وفاقی حکومت کا تنخواہوں ، پنشنوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت نے اپنے آخری بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 سے 20 فیصد ایڈہاک ریلیف بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ریٹائرڈ ہونے والے پنشنر حضرات کی پنشن میں 20 سے 25 فی صد اضافہ متوقع ہے کیونکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پنشنرز کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

حکومت وفاقی بجٹ 19-2018 میں سرکاری ملازمین کے ہاؤس رینٹ الاؤنس کو بھی بڑھائے گی جوکہ پے سکیل 2008ء میں فریز کیا گیا تھا ۔اس سال حکومت انتخابات کی وجہ سے وفاقی بجٹ 27 اپریل 2018 کو پیش کرے گی۔

وزیراعظم نے پچھلے سال دسمبر میں ہاؤس رینٹ اور رینٹل سیلنگ میں پچاس فیصد اضافے کی منظوری دی تھی مگر چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس پرعمل دارآمد نہیں کیا گیا تاہم اس پر ابھی عمل دارآمد کیا جائے گا تاکہ سرکاری ملازمین کا ووٹ حاصل کیا جاسکے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ میڈیکل الاؤنس میں بھی 20 فیصد اضافہ کیا جا ئے گا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارت خزانہ کو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور الاؤنسز بڑھانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آئندہ مالی سال 19-2018 کا وفاقی بجٹ 27 اپریل کو مفتاح اسماعیل پیش کریں گے۔

اسی ضمن میں سرکاری ملازمینوں کی بہت سی تنظیموں نے تنخواہیں اور الاؤنسز بڑھانے کی تجویزیں بھی حکومت کو پیش کی ہیں جبکہ ان تجاویز کے ساتھ ساتھ یوٹیلٹی الاؤنس ،ایجوکیشن الاؤنسز وغیر ہ بھی شامل ہیں تاہم بجٹ اجلاسوں میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن ممکن ہے کہ حکومت سینئر افسران کے انٹرٹینمنٹ الاؤنس میں اضافہ کرے۔ 

سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ سے متعلقہ یہ تحریر آپ کو کسی لگی ہے۔ آپ اپنا جواب کمنٹس میں لکھ سکتے ہیں۔ اور اس تحریر کو فیس بک اور واٹس اپ پر شیئر بھی کر سکتے ہیں۔

7 comments

  1. aoa
    jis tara government k teachers ap k bachon ko tehzeeb o tamaddn sy aashna krty hain usi tara madaris k b to ustad hain. comparatively agr daikha jae to religious teachers ki to responsibility ziada hy..school teachers ki chutti 2 bjy, deeni usaatza ki raat 10 bjy tk…………agar janibdaari ki bjae imandaari sy socha jae or mdaaris ko b apny is faisly main shamil kia jae. main deegar hzraat ki tawaju b is janib mbzool krwana chahti hun. plzzzzzzz apny deen ko itna peechy mt chorain .ap ki himayat ki talabgaar. hun

    1. وعلیکم السلام
      آپ نے بہت اچھے مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے۔ لیکن یاد رکھیئے، ہمارا ملک تو اسلام کے نام پر بنا تھا۔ لیکن آج تک نہ تو اسلامی قوانین نہیں بنائے جاسکے ہیں اور نہ ہی دین کی خدمت کرنے والوں کے لیے مراعات و پیکج موجود ہیں۔ جبکہ دیگر اسلامی ممالک میں ایسے حضرات کو نہ صرف عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ ان کے لیے حکومت کی جانب سے بہت اچھے مراعات و پیکچز ہوتے ہیں۔ اللہ پاک آپ کو جزائے خیر دے۔ اور ہمارے حکمرانوں کو عقل و شعور عطا فرمائے، آمین

  2. hm kb tk apny hukmranon k by hissi py youn hi tnqeed krty rahain gy.kia un tk mairi apeel pohnchny ka koi zirya nai?jb tk un ki tawajo is msly ki taraf mbzool ni krwae jae gi unain kaisy yaad aye ga?sochain zra

    1. آپ اپنی سی کوشش جاری رکھیں۔ اردے نیک اور جذبہ پرخلوص ہو تو جلدی منزل مل ہی جاتی ہے۔
      آخر کسی نہ کسی کو تو پہلا قدم اٹھانا ہی ہوتا ہے، آپ اس کام کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے سکتی ہے۔

  3. aoa
    jesa k ap sub jante hen k 2017 men wufaqi idaroon ke mulazmeen ne strike ke the contract oor daily wages k lye kya un ko coonform kya jae ga is Muslim legue (N) ke final buget men ?????

    1. وعلیکم السلام
      بالکل نہیں، کیونکہ اگلا بجٹ یکم جولائی 2018 سے نافذالعمل ہو گا۔ اور یہ حکومت اس سے قبل ختم ہو جائے گی۔ تاہم یہ حکومت ہوائی اعلان کر سکتی ہے۔ جیسے کہ ابھی ابھی حکومت نے ٹیکس کی شرح میں چھوٹ چار لاکھ سے بڑھا کر بارہ لاکھ کی ہے۔ یہ بھی نہیں ہو سکتی۔

  4. AOA
    bilkul thek mgr gareeb employee jo aaj b ek umeed pe bethe hen k 19.04.2018 ko parliament ke samne ehtjaj se kuch bune ga un bicharon ka kuch khayal nahi in syasutdanoon ko

اپنی رائے کا اظہار کریں