لکنت یا ہکلاہٹ کیا ہے، زبان کی لکنت کی وجوہات اور علاج

زبان کی لکنت یا ہکلانے سے مراد بولنے میں کسی قسم کی خرابی کا پیدا ہوجانا ہے جس سے کوئی بھی انسان یا تو رک رک (اٹک اٹک) کر بولتا ہے یا الفاظ بار بار دہرانے لگتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے شخص کو دیگر مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے جیسے کہ آنکھوں کا بار بار جھپکنایا ہونٹ کپکپانا۔

ایسے لوگوں کو دوسروں سے بات کرنے میں جھجک محسوس ہوتی ہے جس کے باعث ان کی زندگی کا معیار بھی متاثر ہوجاتا ہے ۔ زبان میں لکنت آسانی سے ظاہر ہو جاتی ہیں۔ عام طور پر ایسے لوگ فون پہ یا کسی حجوم میں بات کرتے ہوئے ہکلانے لگتے ہیں ۔

دنیا میں سات کروڑ افراد ایسے ہیں جو ہکلاہٹ کا شکار ہیں یا جن کی زبان میں لکنت ہے۔یہ سمجھ لیجیے کہ ہر سو میں سے ایک آدمی اس بیماری میں مبتلا ہے۔

اس بیماری میں مبتلا افراد گفتگو کے دوران کسی ایک حرف کی آواز کو بار بار دہراتے ہیں، کسی لفظ میں موجود کسی ایک حرف (عموماً شروع کے حرف) کو ادا نہیں کر پاتے اور بڑی مشکل سے اپنا جملہ مکمل کرتے ہیں۔ایسا وہ جان بوجھ کر نہیں کرتے بلکہ یہ عمل ان سے غیر اختیاری طور پر سرزد ہوتا ہے۔

اس بیماری کے شکار افراد کا زیادہ تر مذاق اڑایا جاتا ہے اور لوگ ان کی پریشانی کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ہکلا‌نے والے اشخاص حد درجہ کے نالائق اور جاہل ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ کسی ایک مشکل لفظ پر اٹک جاتے ہیں تو اسے چھوڑ کر آسان لفظ کیوں نہیں استعمال کرتے ۔

انسان کو کسی بھی تکلیف کا اندازہ تب ہوتا ہے جب اسے خود وہ تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ذراہکلا‌نے والوں کی مشکل کا تصور کریں۔‏ کسی چیز کی قیمت پوچھتے وقت ان کے پسینے چھوٹنے لگتے ہیں اور بولتے وقت وہ اکثر پہلے ہی لفظ پر اٹک جاتے ہیں۔‏ایسے میں ان کی دلی اور ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہو گی، اس کا تصور بھی محال ہے۔

دلچسپی کی بات ہے کہ ہکلا‌نے والے لوگ عموماً اس وقت بولنے میں دقت محسوس نہیں کرتے جب وہ گانا گاتے ہیں،‏ کھسرپھسر کرتے ہیں،‏ پالتو جانوروں سے بات کرتے ہیں،‏ خودکلامی کرتے ہیں،‏ دوسروں کی نقل اتارتے ہیں یا دوسروں کے ساتھ مل کر ایک بات کو دہراتے ہیں۔

‏ ہکلا‌نے کی بیماری کو نفسیاتی بیماری سمجھا جاتا تھا لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔ اس لئے اس کا علا‌ج محض یہ نہیں کہ ہکلا‌نے والے کو یقین دلایا جائے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گا۔‏‏ البتہ ہکلا‌نے والے لوگ اکثر اپنی بیماری کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکا‌ر ہو جاتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر وہ فون پر یا پھر لوگوں کے سامنے بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔‏

مشہور شخصیت جن کی زبان میں لکنت تھی

بہت سے لوگ جو ہکلا‌ہٹ کا شکا‌ر ہیں،‏ اس بیماری کے باوجود کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔‏ یہاں تک کہ ہکلا‌نے والے لوگوں میں سے بعض نے شہرت بھی حاصل کی ہے۔‏ ان میں سائنس‌دان سر آئزک نیوٹن،‏ سابقہ برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اور امریکی اداکار جیمز سٹورٹ بھی شامل ہیں۔

‏ کئی ہکلا‌نے والے لوگوں نے ایسی مہارتیں حاصل کی ہیں جن میں بولنے کی ضرورت نہیں ہوتی،‏ مثلاً کوئی ساز بجانا،‏ مصوری کرنا،‏ اشاروں کی زبان سیکھنا،‏ وغیرہ۔‏

اگر ہمیں ہکلا‌ہٹ کی بیماری نہیں ہے تو ہمیں ان لوگوں کی مشکل کو سمجھنا چاہئے جو اس مرض میں مبتلا ہیں۔‏ ہمیں ان کی کوششوں کی قدر کرنی چاہئے اور ان کی حوصلہ‌افزائی بھی کرنی چاہئے۔‏

لکنت کی اقسام

زبان کی لکنت کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ ایک قسم کی لکنت و ہ ہوتی ہے جو عام طور پر بچوں کی زبان میں اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب ان کے بڑھنے کی عمر ہوتی ہے یعنی دو سے پانچ سال کی عمر میں۔

دوسرے قسم کی لکنت اعصابی ہوتی ہے جس کی وجہ سر پہ لگنے والی چوٹ، دل کا دورہ یا کوئی ذہنی دباؤ ہو سکتی ہے ۔ ایسے میں دماغ اور آواز پیدا کرنے والے پٹھوں میں رابطہ تعطل یا توقف کا شکا ر ہوجاتا ہے ۔

زبان میں لکنت کی وجوہات

جدید تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ہکلا‌ہٹ کی صرف ایک وجہ نہیں بلکہ مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔جو مندرجہ ذیل ہیں۔

  • انسانی آواز کئی مربوط پٹھوں کی حرکت سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس عمل میں سانس لینے، پٹھوں ، ہونٹوں اور زبان کے حرکت کرنے کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ نرخرے اور اس کے اردگرد موجود پٹھوں کی حرکت کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے۔دماغ بولنے کے ساتھ ساتھ سننے اور چھونے کی صلاحیتوں کو بھی مانیٹر کرتا ہے ۔جب دماغ اور دیگر اعضاء میں باہمی ربط نہیں رہتا تو لکنت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
  • ماہرین کے مطابق یہ مرض پیدائشی بھی ہوسکتا ہے، اور نفسیاتی مسائل کے باعث مخصوص حالات میں بھی سامنے آسکتا ہے۔ بعض افراد کسی پریشان کن صورتحال میں بھی ہکلانے لگتے ہیں جو جزوی ہوتی ہے۔
  • ہکلاہٹ کی ایک اہم وجہ ٹینشن لینا بھی ہوتی ہے۔ اس بیماری کو موروثی بیماری بھی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ تقریباً 50فیصد ہکلا‌نے والوں کے کچھ قریبی رشتہ‌دار بھی ہکلا‌تے ہیں۔
  • تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ اس بیماری میں مبتلا لوگوں کا دماغ ان کے بات کرنے کے اعضا سے صحیح طور پر رابطہ نہیں کرتا ہے۔ عام طور پر دماغ بولنے کے اعضا ءکو الفاظ کی ادائیگی کے سلسلے میں بڑی تیزی سے ہدایات دیتا ہے۔‏ لیکن ہکلا‌نے والے لوگ جب بولنا شروع کرتے ہیں تو ان کا دماغ یہ ہدایات کچھ وقفے کے بعد دیتا ہے۔‏جس سےوہ رک رک کے بولنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
  • ‏ ہکلاہٹ کی ایک اور وجہ بچوں کی نشونما میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں یا بڑی عمر کے افراد میں عموماً اس مسئلہ کی وجہ فالج کا دورہ یا دماغ کی چوٹ ہوتا ہے۔
  • ایک تحقیق کے مطابق ہکلاہٹ کا تعلق بول چال سے منسلک خلیوں کی کمزوری سے ہوسکتا ہے۔جبکہ ایک اور تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ زبان کی لکنت کی وجہ جسم میں موجود تین مختلف جینز میں پایا جانے والا نقص ہے۔

احتیاطیں

کسی ہکلا‌نے والے شخص سے بات کرتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں۔

  • اسے یہ تاثر نہ دیں کہ آپ جلدی میں ہیں۔‏ زندگی کی بھاگ دوڑ اور مصروفیت کی وجہ سے ہکلا‌نے والوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔‏
  • تیزی سے بات نہ کریں۔‏ اس کی بات کو غور سے سنیں۔‏ نہ تو اس کی بات کاٹیں اور نہ ہی اس کے جملے مکمل کریں۔‏ تھوڑا سا وقفہ دے کر جواب دیں۔‏
  • ہکلانے والے شخص کی تنقید یا درستی نہ کریں۔‏بلکہ اس کی طرف متوجہ رہیں۔‏ اپنے اشاروں،‏ چہرے کے تاثرات اور باتوں سے ظاہر کریں کہ آپ کا دھیان اس کی بات پر ہے نہ کہ اس کے بات کرنے کے انداز پر۔‏
  • لکنت والے شخص کے سامنے ہکلا‌نے کی بیماری کا ذکر کرنے سے نہ ہچکچائیں۔‏ اگر آپ مسکرا کر کچھ یوں کہیں کہ ”‏پریشان نہ ہویار،‏ ہم سب کوکبھی کبھار بات کرتے وقت دقت پیش آتی ہے“‏ تو اس کی گھبراہٹ کم ہو جائے گی۔‏
  • اسے اس بات کا یقین دلائیں کہ آپ اسے کم‌تر خیال نہیں کررہے ہیں۔‏

زبان کی لکنت کا علاج

قدیم زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ ہکلا‌نے والوں پر جن‌بھوت کا سایہ ہے۔‏ اس لئے وہ جن‌بھوت کو نکا‌لنے کے لئے عمل کرتے تھے۔‏ پھر لوگ خیال کرنے لگے کہ اس بیماری کی اصل وجہ زبان میں کوئی نہ کوئی نقص ہے۔‏ اس وجہ سے وہ اس کا علا‌ج زبان پر گرم لوہا اور مرچیں لگا‌نے سے کرتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ‌ساتھ ڈاکٹروں نے علا‌ج کے نئے طریقے آزمائے،‏ مثلاً وہ زبان کے اعصاب اور پٹھوں کو کاٹ دیتے تھے یا پھر گلے کی گلٹی کو نکا‌ل دیتے تھے۔‏ لیکن ان طریقۂ‌علا‌ج میں سے کوئی مؤثر نہیں تھا۔

‏آج کے دور میں لکنت کے علاج کے لیے مختلف اقسام کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ علاج کی نوعیت انسان کی عمر ، تبادلہ خیال کرنے کے مقاصد اور دیگر عوامل پر منحصر ہوتی ہے ۔

چھوٹے بچوں کو عام طور پر اسپیچ تھیراپی دی جاتی ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی عمر میں ہی اگر بچوں کی اس تکلیف کا علاج کرلیا جائے تو انھیں آگے چل کر اس کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ہکلاہٹ کو دور کرنے کے لیے والدین کو گھر میں ایک مثبت ماحول مہیا کرنے اوربچوں کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ جبکہ بچوں کو ہر وقت ٹوکنے سے منع کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بچے میں لکنت کی وجوہات اور علاج

ایسے بچوں سے دھیمے لہجے میں دھیرے دھیرے بات کرنی چاہیے تاکہ ان پرزیادہ دباؤ نہ پڑے۔ ساتھ ہی کھل کر اور ایمانداری سے ایسے بچوں کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اگر بچوں میں ہکلاہٹ ہو تو ایسے بچوں کو صبح سویرے شہد اور کلونجی کا سفوف زمزم کے پانی کے ساتھ دیتے رہنے سے زبان صاف ہوجاتی ہے اور بچوں کا توتلا پن ختم ہو جاتا ہے ـ

آجکل جدید طریقۂ‌علا‌ج سے ہکلا‌ہٹ کے مرض میں بہتری آ سکتی ہے۔‏ مثال کے طور پر مریضوں کو پیٹ سے سانس لینا اور جبڑوں،‏ ہونٹوں اور زبان کے تناؤ کو ختم کرنا سکھایا جاتا ہے۔‏ انہیں بولنے سے پہلے پیٹ سے ہلکے سانس لینا اور پھر تھوڑی سانس نکا‌ل کر لفظ ادا کرنا بھی سکھایا جاتا ہے۔‏

اس کے علا‌وہ ان کو چند حروف کو لمبا کرکے بولنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے۔‏ جوں‌جوں مریض کی بولنے کی صلا‌حیت میں بہتری آتی ہے،‏ لفظوں کی ادائیگی میں بھی روانی آ جاتی ہے۔‏

زبان میں بہتری لانے کے ان طریقوں کو چند ہی گھنٹوں میں سیکھا جا سکتا ہے۔‏ لیکن ٹینشن لیتے وقت انہیں عمل میں لانا آسان نہیں ہوتا۔‏ اس سلسلے میں بڑی کوشش درکار ہے۔

کبھی‌کبھار ڈاکٹر ایسے آلات استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جن کے ذریعے مریض بولتے وقت اپنی آواز تھوڑے وقفے کے بعد سنتا ہے یا پھر وہ مریض کو ٹینشن کم کرنے کے لئے دوائی دیتے ہیں۔‏

‏لکنت کا شکار اکثر افراد خود اعتمادی کی کمی کا شکار بھی ہوجاتے ہیں جو ان کے لیے زندگی میں کئی مسائل کا باعث بنتا ہے۔ لکنت کا سب سے پہلا علاج تو آپ کو خود کرنے کی ضرورت ہے کہ جب بھی آپ اپنے آس پاس کسی شخص کو ہکلاہٹ کا شکار دیکھیں تو اس کا مذاق نہ اڑائیں اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تربیت دیں۔

ہکلاہٹ پر قابو پانے کے لیے مختلف اسپیچ تھراپی کی جاتی ہیں جن میں سانسوں کی آمد و رفت اور گفتگو کو مختلف انداز میں ادا کیا جاتا ہے۔ یہ تھراپی کسی مستند معالج کے مشورے اور نگرانی میں کی جاسکتی ہے۔

زبان میں لکنت سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔

آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

ضروری نوٹ: زبان میں لکنت سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ ان ترکیبوں ، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج (طبیب، ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔ اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

2 comments

اپنی رائے کا اظہار کریں