ہلدی کے حیرت انگیز اور ناقابل یقین فوائد، ہلدی سے علاج

ہلدی کا رنگ زرد اور ذائقہ پھیکا اور تلخ ہوتا ہے۔ ہلدی کا شجرہ نسب (خاندان) ادرک ہے۔اس کی سرخی مائل زرد نباتاتی جڑیں بطور مصالہ اور دوا کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں ۔ یہ عام طور پر گرم اور خشک تصور کی جاتی ہے۔ ایشیائی ممالک میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔یہ سدا بہار پودا جنوبی ہند کے ان علاقوں میں خوب پرورش پاتا ہے جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہے۔یا زمینیں سایہ دار ہوتی ہیں۔

ہلدی کو مرچوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ ہلدی کو عربی میں عروق الصفر، فارسی میں زرد چوب اور انگریزی میں Turmeric اور سندھی میں ہیڈ کہا جاتا ہے۔اس کا پودا ایک میٹر بلند ہوتا ہے اور اس کے پتے پچاس سے ایک سوبیس ملی میٹر لمبے اور اڑتیس سے پنتالیس ملی میٹر چوڑے اور بیضوی ہوتے ہیں۔اور ان کا اگلا سرا نوکیلا ہوتا ہے۔

ہلدی کی کاشت

ہلدی کی کاشت ایسے علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں سالانہ بارشیں زیادہ ہوتی ہیں۔پاکستان کے ضلع قصور اور ہندوستان کی ریاست آندرپردیش میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ہلدی کی کاشت عموماً اپریل ، مئی کے مہینے میں کی جاتی ہے۔ اور نومبر ،دسمبر میں جب اس کے پتے سوکھنے لگتے ہیں تو فصل کو اکھاڑنے سے تین چار دن پہلےہلدی کے کھیت کو ہلکا پانی لگا دیا جاتا ہے۔ اور نمی کی حالت میں پتے کاٹ کر علیحدہ کرکے ہلدی کی گنڈیوں کو اچھی طرح صاف کر کے پانی میں ایک گھنٹہ تک ابالا جاتا ہے۔

ہلدی کی گنڈیوں کو پانی میں ابالنے کے بعد ایک ہفتے تک دھوپ میں سوکھایا جاتا ہے تا کہ گنڈیاں خشک ہو جائیں۔اس کے بعد گنڈیوں کو صاف کر کے سرسوں کا تیل لگا کر دانے بھوننے والی بھٹیوں میں دس سے پندرہ منٹ تک بھونا جاتا ہے۔ اس طرح یہ گنڈیاں دو چاردنوں میں خشک ہو جاتی ہیں۔

اگلے مرحلے میں ہلدی کو پالش کیا جاتا ہے۔ پالش کر نے کیلئے خشک کی ہوئی گنڈیوں کو ایسے ڈرم میں ڈالا جاتا ہے۔ جس میں چھوٹی چھوٹی چھریاں لگی ہوتی ہیں۔ اور گھمایا جاتا ہے ۔ اس سے گنڈیوں کا اوپر وا لا چھلکا اتر جا تا ہے اور ہلدی پالش ہو کر چمکدار اور خوبصورت دکھا ئی دیتی ہے۔ اس کے بعد اس کو بو ریوں میں بندکرکے صاف ستھرے اورہوادار کمر ے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ تا کہ ہلدی خراب نہ ہو۔

ہلدی کا استعمال

ہلدی کا استعمال صرف کھانوں اور دواؤں میں ہی نہیں ہوتا بلکہ کیک ، مٹھائیوں اور پھلوں کے جوس اور دیگر کئی اشیا ء تیاری میں بھی کیا جاتا ہے ۔کیمیائی تجزیہ کے مطابق ہلدی میں پوٹاشیم، کیشیم، فاسفورس ، فولاد، ،سوڈیم کے علاوہ وٹامن "A” ، "B” اور "C” بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

ہلدی کا استعمال بطور دوا توبعد میں شروع ہوا ، ابتدا میں اسے رنگ کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا تھا ۔ اور بعض مقامات پر اسے زعفران کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔جبکہ اب یہ ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو بن گئی ہے اور اسے کھانے کو خوش رنگ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔

ہلدی کی خصوصیات

ہلدی کا باقاعدہ استعمال سے حیرت انگیز فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہلدی اپنے اندر جادوائی خواص رکھتی ہے۔ امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق اس میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی بیکٹیریل ،اینٹی وائرل اوراینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں کے لیے بھی مفید ہے۔

ہلدی میں بے پناہ غذائیت موجود ہے اس میں شامل پوٹاشیم دل اور بلڈ پریشرکو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہےاور اس میں شامل آئرن خون کے سر خ خلیوں کو بڑھاتا ہے۔خون کی کمی دور کرنے کے علاوہ یہ خون کو صاف بھی کرتی ہے۔ ہلدی میں وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین اور زنک شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں معدنیات اور فولاد پائی جاتی ہے لیکن ان سب کے باوجود اس میں سرکومن نامی اینٹی آکسیڈنٹس عنصر جادوئی اثر رکھتا ہے۔ ان تمام خصوصیات کی وجہ سے اسے کئی طبی امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نمک ہلدی اور سرسوں کا تیل ملاکر اس سے روزانہ دانت صاف کرنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔

ہلدی کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔تیزابیت کے ازالہ کی مخصوص دوا ہے۔ یہ گلے کی سوزش ، جوڑوں کی سوزش کے لئے فائدہ مند ہے۔ یہ جسم سے ایسے عناصر کو مٹا دیتی ہے جس سے گٹھیا کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ محافظ جگر ادویہ میں اسے ممتاز مقام حاصل ہے ، جگر کی سوزش (ہیپاٹائٹس) اور یرقان میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہے۔

ہلدی جسم میں سے زائد چربی ختم کر کے وزن کم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔سرجری سےکچھ دن پہلے ہلدی کا استعمال سرجری کے دوران دل کے دورے کے خدشے کوساٹھ فیصدتک کم کردیتا ہے۔ہلدی جگر کو صاف کرتی ہے۔ اس میں سے فضلہ کو خارج کرتی ہے۔ جس سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔

چوٹ یا زخم کا علاج

یہ ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے۔ اس میں اینٹی وائرل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس لئے متعدی امراض میں فائدہ مند ہے اور اسی وجہ سے چوٹ ، درد اور اندرونی سوزش (انفیکشن) میں ہلدی کا بیرونی اور اندرونی استعمال کیا جاتا ہے ۔زخم کیسا بھی ہو ہلدی کا پیسٹ لگانے سے ہفتہ دس دن میں خشک ہوکر بھر جاتا ہے۔ جوڑوں کےدرد، آپریشن کے بعد اور عام درد میں بھی یہ بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہ جسم کے اندر سوزش اور جلن کوبھی ختم کرتی ہے۔ لہسن اگر سونے کے بہاؤ بھی ملے تو استعمال کریں، کیوں جانیے

اینٹی سیپٹک جراثیم مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اگر کسی کو چوٹ لگ جائے تو اس کی چوٹ پر اکثر ہلدی کا لیپ لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی ڈال کر پینے سے جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ اس سے متاثرہ جلد ٹھیک ہوجاتی ہے۔ باؤلے کتے کے کا ٹنے پر مریض کو ایک تولہ ہلدی پانی کے ساتھ دن میں دو بار کھلا نا مفید ہوتاہے اور کاٹی ہو ئی جگہ پر ہلدی کا لیپ لگا دیں، مریض کا زخم جلدی بھر جائے گا۔

کینسرسے بچاؤ

تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہلدی عام بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر بھگانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس آنتوں، چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کے علاوہ خون کے سرطان(لیوکیمیا)کے علاج اور اس سے بچاؤ کے لیے بھی مفید ہے۔سائنسدانوں کے مطابق ہلدی میں قدرتی طور پر پایا جانیوالا کیمیائی مادہ’’کرکیومن‘‘کینسر زدہ خلیات کی افزائش کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کولیسٹرول لیول کم کرنا

تحقیقات کے مطابق اگر ہلدی محض کھانوں میں مسالحے کے طور پر ہی استعمال کرلی جائے تو اس سے کولیسٹرول لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ہلدی شریانوں کی بندش روکنے اور کولیسٹرول گھٹانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس میں شامل پوٹاشیم بلڈ پریشرکو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔جسم میں کولیسٹرول کا تناسب سہی رکھنا جسم کو امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

یاداشت کی بہتری کےلئے

سائنسی تحقیق کے مطابق ہلدی یاداشت کی کمزوری کے عارضہ الزائمر سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔یہ دماغ کی آکسیجن کے حصول کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے ۔جس کی وجہ سے دماغی افعال میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔ ہلدی میں قدرتی طورپر موجود اہم جزو کرکومین دماغی انحطاط کے باعث لاحق ہونے والےمرض الزائمر جوعموماً معمر افراد کو لاحق ہوتا ہے ، کے علاج میں کافی فائدہ مند ہے ۔ لال مرچ کے فوائد و نقصانات

اس مرض کی ابتدا میں یاداشت کمزور ہوتی ہے پھر وقت گزرنے کے ساتھ مریض اپنے قریبی عزیزوں کی پہچان تک کھو بیٹھتا ہے اور اپنے روزمرہ کے معمولات ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔اس بیماری کی وجہ دماغی خلیوں میں پروٹین کا انجماد ہے، جس سے خلیوں کے درمیان برقی رابطوں میں تعطل پیدا ہونے لگتا ہے۔

جب کہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض میں دماغ کے متاثرہ خلیے اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں۔سائنسدانوں کا کہناہے کہ ہلدی، دماغ میں نئے اعصابی ریشوں کے بننے کا عمل تیز کردیتی ہے ، جس سے دماغی انحطاط کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اس طرح یہ دماغی کمزوری دور ہوکریاداشت بہتر ہوجاتی ہے۔

ذیابیطس سے بچاؤ

ہلدی ذیابیطس میں بھی مفید ہے یہ ذیابیطس کے مریضوں میں یہ اینٹی ذیابیطس اور اینٹی اوکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔جگر میں گلوکوز کی پیداوار کو کم کرکے خون میں گلوکوز کی سطح کوکم کرتی ہے ۔ اور انسولین مقدار کو اعتدال پر لاتی ہے۔ذیابیطس میں استعمال ہونے والی ادویات کے اثر کو بڑھا دیتی ہے ۔ گوشت کا نعم البدل

اس مقصد کے لئے گرم دودھ میں کچی ہلدی ابال کر یا اس کا سفوف ایک چمچ ملا کر پینے سے فائدہ ملتا ہے۔ البتہ اگر تیز ادویات کے ساتھ اس کا استعمال کیا جائے تو خون میں شوگر کا لیول ضرورت سے زیادہ کم بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذیابطیس کے مریض کو معالج کے مشورے سے ہلدی کا استعمال کرنا چاہیے۔

جلدی امراض سے بچاؤ

خوبصورتی کے لئے قدیم زمانے سے ہلدی کے استعمال کو بہترین مانا جاتا ہے ہلدی نہایت سستی بیوٹی پروڈکٹ ہے ہلدی دانت صاف کرتی ہے اور جلد کو خوبصورت بنانے کے لیے ہزاروں سال سے استعمال ہورہی ہے۔ یہ جلد کو دھوپ کی مضرصحت الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھ کر اسے جھلسنے اور مزید تباہی سے دور رکھتی ہے۔ اس کا استعمال مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے جسے بھولنے کی بیماری، مختلف اقسام کی الرجی جوڑوں کے درد وغیرہ میں فائدے مند ثابت ہوتی ہے۔

داغ دھبوں سے نجات

چہرے پر داغ دھبوں کی صورت میں ہلدی کا پاؤڈر اور صندل کی لکڑی کا پاؤڈر ہم وزن لیں۔ اور اس میں لیموں کا رس ملا کے پیسٹ بنا لیں۔ پندرہ منٹ تک چہرے پر لگارہنے دیں۔ اور پھر نیم گرم پانی سے دھو لیں ۔ہفتے میں دو باراستعمال کرنے سے چہرے سے داغ دھبے ختم ہو جائیں گے۔

خشک اورچکنی جلد کے لئے

خشک جلد کے لئے انڈے کی سفیدی، دو قطرے زیتون کا تیل، چند قطرے تازہ لیموں کا رس اور ایک چٹکی ہلدی کو اچھی طرح مکس کر کے پیسٹ بنا لیں اورمتاثرہ حصوں پر لگائیں اور مکمل طور پر خشک ہونے کے بعد نیم گرم پانی سے دھو لیں۔ چکنی جلد کے لئے ہلدی کا ماسک بہت فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔ چکنی جلد کے لئے اس کا پیسٹ بنانے کے لئےایک چمچ صندل پاؤڈر میں ایک چٹکی ہلدی کے ساتھ تین چمچ اورنج جوس ملا کے پیسٹ بنا لیں اور جلد پر استعمال کریں۔ ۔

جھریوں کا خاتمہ

چہرے پر جھریوں کےخاتمے کے لئے ہلدی پاؤڈر، چاول کا آٹا، خشک دودھ اور ٹماٹر کے جوس میں اچھی طرح ملا کے پیسٹ بنا لیں تیس منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں اسکے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ۔اس سے نہ صرف جھریوں کا خاتمہ ہو گا بلکہ چہرے کی رنگت بھی نکھر جائے گی۔

آنکھوں کے گردسیاہ حلقے

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو ختم کرنے کے لئے دو چمچ بٹر ملک میں ایک چٹکی ہلدی ملا کے آنکھوں کے گرد بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اسکے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ہفتے میں دو بار استعمال سے آنکھوں کے گرد موجود سیاہ حلقے ختم ہو جائیں گے۔

بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنا

بڑھتی عمر کے جلد پر ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے لئے بیسن اور ہلدی کو ہم وزن لے کر پانی ملائیں اور پیسٹ بنا لیں اس پیسٹ میں بہترین نتائج کے لئے خشک دودھ یا دہی بھی استعمال کر سکتے ہیں پیسٹ کو چہرے پر لگائیں اور خشک ہونے کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں اس پیسٹ کو پورے جسم پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

ذہنی ڈپریشن، ذہنی تناؤ کا علاج

ہلدی ڈپریشن ،ذہنی تناؤ اور اداسی کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ 500 ملی گرام سرکومن ( جو دو چمچ ہلدی میں ہوتا ہے) کھانے سے عین وہی اثر ہوتا ہے جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن کھانے سے ہوتا ہے۔اس طرح موثر طریقے سے اس کے استعمال سے ذہنی ڈپریشن، تناؤ سے بچا جا سکتا ہے۔

نفسیاتی خوف سے نجات

ہلدی میں نہ صرف بے خوابی کا عمدہ علاج ہےبلکہ یہ خوف اور دیگرکئی نفسیاتی بیماریوں میں بھی مؤثر ہے۔ ماہرین نفسیات کی ایک تحقیق کے مطابق یہ نہ صرف دماغ میں موجود کسی بھی قسم کےنفسیاتی خوف کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ بلکہ یہ ذہن میں پیدا ہونے والے نئے خوف کو بھی روکتی ہے۔

جو لوگ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر اور دیگر نفسیاتی عدم توازن کا شکار ہوکر خوف میں مبتلا ہوں تو ایسے افراد کے لیے ہلدی سے تیارکردہ غذائیں انتہائی مفید ہیں۔علاوہ ازیں ہلدی میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ آپ کے دماغ سے برے واقعات کو بھلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

چینونٹیوں سے نجات

چیونٹیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس جگہ پر جہاں چیونٹیاں بہت زیادہ ہوں وہاں پر تھوڑی سے ہلدی ڈال دیں، ساری چیونٹیاں بھاگ جائیں گی اور دوبارہ وہاں پر نہیں آئیں گی۔

ہلدی کی چائے

ہلدی کے حیرت انگیز فوائد حاصل کرنے کےلئے ہلدی کی چائے بنا کر بھی پی جا سکتی ہے۔ایک کپ ناریل کا دودھ ، ایک کپ پانی ، ایک چمچ دیسی گھی ، ایک چمچ شہد اور ایک چمچ ہلدی کا سفوف لیں۔سب سے پہلے کوکونٹ ملک اور پانی کو 2 منٹ تک ابالیں پھر اس میں شہد ، دیسی گھی اور ہلدی ڈال کر مزید دو منٹ ابالنے کے بعد چولہے سے اتار لیں۔کوکونٹ ملک(ناریل کا دودھ) نہ ملے تو عام دودھ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ تاہم اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر، وغیرہ )پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

ضروری نوٹ:ہلدی سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔تاہم ان ترکیبوں ،طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج (طبیب،ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں