عقیدہ ختم نبوت کیا ہے، ختم نبوت قرآن و احادیث کی روشنی میں

نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی رو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصارہوتا ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر، اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو بھی کافر۔

عقیدہ ختم نبوت کیا ہے؟

ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ اس عقیدہ کو شریعت کی اصطلاح میں عقیدہ ختم نبوت کہا جاتا ہے

ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان کا اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر قرآن پاک کی سو سے بھی زیادہ آیات مبارکہ اور دو سو دس احادیث میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

قرآن کریم تکمیل دین کااعلان کرتا ہے۔ گویا انسانیت اپنی معراج کو پہنچ چکی ہے اور قرآن کریم انتہائی عروج پر پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد کسی دوسری کتاب کی ضرورت ہے ، نہ کسی نئے نبی کی حاجت۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روئے زمین کی ہر قوم اور ہر انسانی طبقے کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتب کے احکام منسوخ کرنے والی اور آئندہ کے لیے تمام معاملات کے احکام و قوانین میں جامع و مانع ہے۔

چنانچہ امت محمدیہ کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انسانیت کے سفر حیات میں وہ منزل آ پہنچی ہے کہ جب اس کا ذہن بالغ ہو گیا ہے اور اسے وہ مکمل ترین ضابطۂ حیات دے دیا گیا، جس کے بعد اب اسے نہ کسی قانون کی احتیاج باقی رہی نہ کسی نئے پیغامبر کی تلاش۔

اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کے بارے میں بتا دیتا، ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے اس کا اعلان کراتا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو اچھی طرح خبردار کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمہیں ان کو ماننا ہو گا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔کیونکہ نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دی گئی ۔

کافر و کاذب ہیں وہ جو ارادے سنگین رکھتے ہیں

سوائے منافق کے سبھی ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں

ختم نبوت قرآن پاک کی آیات کی روشی میں

قرآن پاک میں سو سے زیادہ آیات ایسی ہیں جو اشارۃً یا کنایۃً عقيدہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ لہٰذا اب قیامت تک کسی قوم، ملک یا زمانہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور نبی یا رسول کی کوئی ضرورت باقی نہیں اور مشیت الٰہی نے نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔

سورۃ الاحزاب آیت نمبر 40 میں ہے:

ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن آپ رسول اللہ اور خاتم النبیین (آخری نبی)ہیں۔ ، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ تو منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔

سورۃآل عمران آیت نمبر 81 میں ہے:

ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تم کو کتاب اور نبوت دوں، پھر تمہارے پاس ایک ’’وہ رسول‘‘ آجائے جو تمہاری کتابوں اوروحیوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا، یعنی اگر تم اس کا زمانہ پاؤ تو تم سب ضرور ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور ان کی مدد فرض سمجھنا،

قران پاک کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس رسول مصدق کی بعثت سب نبیوں کے آخر میں ہوگی وہ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

ختم نبوت کے بارے میں احادیث مبارکہ

  1. ابو صالح السمان ذکوان الزیات رحمہ اللہ کی سند سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے بہت اچھے طریقے سے ایک گھر بنایا اور اسے ہر طرح سے مزین کیا، سوائے اس کے کہ ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ (چھوڑ دی) پھر لوگ اس کے چاروں طرف گھومتے ہیں اور (خوشی کے ساتھ) تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ اینٹ یہاں کیوں نہیں رکھی گئی؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: پس میں وہ (نبیوں کے سلسلے کی) آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (صحیح بخاری: 3535، صحیح مسلم: 22/ 2286، دارالسلام: 5961،بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیّین)
  2. عبد اللہ بن ابراہیم بن قارظ رحمہ اللہ کی سند سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس بے شک میں آخری نبی ہوں اور بے شک میری مسجد آخری مسجد (ہے جسے کسی نبی نے خود تعمیر کیا ) ہے۔ (صحیح مسلم: 507/1394، دارالسلام: 3376)
  3. سیدنا ثوبان (مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بے شک میری اُمت میں تیس کذاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ اور میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (سنن ابی داود: 4252 وسندہ صحیح)
  4. ابو حازم سلمان الاشجعی الکوفی رحمہ اللہ کی سند سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح بخاری: 3455، صحیح مسلم: 1842، دارالسلام: 4773) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی ایک نبی جاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی آتا تھا اور میرے بعد تم میں کوئی نبی (پیدا) نہیں ہو گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ 15/58 ح 37249 وسندہ صحیح)
  5. شرحبیل بن مسلم اور محمد بن زیاد کی سند سے روایت ہے کہ سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ (المعجم الکبیر للطبرانی 8/136 ح 7535 وسندہ حسن، السنۃ لابن ابی عاصم 2/715۔ 716 ح 1095، دوسرا نسخہ: 1061)
  6. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : رسالت اور نبوّت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ (ترمذی، کتاب الرؤیا، باب ذہاب النبوۃ۔ مسند احمد، مرویّات انس بن مالکؓ)
  7. سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتے تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔ (ترمذی ص 209 ج 2)
  8. سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے (بسندِ عامر بن سعد بن ابی وقاص) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا) علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہ مقام ہو جو ہارون کا موسیٰ کے ساتھ تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔ (صحیح مسلم: 32/ 2404، ترقیم دارالسلام: 6220)
  9. نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی قیا دت انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا تو دوسرا نبی اس کا جا نشین ہوتا۔ مگر میری بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔(بخاری، کتاب المناقب، باب ماذکر عن بنی اسرئیل)
  10. نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں محمد ہوں میں احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے کفر محو کیا جائے گا۔ میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کیے جائیں گے (یعنی میرے بعد اب بس قیامت ہی آنی ہے )۔ اور میں عاقب ہوں، اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ (بخاری و مسلم، کتاب الفضائل، باب اسماء النبی۔ ترمذی، کتاب الآداب، باب اسماء النبی۔ مُوطّا، کتاب اسماء النبی۔ المستدرک للحاکم، کتاب التاریخ، باب اسماء النبی)
  11. عمرو بن عبد اللہ الحضرمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ (سیدنا) ابو امامہ الباہلی (صدی بن عجلان) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔(کتاب الآحدوالمثانی لابن ابی عاصم، و سندہ صحیح، السنہ لابن ابی عاصم )
  12. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی اُمّت کو دجّال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو (مگر اُن کے زمانے میں وہ نہ آیا ) اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امّت ہو۔ لامحالہ اب اس کو تمہارے اندر سے ہی نکلنا ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب الدجّال)
  13. ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف اور ابو عبد اللہ الاغر (دو تابعین) کی سند سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: پس بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد (مساجد انبیاء میں سے ) آخری مسجد ہے۔ (صحیح مسلم: 507/ 1394 ، دارالسلام: 3376، سنن نسائی : 695 والکبریٰ لہ: 684)
  14. سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہترین اور مکمل گھر (محل) کی مثال کو نبیوں کی مثال قرار دیا۔ جس کی ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس میں اس اینٹ کی جگہ ہوں، میں آیا تو انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ ختم کر دیا۔ (صحیح مسلم : 2287 اور3534، دارالسلام: 5963)
  15. حضرت ابو ہریرہؓ کو رسول اللہؐ نے فرمایا: ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی (صحیح بخاری ص 120 ج 1 واللفظ لہ، صحیح مسلم ص 282)
  16. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے (1) مجھے جامع و مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی(2)مجھے رعب کے ذریعہ سے نُصرت بخشی گئی(3) میرے لیے اموالِ غنیمت حلال کیے گیے (4)میرے لیے زمین کو مسجد بھی بنا دیا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی (یعنی میری شریعت میں نما ز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جا سکتی ہے اور پانی نہ ملے تو میری شریعت میں تیمم کر کے وضو کے حاجت بھی پوری کی جا سکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی) (5)مجھے تمام دُنیا کے لیے رسول بنا یا گیا(6)اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔(صحیح مسلم: 523، دارالسلام: 1167، مسند احمد 2/411، سنن ترمذی: 1553، ترمذی، ابن ماجہ)
  17. عبد الرحمٰن بن جُبَیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عَمْرو بن عاص کو یہ کہتے سُنا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے مکان سے نکل کر ہما رے درمیان تشریف لائے اس انداز سے کہ گویا آپ ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا:’’ میں محمد نبی ہوں۔ ‘‘ پھر فرمایا:اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ‘‘(مسند احمد، مرویات عبداللہ بن عمرو بن العاص)

ختم نبوت پر صحابۂ کرام کا اِجماع

ختم نبوت پر قرآن و سنت کے بعد تیسرے درجے میں صحابۂ کرام کے اجماع کی ہے۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی، ان سب کے خلاف صحابۂ کرام نے بالاتفاق جنگ کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے : وضو کے طبی و سائنی فوائد

صحابہؓ نے جس جرم کی بنا پر ان سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ جرم یہ تھا کہ ایک شخص مُسَیلمۂ کذّاب نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے۔ یہ کارروائی حضورؐ کی وفات کے فوراً بعدحضرت ابو بکرؓ کی قیادت میں صحابہ اکرام کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی تھی۔ اجماع صحابہ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔

قرآن و سنت کی روشنی میں ختم نبوت کا انکار محال ہے۔ اور یہ ایسا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ جب اور جہاں کسی نے نبوت کا دعوی کیا، امت مسلمہ نے متفقہ طور پر اسے جھوٹا قرار دیا اوراس کا قلع قمع کرنے میں ہر ممکن کوشش کی۔

ختم نبوت پر تمام علمائے اُمّت کا اجماع

اجماع صحابہ کے بعد چوتھے نمبر پر مسائل دین میں جو چیز کو حجت کی حیثیت حاصل ہے وہ دور صحابہ کے بعد کے علمائے اُمت کا اجماع ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم یہ دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے، اور پوری دنیائے اسلام میں ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا، اور یہ کہ جو بھی آپؐ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے، یا اس کو مانے، وہ کافر خارج از ملّت اسلام ہے۔ اس سلسلہ کے بھی چند شواہد ملاحظہ ہوں :

  1. امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا ’’ مجھے موقع دوکہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔ ‘‘ اس پر امامِ اعظمؒ نے فرمایا کہ ’’ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرما چکے ہیں کہ’’ لا نبی بعدی‘‘(مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ لا بن احمد المکی، ج 1۔ ص161۔ مطبوعہ حیدرآباد 1321ھ)
  2. علاّمہ ابن جَریر طَبری اپنی مشہور تفسیر قرآن میں آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْ لِ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّنَ کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مُہر لگا دی، اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لئے نہیں کھلے گا ‘‘ (تفسیر ابنِ جریر، جلد 22، صفحہ 12)
  3. امام طَحاوِی اپنی کتاب ’’عقیدۂ سلفیہ‘‘ میں سلف صالحین، اور خصوصاً امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے نبوت کے بارے یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں :’’ اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے برگزیدہ بندے، چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور وہ خاتم الانبیا ء، امام الاتقیا، سیّد المرسلین اور حبِیب ربّ العالمین ہیں، اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہشِ نفس کی بندگی ہے۔ ‘‘ (شرح الطحاویہ فی العقیدۃ السلفیہ، دار المعارف مصر، صفحات 15، 87، 96، 100، 102)
  4. علّامہ ابن حَزُم اندَلُسِی لکھتے ہیں : ’’یقیناً وحی کا سلسلہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی مگر ایک نبی کی طرف، اور اللہ عزّوجلّ فرما چکا ہے کہ محمدؐ نہیں ہیں تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ، مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ ‘‘ (المحلّٰی، ج1، ص 26)
  5. محی السُّنَّہ بَغَوی اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں، ’’اللہ نے آپؐ کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا، پس آپؐ انبیاء کے خاتم ہیں اور ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اِس آیت میں ) یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ ‘‘ (جلد 3، ص158)
  6. علامہ زَمَخْشَری تفسیر کشّاف میں لکھتے : ’’ ہیں اگر تم کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم آخری نبی کیسے ہوئے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانے میں نازل ہوں گے ؟ تو میں کہوں گا کہ آپؐ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا، اور عیسیٰ علیہ السلام اُن لوگوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے، اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپؐ کے قبیلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے گویا کہ وہ آپؐ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں ‘‘۔ (جلد 2، ص215)
  7. قاضی عیاض لکھتے ہیں :’’ جو شخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کرے، یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اکتساب کر سکتا ہے اور صفائیِ قلب کے ذریعہ سے مرتبۂ نبوت کو پہنچ سکتا ہے، جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں، اور اسی طرح جو شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے ایسے سب لوگ کافر اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے جھٹلانے والے ہیں۔ کیونکہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پہنچائی ہے کہ آپ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپؐ کو بھیجا گیا ہے۔ اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر مفہوم پر محمول ہے، اس کے معنی و مفہوم میں کسی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ان تمام گروہوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی شک نہیں، بر بنائے اجماع بھی اور بر بنائے نقل بھی‘‘۔ (شفاء، جلد 2، ص0 27۔ 271)
  8. علامہ شہر ستانی  اپنی مشہور کتاب الملل و الِنَّحل میں لکھتے ہیں :’’ اور اسے طرح جو کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے (بجز عیسیٰ علیہ السلام کے )تو اس کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کی درمیان بھی اختلاف نہیں ہے‘‘ (جلد 3، ص249)
  9. امام رازی اپنی تفسیر کبیر میں آیت خاتم النبیین کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اس سلسلۂ بیان میں و خاتم النبیین اس لیے فرمایا کہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو وہ اگر نویھت اور توضیح احکام کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اُ سے پورا کر سکتا ہے۔ مگر جس کے بعد کوئی آنے والا نبی نہ ہو وہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے اور اس کو زیادہ واضح رہنمائی دیتا ہے کیونکہ اس کی مثال اُس باپ کی ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کے بیٹے کا کوئی ولیو سرپرست اُس کے بعد نہیں ہے (جلد 6، ص 581)
  10. علامہ بیضاوی اپنی تفسیر انوار التنزیل میں لکھتے ہیں : ’’ یعنی آپؐ انبیا ء میں سب سے آخری نبی ہیں جس نے ان کا سلسلہ ختم کر دیا، یا جس سے انبیاء کے سلسلے پر مہر کر دی گئی۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا اس ختمِ نبوت میں قادح نہیں ہے کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپؐ ہی کے دین پر ہوں گے ‘‘ (جلد 4۔ ص 164)
  11. علامہ حافظ الدین النَّسَفی اپنی تفسیر ’’ مدارک التنزیل ‘‘ لکھتے ہیں۔ ’’ اور آپؐ خاتم النبیین ہیں،یعنی نبیوں میں سب سے آخری۔ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں نبایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ علیہ السلام تو وہ اُن انبیاء میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے۔ اور وہ جب نازل ہوں گے تو شریعتِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر عمل کرنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے گویا کہ وہ آپؐ کے افراد میں سے ہیں ‘‘ (ص 471)
  12. علامہ علاؤالدین بغدادی اپنی تفسیر ’’ خازن‘‘ میں لکھتے ہیں :’’ وَخَا تَمَ النَّبِیّینَ، یعنی اللہ نے آپؐ پر نبوت ختم کر دی ‘‘ (ص471۔ 472)
  13. علامہ ابنِ کثیراپنی مشہور و معروف تفسیر میں لکھتے ہیں :’’ پس یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور جب آپؐ کے بعد نبی کوئی نہیں تو رسول درجۂ اولیٰ نہیں ہے، کیوں کہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام، ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا….حضورؐ کے بعد جو شخص بھی اس مقام کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجّال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے خواہ وہ کیسے ہی خرق عادت اور شعبدے اور جادو اور طلسم اور کرشمے بنا کر لے آئے۔ یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے جو قیامت تک اس منصب کا مدعی ہو‘‘۔ (جلد3۔ ص493۔ 494)
  14. علامہ جلال الدین سُیُو طی تفسیر جلالین میں لکھتے ہیں :’’ اللہ اس بات کو جانتا ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور عیسیٰؑ جب نازل ہوں گے تو آپؐ کی شریعت ہی کے مطابق عمل کریں گے ‘‘۔ (ص 768)
  15. علامہ ابن نُجیم ُصُولِ فقہ کی مشہور کتاب الْاَشباہ والنظائر، کتاب السّیر، باب الرِّوَّہ میں لکھتے ہیں :’’ اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے، کیوں کہ یہ اُن باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ ‘‘ (ص179)
  16. ملّا علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں :’’ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالا جماع کفر ہے ‘‘۔ (ص 202)
  17. قتاویٰ علمگیری، جسے بارھویں صدی ہجری میں اورنگ زیب عالمگیر کے حکم سے ہندوستان کے بہت سے علماء نے مرتب کیا تھا، اس میں لکھا ہے :’’ اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے۔ اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا میں پیغمبر ہوں تو اس کی تکفیر کی جائے گی‘‘(جلد2، ص263)
  18. علامہ شَو کافّٰی اپنی تفسیر فتح القدیر میں لکھتے ہیں :’’ جمہور نے لفظ خاتِم کوت کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور نے زبر کے ساتھ۔ پہلی قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ نے انبیاء کو ختم کیا، یعنی سب کے آخر میں آئے۔ اور دوسری قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ ان کے لیے مہر کی طرح ہو گئے جس کے ذریعہ سے ان کا سلسلہ سر بمہر ہو گیا اور جس کے شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا‘‘(جلد 4، ص 275)
  19. علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں : ’’ نبی کا لفظ رسول کی بہ نسبت عام ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خاتم النبیین ہونے سے خود بخود لازم آتا ہے کہ آپؐ خاتم المرسلین بھی ہوں۔ اور آپؐ کے خاتِم انبیاء و رُسُل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دُنیا میں وصفِ نبوت سے آپؐ کے متصف ہونے کے بعد اب جِنّ و انس میں سے ہر ایک کے لیے نبوت کا وصف منقطع ہو گیا۔ ‘‘ (جلد 22۔ ص32)۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جو شخص وحی نبوت کا مدّعی ہوا ُسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ‘‘ (جلد22 ص 38)۔ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی بات ہے جسے کتاب ا للہ نے صاف صاف بیان کیا، سنّت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی، اور امت نے اس پر اجماع کیا۔ لہٰذا جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ ‘‘ (جلد 22 ص 39)

تحفظ ختم نبوت کے لیے قربانیاں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ وحیات میں اسلام کے تحفظ و حیات کے لیے جتنی بھی جنگیں لڑیں گئیں ، ان میں شہید ہونے والے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کی کل تعداد 259 ہے، جبکہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ ودفاع کے لئے مسلیمہ کذاب کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعین رحمتہ اللہ کی تعداد بارہ سو ہے جن میں 700 سات سو قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے۔

اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت وعظمت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے ۔
حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسلیمہ کذاب کے پاس بھیجا، مسلیمہ کذاب نے حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟

حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں، مسلیمہ نے کہا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسلیمہ) بھی اللہ کا رسول ہوں؟؟ حضرت حبیب بن ذید انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بہرا ہوں تیری یہ بات نہیں سن سکتا۔
مسلیمہ بار بار سوال کرتا رہا ،اور حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ یہی جواب دیتے رہے ۔
مسلیمہ آپ کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی’ کہ حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کہ ان کو شہید کردیا گیا۔

حضرت ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ جن کا نام عبدللہ بن ثوب رضی اللہ عنہ ہے اور یہ امت محمدیہ کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ نے آگ کواس طرح بے اثر فرما دیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنا دیا .

آپ یمن میں پیدا ہوئے تھے .اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ہی اسلام کے آئے تھے .لیکن ارکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کے جھوٹا دعوے دار اسود عنسی پیدا ہوا ،جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے پر مجبور کیا کرتا تھا ۔ اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی،

حضرت ابو مسلم رضی اللہ عنہ نے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو ؟؟؟ حضرت ابو مسلم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ہاں، اس پر اسود عنسی نے آگ دھکائی اور ابو مسلم لو اس خوفناک آگ میں ڈال دیا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر کر دیا اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے.

یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقاء کو اس پر ہیبت سی طاری ہو گئی اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلا وطن کر دو ، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیرووں کے ایمان میں تزلزل آجائے گا. چنانچہ انہیں یمن سے جلا وطن کر دیا گیا۔

یمن سے نکل کر آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے .حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب ان سے ملے تو فرمایا : شکر اللہ تعالیٰ کا کہ اس نے مجھے موت سے پہلے اس نے امت محمدیہ صلہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ اس شخص کی زیارت کرا دی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ اسلام جیسا معاملہ فرمایا”

نوٹ: ختم نبوت کے تمام پہلوں کا احاطہ کرنا انسان کے بس کے بات نہیں ہے۔ اس لیےاس تحریر میں اگر کوئی غلطی نظر آئے تو بندہ بشر سمجھتے ہوئے معاف کر دیجیے گا۔ اور اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

آخر میں یہی دعا ہے اللہ رب العزت ہم سب کو ختم نبوت کی سمجھ عطا فرمائے اور ہمارے ملک کو اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ فرمائے،آمین ثم آمین

2 comments

اپنی رائے کا اظہار کریں