بچے ہکلاتے کیوں ہیں | بچوں میں اٹک اٹک کر بولنے کی وجوہات اور علاج

بچے ہکلاتے کیوں ہیں۔ بچوں میں ہکلاہٹ اور ہچکچاہٹ اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ بولتا تو ہے لیکن اپنا مطلب واضح نہیں کر پاتا اور پریشان ہو جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے میں بڑے اس کی حوصلہ افزائی کرنے، اس کی بات غور سے سننے کی بجائے اسے ڈانٹ دیتے ہیں یا پھر اس کا جملہ پورا ہونے سے قبل خود اس کی بات مکمل کر دیتے ہیں۔

یہ طریقہ بالکل غلط ہے، کیونکہ اس طرح کچھ بچے اعصابی کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں، کچھ خود کو بہت خوف زدہ محسوس کرتے ہیں۔ بچوں کے روانی سے بات نہ کرنے پر پریشان ہہ ہوں۔ عموماً بڑے بھی رک رک کر بات کرتے ہیں۔ بہتر یہ ہو گا کہ بات کرتے وقت بچوں کو ٹوکیں نہیں، ان کی بات کو غور سے سنیں ۔ رفتہ رفتہ وہ بلا جھجک بولنے لگیں گے۔

بچوں میں ہکلاہٹ کی وجہ

ماہرین نفسیات اور ڈاکٹروں نے ہکلاہٹ کی کئی وجوہات کا پتہ چلایا ہے۔ لیکن اب تک کسی ایک وجہ پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔ کہا جاتا ہےکہ یہ ہکلاہٹ عموماً خاندانی ہوتی ہے۔ یعنی خاندان میں کسی بھی فرد کے ہکلانے کی بیماری آگے بھی جا سکتی ہے۔ہکلاہٹ میں ذہنی پریشانی اور گھریلو حالات میں تناؤ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لکنت یا ہکلاہٹ کیا ہے، زبان کی لکنت کی وجوہات اور علاج

کچھ ماہرین کا کہنا ہےکہ ہکلاہٹ کی وجہ بات کرنے والے کی بات پر دوسری طرف یعنی سامع کی طرف سے توجہ نہ دینا ہے۔ اس کے علاوہ جب بچہ گھر میں بھی بات کرنا شروع کرتا ہے تو بڑے اس کی بات پر توجہ نہیں دیتے۔ اس لیے بعض اوقات وہ زور سے بولتا ہے اور بعض اوقات بالکل خاموش ہو جاتا ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہ عمل ہکلاہٹ کی جانب چلا جاتا ہے۔ ان وجوہات کی بنا ء پر بچہ پریشان اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اس کی خود اعتمادی پر ضرب پڑنی شروع ہو جاتی ہے۔

بچے ہکلاتے کیوں ہیں؟؟

کیونکہ کچھ ماہرین کے مطابق ہکلاہٹ کا تعلق انسان کی جذباتی کیفیت سے بھی ہے۔ جب بچے کے ذہن پر کوئی ایسی ضرب پڑتی ہے جس کو وہ برداشت نہیں کر پاتا تو اس کا اثر اس کی زبان پر پڑتا ہے۔ اول یہ کہ بچہ بولنا چاہے لیکن اسے موقع نہ دیا جائے۔ دوئم سکول میں بچہ اپنی بات سمجھانے کےلیے تیز تیز بولتا ہے اور تیسری وجہ یہ کہ آپ بچے سے نہایت ہی مشکل الفاظ میں بات کریں جسے وہ نہ سمجھ پائے لہذا وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔

سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ غور سے سنیں کہ بچہ کیا کہہ رہا ہے۔آپ اس کے الفاظ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے سنیں گے جن میں کوئی ربط اور روانی نہیں ہو گی۔ بہت سے بچے تیز بولتے ہیں، کچھ آہستہ بولتے ہیں اور خود کو اپنے اپنے طریقے سے ظاہر کرتے ہیں۔

بچوں کو ظاہر نہ ہونے دیں کہ ان کے گفتگو کرنے کے انداز کی وجہ سے آپ کو کوئی پریشانی ہے۔ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کریں، اسے بات کرنا سکھائیں، تقریبات میں اپنے ساتھ بٹھائیں، اس طرح بچے میں خوداعتمادی پیدا ہو گی۔

ہکلاہٹ کی شرح

لڑکیاں عام طور پر لڑکوں کے مقابلے میں جلدی بولنا شروع کرتی ہیں۔ یقینی طور پر بہت سے بچوں کو اپنے استاد سےپڑھائی کے دوران باتیں کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ جس پر والدین پریشان ہو جاتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ اب ان کا ردعمل کیا ہو گا؟ وہ نہیں جانتے کہ ان کا بچہ کیوں ہکلاہٹ اور ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ اور وہ فوراً ڈاکٹر کے پاس دوڑتے ہیں یا پھر بچے کے بڑے ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟

ہکلاہٹ کا شکار صرف وہ بچہ نہیں ہوتا جسے والدین توجہ نہیں دیتے، ایسے بچے بھی ہکلاتے ہیں جن کے چاروں طرف محبتیں بکھری ہوتی ہیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ کسی بچے میں تقریبا25فیصد ہکلاہٹ اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ بولنا سیکھ رہا ہوتا ہے۔ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے زیادہ ہکلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق ہر پانچ میں سے تین لڑکے شروع میں ہکلاتے ہیں۔ جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ75 فیصد ہکلاتے بچے بڑے ہو کر صحیح طرح بولنے لگتے ہیں۔

احتیاطیں:

بچے جب بولیں تو ان کی بات کو غور سے سنیں اور اگر وہ غلط بھی بولتے ہیں تو اس وقت انہیں ٹوکیں نہیں بلکہ ان کی بات پر توجہ دیں اور پھر ان کی بات کے اختتام پر ان کو صحیح جملہ بتائیں۔ بچے اٹک اٹک کے بولنے پر بیزاری کا اظہار نہ کریں ۔ ہکلاہٹ بچے کے منہ سے شروع نہیں ہوتی بلکہ والدین کے کانوں کو محسوس ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچہ بالکل صحیح جملہ بول رہا ہوتا ہے لیکن آپ اپنی عمر کے مطابق سننا چاہتے ہیں لہذا اس لیے وہ آپ کو غلط محسوس ہوتا ہے۔

بچوں کے معاملے میں والدین اور بڑوں کو بہت محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے معاشرےمیں بچوں کی رائے کو کوئی اہمیٹ نہیں دی جاتی ہے۔ چاہے وہ ان کے اپنے کپڑوں ہی سے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔

ہکلاہٹ کی علامات

والدین یہ کس طرح جان سکتے ہیں کہ ان کا بچہ عام صورتحال کے مطابق ہکلاہٹ کا شکار ہے یا خاص بیماری کی وجہ سے ؟ تقریباً پندرہ سے بیس فیصد بچے دو سے پانی سال کی عمر تک ہکلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ دو سے تین سال تک کی عمر کے بچے اندازاً دو سو سے دو سو پچاس الفاظ یاد کرتے ہیں اور تین سال کی عمر کے بعد کے بچے ہر روز تقریباً سات نئے الفاظ سیکھتے ہیں۔ بہت سے بچے پانچ سال کی عمر تک رک رک کر بولتے ہیں، وہ الفاظ کو بار بار بولتے ہیں۔

دو سے پانچ سال تک کے بچوں میں ہکلاہٹ خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر ہکلاہٹ جاری رہے تو اس کی وجہ حالات سے مایوسی بھی ہوتی ہے۔ جس میں بچہ بات کرتے ہوئے ہکلاتا ہے اور بعض اوقات مٹھیاں بھی بھینچ لیتا ہے، آنکھوں کو بار بار جھپکاتا ہے یا زور زور سے سانس لیتا ہے۔ اگر یہ عمل تین مہینے یا اس سے زیادہ عرصے رہے تو بچے کو فوراً ڈاکٹر یا اسپیچ تھراپسٹ کے پاس لے جانا چائیے۔

یہ مسئلہ اس وقت درپیش ہوتا ہے جب گفتگو کرنے والا چار لوگوں کے سامنے اپنی بات سمجھانا چاہتا ہے لیکن سامع اس کی بات پر پوری توجہ نہیں دیتے ہیں۔ لہذا وہ اپنی بات کی حمایت میں چیخ چیخ کر بولتا ہے جس کی دوسرے صورت میں وہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتا اور خوداعتمادی کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس کے الفاظ ٹوٹ پھوٹ کر ادا ہوتے ہیں۔

ہکلاہٹ کا علاج

اگر بچوں میں ہکلاہٹ ہو تو ایسے بچوں کو صبح سویرے شہد اور کلونجی کا سفوف زمزم کے پانی کے ساتھ دیتے رہنے سے زبان صاف ہوجاتی ہے اور بچوں کا توتلا پن ختم ہو جاتا ہے ـ

نوٹ:یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔تاہم اگر آپ کا بچہ بھی ہکلاہٹ کا شکار ہے تو فوراً ڈاکٹر یا اسپیچ تھراپسٹ کے پاس لے جائیں۔ تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

3 comments

    1. وعلیکم السلام
      بھائی صاحب آپ فورا سے پہلے اسے ڈاکٹر سے چیک کروائیں، اور اس کا باقاعدہ علاج کروائیں۔
      کیونکہ پانچ سال تک عموماً ہکلاہٹ ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر اس کے بعد بھی بچہ اٹک اٹک کر بولتا ہے تو اس کا علاج ضروری ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں