بٹ کوائن کیا ہے۔ بٹ کوائن ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کی حقیقت

بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔جس کا وجود صرف انٹرنیٹ تک محدود ہوتا ہے۔اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں ہوتا۔ بٹ کوائن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہوتی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے خود بھی بنا سکتے ہیں۔

بٹ کوائن Bitcoin کرنسی کے پیچھے نہ تو کوئی طاقتور ادارہ ہے اور نہ ہی کوئی مرکزی بینک وغیرہ، اور نہ ہی اب تک کسی حکومت نے اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بٹ کوائن دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ اور دنیا میں بہت سی جگہوں پر یہ استعمال میں لائی جارہی ہے۔

بٹ کوائن ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کو کوئی بھی شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے۔ اِس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پیئر ٹو پیئر پیمنٹ نیٹورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے۔

بٹ کوائن کا آغاز 2009ء میں ستوشی ناکاماتو Satoshi Nakamoto نے کیا۔ بٹ کوائن کو کرپٹوکرنسی کہتے ہیں کیونکہ یہ پبلک کی کرپٹوگرافی کے اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ کرنسی حسابی عمل لوگرتھم کی بنیاد پر کام کرتی ہے،جس کے لئے کمپیوٹر کو انٹر نیٹ سے منسلک کر کے، کمپیوٹر کے پروسیسر سے کام لیا جاتا ہے۔

جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا طاقتور ہوتا ہے، اتنی جلد وہ حسابی عمل لوگرتھم کا سوال حل کرکے بٹ کوائن بناتا ہے۔ دنیا میں صرف 21 ملین بٹ کوائن بنائے جائیں گے۔ اس وقت تک پندرہ ملین بٹ کوائن بنائے جا چکے ہیں۔ اس سے زیادہ بٹ کوائن کرانسی نہیں بن سکتی۔ بٹ کوائن ایک پونزی اسکیم ہے، پونزی اسکیم کی مکمل تفصیل آپ اس تحریر کے آخر میں پڑھ سکتے ہیں۔

 ڈیجیٹل کرنسی کیا ہے؟

ڈیجیٹل کرنسی کا آغاز انیس سو نوے کےعشرے میں ہوا تھا۔ ڈیجیٹل کرنسی انٹرنیٹ پر مخصوص بروں کو ایک فارمیٹ میں لا کر بنائی جاتی ہے۔ ظاہری طور پر اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور اس کے لین دین کو ایک مخصوص سرور جسے ڈیجیٹل کرنسی کی دنیا میں بلاک چین (اکاونٹ) کے نام سے جانا جاتا ہے، میں محفوظ رکھاجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے : بغیر انویسٹمنٹ کے کاروبار کرنے کے دو آسان طریقے

ڈیجیٹل کرنسی بغیر کسی حکومتی مداخلت اور ریگولیٹر کے کام کرتی ہے جس کی قدر طلب اور رسد کے اصول کے مطابق کم اور زیادہ ہوتی ہے۔ حکومتی مداخلت نہ ہونے اور ریگولیٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے ڈیجیٹل کرنسی مصنوعی طور پر کم اور زیادہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے نقصان کا خدشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

کرپٹو کرنسی کیا ہے؟

بٹ کوائن کو ایک کرپٹو کرنسی Cryptocurrency سمجھاجاتا ہے ۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کرنسی بنیادی طور رازداری کے اصولوں کو ملحوظ رکھتی ہے ۔چونکہ بٹ کوائن ایک آزاد مصدر کرنسی ہے اس لیے اس کی نقل اور اس میں کچھ اصطلاحات کرکے دوسری نئی کرنسی بنائی جاسکتی ہے۔

اس وقت تمام موجود کرپٹو کرنسیاں بٹ کوائن کی طرح ہی کام کرتی ہیں ۔اس وقت انٹرنیٹ پر 60 کرپٹو کرنسیاں موجود ہیں۔ جن میں سے چند ایک کرپٹو کرنسیاں یہ ہیں۔ لائٹ کوائن پئیر کوائن ، فیدر کوائن ،ورلڈ کوائن ، مون کوائن ، ڈیجیٹل کوائن وغیرہ

Bitcoin, Ethereum, Ethereum Classic, Augur, Dash, Litecoin, Monero, NXT, Ripple, Stellar Lumens, Zcash

بٹ کوائن کرنسی کے کرپٹو گرافی ہونے کی وجہ سے اس کے مالکان اور صارفین کا پتہ لگانا خاصا مشکل ہے ، اس وجہ سے اس کا غیر قانونی استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ۔چین میں یوان کے ساتھ بٹ کوائن کی فروخت پر پابندی ہےنیز بٹ کوائن منڈیاں ( Exchanges ) کے لیے بینک اکاؤنٹ رکھنے کی اجازت نہیں ۔

کریپٹو کرنسی مائنگ

ڈیجیٹل کرنسی بنانے کو کرپٹو کرنسی مائنگ کہتے ہیں۔ بٹ کوائنز کمپیوٹر کے ذریعے حسابات سے پیدا کئے جاتے ہیں جس کو Mining کہتے ہیں اور یہ کام Miners انجام دیتے ہیں۔ کریپٹو کرنسی مائنگ کی اصطلاح اس کام کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کی بدولت ہمارا کمپیوٹر کسی کریپٹو کرنسی کو کھود نکلتا ہے ۔ کرپٹو کرنسی حسابی عمل لوگرتھم کی بنیاد پر کام کرتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے : کامیابی کیا ہے اور کیسے حاصل ہوتی ہے

لوگرتھم کے ایک مشکل سوال کوحل کرنے کے لیے ہم اپنے کمپیوٹر کو کسی ایک پول سے منسلک کردیتے ہیں، جہاں ہمارے کمپیوٹر جیسے ہزار ہا کمپیوٹر اس کام کو کرنے میں جتے ہوتے ہیں۔ اور جیسے ہی ایک بلاک حل ہوتا ہے تو اس سے برآمد ہونے والی کرنسی کو ان تمام کمپیوٹر ز میں ان کی اسپیڈ اور کام کرنے کی صلاحیت کے حساب سے تقسیم کردی جاتی ہے ۔

ڈالر یورو بمقابلہ بٹ کوائن

بٹ کوائن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر، یورو اور روپے سے موازنہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بٹ کوائن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے ، خارجی طور پر ا س کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔

بٹ کوائن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اسے جائز کرنسی قراردیا ہے ۔ کیونکہ اس کرنسی کوایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کرسکتا ہے اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوائن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیاجاسکتا ہے ۔

بلوک چین

بلوک چین (block chain) ایک نئی طرح کا انٹرنیٹ ہے جس میں ڈیجیٹل معلومات ہر ایک دیکھ سکتا ہے مگر اسے کاپی نہیں کر سکتا۔ ہر دس منٹ میں ہونے والی لین دین (transaction) کا ریکارڈ چیک کر کے محفوظ کر دیا جاتا ہے جسے بلوک کہتے ہیں۔ سارا ڈاٹا نیٹ ورک پر ہوتا ہے اس لئے ہر ایک اسے دیکھ سکتا ہے۔

سمجھا جاتا ہے کہ بٹ کوائن کی لین دین کا ریکارڈ کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا مگر ایسا نہیں ہے۔ ہر لین دین ایک کوڈڈ ایڈریس سے منسلک ہوتی ہے اور یہ ایڈریس ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ ان ایڈریس کا ریکارڈ رکھنے والوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں صرف 1000 لوگ ایسے ہیں جو دنیا بھر کی مارکیٹ کا 40 فیصد حصہ کنٹرول کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو "بٹ کوائن وھیل” کہا جاتا ہے۔

بٹ کوائن کی چوری

بٹ کوائن کے سیکورٹی کے بارے میں لاتعداد دعوے کیے جاتے ہیں۔ لیکن ماہر ہیکرز بٹ کوائن ایکسچینج سے بڑی مالیت میں بٹ کوائن چرانے میں کامیاب رہے ہیں۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں۔

بٹ کوائن ایکسچینج کا نامچوری کی تاریخکتنے بٹ کوائن چوری ہوئےمالیت بحساب 8200 ڈالر فی بٹ کوائن
Mt.Gox (جاپان)19 جون 2011ء2609 BTC2 کروڑ ڈالر
Mt.Gox28 فروری 2014ء750,000 BTC615 کروڑ ڈالر
BitFloorیکم ستمبر 2012ء24,000 BTC20 کروڑ ڈالر
Bitstamp4 جنوری 2015ء19,000 BTC16 کروڑ ڈالر
Bitfinexیکم اگست 2016ء120,000 BTC98 کروڑ ڈالر
Tether Treasury wallet19 نومبر 2017ء3700 BTC3 کروڑ ڈالر
Nice Hashدسمبر 2017ء4736 BTC4 کروڑ ڈالر

ڈیجیٹل کرنسی میں کسی بینک کی مداخلت نہیں ہوتی، اسی وجہ سے بٹ کوائن دنیا میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔ دنیا کے کچھ شہروں میں اب بٹ کوائن سے پیزا اور دیگر معمولی اشیاء بھی خریدی جاسکتی ہیں۔

فروری 2015ء تک ایک لاکھ سے زیادہ مرچنٹس نے بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی لیکن کیمبرج یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2017ءکے اختتام تک 30لاکھ مرچنٹ بٹ کوائنز استعمال کرسکیں گے۔

اس وقت مارکیٹ میں 16 ملین بٹ کوائنز گردش کررہے ہیں جس کی مارکیٹ ویلیو 315 بلین ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے جو ڈزنی، وال مارٹ اور ویزا کی ویلیو سے زیادہ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 21 ملین بٹ کوائنز پیدا کئے جاسکیں گے جس سے بٹ کوائنز کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا۔

پونزی اسکیم کیا ہے؟

یہ اسکیم ایک ایسا فراڈ ہے جس میں پہلے سرمایہ کاری کرنے والوں کو منافع بعد میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے لے کر ادا کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس طرح کے طریقہ کار کو ملٹی لیول مارکیٹنگ بھی کہا جاتا ہے جس میں ایک نیٹ ورک کے ذریعے خریدو فروخت کی جاتی ہے۔

1920 میں اٹلی کے ایک شخص چارلس پونزی نے اس طرح کی ایک اسکیم شروع کی تھی۔ جس کے بعد سے اب تک اس طرح کا فراڈ کرنے والے شعوری یا غیرشعوری طور پرچارلس پونزی کے طریقہ کار کو ہی اپناتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں اس طرح کی اسکیموں کے لیے جنت ہیں جہاں روز نت نئے طریقے سے بیروزگار اور کم آمدنی والے لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ جس میں کہیں شینل اور ٹاینز جیسی کمپنیاں وجود میں آتی ہیں تو کہیں ڈبل شاہ جیسے افراد لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ
کھیلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے : ڈبل شاہ کون تھا، اور اس نے کیسے اٹھارہ ماہ میں سات ارب روپے کمائے

نوٹ: اس تحریر میں ہم نے کوشش کی ہے کہ آپ کو بٹ کوائن کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں، اب بٹ کوئن میں سرمایہ کاری کرنا یا نہ کرنا آپ کا اپنا فیصلہ ہے۔ اس تحریر کو بغور پڑھنے سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ بٹ کوائن فراڈ ہے یا کہ حقیقت۔

اگلی تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ بٹ کوائن کی شرعی حیثیت کیا ہے، قرآن و حدیث کی رو سے بٹ کوائن جائز ہے یا کہ نہیں، بٹ کوائن کے بارے میں اسلام کیا نقظہ نظر ہے، آیا اسلام اسے حلال سمجھتا ہے یا حرام، اور بٹ کوائن او ون کوائن میں کیا فرق ہے، فی الوقت اتنا ہی۔

اس تحریر سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کر دیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

5 comments

    1. حدیث شریف میں ہے:
      حضرت ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ یاد کیے: وہ چیز چھوڑ دے جو تجھے شک میں ڈال دے اور اس چیز کو اختیار کر جو تجھے شک وشبہ میں نہ ڈالے کیونکہ سچ اطمینان ہے اور جھوٹ شک اور بے چینی ہے۔ (ترمذی، نسائی ،سنن الدارمی)

      اس حدیث شریف کے مطابق بٹ کوائن کا جائزہ لیں، آپ کو اپنے سوال کا جواب خود مل جائے گا۔

        1. یہ آرٹیکل بٹ کوائن کی مخالفت میں لکھا گیا ہے۔ اس لیے آپ کو غلط کام کا راستہ اور طریقہ نہیں بتایا جا سکتا۔ سوری

اپنی رائے کا اظہار کریں