسکون اور خوشیوں کا خیال رکھا جائے۔ والدین کا تذکرہ ہمیشہ اچھے الفاظ میں کیاجائے۔ والدین کے رشتہ داروں اور دوستوں کااحترام کیاجائے۔ ماں باپ کے انتقال کے بعدبھی ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔ جس کی کئی صورتوں میں سے ایک دعائے مغفرت کرنابھی شامل ہے۔ جس سے وصال کے بعد بھی ان کے اعمال میں نیکوں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اور ان کے درجات بلند ہوتے ہیں۔

والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے۔ چاہے وہ بوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے۔ کیونکہ بڑھاپا انسان کی زندگی میں کمزوری اور ناتوانی کا دور ہے، اس وقت انسان کے اعضاء سست اور مضمحل ہو جاتے ہیں اور وہ کام کاج کے قابل نہیں رہتا، کسمپرسی کے ان لمحات میں وہ آرام و سکون چاہتا ہے، اور آرزو مند ہوتا ہے کہ کوئی اس کا سہارا بنے، اسے تسلی دے۔

وہ اگر بیمار پڑ جائے، تو اس کی تیمار داری کے لئے کوئی موجود ہو،اس لیے اس عمر میں جاکر ماں باپ بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اوران کی عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے۔ اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔

قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔

والدین کی دعائیں اولاد کے حق میں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ پس یہ ہمارا انسانی، اخلاقی اور دینی فرض ہے کہ ہم اپنے والدین کی دل وجان سے خدمت واطاعت کریں کہ اسی میں ہمارے لیے دین ودنیا کی کامیابی،سعادت اور فلاح ونجات ہے۔ اگر ماں کی طرح باپ کی عظمت کا پاس رکھتے ہوئے اس کی اطاعت ،فرمان برداری ،خدمت اورتعظیم کرکے رضاحاصل کی جائے تو اللہ پاک کی طرف سے ہمیں دین ودنیا دونوں کی کامیابیاں ، سعادتیں اورجنت کی بیشمار نعمتیں نصیب ہوسکتی ہیں۔

والدین کے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’اورآپ کے پروردگارکافرمان ہے کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کیاکرو،اگر تمہارے سامنے اِن میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘تک نہ کہواور نہ انہیں جھڑکو ،بلکہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرو اور اپنے بازو نہایت عاجزی اورنیازمندی سے ان کے سامنے جھکادو اور( ان کے لئے یوں دعائے رحمت کرو) اے میرے پروردگار!توان پر(اس طرح) رحم فرما، جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا تھا‘‘۔ (سورہ بنی اسرائیل)

اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں اپنی عبادت کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت واطاعت انتہائی ضروری ہے حتیٰ کہ والدین اولاد پر ظلم وزیادتی بھی کریں تب بھی اولاد کو انہیں جواب دینے کی اجازت نہیں،جھڑکناتو درکنار ،اُن کے سامنے اُف تک کہنے کی بھی اجازت نہیں۔

اسلام میں والدین کابہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیاکہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔ رشتہ داروں ، یتیموں،مسکینوں اورلوگوں سے (ہمیشہ)اچھی بات کہو۔ ‘‘ (سورۃ البقرہ)

سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو،(تم سب کو )میری ہی طرف لوٹنا ہے اور اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک ٹھہرا جس کا تجھے کچھ علم نہیں تو(اس مطالبہ معصیت میں )ان کی اطاعت ہر گز نہ کرو، (لیکن اس کے باوجود ) دنیا میں ان سے حسن سلوک کرتے رہو۔ ‘‘(سورہ لقمان)

اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے سوا والدین کے ہر حکم کی تعمیل کریں۔  ان کی رائے کو ترجیح دیں۔  خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ان سے محبت و احترام سے پیش آئیں ، اپنی مصروفیات میں سے مناسب و قت اُن کے لیے خاص کردیں۔ اُن کی بھر پور خدمت کریں۔

اولاد کا فرض ہے کہ والدین کی وفات کے بعدان کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت ورحمت کرتے رہیں ، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشادِباری تعالیٰ ہے۔ ’’اور(ان کے حق میں یوں دعائے رحمت کرو ) اے ہمارے رب!ان دونوں پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا‘‘۔ (سورہ بنی اسرائیل)

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لیے ، اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت وبخشش کی دعامانگتے ہیں۔ جس کاقرآن پاک نے اس طرح ذکرکیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (بخش دے)اور سب مسلمانوں کو(بخش دے)، جس دن حساب قائم ہوگا‘‘۔ (سورہ ابراہیم)

’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے (حسن سلوک کا) تاکیدی حکم دیا، اس کی ماں نے کمزوری سہتے ہوئے اسے اٹھائے رکھا اور دو سال اس کے دودھ چھڑانے میں لگے، لہٰذا میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی(بالآخر) میرے پاس ہی لوٹ آنا ہے‘‘۔ (سورۃ لقمان آیات نمبر14)

سورة احقاف میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اس ماں نے تکلیف جھیل کر اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا۔ حمل کے نوماہ کی تکلیف اور اس سے بڑھ کر وضع حمل کی تکلیف، یہ سب ماں برداشت کر تی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وضو کے طبی و سائنی فوائد کی مکمل تفصیل

حدیث شریف میں ہے کہ ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت کرناان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کاسلسلہ ختم ہو جاتا ہے،لیکن تین چیزوں کا نفع اس کو(مرنے کے بعدبھی) پہنچتا رہتا ہے۔ 1۔ صدقہ جاریہ۔ 2۔ ایسا علم جس سے لوگ نفع حاصل کرتے ہوں۔ 3۔ نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتی ہو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں بلند فرما دیتا ہے تو وہ بندہ عرض کرتا ہے کہ’’ اے میرے رب! یہ درجہ مجھے کہاں سے ملا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ ،’’تیری اولاد کی دعائے مغفرت کی بدولت (تجھے یہ بلند درجہ دیا گیا ہے)۔ ‘‘(مسائل اربعین)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جو نیک اولاد اپنے ماں باپ کے چہرے کی طرف رحمت (اورمحبت) سے ایک نظر دیکھ لے تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامہ اعمال میں ) ایک حج مقبول کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ،اگر وہ ہر روز سو بار دیکھے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، اللہ سب سے بڑا ہے اور(اس کی ذات ) بہت پاک ہے ،(یعنی اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں،وہ سوحج کاثواب بھی عطافرمائے گا۔ ‘‘(مشکوٰۃ ،البیہقی فی الشعب )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،’’وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا،عرض کیا،کون یارسول اللہ ﷺ؟آپ ﷺنے فرمایا،’’جس نے اپنے ماں باپ میں دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (اُن کی خدمت نہ کر کے) دخولِ جنت کا حق دار نہ بن سکا۔ ‘‘(مسلم، مشکوٰۃ)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کے رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور (اپنے رشتہ داروں کے ساتھ) صلہ رحمی کرے۔ ‘‘

سیدناعبدالرحمن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ eسے دریافت کیاکون ساعمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا ‘ میں نے کہا پھر کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا :والدین کے ساتھ نیکی کرنا ‘میں نے کہا پھر کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا”۔

یہ بھی پڑھیے : عقیدہ ختم نبوت کیا ہے، ختم نبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں

حضور سید عالم ﷺ نے والدین کی خدمت و اطاعت کو جہاد جیسی عظیم عبادت وسعادت پر بھی ترجیح دی حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲ ﷺ کے پاس جہاد میں شریک ہونے کی غرض سے حاضر ہواتو نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ماں با پ زندہ ہیں؟ ‘‘اس نے کہا ،’’ جی ہاں، زندہ ہیں۔ ‘‘ آپ ﷺنے فرمایا،’’جاؤ اور اپنے والدین کی خدمت کرو، یہی تمہار اجہاد ہے۔ ‘‘(سنن ابن ماجہ،مشکوٰہ المصابیح)

سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:”کوئی اولاد اپنے والد کے احسان کا بدلہ نہیں چکاسکتی ‘مگر یہ کہ وہ اپنے باپ کو غلام پائے اوروہ اسے خرید کر آزاد کردے۔ ” (صحیح مسلم)

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ بہترین نیکی یہ (بھی ) ہے کہ ماں باپ کے تعلق داروں کے ساتھ اچھا اور نیک سلوک کیا جائے۔ ‘‘

سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ:میری والدہ میرے پاس آئیں ہیں،وہ مجھ سے حسن سلوک کی خواہشمند ہیں:میری ماں جب کہ وہ ابھی مشرکہ تھیں میرے پاس آئیں ، میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا:” کیامیں ان کی خواہش کے مطابق انکے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں : تم اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔ (صحیح :بخاری)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کوئی شخص اپنے والدین پر بھی لعنت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا یہ اور کوئی شخص کسی کی ماں کو گالی دیے اور وہ (بدلے میں) اس کی ماں کو گالی دے (تو یہ اپنے والدین پر لعنت کے مترادف ہے)۔ ‘‘

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی پاکﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ:’’ اے اللہ کے رسول ؐ! میرے اچھے برتاؤ کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ کہا پھر؟ فرمایا:تمہاری ماں۔ کہا پھر؟ فرمایا:تمہاری ماں ، کہا پھر؟ فرمایا:تمہارا باپ‘‘۔

نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے‘‘۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ اپنی ماؤں کی خدمت کر لو اور جنت لے لو۔

  • والدین کے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں
  • اسلام میں والدین کے حقوق مضمون
  • والدین کے ساتھ حسن سلوک
  • والدین کا احترام، ماں باپ کی خدمت

یادرکھیں: والدین کادل کبھی نہ دکھائیں کیونکہ اگر والدین کے منہ سے نکلی ہوئی دعا قبول ہوسکتی ہے تو خدا کی بارگاہ میں ان کی بددعابھی نہیں ٹالی جاتی ہو گی۔ اولاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ والدین کی جائز خواہشات کی تکمیل اور ان کی اطاعت وفرمانبرداری کو لازم جانے اور ان کی رضا وخوشنودی کو اپنے حق میں ایک بڑی سعادت سمجھے۔

اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق والدین کی ضروریات اور ان کے آرام وراحت میں اپنا مال واسباب خرچ کیا جائے۔ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے جو ان کی شان کے مطابق ہو۔ والدین کے سامنے تواضع وانکساری اختیار کرجائےاورا ن کے سامنے ملائمت ونرمی اور خوشامدوعاجزی کا رویہ اپنایا جائے اور جہاں تک ہوسکے ا ن کی خدمت کرجائے تاکہ وہ راضی اور خوش ہوں، ان کی اطاعت وفرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔

والدین کے ایسا ساتھ ایسا رویہ نہیں اپنانا چاہیئے، جس سے ان کی شان میں بے ادبی وگستاخی ظاہر ہوتی ہو۔ بات چیت کے وقت اپنی آواز کو ان کی آواز سے اونچی نہ کریں۔ اور نہ ہی ان کے مقابلے میں خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ اسی طرح اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیئے کہ اگر والدین غیر شرعی امور کے مرتکب ہوں تو ان کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے فریضہ کی ادائیگی کے وقت بھی ادب واحترام اور نرمی وملائمت کی راہ اختیار کی جائے۔

انسان کی کامیابی کا رازوالدین کی دعاؤں میں چھپا ہوا ہے۔ جس شخص کے والدین اپنی اولاد سے خوش ہیں تو سمجھو کہ اس کی دنیااورآخرت دونوں سنور گئیں۔ اور جس کے والدین ناراض ہوں توسمجھو اس کی دنیا بھی ہاتھ سے چلی گئی اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و رسوا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں