انسان میں صرف پانچ حسیں نہیں ہوتیں | جانیے انسان میں کتنی حسیں ہوتی ہیں

یہ تصور غلط ہے کہ انسان میں صرف پانچ حسیں ہوتی ہیں،انسانی وجود جسم اورروح  پر مشتمل ہے ، انسان اپنی زندگی کے معاملات پانچ ظاہری حواس کی مدد سے طے کرتا ہے۔جنہیں ظاہری حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ جو یہ ہیں۔

  • باصرہ: باصرہ کا کام دیکھنا ہے۔
  • سامعہ: سامعہ کا کام سننا ہے۔
  • لامسہ: لامسہ کا کام کسی چیز کو چھو کر محسوس کرنا ہے۔
  • ذائقہ: اس کا کام چکھ کر ذائقہ معلوم کرنا ہے۔
  • شامہ: شامہ کا کام سونگھنا ہے۔

دیکھنا، سونگھنا، چکھنا، سننا اور چھونا تو بس آغاز ہے۔ انسانی وجود صرف ان پانچ حواس کا حامل نہیں ہو سکتا، بلکہ انسانی وجود روحانی یا باطنی حواس کا حامل بھی ہے۔انسان میں پانچ باطنی حسیں ہوتی ہیں ، جنہیں باطنی حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ جو یہ ہے۔

1واہمہ 2مصورہ 3متخیلہ 4حافظہ 5حس مشترک۔

وہم کا کام یہ ہے کہ وہ کسی تصور اور خیال دونوں چیزوں کو ملا کر تیسری چیز کو وجود میں لے آئے۔ مثلاً آپ نے ندی  بھی دیکھی ہے، اور دریا بھی، ان دونوں چیزوں کا خیال تصور کی شکل میں حافظے کے اندر موجود ہے۔تصور کا تعلق حس مصورہ سے ہے، خیال کا حسن متخیلہ سے، واہمے کی کارگزاری یہ ہوگی کہ وہ ندی  اوردریا (دونوں الگ الگ چیز یں ہیں) کے خیال اور تصور کو (کہ حافظے میں موجود ہیں) جوڑ کر ’’سمندر‘‘ کا تصور پیدا کر دے۔ حس مشترک وہ حس ہے جو مختلف حواس کے عمل میں رابطہ پیدا کرتی ہے۔

ظاہری اور باطنی دس حسیوں کے علاوہ انسان میں ایک گیارویں حس بھی ہوتی ہیں ، جسے لوگ چھٹی حس کے نام سے جانتے  ہیں۔اس گیارہویں حس کے ذریعے ہم ایسی چیزوں کو معلوم کرتے ہیں جوان حواس کی سطح سے بلند ہیں۔

چھٹی حس کو ادراک ماورائے حواس Extra Sensory Perception بھی کہتے ہیں، مثلاً کچھ لوگوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی سے بات کریں تو پہلے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کیا جواب ملے گا، یا کسی کام کی ابتدا میں ہی انجام بھانپ لیتے ہیں۔

چھٹی حس

اس حس کے ذریعے انسان کو ایسی بات کا علم ہو جاتا ہے  جو بظاہر وہاں موجود ہی نہیں ہوتی، مثال کے طور پہ کسی کو محسوس ہونے لگے کہ محفل میں بیٹھے فلاں شخص نے دوسرے کی جیب سے کوئی چیز نکال لی ہے۔ یا کسی کو اچانک محسوس ہونے لگے کہ کوئی گڑبڑ ہے، یا کوئی مجھے نقصان پہنچانے والا ہے، بعض لوگ اس حس کا تعلق مذہب سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، بعض تو اسے اندرونی کشف اور الہام تک کہتے ہیں ۔

چھٹی حس کے ذریعے ایسے حقائق کا پتا چلا جاتا ہے جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتے۔مثلا کیا ہونے والا ہے، کس شخص سے نفع حاصل ہو گا اور کون دھوکہ دے گا۔ Guess اور فراست کا تعلق بھی چھٹی حس سے ہے، Guess کے ذریعے ہم کسی انسان کے اخلاق و کردار اور سرشت و مزاج کا اندازہ لگا لیتے ہیں، یا بعض واقعات کے بارے میں قبل از وقت ایسی پیش گوئیاں کردیتے ہیں جو آگے چل کر ہو بہو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔

فراست کا تعلق عقل اور تجربے سے ہے، جتنا زیادہ تجربہ ہوتا جائے گا انسان میں اتنی فراست آتی جائے گی۔عقل ہر کام کے لیے دلیل مہیا کرتی اور پھر اس دلیل سے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے، جب عقل متواتر دلیل اور نتیجے کی اس منطق کو استعمال کرتی رہتی ہے تو رفتہ رفتہ فراست کا پنچھی بیدار ہوجاتا ہے، یعنی انسان بغیر دلیل کے صحیح نتیجے تک پہنچ جاتا ہے۔

فراست کا اعلیٰ درجہ وجدان ہے۔وجدان کی قوت عظیم الشان قوت ہے۔ ہمارے اندر بہت سی قوتیں ہیں۔ سوچنے کی قوت، انتخاب کرنے کی قوت، فیصلہ کرنے کی قوت۔ یہ ساری قوتیں شعور کے تحت ہیں۔ یہ شعور ہی تو ہے جس کے بل بوتے پر ہم کسی چیز کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کسی معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو چیزوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کرتے ہیں۔ مثلاً مجھے یہ کام کرنا چاہیے یا نہ کرنا چاہیے اور جب سوچنے سمجھنے کے بعد کسی کام کا انتخاب کر لیتے ہیں تو فیصلہ کر گزرتے ہیں۔ یہ سارے کام جان بوجھ کر دیکھ بھال کر اور سوچ سمجھ کر کیے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اندر سے خودبخود ایک خیال ابھرتا ہے اور ہم اس خیال کی درستی اور نادرستی کا عقلی فیصلہ کیے بغیر اس خیال کو عملی جامہ پہنا دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک اجنبی شخص ہمیں ملتا ہے اور ہم ایک ہی نظر میں اسے پسند کرکے اپنا رازدار بنا لیتے ہیں، یا ایک معالج کسی مریض کو دیکھ کر بغیر کسی ظاہری وجہ کے چند دواؤں میں سے ایک دوا چن لیتا ہے اور دوا مریض کے حق میں اکسیر ثابت ہوتی ہے، یا ہمارے ذہن میں یکایک یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں قدم اٹھانا چاہیے، بظاہر وہ قدم خطرناک ہوتا ہے، مگر نتیجے میں کامیابی ہوتی ہے۔

طوفان آنے سے کئی دن پہلے چیونٹیاں محفوظ مقامات پر چلی جاتی ہیں۔ ان کا یہ نقل مکانی وجدانی عمل کی حیثیت رکھتا ہے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ طوفان سے قبل چیونٹیاں ہوا سے طوفان کی خوشبو سونگھ لیتی ہوں گی، اس لیے اپنے بل اور سوراخ چھوڑ کر محفوظ پناہ گاہوں میں چلی جاتی ہیں۔

مزید حسیں

ان گیارہ حسوں کے علاوہ بھی انسان میں بہت سی حسیں ہوتی ہیں۔ توازن، درجہ حرارت اور وقت کا احساس بھی انسانی حسوں کا حصہ ہیں۔ اسی طرح درد کا احساس اور جسم کا وہ شعور جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کن چیزوں پر چلنا چاہئے اور کن پر نہیں۔ مذید حسوں کے نام یہ ہیں:

  • نوسیسپشن: درد محسوس کرنے کی صلاحیت.
  • تھررموسپشن: درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کرنے کی صلاحیت.
  • پروپریسپشن: جسم میں موجود جوڑوں کے جسم سے تعلق کو محسوس کرنے کی صلاحیت.
  • ایکیولبریسپشن: توازن کا احساس، وقت کا احساس

یہ مضمون آپ رومن اردو میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔

درج بالا حسوں کے علاوہ بھی بہت سے حسیں ہوتی ہیں، اس لیے صرف یہ کہنا کہ انسان میں پانچ حسیں ہوتی ہیں بالکل غلط ہے۔اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔

آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ تاہم اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا (فیس بک، ٹیوئٹر، وغیرہ )پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

2 comments

  1. Insan ke sochne ki quwwat yani aqal ka jitna control khud uski zaat par hota hai utna hi na sahi kya kuch control dusri cheezon par hota hai
    Jaisa k jab ham haath hilaate h to pehle aql ka control hita hai yani aqal ke iraade se fauran haath hiljata hai to kya insaan ki aqal ke iraade se koi dusri cheez bhi hil sakti hai jaisa k ham sochen darwazah khuljaye to wi khud ba khud sirf hamaare khyaal ki quwwat par khul jaye
    ME JAADU KI BAAT NAHI KR R HU

    1. سب کچھ ممکن ہے۔ پر اس کے لئے انسان کو ٹیلی پیتھلی ، ہپناٹزم ، مراقبہ اور وجدان میں کمالات حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ہر علوم ایک خاص فیلڈ سے متعلقہ ہے۔
      جادو وغیرہ تو محض دھوکہ ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں