انشورنس کیا ہے ؟ انشورنس کی شرعی حیثیت (حلال یا حرام)

انشورنس کی تعریف:

انشورنس (Insurance) انگریزی زبان کا لفظ ہے، انشورنس کو اردو میں بیمہ اور عربی میں تامین کہا جاتا ہے۔ انشورنس، بیمہ اور تامین کے معنی یقین دہانی کے ہیں۔

انشورنس (بیمہ پالیسی) کیا ہے

انشورنس فریقین کے درمیان ایک معاہدے کا نام ہے جس میں ایک فریق (انشورنس کمپنی) دوسرے فریق (انشورنس کرانے والا) کے نامعلوم نقصان (حادثے) کے واقع ہونے پر ایک مقررہ رقم ادا کرنے کا ذمہ لیتا ہے اور اس کے بدلے دوسرا فریق ایک مقررہ رقم اقساط (پریمیئم) کی شکل میں اس وقت تک ادا کرنے کا عہد کرتا ہے جب تک کہ وہ نامعلوم نقصان واقع نہ ہو جائے۔

اگر معاہدے کے اختتام تک نامعلوم نقصان یا حادثہ نہیں ہوتا تو انشورنس کمپنی انشورنس کروانے والے شخص کو اقساط کی صورت میں جمع کروائی گئی رقم کئی گنا منافع کے ساتھ واپس کرتی ہے۔

انشورنس کی ابتداء

1400ء میں اٹلی کے تاجروں میں سے ایک تاجر کا جہاز سمندر میں غرق ہوگیااور وہ انتہائی تنگ دست ہوگیا۔ دوسرے تاجروں نے اسکے ساتھ تعاون کیا اور اس کے لیے کچھ رقم اکٹھی کرکے اسے اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے۔

چونکہ ایسے حادثات کا آئندہ بھی امکان تھا‘ سو تاجروں نے ملکر یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ تمام تاجر ہر ماہ یا ہرسال جیسے بھی سہولت ہو ، ایک معین رقم ادا کر دیا کریں تاکہ اس فنڈ سے اس قسم کے حوادثات و خطرات کے نقصان کا کسی حدتک تدارک کیا جاسکے۔  یوں انشورنس کی ابتداء ہوئی۔

انشورنس کی اقسام

انشورنس کی بے شمار اقسام ہیں، تاہم مندرجہ ذیل مشہور اقسام ہیں۔

  1. زندگی کا بیمہ (لائف انشورنس)
  2. ہیلتھ انشورنس
  3. املاک کا بیمہ
  4. اعضاء کا بیمہ
  5. ذمہ داریوں کا بیمہ (مثلاً بچوں کی تعلیم اور شادی وغیرہ)
  6. قیمتی کاغذات اور اسناد کا بیمہ
  7. کار انشورنس

انشورنس کی شرحی حیثیت، انشورنس حلال یا حرام؟

انشورنس قرآن و حدیث کی روشنی میں:

انشورنس والے كہتے ہيں كہ اتنى رقم ادا كرو، اگر تمہارے ساتھ ايسا واقعہ ہوا تو ہم اتنى رقم ادا كرينگے، اور يہ بالكل جوا ہے۔ انشورنس میں چونکہ سود اور جوا دونوں پائے جاتے ہیں جو حرام قطعی ہیں، اس لیے انشورنس کروانا جائز نہیں۔ قرآن پاک کی سورۃ المائدہ آیت نمبر 90 تا 91 میں ہے کہ :

اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارے آپس ميں عدوات اور بغض پيدا كر دے اور تمہيں اللہ تعالى كى ياد اور نماز سے روك دے تو اب بھى باز آ جاؤ۔ (المآئدۃ)

ہماری بینکنگ اور انشورنس کا تقریباً تمام کاروبار سود پر چلتا ہے۔ سرکاری، نیم سرکاری یا نجی کمپنیاں، ادارے یا افراد لوگوں سے سرمایہ جمع کرتے ہیں۔سرمایہ جمع کرنے کی غرض سے یہ لوگ عوام کو انعام، بونس اور حادثات کی صورت میں بڑی بڑی رقوم کی ادائیگی کے وعدےکرتے ہیں۔

لوگوں سے سرمایہ جمع کر کے یہ رقم بڑے تاجروں اور کارخانہ داروں کو کاروبار کے لئے زیادہ شرح سود پرقرض دی جاتی ہے۔ وہاں سے اِن کو جو سود ملتا ہے اِس میں سے اپنے اخراجات بھی پورے کرتے ہیں اور باقی رقم سے کھاتے داروں کو بونس وغیرہ کے نام پر رقم ادا کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام کاروبار سود کے اصول پر قائم ہے اس لئے حرام ہے۔

اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ انشورنس کمپنیاں سود کا کاروبار نہیں کرتیں اور جائز اور حلال طریقے سے کاروبار کر کے پیسہ کماتی ہیں، پھر بھی یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کی تاریخ میں آج تک کبھی کسی انشورنس کمپنی کو کوئی نقصان ہی نہ ہوا ہو۔ کمپنی ہر حال میں منافع میں کیسے رہتی ہے۔

اس بات کو بھی چھوڑ دیں۔ انشورنس کے حرام ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہےکہ بغیر محنت کے بیٹھے بٹھائے آپ کی رقم چار سے پانچ گنا ہو جاتی ہے۔

سود اور انشورنس میں بس اتنا سا فرق ہے کہ سود دینے والا ایک ساتھ اکٹھی رقم دیتا ہے،  اور جب تک اسے وہ رقم واپس نہیں ملتی  وہ اس رقم پر سود وصول کرتا رہتا ہے۔ اور انشورنس میں بندہ اقساط میں کمپنی کو رقم قرض دیتا رہتا ہے۔ اور کمپنی آخر میں تمام اقساط کی رقم اور اس کا سود ملا کر آپ کو ایک ساتھ واپس کر دیتی ہے۔

اگر ابھی تک آپ حلال اور حرام کی تمیز میں پھنسے ہوئے ہیں، اور انشورنس کو اپنے معیار قرآن و حدیث کی روشنی میں پرکھنا چاہتے ہیں تو یہ حدیث پڑھ لیں۔

حضرت ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ یاد کیے: وہ چیز چھوڑ دے جو تجھے شک میں ڈال دے اور اس چیز کو اختیار کر جو تجھے شک وشبہ میں نہ ڈالے کیونکہ سچ اطمینان ہے اور جھوٹ شک اور بے چینی ہے۔ (ترمذی، نسائی ،سنن الدارمی)

اب اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں۔ آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ انشورنس جائز ہے یا کہ نہیں۔ جہاں تک انشورنس والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ انشورنس اس لئے ہوتی ہے کہ کل خدانخواستہ انسان کو کچھ ہو جائے یا اگر وہ وفات پا جائے تو اس کی اولاد کا کیا ہو گا۔

اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ اللہ پاک روزی دیتے والا ہے۔ سوچیں ایک باپ اپنی اولاد کی پرورش کر رہا ہے، اگر وہ نہیں رہا تو اُس کی اولاد کی پرورش کی ذمہ داری خدا خود اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔ تو کیا کوئی انسان خدا سے بہتر پرورش کر سکتا ہے؟

اسلام بناء ہی بنی نوح انسان کی بہتری کے لئے ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام سود اور جوائے جیسی سکمیوں کی اجازت دے کہ جن سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایسا شخص جس پر کوئی آفت آئی اور اسکا سارا مال نگل گئی تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے ، حتى کہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہو جائے۔ صحیح مسلم: 1044

اور انہیں غارمین کہہ کر اللہ تعالى نے زکوۃ کے مال میں ایسے لوگوں کا حق رکھا ہے (سورۃ التوبۃ: 60) اور صاحب حیثیت مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے ہر سال زکوۃ ادا کریں۔ اور اسی طرح نفلی صدقات کرنے پر بھی انہیں ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ اپنے مال میں سے صدقہ، زکوۃ، عشر اور فطرانہ وغیرہ کے علاوہ بھی اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔

یہ بھی پڑھیے : والدین کے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں

اور اسلام نے یہ پابندی نہیں رکھی کہ جو صدقہ دے گا۔ مصیبت میں صرف اسی کو ہی صدقہ دیا جائے گا۔ (جیسے انشورنس میں ہوتا ہے) بلکہ ہر وہ شخص جو اسلام قبول کرلے اگر وہ صدقہ کا مستحق بن گیا ہے تو اس پر صدقات حلال ہو جاتے ہیں۔

اسلام کے اس حسین نظام صدقات و زکوۃ کے مقابل قائم کیا جانے والا انشورنس کا نظام انتہائی بھیانک قسم کا ہے ۔ مختلف انشورنس کمپنیاں سادہ لوح عوام کو سبزباغ دکھا کر ملمع سازی کرتے ہوئے اپنے جال میں پھنساتی ہیں۔

انشورنس كى سب اقسام دھوكہ و فراڈ ہيں، اور بہت سى احاديث كى رو سے دھوكہ و فراڈ حرام ہے.

انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنا

انشورنس کمپنی میں جائز کام مثلاً دربان چوکیداری وغیرہ اور ہر وہ کام جس میں انشورنس کے حوالہ سے تعاون نہ پایا جائے اس کی ملازمت کرسکتے ہیں، یہ جائز ہے اگرچہ بہتر نہیں، انشورنس کمپنی میں وہ ملازمت جس میں انشورنس کے متعلق لکھائی پڑھائی کرنا پڑتی ہو، یا لوگوں کو انشورنس کروانے کی طرف ترغیب دینی ہو یا کسی اور گناہ میں تعاون کرنا پڑتا ہو، جائز نہیں۔

یہ بھی پڑھیے : بغیر سرمائے کے آن لائن کاروبار کرنے کے دو آسان طریقے

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالىٰ مجھے اور آپ كو دينى بصيرت سے نوازے، اور اللہ تعالیٰ كو راضى كرنے والے اعمال كرنے كى توفيق عطا فرمائے، آمین، ثمہ آمین

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کر دیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں