تل کے فوائد، خصوصیت اور استعمالات | گوشت کا نعم البدل

تل (سیسم سیڈ) ایک ایسا بیج ہے جو پوری دنیا میں پایا جاتا ہے، امریکہ، جاپان، چین، اٹلی، کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں اس کی پیداوار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تلوں کا استعمال دیسی ادویات، ہمارے کھانوں اور مٹھائیوں میں صدیوں سے جاری ہے۔

تل نہ صرف کھانوں کو مزیدار ذائقہ دینے کیلئے استعمال ہوتے ہیں بلکہ تلوں کاتیل بھی اپنے فوائد میں لاجواب ہے۔جو کہ بطور پکوان استعمال ہوتا ہے۔

سردیوں میں تلوں کا استعمال بکثرت ہوتا ہے ، لوگ انہیں بھون کر، لڈوبناکر اور ریوڑی کے طور پر استعمال کرتے ہیں،تل بطورغذا اور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔بعض ماڈرن لوگ تلوں کو قدامت کی نشانی خیال کرتے ہوئے استعمال نہیں کرتے مگر انہیں معلوم نہیں کہ قدرت نے اس نعمت میں کس قدر فوائد رکھے ہیں۔

تل کے فوائد، تل کی اقسام

تل کی خصوصیات

تل روغنی بیج ہے۔ ایشیاء میں یہ زمانہ قدیم سے بہت ہی زیادہ غذائیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔تل ایسی غذا ہے جو گوشت کے خواص کی حامل ہے۔ اس لئے اسے گوشت کا نعم البدل بھی قرار دیا جاتا ہے۔

اس تیل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ عرصہ دراز تک خراب نہیں ہوتا۔تلوں کو بھون کر رکھنے سے ان کی عمرمزید بڑھ جاتی ہے۔یہ مختلف کھانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مٹھائیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

تلوں میں پروٹین اور روغن کے علاوہ دیگر اہم وٹامن معدنی نمکیات بھی پائے جاتے ہیں۔ جو 48 فیصد کے قریب ہیں۔ ان میں کیلشیم، میگنیشیم، فولاد، ایلومنیم، تانبا، نکل اور سوڈیم شامل ہیں، تل میں کیلشیم سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔

تل میں ایک فاسفورس آمیز چکنائی بھی پائی جاتی ہے۔ جو جسمانی طاقتوں میں اور اعصابی تقویت کےلئے اہم ہے۔ انسانی دماغ اور غدود کی صحت کا انحصار اس فاسفورس آمیز چکنائی پر ہے، تل میں موجود فاسفورس آمیز چکنائی لسی تھین کہلاتی ہے۔

تل کی اقسام

تل عموماً سفید یا گہرے رنگ کے ہوتے ہیں ان کی شکل تکونی ہوتی ہے ۔ شکل کے لحاظ سے تل کی تین اقسام ہوتی ہیں۔ یہ سفید، کالے اور لال رنگ کے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں کالے اور سفید تل زیادہ مشہور ہیں۔ کالے تلوں کے مقابلے میں سفید تل بہتر اور زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔

غذائیت سے بھرپور

بظاہر چھوٹے چھوٹے یہ بیج غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں ۔تل وٹامنز، منرلز، قدرتی تیل، اور دیگر نامیاتی مرکبات جیسے کیلشیئم، آئرن، میگنیشیئم، فاسفورس، میگنیز، کاپر، زنک، فائبر، تھیامن، وٹامن بی سکس، فولیٹ، اور پروٹین سے لبریز ہوتے ہیں۔

تلوں میں تقریباً پچاس سے ساٹھ فیصد تیل پایا جاتا ہے۔ جو غیر سیر شدہ ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن ای، وٹامن بی، وٹامن بی ٹو کے علاوہ کیروٹین بھی موجود ہوتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق تلوں میں لحمیات 22 فیصد ، کاربوہائیڈریٹ 18 فیصد، نشاستہ 4 فیصد اور دیگر اجزا چار اعشاریہ آٹھ فیصد موجود ہیں۔

تلوں کا تیل

تل کے بیج پیس کر ان کا تیل نکالا جاتا ہے جسے میٹھا تیل کہتے ہیں۔تلوں کا تیل اپنی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے ہی تیلوں کا بادشاہ کہلاتا ہے ۔یہ تیل ہلکا پھلکا اور چکنائی سے پاک ہوتا ہے اور آسانی سے جلد میں جذب ہو جاتا ہے۔

یہ تیل کھانے پکانے اور مارجرین وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔تلوں کے تیل کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ کافی عرصے تک خراب نہیں ہوتا۔

تل کے فوائد

تل میں دھاتوں کا تناسب باکمال ہے۔ جس دھات کی جسم کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ زیادہ مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ اور جس کی ضرورت کم ہو وہ کم مقدار میں ہوتی ہے۔ تل وٹامن ای کا خزانہ ہے۔ یہ وٹامن افزائش نسل میں مدد دیتے ہیں، اور جلد کو بوڑھا نہیں ہونے دیتے، ان کی موجودگی سے جلد پر جھریاں نہیں پڑتیں،

تل میں ایسے کیمیائی مرکبات بھی موجود ہیں، جو انسانی جسم کی شکست و ریخت کے عمل کے شکار انسان کے لئے خصوصی تحفہ ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو ذہنی اور عصبی تناؤ کے باعث ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں، انہیں قدرت کی عطا کردہ اس نعمت سے موسم سرما میں بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔

 1. دماغ کی تیزی کےلئے تلوں کا استعمال

جو لوگ دماغی کام کرتے ہیں، گمبھیر مسائل کے سبب شدید ذہنی اور اعصابی تناؤ کا شکار رہتے ہیں، ان کے لیے تلوں کا استعمال نعمت ہے، تل زور ہضم ہیں۔ ان میں لحمیات اتنے زیادہ ہوتے ہیں جتنے کسی سبزی میں نہیں ہوتے،

نباتاتی علاج کے ایک عالمی ماہر ڈاکٹر کیلوگ کا کہنا ہے کہ تمام نباتاتی غذاؤں میں عمدہ پروٹین مغز کے اندر ہوتی ہے۔ تلوں کو بھون کر اس میں تھوڑی مقدار میں شہد ملائیں۔ روزانہ دو سے تین چمچ کھا سکتے ہیں،

2. معدے کے لئے بہترین ٹانک

تل کے شیرے کو پانی میں پانی میں چھان کر استعمال کرنا معدے کی جلد میں بہت مفید ہے، اس سے معدے کی ترشی ختم ہوتی ہے۔ ہلکے بھنے ہوئے تلوں کو سبز دھنیاں، پودینے، سبز مرچ، لہسن اور بھنے ہوئے سفید زیرے اور نمک میں پیس لیں پھر لیموں کا رس ملا کر نہایت لذیذ اور تقویت بخش چٹنی تیار کر لیں، جو باجرے، مکئی ، گندم اور چنے کی روٹی کے ساتھ کھائی جا سکتی ہے۔

3. یادشت کا بہتر بنانے میں تل کا کردار

موسم سرما میں مغزیات کا استعمال جن میں تل بھی شامل ہیں، ایک ٹانک کا درجہ رکھتا ہے۔ خصوصاً طلبہ و دماغی کام کرنے والے اسے ضرور استعمال کریں۔ اس سے حافظہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ خون کی کمی جاتی رہتی ہے۔ اور اعصاب کو تقویت ملتی ہے۔ اس کے فوائد ہر عمر کے افراد کےلئے یکساں ہیں۔ البتہ وہ لوگ جنہیں ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ ہو، مغزیات کے استعمال میں احتیاط کریں۔

4. پیشاب سے نجات

موسم سرما میں عموماً بچوں کو پیشاب کی شکایت ہوجاتی ہے۔ بعض بچے رات کو بستر میں پیشاب کر دیتے ہیں۔ آدھا چمچ روزانہ تلوں کے تیل کا استعمال انہیں مرض سے نجات دلا سکتا ہے۔ عمر رسیدہ لوگ اعصابی کمزوری کے باعث موسم سرما میں بار بار پیشاب کے عارضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں، تل کا استعمال ان کے اعصاب کو طاقت بخش کر اس تکلیف سے نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔

5. گوشت کا نعم البدل

تل غذائیت کے اعتبار سے بھی بہت زیادہ موزوں ہے،یہ اپنے اندر گوشت جیسے خواص رکھتا ہے،تل عمر بڑھانے اور طاقت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔جن لوگوں کو گوشت پسند نہیں انہیں تل ضرور استعمال کرنا چاہئیے،

تل میں لیسی تھین نامی ایک عنصر پایا جاتا ہے جو دراصل چکنائی کا نعم البدل ہوتا ہے ،یہ پٹھوں کی مضبوطی کے لئے بہت ضروری ہے۔اس لئے تل کو گوشت کا نعم البدل قرار دیا جاتا ہے۔

6. بالوں کی مضبوظی اور درازی کےلئے تل کا استعمال

تل کے پودے کے پتے اور پھول بھی مفید ہیں، اس کے پتوں کو بالوں کی مضبوطی اور درازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے۔تازہ پتے لے کر کھوٹ کر رس نکال لیں، اور بالوں کی جڑوں میں مل لیا کریں، یہ عمل بالوں کی سیاہی کو عرصے تک قائم رکھتا ہے،

حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس میں اس تیل کے طبی فوائد سامنے آئے ہیں جو کہ حیران کن ہیں کیونکہ یہ جلد، بالوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف امراض سے بھی تحفظ دیتا ہے۔

7. سیگریٹ کے نقصان دہ اجزا کا اثر زائل کرے

فری ریڈیکلز ہمارے ڈی این اے، خلیات اور پروٹینز کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کے نتیجے میں الزائمر، پارکنسن اور کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، کچھ چیزیں جیسے تمباکو نوشی، کیڑے مار ادویات، ہوائی آلودگی اور جنک فوڈ ان فری ریڈیکلز سے بھرپور ہوتے ہیں،

تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری غذا اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہو تاکہ فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچ سکیں جبکہ جسم میں آکسائیڈیٹو اسٹریس بھی کم ہو۔ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ تلوں کے تیل کا استعمال اس حوالے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔

8. دل کو صحت مند بنائے

اس وقت مارکیٹ میں نقصان دہ فیٹس والی اشیاءدستیاب ہیں، تلوں کا تیل پولی ان سچورٹیڈ اور مونو سچورٹیڈ فیٹس سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ سچورٹیڈ فیٹس کم ہوتے ہیں جو کہ اسے دل کے لیے صحت مند اور کولیسٹرول کی سطح کنٹرول میں رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔

9. دانتوں کی صفائی کے لیے بہترین

طبی ماہرین کے مطابق تلوں کے تیل سے دس منٹ تک کلیاں کرنا منہ میں بیکٹریا کی سطح کم کرکے دانتوں اور مسوڑوں کو صحت مند رکھتا ہے۔جس سے دانت چمکدار، صاف اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔

10. جلد اور ہڈیوں کے لیے فائدہ مند

ان تیل کا ایک جز زنک ہے، جو کہ جسم میں کولیگن کی مقدار بڑھاتا ہے اور جلد کو لچکدار بنانے میں مدد دیتا ہے، اس طرح یہ ہڈیوں کی کثافت بڑھانے کے لیے بھی فائدہ مند جز ہے۔

11. قبض کا خاتمہ

اگر آپ کو قبض کا مرض لاحق ہے تو مناسب مقدار میں پانی پینا اور اور غذا میں فائبر کی موجودگی اس سے بچاؤ کےلئے مددگار ثابت ہوتی ہے، تاہم اگر کوئی چیز سمجھ نہ آرہی ہو تو تلوں کا تیل بھی فائدہ مند ہوتا ہے، صبح یا شام کو ایک سے دو چائے کے چمچ اس تیل کا استعمال آنتوں کو حرکت میں لاکر قبض کی شکایت کم کرتا ہے۔

12. چمکداراور گھنے بال

بال روکھے ، بے جان یا گرنے لگیں تو اکثر افراد مہنگی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں جن کے نتائج بھی مثبت نہیں ہوتے، تو ایسے افراد کے لیے تلوں کا تیل فائدہ مند ہے جس میں وٹامن بی اور ای، میگنیشم، کیلشیئم اور فاسفورس ہوتے ہیں

جو کہ بالوں اور کھوپڑی کے لیے ضروری اجزاءہیں، اس کی معمولی سی مقدار سے سر پر مالش کریں اور تیس منٹ تک کے لیے چھوڑ دیں، اس کے بعد گرم پانی اور شیمپو سے بال دھو لیں۔

13. خون کی کمی کو پورا کرنا

خون کی کمی کو دور کرنے کے لئے کالے تل بہترین ہیں کیونکہ ان میں آئرن کی وافر مقدار ہوتی ہے۔ اگر کالے تل نیم گرم پانی میں بھگو کر گرائنڈ کر کے چھان کر اس میں دودھ ملا کر پیا جائے تو چند روز میں خون کی کمی دور ہوجاتی ہے۔

14. بیماریوں سے نجات

  • تل میں موجود اہم معدنیات اور وٹامنز کینسر کی تمام اقسام سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
  • تل بواسیر کے مرض میں بھی مفید ہیں۔ تل پانی کے ساتھ گرائنڈ کر کے خونی بواسیر کے علاج کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔
  • ان میں میگنیشیئم پایا جاتا ہے جس کے باعث ذیابیطس کے خطرے سے بچا جاسکتا ہے۔
  • تل اور السی کے بیج ہم وزن تقریباً دوچمچ لے کر ایک چٹکی نمک اور تھوڑا سا شہد ملاکر روزانہ کھانے سے نمونیہ اور دمہ کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔
  • آدھا چمچ پسےتل نیم گر م پانی کے ساتھ دن میں دو بار کھانے سے حیض کےمسائل جیسے شدید درد اور حیض کی کمی وغیرہ دور ہوجاتی ہے۔
  • سفید تل میں کیلشیئم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لئے جو کیلشیئم کی کمی کا شکار ہوں انھیں چاہئے کہ وہ سفید تل کے ذریعے اپنی کیلشیئم کی کمی کو پورا کریں۔ لیکن بہت زیادہ نہ کھائیں۔وہ بھی نقصان دہ ہے۔
  • موٹے ہونے کے خواہشمند افراد تل کو بادام اور خشخاش کے ساتھ کھا کر اوپر سے دودھ پی لیں۔
  • بچوں کے بستر پر پیشاب کرنے کی عادت چھڑوانے میں تل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے لئے آپ تل کے لڈوبنا کر بچوں کو دے سکتے ہیں۔
  • تل میں موجود وافر کیلشیئم کے باعث ہڈیوں کے مسائل سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
  • تل میں ایسے کیمیائی مرکب ہوتے ہیں، جو نکسیر کی روک تھام میں مفید ہوتے ہیں،
  • تل دل کے نظام کی کیشدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
  • تل جلد کو نرم وملائم رکھتے ہیں ۔یہ اندرونی طور پر ہونے والی خراش کو ختم کر کے سکون پہنچاتے ہیں۔
  • تل ذیابیطس، بلڈپریشر، کینسر، ہڈیوں کی کمزوری، جلد کو پہنچنے والے نقصانات، دل کی بیماریوں، منہ کی بیماریوں اور کشیدگی سے بچاتا ہے اور جسم کو ڈیٹاکسیفائی کرتا ہے
  • تلوں کا استعمال پھیپھڑوں اور کھانسی کے لیے مفید ہے۔ یہ جسم کو فربہ کرتا ہے، جلد کی رنگت کو نکھارتا ہے اور خارش کو ختم کرتا ہے۔

نوٹتل سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ ان ترکیبوں، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج (طبیب،ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں