آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 27 اپریل 2018 کو پیش کیا جائے گا۔ مفتاح اسماعیل

حکومت نے نئے مال سال 19-2018 کا بجٹ وقت سے پہلے لانے کا اعلان کردیا، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ فیڈرل بجٹ 27 اپریل 2018 کو پیش کیا جائے گا، چونکہ حکومت کی مدت 31 مئی کو ختم ہورہی ہے۔ اس لیے موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ وفاقی بجٹ جلد سے جلد پیش کر کے اپنے ہی دور حکومت میں منظور کروا لیا جائے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری حکومت کی مدت 31 مئی 2018 کو ختم ہو جائے گی، اس لئے بجٹ 27 اپریل 2018 کو پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 اپریل 2018 کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے پارلیمنٹ سے پاس کرایا جاسکے جبکہ صوبائی حکومتوں کو بھی بجٹ پیش کرنے کیلئے اچھا خاصا وقت مل جائے گا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے : اپنی پنشن اور کمیوٹ کا حساب خود کرنا

واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنسز کے باعث انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے آئندہ مالی سال 2018-2019 کا بجٹ مفتاح اسماعیل پیش کریں گے۔ چونکہ یہ ن لیگ کا آخری بجٹ ہے اس لیے امید کی جا رہی ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے گا اور ٹیکس کی شرح میں مزید اضافہ نہیں ہو گا۔

اطلاعات ہیں کہ سرکاری ملازمین کو اس بجٹ میں خاطر خواہ ریلیف دیا جائے گا۔ اور ان کی تنخواہ میں پندرہ 15 سے بیس 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ جبکہ ہاؤس رینٹ الاؤنس، میڈیکل الاؤنس اور کمپیوٹر الاؤنس میں اضافے کی اطلاعات بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں خاطر خواہ اضافے کا فیصلہ

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے فیس بک اور واٹس اپ پہ شیئر کر سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں