دودھ کے فوائد اور استعمال – دودھ کے ذریعے علاج

دودھ تمام ضروری اور اہم اجزائے غذائیہ اور وٹامنز سے بھرپور ہے۔ دودھ ہی ایک ایسی چیز ہے جو ابتدائی غذا ہے۔ یعنی بچہ کے پیدا ہوتے ہی جو اس کو غذا حاصل ہوتی ہے وہ صرف دودھ ہے۔ اور دو اڑھائی سال کی عمر تک بچے کی پرورش محض دودھ ہی سے ہوتی ہے۔

اچھا دودھ کون سا ہے؟

بہترین دودھ اس حیوان کا ہے جو جوان فربہ صحیح المزاج تندرست ہو، دودھ وہ بہتر ہے جو بہت سفید ہو۔ اس کے اجزا ایک سے ہوں اور اس میں ترش تیز تلخی یا بوند وغیرہ نہ ہو اور جب ناخن پر دودھ کا قطرہ گرایا جائے تو وہ جلدی نہ پھیلے۔ اور چارہ وغیرہ اس حیوان (جانور) کو برا نہ کھلایا جاتا ہو۔

دودھ وہ بہترین ہے جو تھنوں میں رات بھر نہ رہا ہو بلکہ دن میں جمع ہو اور دن میں ہی دوہ لیا جائے۔ بھینس کا دودھ ثقیل ، بادی اور نفاخ ہوتا ہے۔ لہذا مریضوں کو اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اگر مجبوراً اس کا استعمال کرنا ہو تو بھینس کے دودھ میں چوتھائی صاف پانی ملا کر استعمال کیا جائے۔

گائے کا دودھ ہلکا اور زودہضم ہوتا ہے اور اس سے زیادہ ہلکا اور زود ہضم بکری کا دودھ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے مریضوں کے لیے گائے اور بکری کا دودھ ہی مناسب ہوتا ہے۔

 دودھ کے فوائد

دودھ مصفی خون بھی ہے۔ یعنی دودھ کے استعمال سے خون صاف ہوتا ہے، اس کے علاوہ امراض مردانہ اور امراض زنانہ میں دودھ ایک لاثانی غذا ہے۔ دماغی اور اعصابی کمزوری اور ضعف گردہ کے لیے یہ بہترین چیز ہے۔ دودھ ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اور چہرے کی رنگت اچھی کرتا ہے۔

رنگ گورا کرنے کے لیے دودھ کا استعمال

دودھ میں کیلیشم کی وافر مقدار ہوتی ہے۔ جو کہ جلد کی رنگت نکھارنے میں مدد دیتی ہے ۔کیلشیم ہمارے جسم کا بہت اہم جزو ہے ۔ جسم کے اوپری جلد میں کیلشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جس کی کمی جلد کو سیاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دودھ جسم میں کیلشیم کی کمی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ خشکی بھی دور کرتا ہے۔ ۔ اس کے روزانہ استعمال سے جلد اندر سے صاف ہوجاتی ہے۔ دودھ کے استعمال سے رنگ گورا کرنے کا مکمل طریقہ جاننے کے لیے آپ ہماری تحریر رنگ گورا کرنے کے قدرتی طریقے پڑھ سکتے ہیں۔

 مردانہ اور زنانہ امراض کا خاتمہ

جریان، سرعت انزال، رقت منی، احتلام، لیکوریا اور کثرت حیض وغیرہ جیسے امراض اور بقیہ ہر قسم کے وہ امراض جن میں دودھ کا استعمال ضروری اور جائز ہو، محض بکری یا گائے کا دودھ استعمال کیا جائے۔ البتہ قوت باہ میں اضافے اور مردانہ کمزوری کے خاتمے کے لیے گائے یا بھینس کا دودھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے : قوت باہ کیا ہے، قوت باہ میں اضافے کے قدرتی طریقے

نزلہ زکام سے نجات

موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی نزلہ زکام کی شکایت عام ہو جاتی ہے۔ نزلہ زکام کی شکایت کی صورت میں دودھ میں ہلدی ،تھوڑا سا ادرک کا رس اور چٹکی بھر پسی کالی مرچ ملا کر پی لیں ۔ اس سے نزلہ زکام میں خاصا فرق پڑ جاتا ہے۔ یہ بھی پڑھیے: نزلہ زکام سے نجات کے قدرتی اور گھریلو ٹوٹکے

پٹھوں کی اکڑن سے نجات

اگر آپ کی کمر میں درد ہے یا آپ جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے پریشان ہیں تو تو ادرک کو دودھ میں ہلدی کے ساتھ ملا کر استعمال کریں۔ جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے نجات کا بہترین طریقہ اگر ورزش کے دوران یا بعد میں کوئی پٹھا اکڑ جاتا ہے تو اس طریقے سے پٹھوں کی اکڑن کی تکلیف سے بھی نجات مل جاتی ہے۔

دودھ کا استعمال جلد کو نرم و ملائم اور بے داغ بناتا ہے

کھیرے اور دودھ کا ماسک جلد کو نرم و ملائم اور بے داغ بناتا ہے ایک چائے کا چمچ دودھ، ایک چائے کا چمچ کھیرے کا رس اور پانچ قطرے عرق گلاب مکس کریں اور چہرے اور گردن پر لگا لیں، پندرہ منٹ بعد اسے صاف کر دیں۔ یہ نہایت شاندار وائٹنر ہے، جسے آپ وقتاً فوقتاً اپنے چہرے پر لگا سکتی ہے۔

دودھ ہونٹوں کو نرم و ملائم اور خوبصورت بناتا ہے

ہونٹوں پر قدرتی لالی لانے کیلئے تھوڑا اسا زعفران لے کر پیس لیں اور اس میں دودھ یا بالائی ملا کر اپنے ہونٹوں پر لگائیں۔ اور پانچ منٹ کے بعد ہونٹ صاف کر لیں۔ اس سے نہ صرف ہونٹ نرم ہوں گے بلکہ ہونٹوں پر قدرتی لال بھی آ جائے گی۔اور ہونٹوں کے بل بھی دور ہو جائیں گے۔

کسی وجہ سے ہونٹ سیاہ پڑ گئے ہوں تو کچے دودھ میں روئی کے ٹکڑے کو بھگو کر ہونٹوں پر نرمی سے دن میں تین سے چار بار لگائیں۔ کچھ دنوں کے باقاعدہ استعمال سے ہونٹ گلابی ہو جائیں گے۔

دودھ میں ہلدی ملا کر استعمال کرنا

ہلدی اور دودھ کے جہاں بے شمار فوائد و خصوصیات ہیں۔ وہیں اگر دودھ اور ہلدی کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے تو اِن کے فوائد کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ہلدی ملا دودھ ایک ایسا انرجک ڈرنک ہے جس کو استعمال کرنے کے بے شمار فوائد و خصوصیات ہیں۔ مکمل تفصیل جاننے کے لیے آپ ہماری تحریر ہلدی ملا دودھ استعمال کرنے کے فوائد پڑھ سکتے ہیں۔

دودھ میں شہد ڈال کر پینے کے فوائد

شہد اور دودھ کے فوائد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے شہد، دودھ اور شراب الصالحین کی نہریں بنائی ہیں۔ دودھ میں شہد ڈال کر پینے کے بے شمار فائدے ہیں۔

یہ وہ قدرتی مصنوعات ہیں جو ہماری صحت کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس لیے لوگ ان کی ایک ایک بوند کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر شہد اور دودھ  ملاکر استعمال کیا جائے تو جسم کو اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ دودھ میں شہد ڈال کر پینے کے مکمل فوائد جاننے کے لیے آپ ہماری تحریر دودھ میں شہد ڈال کر پینے کے فائدے پڑھ سکتے ہیں۔

خون کی کمی کو پورا کرنا

خون کی کمی کو دور کرنے کے لئے کالے تل نیم گرم پانی میں بھگو کر گرائنڈ کر کے چھان کر اس میں دودھ ملا کر پیا جائے تو چند روز میں خون کی کمی دور ہوجاتی ہے۔

دوران حمل دودھ کا استعمال

حمل کے دوران کیلشیم کی ضرورت ماں اور بچے کو بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت ضروری ہے۔ کیلشیم کی ضرورت پور ا کرنے کے لیےضروری ہےکہ حاملہ خواتین اپنی خوارک میں دودھ، پنیر اور دہی کا استعمال کریں۔ کیونکہ ان میں کیلیشم اور وٹامن ڈی ہوتا ہے جو ہڈی اور دانتوں کے لیے ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ روزانہ ایک بڑا گلاس دودھ پئیں۔

یہ بھی پڑھیے : حاملہ خواتین دوران حمل کون سی خوراک کا استعمال کریں

دودھ کے نقصانات

ملیریا بخار اور اس قسم کے دوسرے بخاروں میں جو عفونت کے باعث لاحق ہوتے ہیں۔ دودھ کا استعمال قطعی بے مناسب ہے کیونکہ ایسے بخاروں میں معدہ اور جگر ضرور خراب ہو جاتے ہیں اور اس صورت میں جب دودھ کا استعمال کرایا جاتا ہے تو اس سے معدہ اور جگر کی خرابی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب یہ عفونت کو بڑھا کر بخار کی زیادتی، طوالت اور شدت کا باعث ہوتا ہے۔ جگر معدہ اور آنتوں کے تمام امراض کے لیے دودھ انہتائی مضرت رساں ہے۔ بواسیر کے مریضوں کو اس کا استعمال نہیں کرانا چاہیے۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔

آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیاپر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

ضروری نوٹ : دودھ کے فوائد سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔اس لیے ان ترکیبوں ، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے  اپنے معالج  (طبیب، ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

One comment

اپنی رائے کا اظہار کریں