کیا بے چاری عورت واقعی کمزوردل، نازک مزاج اور مظلوم ہستی  ہے۔۔؟؟

کہا جاتا ہے کہ عورت کے کئی روپ ہوتے ہیں۔ اور اس کے ہر روپ میں قدرت نے شفقت، محبت،نزاکت اور فراست کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ایثاروچارہ گری اس کی فطرت میں رکھی گئی ہے اور اس کے وجود کو عظمت و بلندی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

لیکن جب اس صنف کا کوئی پیکر کردار کی بلندیوں سے پستیوں کی جانب گامزن ہو جاتا ہے اور اس کے نرم و نازک ہونٹوں سے پھولوں کی بجائےانگارے برستے لگتے ہیں، تو پھر وہ عورت،عورت  نہیں رہتی، بلکہ عفریت کا روپ دھار کر اپنے ہی گھر کی خوشیاں ، سکھ اور سلامتی کو نگل لیتی ہے۔

آج ہم معاشرے کے اکثر گھروں کے آنگن میں بے سکونی، بدامنی، نفرت، حسد اور ماحول میں ہمہ وقت ایک تناؤ دیکھتے ہیں، جس کا بڑا سبب ہماری کچھ خواتین کی زہر اگلتی باتیں ہیں، جو دلوں کے شفاف آئینوں پر بدگمانی اور بداعتمادی کے جال بن کر انہیں بدنما اور داغدار بنا دیتی ہیں۔ جب اعتبار کے رشتوں میں دراڑیں پڑ جائیں تو زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ اس قسم کے تمام شر انگیز اعمال میں بہت سی خواتین کوتو اتنی مہارت حاصل ہو جاتی ہے کہ ان کا کوئی تیر خالی نہیں جاتا، بلکہ ٹھیک نشانے پر ہی لگتا ہے۔

آپ کو ایسی کئی خواتین اپنے اردگرد مل جائیں گی، جن کی تلخ کلامی ، طنزیہ جملے، ہتک آمیز رویے ، اپنوں اور پرایوں کو مسلسل اذیت کی سولی پر لٹکائے رکھتے ہیں۔ کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا کہ ہونٹوں کے اندر بند رہنے والی زبان جب خاموشی کو توڑتی ہے تو کئی انقلابات جنم لے لیتے ہیں۔ لہجے میں شیرینی ہو تو دلوں کے ایوان سج جاتے ہیں۔لیکن جب یہی لہجہ زہر افشانی پر اتر آئے تو محبت کے پھولوں سے مہکتے گھر کے آنگنوں میں کانٹوں کی فصل اگنے لگتی ہے۔

یہ ایک عام رائے ہے کہ عورت دنیا بھر میں مظلوم ہے۔شاید اسی خیال کا نتیجہ ہے کہ کسی بھی جریدے، رسالے اور میگزین کا اٹھا کر دیکھ لیں۔آپ کو ہر طرف عورت بےچاری، مظلوم، کمزور، نازک  اور پرلے درجے کی مخلوق  نظر آئی گی۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ یہ الزامات درست سہی، مگر اس سے قطع نظر، کبھی تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی کوشش بھی کیجیے کہ خواتین کیوں اس قدر معتوب ٹھہرتی ہیں۔

عورت جہاں مظلوم ہے وہاں ان کی بہت بڑی تعداد کا شمار ظالموں میں کیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ غیر جانبدار ہو کر تجزیہ کیا جائے تو واضح ہو جائے  گا کہ اکثر خواتین میں کچھ ایسی برائیاں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے  وہ  نا  صرف اپنے پیر پر کلہاڑی مارتی ہیں۔ بلکہ براہ راست گھر، خاندان اور بالواسطہ طور پر معاشرے پر بھی  ظلم کی مرتکب ہوتی ہیں۔

یوں تو عورت کا ہر روپ پیارا ہے، مگر انسان ہونے کے ناتے اس میں حسد، غیبت، زبان درازی اور چغل خوری ایسی بری عادتیں ہیں، جو اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد کر رہی ہیں۔

عورت میں غیبت کی عادت

اکثر خواتین مشغلے کے طور پر دوسروں کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں۔ تانکا جھانکی کرتی ہیں۔ کسی کی کوئی خامی یا کمزوری پتہ لگتی ہے تو اسے زمانے بھر کے سامنے لانے کیلئے برقرار ہو جاتی ہیں۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ جہاں چار خواتین مل بیٹھتی ہیں، وہاں پر موجود نہ ہونے والے افراد کی شامت آ جاتی ہے۔ دل کی بھڑاس نکالنے  کی آڑ میں بے آبروئی اور زبان کے چسکے کا وہ لامتنائی سلسلہ چل نکلتا ہے، جو اکثر اوقات فساد پر ہی ختم ہوتا ہے۔

غیبت کسی دوسرے کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنے کا نام ہے۔قرآن پاک میں غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ایک بزرگ کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنی غیبت کرنے والے شخص کو کھجوروں کا تحفہ بھیجا کرتے تھے۔ ان سے پوچھا تو فرمانے لگے۔ "غیبت کرنے والا مجھے اپنی نیکیاں بھیجتا ہے تو میں جواباً ہدیہ بھیجتا ہوں۔”

حسد و رقابت میں مبتلا عورت

بہت سے خواتین حسد و رقابت میں مبتلا ہو کر دوسروں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی بڑی تعداد اس مرض میں مبتلا نظر آتی ہے۔ایسی خواتین دوسروں کو پھلتے پھولتے اور آگے بڑھتے دیکھ کر جل بھن جاتی ہیں۔ کوئی خوشحال ہو،  کسی کے گھر میں خوشیوں کی بارات اتری ہو، کوئی خوش شکل ہو، خوش لباس ہو، ذہین ہو یا کوئی اپنے حلقہ احباب میں مقبول ہو تو  خالی برتن کی طرح کھڑکنے والی ایسی خواتین سے یہ بالکل برداشت نہیں ہوتا۔

حسد کی آگ میں جلتا ان کا وجود اپنی ہی صنف کی نیک نامی اور شرافت کی دھجیاں بکھیرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے۔حسد و  رقابت کا یہ جذبہ ہمیں گھر، پڑوس، خاندان اور معاشرے ، ہر جگہ نمایاں نظر آتا ہے۔

طنزیہ جملوں کا استعمال:

ایسی خواتین کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ لوگوں کو اپنے مذاق کا نشانہ بناتی ہیں اور اپنے طنزیہ چبھتے ہوئے جملوں سے ان کے دلوں پر نشتر لگاتی ہیں۔ کسی کی شادی ہونے میں تاخیر ہو رہی ہو یا بدقسمتی سے طلاق ہو گئی ہو، کسی میں کوئی جسمانی نقص ہو، کسی کا رنگ گہرا سانوالا ہو، کسی کا قد چھوٹا ہو یا کوئی معمول سے زیادہ لمبا ہو، ان کی تنقید و تضحیک کا نشانہ بننے سے بچ نہیں سکتا۔

وہ ہر آئے گئے کے سامنے ان کی محرومیوں کا تماشہ بنا کرایک عجیب سی  خوشی محسوس کرتی ہیں۔اور انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کی طزیہ باتوں سے دوسروں کی عزت نفس اور خودداری کتنی بری طرح مجروح ہوتی ہو گی۔

حسد میں مبتلا عورت کی شناخت

ایسی خواتین کی شناخت بالکل بھی مشکل نہیں ہوتی کیونکہ ان کے چہرے نور سے محروم اور تازگی و شادابی سے عاری ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک طنزیہ چمک ہلکورے لیتی رہتی ہے، ان کے ہونٹ سختی سے بھنچے رہتے ہیں اور اپنی فطرت کی وجہ سے یہ سکون و اطمیان کی نعمت سے محروم دوسروں کی خوشیوں پر ہمیشہ مضطرب ہی نظر آتی ہیں۔

حسد میں مبتلا عورت کی مثال

حسد میں مبتلا  خواتین  کی مثال اس خود غرض باغبان جیسی ہوتی ہے،جو گلستان میں کھلے حسین پھولوں سے لوگوں کو دور رکھنے کیلئے مشہور کر دیتا ہے کہ ان پودوں میں  کانٹے اس قدر زہریلے ہیں کہ اگر کوئی انہیں چھوئے  گا تو اپنی جان سے ہاتھ دو بیٹھے گا۔ ان کا یہ حربہ اس قدر کامیاب  ہوتا کہ کہ لوگ خوفزدہ ہو کر ان پھولوں کے قریب جانا تو درکنار ان کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔غیبت کی طرح حسد بھی سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے :

تم حسد سے بچو، حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے، جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔(ابی داؤد)

عورت میں چغل خوری کی لت:

چغل خوری ایک گناہ عظیم اور شیطانی وصف ہے۔ حدیث شریف ہے کہ :

چغل خور جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔(بخاری، مسلم)

چغل خوری گناہ ہونے کے باوجود ہمارے ہاں بہت سی خواتین اس میں بڑے ذوق و شوق سے ملوث ہیں۔ چغل خوریوں کی وجہ سے ایک ہنستا بستا گھر فساد کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔چغل خوری کی وجہ سے رشتوں میں دھڑار پڑ جاتی ہے۔

عورت میں ناشکراپن

شکر ایک ایسا وصف ہے، جس پر قرآن و حدیث میں نعمتوں کی زیادتی کا وعدہ فرمایا گیا ہے، مگر بہت سے عورتوں کو حالات کا رونا رونے کی ایسی بری عادت پڑ جاتی ہے کہ ہمیشہ اور ہر وقت شکوہ کناں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ خصوصاً مہنگائی ، آمدنی ، محبت اور گھریلو مسائل کی آڑ لے کر ایسی عورتیں اپنے شوہروں کا جینا دو بھر کر دیتی ہیں۔

ناشکرے پن سے نجات

ایسی خواتین کیلئے مناسب ہے کہ وہ حرض دنیا چھوڑ دیں۔ اور ہمیشہ ان لوگوں کو دیکھیں، جو دنیا میں آپ سے کم تر ہیں۔ ایسی خواتین اگر زیادہ خوشحال خواتین پر نظر رکھیں گی تو دوسرے کی تھالی میں لڈو ہمیشہ بڑا نظر آنے کی وجہ سے پریشان ہی رہیں گی۔اس لیے  خود بھی خوش رہیں اور اپنے اہل خانہ کو بھی خوش رہنے دیں۔اور جہاں تک ہو سکے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر صابر و شاکر رہیں۔

بدزبان عورت

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ تکلیف دہ اور دوسروں کی عزت نفس کو مجروح کرنے والے الفاظ کے وار سے روح پر جو گھاؤ لگتے ہیں وہ کبھی مندیل نہیں ہو پاتے بلکہ کسی ناسور کی طرح عمر بھر  رستے ہی رہتے ہیں۔

یاد رکھیں! کڑوی باتیں کہہ کر الفاظ کے نشتر چلا کر یا طعنے دینے سے نہ ہم معاشرے میں کوئی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی خود عزت و تکریم پا سکتے ہیں۔ دنیا میں زیادہ تر فسادات زبان کی بے احتیاطی اور بے باکی سے جنم لیتے ہیں اور جتنا نقصان زبان پہنچاتی ہے ، کوئی اور نہیں پہنچا سکتا۔

بدزبان خواتین کو چائیے کہ وہ اس بات کا یقین کر لیں کہ وہ آج جو کچھ بو رہی ہیں کل وہی کاٹیں گی۔ آج اگر وہ اتنی بااختیار ہیں کہ وہ اپنی زبان کی جنبش سے جسے چاہیں رلا دیں۔ اور جسے چاہیں ہنسا دیں، تو کل جب یہ اختیار کسی اور کو مل جائے گا اور وہ کم مایہ اور بے حیثیت ہو جائیں گی تو تب کیا وہ مکافات عمل سے بچ سکیں گی۔

یہی زبان ہے جو آپ کو تخت پر بھی بٹھا سکتی ہے اور تختہ دار پر بھی۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ کون سی مسند پسند کرتی ہیں۔

ہمیشہ پہلے تولو پھر بولو کا اصول اپنائیں۔ یہ زبان جو گوشت کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے، ہنستے بستے گھر اجاڑ دیتا ہے، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اس کا استعمال کیسے کرتی ہیں۔

اگر آپ کو یہ پوسٹ اچھی لگی ہے تو اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا نہ بھولیں ، شاہد آپ کی وجہ سے کسی اور کی بہتری ہو جائے، اگر اس پوسٹ سے متعلقہ کا کوئی بھی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی ، یا آپ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو بلاجھجک  کمنٹس میں پوچھ سکتے ہیں ، آپ كے ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ شکریہ

اپنی رائے کا اظہار کریں