شہد کے نا قابل یقین اور حیرت انگیز فوائد | شہد سے علاج

شہد قدرت کی طرف سے انسان کے لیے ایک شاندار تحفہ ہے۔شہد کی مقبولیت ، اہمیت اور اثرات کا نتیجہ ہے کہ اسے زمانہ قدیم سے ہی بطور دوا اور بطور غذا دونوں صورتوں میں استعمال کیا جا رہا ہے ۔ یہ ایک لیس دار اور میٹھا نیم شفاف سیال ہے جس کا رنگ زردی مائل بھورا ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ شہد کا رنگ جتنا گہرا ہوگااتنا ہی اس کی انٹی بیکٹیریل خصوصیات زیادہ ہوں گی۔

جدید سائنسی دور نے بھی شہد میں چھپی افادیت اور خصوصیات کو تسلیم کر لیا گیا ہے ۔ موجودہ زمانے کے سائنس دان (ڈاکٹرز) بھی اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ بہت سی بیماریوں کا شافی علاج ہے۔

شہد کو کسی بھی بیماری میں بغیر کسی نقصان کے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اب امریکہ، برطانیہ، کینیڈا،آسٹریلیا، ، جرمنی، جاپان اور چین میں اس کی مدد سے جراثیم کش اور اعصابی دباؤ دور کرنے والی ادویات بنائی جارہی ہیں۔

اس کو مٹھاس شکر اور دیگر مرکبات کا آمیزہ بھی کہا جا سکتا ہےـ اس میں حیاتین ب حیاتین ج کیلشیم،فولاد ، فاسفورس پوٹاشیم، سوڈیم اور جست شامل ہیں ـ شہد میں موجود قدرتی مٹھاس ٹریہ یلوس، دل کی شریانوں میں پلاک کی افزائش روک کر دل کے دورے سے بچاتی ہے۔

شہد کی افادیت

شہد دنیا کے تقریبا ہر ملک میں پیدا ہوتا ہے ۔ آج کے دور کے ماہرین طب اس بات پہ متفق ہیں کہ یہ اگرچہ اپنے اندر مٹھاس رکھتا ہے ۔ لیکن اگر اسے بطور دوا مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ شوگرکے لیے بھی فائدہ مند ہے ۔ اس میں منفرد قسم کی حیرت انگیز غذائی اور طبی خوبیاں ہیں۔

چھوٹے بڑے سب شہد شوق سے کھاتے ہیں۔ اور اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔لیکن قدرت نے اس خوارک میں کس قدر فائدے رکھے ہیں اس کا انسان کو احساس ہی نہیں ہے۔

اگر کسی چیز کو شہد میں بھگو کر رکھیں تو وہ خراب نہیں ہو گی، خواہ کوئی پھل ہو، سبزی ہو یا گوشت حتیٰ کہ اگر کسی لاش کو خراب ہونے سے بچانا ہو تو اس پر شہد کا لیپ کر دیا جائے تو وہ بھی خراب نہیں ہوتی ۔ اگر کسی زچہ خاتون کو دودھ کم اترتا ہو یا حیض تنگی سے آتا ہو تو صبح شام دو دو چمچ شہد کھانے سے مرض چلی جائے گی۔ اس کے اتنے فائدے ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے۔

شہد کی افادیت کو مدنظر رکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ باغوں میں مہکتے پھول صرف مناظر کو ہی خوبصورت نہیں بناتے بلکہ ان کے رس میں ایسے غذائی اور دوائی فوائد بھی موجود ہوتے ہیں ـجنہیں مکھیاں شب و روز جمع کر کے مٹھاس میں سمو دیتی ہیں ـ صرف شہد کی مکھیاں ہی شہد اور شہد کا چھتا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

غذا کے طور پہ اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔ کیونکہ یہ اپنے منفرد ذائقے اور ہاضمے کے ساتھ ساتھ توانائی کی کمی کو دور کرتا ہے نباتاتی دواؤں کے علاوہ اسےحسن افزااشیاءمیں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔شہد اوردارچینی کو جب ملا دیا جائے تو یہ ایک بہترین دوا بن جاتی ہے

جس سے کئی امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے ۔ دارچینی میں موجود ایسینشل آئل جب شہد کے ساتھ ملتا ہے تو اس سے ہائدروجین آکسائیڈ بنتا ہے جو کہ جسم میں جراثیم یا فنگس بڑھنے سے روکتا ہے ۔

شہد کا استعمال

بچے کی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک شہد کا استعمال کرایا جاتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو گھٹی کے طور پر اسے شہد چٹایا جاتا ہے اور جب مریض قریب المرگ ہوتا ہے تب بھی حکیم مریض کے لیے اسے ہی تجویز کرتا ہے۔

اس لحاظ سے یہ اولین غذا ہے اور آخری بھی،زمانہ قدیم میں لوگ شہد کے علاوہ کسی میٹھی چیز کے ذائقےکے بارے میں نہ جانتے تھے۔لندن کے عجائب گھر میں فرعون کی لاش پربنی شہد کی مکھی کی تصویر ہمیں زمانہ قدیم میں شہد کی موجودگی کا پتا دیتی ہے۔

کھانسی اور گلے کی تکلیف سے نجات

کھانسی کی وجہ عام طور پر گلے میں ہونے والی خارش یا خشکی ہوتی ہے۔اگر آپ اپنی کھانسی کی وجہ سے پریشان ہیں اور آئے روز کھانسی کے شربت پی پی کر تنگ آچکے ہیں تو پریشان مت ہوں۔کھانسی سے نجات کے لئے آپ کو چاہیے کہ شہد کا استعمال کریں

۔اس کے استعمال سے نہ صرف آپ کی کھانسی ٹھیک ہوجائے گی بلکہ آپ کے گلے کو بھی بہت زیادہ آرام ملے گا۔کھانسی کی روک تھام کے لئے اس کو بطور سیرپ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اصلی اور خالص شہد کی پہچان کے گیارہ طریقے

کھانسی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ شہد ایک ایسے جراثیم کش محلول کا کام بھی سرانجام دیتا ہے جو گلے کی تکلیف میں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ یہ گلے میں ایک تہہ قائم کرکے اس خارش سے ریلیف دیتا ہے جو کھانسی کا باعث بنتی ہے۔

آدھا کپ پانی میں ایک چائے کا چمچ چھیلی ہوئی ادرک، ایک یا دو لیموں کا عرق اور ایک چائے کا چمچ شہد کا مکس کریں۔ اس مکسچر سے غرارے کرنا گلے کی تکلیف میں کمی لاسکتا ہے۔نیز رات کو سونے سے قبل 2 چائے کے چمچ شہد کا استعمال رات کو کھانسی سے ریلیف اور سونے میں مدد دیتا ہے۔

کولیسٹرول میں کمی

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے امراض آج کل بہت عام ہو گئے ہیں ۔بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مریضوں کے لیے شہد اور دارچینی بے حد مفید ہیں ۔ایک چھوٹی چمچ دار چینی پاؤڈر کو ایک چھوٹے چمچ شہد میں ملا دیں ۔ اس مرکب کو ایک کپ پانی یا ایک گلاس پانی میں ڈال کر پی لیں ۔

اس سے آپ کا کولیسٹرول لیول کم رہے گا ۔ تحقیق کے مطابق سو گرام شہد کو تیس ملی لیٹر پانی کے ساتھ ملا کرپندرہ سے بیس دن کے استعمال سے صحت کے لیے نقصان دہ سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے جبکہ صحت کے لیے بہتر کولیسٹرول کی سطح بڑھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لہسن اگر سونے کے بہاؤ بھی ملے تو استعمال کریں، کیوں جانیے

کولیسٹرول کے لیے دو کھانے کے چمچ شہد اور تین چائے کے چمچ دار چینی کے لے کربیس اونس قہوہ یا چائے میں حل کریں اور محلول جب ہائی کولیسٹرول کے مریض کو پلا یا گیا تو دو گھنٹے کے اندر اندر اس کا بلڈ کولیسڑول دس فی صد تک کم ہوگیا۔

اگر یہ نسخہ دن میں تین بار استعمال کریں تو پرانا اورخطر ناک حدتک بڑھا ہوا کولیسڑول بھی نارمل ہو جاتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر روزمرہ خوراک کے ساتھ شہد استعمال کیا جائے تو کولیسٹرول کا پرابلم پیدا ہی نہیں ہوتا۔

دل کا دورہ

شہد اور دارچینی کا آمیزہ بنا کر رکھ لیں۔ اور روزانہ ناشتہ کرتے وقت اس آمیزے کو جام یا جیلی کی جگہ سلائس پر لگا کر استعمال کریں۔اس کا استعمال شریانوں سے کولیسٹرول کی مقدار کو کم کرتا ہے اور مریض کو دل کے دورے سے محفوظ رکھتا ہے۔

وہ اشخاص بھی جنہیں دل کا دورہ ہوچکا ہو اگر وہ اس کا متواتر استعمال کریں تو دوسرے اٹیک سے کوسوں دور یعنی محفوظ رہیں گے ۔ اس آمیزے کا لگا تار استعمال، سانس کی تنگی دور کرتا ہے اور دل کی دھڑکن کو تقویت دیتا ہے۔

امریکہ اور کینڈا میں مختلف ہسپتالوں میں لوگوں کا کامیاب علاج کیا گیا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ جوں جوں عمر بڑھتی ہے شریانیں اور دل کی نالیاں سخت ہوتی جاتی ہیں اور ان میں تنگی پیدا ہونے لگتی ہے ۔ درج بالا نسخہ سے یہ تکالیف بھی دور ہو جاتی ہیں۔

جلدکی تروتازگی اور خوبصورتی کے لیے شہد کا استعمال

شہد قدرتی موئسچرائزر بھی ہے کیونکہ اس میں شامل شوگر مالیکیول جلد میں پانی کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ آپ کی خشک جلد کی نمی بحال اور بیکٹریا کو ختم کرتا ہے جو کیل مہاسوں یا جسمانی بو کا باعث بنتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ جلد پر ایسی تہہ بنادیتا ہے جو پانی کو روک کر نمی کو بڑھا دیتا ہے۔شہد جسم کو صحت مند رکھنے اور جلد کو جگمگانے کے لیے بھی بہترین چیز ہے۔ شہد ایک اینٹی سیپٹک اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھنے والا جز ہے۔ اسی وجہ سے اکثر یہ جلد پر لگتے ہی تھوڑی سی جلن پیدا کرتا ہے۔

شہد جلد پرلگتے جلد پر موجود بیکٹیریا اور دوسرے جراثیم کو ختم کرتاہے۔ تا کہ جلد ان سب جراثیم سے پاک ہو جائے ۔ اس کے علاوہ شہد جلد کے نئے ٹشو ز بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بالکل غلط نہ ہو گا کہ حساس جلد کی حفاظت کے لیے اگر کوئی چیز موزوں ہے تو وہ شہد ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لال مرچ کے فوائد و نقصانات

شہد میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ جلد کو تروتازہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں موجود فاسد مواد کو ختم کرتا ہے۔اگر آپ اس کو اپنے چہرے پر بطور ماسک استعمال کریں تو آپ کی رنگت صاف ہونے کے ساتھ جلد بھی چمکدار ہونے لگے گی۔ اس کو باڈی واش کے طور پر استعمال کرنے کے لیے دو چائے کے چمچ شہد کو ایک چائے کے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شہد اور دار چینی سے بنائی گئی چائے اگر لگاتار استعمال کی جائے تو اس سے بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔

چار چمچ شہد اورایک چمچ دار چینی کا پوڈر لے کر تین کپ پانی میں ڈال کر ابال لیں کہ چائے کی شکل بن جائے ۔ ایک چوتھائی کپ یہ چائے دن میں تین بار استعمال کریں اس سے آپ کی جلدتروتازہ رہے گی اور بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات ظاہر نہیں ہوں گے ۔

اس سے زندگی کا دورانیہ بھی بڑھنے کی امید ہے اور یہ اتنی طاقتور ہے کہ اس سے سو سال کا بوڑھا بھی بیس سالہ نوجوان کی طرح چاک وچوبند ہو جائے گا۔اور بدصورت آدمی بھی خوش شکل ہو جائے گا۔

کیل مہاسوں کا خاتمہ

شہد کی جراثیم کش خوبیاں چہرے پر دانے کی سوجن کی روک تھام کرسکتی ہیں۔اگر آپ کیل مہاسوں کی وجہ سے پریشان ہیں توشہد اور دار چینی (یا جائفل ) ہم وزن لے کر گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں اور اسے دانوں اور کیل مہاسوں پر لگا دیں اور پندرہ سے بیس منٹ لگا رہنے دیں ۔

پھر ٹھنڈے پانی سے دھولیں ۔ ماہرین کا کہانا ہے کہ اس عمل کو کئی بار کرنے سے کیل مہاسوں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتے ہیں۔

جلد کے امراض اور انفیکشن سے نجات

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد کی مکھیاں ایک ایسا پروٹین پیدا کرتی ہیں جو انسانی صحت کے لئے انتہائی شفا بخش اور مفید ہے ۔

ڈیفنسن نامی یہ پروٹین قدرتی شہد میں پایا جاتا ہے جو جلد کے امراض اور انفیکشن سمیت کئی بیماریوں سے لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔اس کو پانی میں ڈال کر پینے سے جلد اندر سے صاف ہوجاتی ہے ۔

جلد پر ہونے والی الرجی کو دور کرنے کے لیے شہد کو پانی میں ڈال کر استعمال کرنے سے جلد کی نمی بھی برقرار رہتی ہے اور خشکی بھی نہیں بن پاتی ۔

زخم بھرنا اور جلن کا احساس کم کرنا

شہد میں انٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں لہذا اگر اسے زخموں پر لگایا جائے تو یہ جلد مندمل ہوجاتے ہیں۔اگر زخم والی جگہ پر اس کا استعمال کیا جائے تو وہاں ایک باریک سی پرت بن جاتی ہے اور وہ جگہ جلد ٹھیک ہوجاتی ہے

۔جب بھی شہد کھلی فضا میں آتا ہے تو آکسیجن کی وجہ سے اس میں ایک انزائم ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بناتا ہے جس سے زخم ٹھیک ہونے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: گوشت کا نعم البدل

شہد نہ صرف زخم کو جلد ٹھیک کرتا ہے بلکہ اگر جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اس کی وجہ سے جلن کا احساس کم ہوجاتا ہے اور چھالے بھی نہیں بنتے۔ آگ سے جلے ہوئے مریض بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ جلی ہوئی جگہ پر شہد لگائیں تو زخم ہی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ نشان بھی نہیں رہتا۔

قرآن و حدیث کی رو سے شہد کی اہمیت

قرآن پاک کی سورۃ النحل میں ہے۔
اور دیکھو تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کر دی کہ پہاڑوں اور درختوں میں، اور ٹیلوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں، اپنے چھتے بنا اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔ یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

شہد کی افادیت کا علم آپ کو اس بات سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے شہد، دودھ اور شراب الصالحین کی نہریں بنائی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی افرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مہینہ میں کم از کم تین دن صبح صبح شہد چاٹ لے‘ اس کو اس مہینہ میں کوئی بڑی بیماری نہ ہوگی۔ (ابن ماجہ)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار حشرات کو مارنے سے منع فرمایا۔ چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور چڑی ممولا (ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ ”تمہاے لئے شفا کے دو مظہر ہیں‘ شہد اور قرآن“۔ (ابن ماجہ)
حضرت عاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ ”خاصرہ گردے کا اہم حصہ ہے جب اس میں سوزش ہوجائے تو گردے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے‘ اس کا علاج جلے ہوئے پانی اور شہد سے کیا جائے۔“ (ابوداؤد)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہد، حلوہ اور گوشت پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسل کا ارشاد گرامی ہے کہ یہ بہترین غذا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے شہد سے ہر مرض کا علاج کرتے تھے۔

دیگر الہامی کتب کی رو سے شہد کی اہمیت

اللہ تعالیٰ نے شہد کی اہمیت قرآن پاک اور احادیث کے علاوہ دیگر الہامی کتب میں واضح کی ہے ۔ الہامی کتب کے چند اقتباسات ملاحظہ کیجئے۔
اور شہد اور مکھن اور بھیڑ اور بکریاں اور گائے کے دودھ کا پنیر لوگوں کے کھانے کے واسطے لائے۔ (سمویل)
وہ ایک ایسا ملک ہے جہاں روغن دار زیتون اور شہد بھی ہے۔ (استثناء)
دیکھو میری آنکھوں میں شہد چکھنے کے سبب کیسی روشنی آئی۔ (سمویل)
اے میرے بیٹے تو شہد کھا کیونکہ وہ اچھا ہے اور شہد کا چھتا بھی۔ کیونکہ مجھے وہ میٹھا لگتا ہے۔ (امثال)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت اور ان کی خوراک کے بارے میں ارشاد ہوا
”وہ اس کا نام عمانویل رکھے گی وہ دہی اور شہد کھائے گا،جب تک کہ وہ نیکی اور بدی کے رد و قبول کے قابل نہ ہو۔“ (بعیاہ)

شہد کی اہمیت اور افادیت  سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا (فیس بک، ٹیوئٹر، وغیرہ )پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

ضروری نوٹ: شہد سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔تاہم ان ترکیبوں ، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج (طبیب،ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں