بلیک فرائیڈے کی حقیقت – کیا اسلام بلیک فرائی ڈے منانے کی اجازت دیتا ہے؟

یوں تو ہفتے کے ساتوں دنوں کا اپنا مقام و مرتبہ ہے لیکن تمام دنوں میں جو فضیلت جمعۃ المبارک کو حاصل ہے دیگر کسی دن کو حاصل نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے صرف جمعہ نہیں بلکہ جمعۃ المبارک کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک جمعۃ المبارک کا دن کسی عید کے دن سے کم نہیں ہوتا۔

ہمارے معاشرے میں بلیک ڈے اور یوم سیاہ کو سوگ کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔لہذا یہ لفظ کسی طور پر بھی جمعۃ المبارک کے شایان شان نہیں ہے ۔یہودیوں کا مقدس دن ہفتہ ہے وہ کسی بھی بنا پر ہفتہ کے دن کو بلیک ڈے نہیں کہیں گے۔

نصاری کا مقدس دن اتوار ہے وہ کسی بھی طور پر اس دن کو بلیک ڈے نہیں کہیں گےلیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض مسلمان جمعۃ المبارک کو بلیک ڈے کہتے ہوئے ذرہ سی بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔

بلیک ڈے کواردو میں سیاہ دن یعنی کالا دن کہا جاتا ہے۔اس طرح بلیک فرائیڈے سے مراد کالا جمعہ ہو گا۔ اب ایسے میں جو دن مسلمانوں کے لیے سب سے مبارک اور مقدس ہے اس کو بلیک ڈے (بلیک فرائیڈے)کہنا کسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔

بلیک فرائیڈے کی تاریخ

بلیک فرائیڈے Black Friday کا تہوار مغرب سے پوری دنیا میں پھیلا ہے۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق بلیک فرائیڈے کی اصطلاح پہلی بار 1980ءمیں امریکہ میں استعمال کی گئی ۔بلیک فرائیڈےنومبر کی چوتھی جمعرات کے بعد آنے والا جمعہ ہے۔ 2005ء سے یہ دن خریداری کے اعتبار سے سال کا سب سے مصروف ترین دن بنتا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے : بلیو وہیل گیم کیا ہے اور اس گیم کی وجہ سے لوگ خود کشی کیوں کر رہے  ہیں

بلیک فرائیڈے دراصل مسیحی تہوار کرسمس کی شاپنگ کے آغاز کا نام ہے، امریکہ و مغربی ممالک میں اس روز سے تمام دکاندار اور کاروباری حضرات اپنے شاپنگ مالز میں غیر معمولی ڈسکاؤنٹ پر سیل لگا دیتے ہیں۔

وہ چیز جو عام دنوں میں سو ڈالر کی فروخت ہوتی ہے، اس دن پچاس ڈالر یا اس سے بھی کم میں فروخت ہو رہی ہوتی ہے۔ اس تہوار کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ ہر خاص و عام کرسمس کی خوشیاں اپنی فیملی کا ساتھ منا سکے۔

بلیک فرائیڈے اور ہم

جمعۃ المبارک چونکہ ہمارامقدس مذہبی دن ہے۔ اس لیے جب اس دن کو بلیک فرائیڈے (کالا جمعہ) کہا جاتا ہے تو ہمارا ایمانی جذبہ بیدار ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں بلیک کا مطلب سیاہ تاریک، اندھیرے اور برائی کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس لیے ہم اس دن کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے بلیک فرائیڈے کے مدمقابل وائٹ فرائیڈے، برائٹ فرائیڈے وغیرہ کی اصطلاح استعمال کرنے لگتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی اپنا محاسبہ کیا ہے ؟ وہ لوگ دن کو ریڈ، وائیٹ یا بلیک بنا کر اپنی عوام کو سہولتیں دے رہے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ اپنے مذہبی تہواروں پر لوٹ مار کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آتا ہے تو ہم ہر چیز کی قیمت دوگنی سے بھی زائد کر دیتے ہیں۔

عید کے تہوار سے قبل جس سوٹ کی قیمت ایک ہزار روپے ہوتی ہےاس کی قیمت تین ہزار روپے کر دیتے ہیں۔ اور بڑی عید سے قبل جو جانور چالیس ہزار کا ہوتا ہے، عید کے موقع پر اس کی قیمت لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اگر بات یہاں تک ہوتی تو پھر بھی ٹھیک تھی ہم لوگ تو حج اور عمرہ پیکچ میں بھی ہزاروں ، لاکھوں ہڑپ کر جاتے ہیں۔

بلیک فرائیڈے پاکستان میں

گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں بھی بلیک فرائیڈے بڑے زور و شور سے منایا جانے لگا ہے۔ اس روز بڑے پیمانے پر ہر طرح کی مصنوعات کی سیل لگائی جاتی ہے اور گاہکوں کوخصوصی رعایت دی جاتی ہے۔تاہم پاکستان میں بلیک فرائیڈے کس طرح منایا جاتا ہے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

پاکستانی ایسی قوم ہیں کہ جو اپنے مذہبی تہواروں مثلاً رمضان، عیدین وغیرہ پر بھی لوٹ مار سے باز نہیں آتی ، تو آپ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ یہ لوگ دوسری اقوام کے تہواروں پر چیزیں سستی کریں گے۔

یہاں پر میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، پاکستان میں ایک چیز کی قیمت دو ہزار روپے ہے۔ اب اگر اس پر پچاس فیصد ڈسکاونٹ دیا جائے تو یہ چیز ایک ہزار میں ملے گی۔ مگر پاکستان میں بلیک فرائیڈے پر اس چیز کی قیمت پانچ ہزار ظاہر کی جاتی ہے۔ اور اس پر ساٹھ فیصد ڈسکاونٹ دے کردو ہزار روپے میں بیچ دی جاتی ہے۔

اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آپ اپنی پسندیدہ چیز کی قیمت بلیک فرائیڈے سے ایک ہفتہ قبل معلوم کر لیں۔ اور بلیک فرائیڈے پروہی چیز 70 سے 85 فیصد ڈسکاؤنٹ کے بعد بھی آپ کو اتنی ہی رقم میں ملے گے۔ جتنی ایک ہفتہ قبل میں بغیر ڈسکاؤنٹ کے مل رہی تھی۔

یاد رکھیں۔ بلیک فرائیڈے سے نہ تو ہمیں دنیاوی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی آخروی، اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم اس تہوار سے دور ہی رہیں ۔اور جمعۃ المبارک کو عبادت و ریاضت کا دن سمجھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دوروسلام پڑھیں اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسری اقوام کے دن منانے کے چکر میں (مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے) کل ہمیں ان ہی میں سے اٹھایا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں