بیر کے حیرت انگیز فوائد کی مکمل تفصیل | بیری کے ذریعے علاج

بیر ایک ایسا سستاکٹھا میٹھا اور ہر دل عزیز پھل ہے جسے غریبوں کا سیب بھی کہا جاتا ہے۔کیونکہ طبی نقطہ نگاہ سے ایک اچھا اور شیریں بیری اپنی تاثیر ، لطافت اور غذائیت میں کسی طرح بھی سیب سے کم نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے بیر کو ہندوستانی سیب اور چینی کھجور کہا جاتا ہے۔

بیر کا آبائی وطن چین ہے، چار ہزار سال قبل بیر کی دریافت چین میں ہوئی ۔ دنیا میں بیر کی سب سے پہلی کاشت چین کے صوبے ھنان میں کی گئی۔ ہندوستان میں بیری کی آمد دو ہزار سال قبل ہوئی اور اسے سارے برصغیر میں کاشت کیا گیا۔

طب یونانی کے مطابق بیر کا مزاج سرد ہے اور یہ جسمانی صحت کے لیے موضوع اور جسم میں گوشت بنانے کی صلا حیت سے مالا مال ہے۔بیر وٹامن بی کا خزانہ ہے۔اس میں فولاد، کیلشیم ، پوٹاشیم اور فلو رین بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں گلوکوز بھی ہوتا ہے جو جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے

بیری کے فوائد، بیر کا درخت، چینی کجھور

بیر کی اقسام

بیر کو عربی میں عناب اور انگریزی میں Jujube کہا جاتا ہے، بیر کی تین بڑی اقسام تخمی، پیوندی اور جھڑ بیری ہیں۔جن کے درج ذیل خواص ہیں۔

  1. تخمی بیر کے پھل گول گوداکم اور رنگ سرخ ہوتا ہے۔اور اس کا ذائقہ کٹھا میٹھا ہوتا ہے۔تخمی بیر کو کاٹھے بیر بھی کہا جاتا ہے۔ پیوندی بیر پیوندی کے مقابلے میں یہ بیر چھوٹے ہوتے ہیں۔ انہیں تخمی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ انہیں بیج بُو کر حاصل کیا جاتا ہے۔
  2. پیوندی بیر کو سیوبیری بھی کہا جاتا ہے یہ بیر بڑے اور خوش ذائقہ ہوتے ہیں ۔ ان کا رنگ سرخ یا زرد، چھلکا پتلا اور گودا سفید اور موٹا ہوتا ہے۔ اس بیر کی شکل لمبوتری ،بیضوی اور لمبائی ایک سے دو انچ تک ہوتی ہے۔یہ بیر بعض اوقات نوکیلے بھی ہوتے ہیں۔انہیں پیوندی بیر اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان بیروں کی قلم لگائی جاتی ہے۔ اس کے درخت کو بیج کے ذریعہ سے نہیں بویا جا سکتا۔
  3. جھڑ بیری کا درخت بنجر زمین پر کاشت ہوتا ہے۔جھڑ بیری عمو ماً جھاڑی کی شکل کی ہوتی ہے، اور خود روہوتی ہے۔ اس کا پھل پھولے ہوئے چنے کے برابر ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا موٹا اور گودا کم ہوتا ہے۔ اس میں کانتے بہت ہوتے ہیں، جنگل میں بکثرت بویا جاتا ہے، اس لیے جنگلی بیر کہلاتا ہے۔ اس کا ذائقہ کھٹا اور پھیکا ہوتا ہے۔ اس میں مٹھاس سے زیادہ ترشی ہوتی ہے۔جھڑبیری کو کوکنی بیر بھی کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عرق گلاب کے حیرت انگیز فوائد کی مکمل تفصیل

بیر یا بیری کے فوائد

بیر کئی اوصاف کا حامل پھل ہے، ماہرین کے مطابق یہ بھوک لگانے والا اور مقوی معدہ ہوتا ہے، بیر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں، بیر کا جوشاندہ بڑھی ہوئی تلی کو کم کرتا ہے، پیٹ میں اگر پانی ہو تو اس کے مسلسل استعمال سے فائدہ ہوتا ہے۔

ابن القیم نے بیر کو اسہال اور معدے کی کمزوری کے لیے لاجواب قرار دیا ہے اس سے آنتوں کی سوزش اور جلن کا خاتمہ ہوتا ہے۔بیر جسم کو عمدہ خون اور غذا مہیا کرکے گری ہوئی طبیعت کو بحال کرتا ہے۔

بیر in english، بیر کو انگریزی انگلش میں کیا کہتے ہیں

بیر کا استعمال کئی فوائد کا حامل ہے۔ امریکہ میں بیر کے جوس سے چھوٹی چھوٹی موم بتیاں بنائی جاتی ہیں ان کو Jujuba Candles کہا جاتا ہے۔بیر کو گوشت کے ساتھ سبزی کی طرح بھون کربھی پکایا جاتا ہے، بیر کو شہد اور چینی کے ساتھ ملا کر اس کا لذیز مربہ بنایا جاتا ہے۔

بیری کی چھال میں دراڑیں ہوتی ہیں جن سے گوند اور لاکھ نکلتی ہے۔ چھال سے کپڑے اور چمڑا رنگنے کے لیے لال رنگ حاصل ہوتا ہےبیری کے درخت کی پتیوں سے مویشیوں کے لیے عمدہ چارا تیار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شہد کے ناقابل یقین اور حیرت انگیز فوائد کی مکمل تفصیل

بیری کے پتوں پر شہتوت کی پتیوں کی طرح ریشم کے کیڑے بھی پالے جا سکتے ہیں۔بیر ریشم سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بیری کی موٹی لکڑی عمارت کے کام میں استعمال ہوتی ہے اس سے گھوڑوں کی کاٹھیاں بنائی جاتی ہیں، بیری کی لکڑی زرعی مقاصد کے لیے مناسب سمجھی جاتی ہے۔

  • بیر خشک ہو یا تازہ طبیعت میں طاقت اور خشکی پیدا کرتا ہے،کھانا کھانے سے قبل بیر کھانے سے بھوک بڑھ جاتی ہے، پیاس بجھتی ہے۔
  • بیروں کا 30 گرام رس روزانہ پینے سے آنتوں میں جمع صفرا نکل جاتا ہے جس سے آنتوں کو تقویت ملتی ہے۔ بیروں کے رس میں شکر ملانے سے اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
  • بیری کے تازہ پتوں کا جوشاندہ نمک ملا کر غراروں کے لیے استعمال کرنا، گلے کی خراش ، منہ کی سوزش، مسوڑھو ں سے خون بہنا اور زبان پھٹ جا نے کے امراض میں شافی ہے۔
  • خشک بیری کو پیش کر ان کے ستو بنائے جاتے ہیں جوآنتوں سے نکلتے والے خون کو بند کرتے ہیں، ان کو سرد پانی کے ساتھ پھانکنے سے معدے کی رطوبت خشک ہو جاتی ہے۔
  • مصری کی چاشنی میں لونگ اور بیر کی گٹھلی پیش کر دیتے سے جی متلانا اور ابکائی آنا بند ہو جاتی ہے۔ منہ کے چھالے دور کرنے کے لئے کیکر اور بیری کی چھالوں کے جو شاندے سے کلیاں کرنا فوری فائدہ کرتا ہے۔
  • پرانے زخم ہو کافی مدت کے بعد بھی ٹھیک نہ ہو رہے ہوں انکے لئے بیری کے درخت کی چھال کا سفوف بنا کے ایسے ہی لگا لیں یہ پھر اس کو پانی میں شامل کر کے گاڑھا لیپ بنا کر متاثرہ حصے پر لگائیں۔اس سے پرانا زخم ٹھیک ہو جائے گا۔
  • بیر کی گٹھلی نکال کر اس میں لال مرچ اور نمک ڈال کر اچار ڈالا جاتا ہے جو کہ عام جسمانی کمزوری اور ہاضمہ کی کمزوری میں مفید ہے۔
  • بیری دماغ میں خون کا دورانیہ بڑھا کر یادداشت اور سمجھنے کی صلاحیت بہتر بناتی ہے اور پڑھنے والے بچوں کے لیے بہتر ثابت ہوسکتی ہیں۔
  • سونٹھ اور بیر لے کر ان کو پانی اور شہد میں پکانے کے بعد سفوف بنایا جائے اور کا چھوٹا چمچ کھانے کے بعد استعمال کرنا پیٹ کی اکثر بیماریوں بلکہ جگر اور گردوں کی خرابی میں بھی مفید پایا گیا ہے۔
  • بیر کا استعمال خون کے زہریلے مادے خارج کر کے خون صف کرتا ہے اسکے علاوہ روزانہ آٹھ سے دس بیروں کا استعمال چہرے کے داغ دھبے مٹا کے چہرے کو سرخ اور تروتازہ رکھتا ہے
  • مٹاپے اور بلڈ پریشر سے نجات کےلیے بیر کے موسم میں ایک وقت کھانے کے بجائے بیر کھانا بہت مفید ہے۔
  • خون کی خرابی کے سبب پیدا ہونے والے جلدی امراض میں بیر کھانا مفید ہے۔
  • پیٹ میں کیڑے ہو جانے کی صورت میں اکثر صحت خراب رہتی ہے کیڑوں کے خاتمے کے لئے میٹھے بیروں کو کچل کے پانی نکال کے اس کا استعمال پیٹ سے کیڑے خارج کرنے میں بہترین کردار ادا کرتا ہے ۔
  • دست اور اسہال کی صورت میں بیر کا استعمال معدے اور آنتوں کی کمزوری دور کرتا ہے دس گرام جنگلی بیر کی جڑیں اورپان عدد کالی مرچیں پیس کر پانی میں ملا کر دن میں تین بار پلانے سے پیچش اور مروڑ دور ہو جاتی ہے۔
  • بیری اور نیم کے پتے کھوٹ کر گنج پر لگانے سے بال اگنا شروع ہو جاتے ہیں، بیری کی کونپلوں کو پیس کر دہی میں حل کر کے لگانے سے جلے ہوئے زخم صحیح ہو جاتے ہیں، بیر کی گٹھلی پیس کر ٹوٹی ہوئی ہڈی کے مقام پر لگانے سے درد کم ہوتا ہے اور ہڈی جلدی جڑ جاتی ہے۔
  • بیر کا رس نکال کر شکر کے ساتھ پکا کر جو شربت بنتا ہے وہ پیاس اور گھبراہٹ دور کرتا ہے۔
  • بیر کی گٹھلی پیس کر ٹوٹی ہوئی ہڈی کے مقام پر لگانے سے ہڈی جڑ جاتی ہے۔ اس کی گٹھلی عضلاتی چوٹ یعنی گوشت کو متاثر کرنے والی چوٹ اور موچ میں بھی فائدے مند ہوتی ہے
  • بیر کا گودا تمام سوزشی ورم کم کرتا ہے، بیری کے پتے اور گولر پیس کر بچھو کا زہر اتارنے کے لیے لیپ کرنا مفید ہوتا ہے۔
  • ایسے ذہنی مریض جن کا دما غ بہت سست ہو، ان کے علا ج کے لیے مٹھی بھر خشک بیر آدھ لیٹر پانی میں اس وقت تک ابالے جا ئیں جب پانی آدھا رہ جا ئے۔ پھر اس آمیزے میں شہد یا چینی ملا کر روزانہ رات سونے سے قبل مریض کو کھلایا جائے۔ یہ علاج دما غ کی کارکر دگی بڑھا کر مریض کو فعال بنا دے گا۔
  • نکسیر پھوٹنے کی شکایت میں بیری کے پتوں کو پیس کر کنپٹیوں پر لیپ لگانے سے نکسیر بند ہو جاتی ہے۔
  • بیری کی ٹہنیوں اور پتوں کا لیپ پھوڑوں ، پھنسیو ں وغیرہ پر لگانے سے پیپ جلدی پک کر خارج ہو جا تی ہے۔ ۔زخم اورناسور دھونے کے لیے بھی بیری کے پتوں کا جوشاندہ بہترین ہے۔
  • بیری کے پتوں کو پیس کر کنپٹیوں پر لگانے سے بخار کی بڑھتی ہوئی گرمی کم ہو جاتی ہے۔نیز کھانسی، زکام کے مریضوں کے لیے بیر کھانا مفید ہے۔
  • بیر کے پتے اور رینٹھے ابال کر سر دھونے سے سر کی جلد بھی صاف ہو جاتی ہے اور بال لمبے، ملائم اور چمکدار ہو جاتے ہیں۔
  • بیری اور نیم کے پتوں کو پانی میں پیس کر بالوں پر لیپ کرنے سے بال گرنا بند ہوجاتے ہیں اور نئے بال اگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیۓ: گوشت کا نعم البدل تل کو کیوں کہا جاتا ہے

یاد رکھیں۔ بیری بہت زیادہ مقدار میں کھانے سے اسہال کی شکایت ہوتی ہے، اس لیے ان کا استعمال ہمیشہ مناسب مقدار میں کیا جائے، علاوہ ازیں کچے بیر کھانے سے کھانسی اور پیٹ میں گیس ہو جاتی ہے۔

نوٹ: بیر سے متعلقہ یہ تحریرمحض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ ان ترکیبوں ،طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج (طبیب،ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

بیر یا بیری کے حوالہ سے اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

2 comments

اپنی رائے کا اظہار کریں