علم سنیاس کیا ہے، سنیاسی کسے کہتے ہیں۔ سنیاسی علاج و نسخے

وہ بوٹی جسے کھا کر شدید گرمی میں بھی سردی لگنے لگے، سانپ کے کاٹے کا تریاق، وہ بوٹی جسے کھا کر پندرہ دن تک بالکل بھی بھوک نہ لگے، بچھو، بھڑ اور شہد کی مکھی کے کاٹے کے لئے کراماتی ہاتھ بنانا، وغیرہ وغیرہ

ایسے جملے پڑھ کر آپ کے ذہن میں یہ سولات ضرور آتے ہوں گے کہ یہ سنیاسی کون ہوتا ہے؟ سنیاس کسے کہتے ہیں۔ سنیاسی طریقہ علاج کیا ہوتا ہے۔ تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایزی استاد میں آج ہم آپ کو اس بارے میں مکمل معلومات فراہم کریں گے۔ لیکن یاد رکھیں، یہ مضمون چونکہ انٹرنیٹ سے اٹھایا گیا ہے اس لیے اس کی صداقت پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

سنیاس اور سنیاسی

وہ شخص جو قدرتی جڑی بوٹیوں کے مرکب سے نسخہ جات بنا کر لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے یا مختلف دھاتوں کو کشتہ کر کےعلاج کرتا ہے، سنیاسی کہلاتا ہے، اور اس طریقہ علاج کو سنیاس کہتے ہیں۔ علم سنیاس جاننے والے مرد کو سنیاسی اور عورت کو سنیاسنی یا سنیاسن کہا جاتا ہے۔

سنیاس کے علم کے لیے کسی مذہب یا زبان کی کوئی قید نہیں، یہ علم برصیغر پاک و ہند میں بہت مقبول ہے۔ جہاں تک سنیاسی نسخہ جات کی افادیت کی بات ہے تو یہ انتہائی زوراثر اور بہت ہی خطرناک بیماریوں کی شفا یابی کا باعث بنتے ہیں، اگر وہ نسخہ کسی حقیقی سنیاسی کا ہی ہو، کیونکہ سنیاس ایک انتہائی کٹھن شعبہ طب جس میں سنیاسی کی زندگی بوٹیوں کی تلاش اور تجربات میں جنگلوں بیابانوں اور ویرانوں میں گزرتی ہے، مگر اب یہ عظیم فن ختم ہوتا جا رہا ہے۔

آج بھی لوگ ایسے سنیاسی کی تلاش میں رہتے ہیں جو کیمیا یعنی تانبے سے سونا بنانا جانتا ہو۔ لیکن یاد رکھیئے دنیا سے سنیاس لینے والے یہ راز آسانی سے کسی کو نہیں بتاتے۔ البتہ اگر خود ہی موڈ ہو یا کسی کی کوئی بات اچھی لگے تو بتا بھی دیتے ہیں۔ حکمت اور ویدک میں جتنے بھی کشتہ جات استعمال ہوتے ہیں، وہ اکثر و بیشتر سنیاسیوں کے بتائے طریقوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے : قوت باہ کیا ہے، مردانہ قوت باہ میں اضافے کے قدرتی طریقے

مشہور عام سانڈے کا تیل ہو یا سلاجیت کے نسخے، کیچوے کا طلا ہو یا بیر بہوٹی کا تیل، گینڈے کے سینگ سے نامردی اور مردانہ کمزوری کا علاج ہو یا بارہ سنگھے کے سینگ سے نمونیہ اور چلتی پسلی کا علاج۔ یہ سب اور اکثر ویدک مرکبات سنیاسیوں ہی کی دین ہیں۔

گرو اور چیلا:

کوئی بھی نو آموز بذات خود سنیاسی نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ کسی سنیاسی کی شاگردی اختیار نہ کرلے۔ پرانے بوڑھے تجربہ کار سنیاسی کا چیلا بننے کے لیے بھی بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، چیلا اپنے گرو کی سیوا کرتا ہے اور اس کا ہر حکم بلا چوں و چرا بجا لانے کا پابند ہوتا ہے۔

چیلا گرو کے ساتھ رہ کر گرو کی کہی اور کری (قول و فعل) ایک ایک بات کو پلو سے باندھتا رہتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنیاسیوں کو جڑی بوٹیوں اور ٹوٹکوں کے بارے میں کیسے علم ہوتا ہے؟ سنیاسی جنگلوں میں گھومتے ہیں جس سے ان پر فطرت کے کئ راز آشکار ہوتے ہیں۔

سانپ کے کاٹے کا تریاق:

مثال کے طور پر پنڈت کرشن کنور دت شرما اپنی کتاب میں ایک ڈاکٹر صاحب کا واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ بغرض سفر اجمیر کے جنگل سے گزرتے ہوئے اس نے ایک سیاہ شیش ناگ اور نیولے کے درمیان لڑائی کا منظر دیکھا۔ سانپ بار بار نیولے کو ڈستا لیکن نیولا بھی میدان میں جما رہا۔ جب زہر اثر کرنے لگتا تو نیولا بھاگ نکلتا لیکن کچھ ہی دیر میں پھر آ دھمکتا۔

ڈاکٹر نے دیکھا کہ نیولا کچھ دور جا کر ایک جھاڑی سے کچھ پتے کھاتا ہے اور پھر تازہ دم ہو کر سانپ سے مقابلے کے لیے آ جاتا ہے۔ بالآخر نیولے نے سانپ کو ہلاک کر ڈالا اور اور اپنی فتح کے جشن کے طور پر ایک مرتبہ پھر اس بوٹی کے کچھ پتے کھا کر جنگل میں غائب ہوگیا۔ ڈاکٹر سمجھ گیا کہ یہ بوٹی یقینا’ سانپ کے زہر کا تریاق ہوگی۔ اس نے بوٹی کی کچھ شاخوں کو توڑ کر اپنے تھیلے میں ڈال لیا کہ کبھی وقت پڑنے پر اس کی آزمائش کی جائے۔

سنیاسی طریقہ علاج، جڑی بوٹیوں سے علاج

اتفاق ایسا ہوا کہ جب وہ ڈاکٹر ریلوے اسٹیشن جاکھل سے ریل میں سوار ہوا تو وہاں ایک ایسا مریض دیکھا جس کے ہر موئے تن سے خون جاری تھا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس کو کسی انتہائی زہریلے سانپ نے ڈس لیا تھا۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے لیکن ڈاکٹر نے صاف جواب دے دیا۔ اب یہ لوگ مریض کی زندگی سے مایوس ہوکر اسے واپس گھر لے جا رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو اور تو کچھ نہ سوجھا، انھوں نے ذرا الگ جا کر اس بوٹی کو کچل پیس کر تین گولیاں بنا دیں کہ ایک گولی ابھی دے دو، اور باقی چند گھنٹے کے وقفہ سے دے دینا۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنا تعارف بھی کروا دیا کہ وہ سرسہ میں مطب کرتے ہیں۔ کچھ دیر بعد ان لوگوں کا اسٹیشن آگیا اور وہ اتر گئے۔ اس بوٹی کے اثرات دیکھنے کا شوق ڈاکٹر صاحب کے دل میں ہی رہ گیا۔ ڈاکٹر صاحب بٹھنڈہ ہوتے ہوئے سرسہ پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیے: مردانہ کمزوری کیا ہے، مردانہ کمزوری کی علامات وجوہات اور علاج

ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ کچھ دن بعد وہ اپنے مطب میں بیٹھے تھے کہ ایک جوان رعنا مطب میں داخل ہوا اور بعد سلام عرض کرنے لگا کہ جناب میں آپ کا بڑا احسان مند ہوں۔ آپ نے میری زندگی بچا کر مجھ پر اور میرے گھر والوں پر بڑا احسان کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس شخص کو قطعی نہ پہچان پائے۔

جس پر اس شخص نے اپنا تعارف کروایا کہ میں وہی مارگزیدہ ہوں جس کی زندگی بچنے کی کوئی امید نہ تھی لیکن آپ کی دوا نے تو معجزہ کر دیا۔ اب تو ڈاکٹر صاحب نے اس دوا کواپنے مطب کا معمول بنا لیا۔ اس دوا نے کبھی خطا نہ کی۔ اس بوٹی کا نام "گوما” ہے جو ویدک کی مایہ ناز بوٹی ہے۔ سانپ کاٹے کو چھ گرام سے لے کر بارہ گرام تک پانی میں گھوٹ چھان کر پلانے سے زہر کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ سانپ زیادہ زہریلا ہو تو دوبارہ بھی گھوٹ کر پلانی چاہیے۔

مئی جون میں کڑکتے جاڑوں کی سردی:

اسی طرح ہندوستان میں بعض سادھو مئی جون کی چلچلاتی دھوپ اور گرمی میں اپنے چاروں طرف انگیٹھیاں دھکا کر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگ اسے سادھو مہاتما کا چمتکار سمجھتے ہیں۔ اس کا راز ایک سنکھ مکھی نامی بوٹی ہے۔

اگر اس بوٹی کو گھوٹ چھان کر بطور سروائی پی لیا جائے تو سخت گرمی میں بھی دسمبر جنوری کے کڑکتے جاڑوں کی سردی لگنے لگتی ہے۔ اس بوٹی کا نام اس کے پھولوں کی شکل کی بنیاد پر رکھا گیا ہے جو چھوٹے چھوٹےنیلگوں سنکھ کی شکل کے ہوتے ہیں۔

سخت سردی میں مئی جون کی گرمی:

اسی طرح کچھ سادھو حضرات کڑکتے جاڑوں میں صبح سویرے دریا کے یخ بستہ پانی سے اشنان کرتے نظر آتے ہیں۔ اسے بھی ضعیف العقیدہ لوگ سادھو مہاراج کے گیان دھیان کا چمتکار سمجھتے ہیں، لیکن اس چمتکار کا راز بھی ایک بوٹی ہے کہ جس کی جڑ کی باجرے برابر مقدار کھا لینے سے آپ کو سخت برفیلی سردی میں بھی مئی جون کی گرمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس بوٹی کا نام مندورا ہے۔

یہ بوٹی کشمیر اور پونچھ کے پہاڑوں میں اسی نام سے ملتی ہے۔ اس کی شکل نربسی یعنی جدوار سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ یہ بوٹی انتہائی مقوی باہ ہے، لیکن مقدار خوراک باجرے کے دانے بلکہ اس سے بھی کم لینی چاہیے۔ ورنہ لالچی حضرات باہ کے نخل کو سرسبز کرنے کے چکر میں جد بازی میں کہیں شجر حیات کو ہی قطع نہ کر بیٹھیں۔

بچھو اور بھڑ کے کاٹے کے لیے کراماتی ہاتھ بنانا:

اسی طرح بچھو، بھڑ یا ڈینبھو کے کاٹنے کے لیے کراماتی ہاتھ بنایا جاتا ہے۔ کسی کو بچھو نے کاٹ لیا ہو، یا بھڑ شہد کی مکھی یا ڈینبھو وٖغیرہ نے تو بس اپنا ہاتھ کاٹے کی جگہ پر رکھ دیجیے۔ تین چار منٹ میں روتا مریض بھی ہنسنے لگتا ہے، اور کاٹےکا اثر زائل ہو جاتا ہے

۔ اس کو بھی لوگ کرامات سمجھتے ہیں لیکن ہم میں سے ہر شخص ایسا کراماتی ہاتھ بنا سکتا ہے۔ طریقہ اس کا یہ ہے کہ آم کے درخت میں پھول، جس کو آم کا بور بھی کہتے ہیں، پکنے پر آتا ہے تو اس میں سے بڑی اچھی خوشبو آنے لگتی ہے۔ بس یہی وقت ہے کراماتی ہاتھ بنانے کا۔ فرصت سے کسی آم کے باغ چلے جائیے۔

یہ بھی پڑھیے : ڈپریشن کیا ہے، ڈپریشن کی بیماری، علامات، وجوہات اور علاج

دو چار درختوں سے بور توڑ کر ایک رومال میں ڈال لیجیے۔ کوئی پاؤ بھر کے قریب۔ اب کسی جگہ آرام سے بیٹھ کر اس بور کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان مسلتے رہیے۔ جس طرح دونوں ہاتھوں میں صابن دبا کر رگڑا جاتا ہے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ عمل جاری رکھیے حتی کہ ہاتھوں پر بور کا میل اور رس خوب اچھی طرح جم جائے۔

اب بس آپ نے یہ کرنا ہے کہ ڈیڑھ گھنٹے ہاتھوں میں بور ملنے کے بعد تین چار گھنٹے تک اپنے ہاتھ نہ دھوئیں۔ اس کے بعد اپنے ہاتھ دھو لیجیے۔ لیجیے آپ بھی کراماتی ہاتھ کے مالک بن گئے۔ جہاں کبھی کوئی بچھو بھڑ یا شہد کی مکھی کاٹ لے اس جگہ اپنا ہاتھ رکھ دیجیے۔ چار پانچ منٹ میں درد وغیرہ سب کافور ہوجائے گا اور لوگ آپ کو بابا جی سمجھ کر عقیدت مند بن جائیں گے۔

لیکن یہ عمل آپ کو ہر سال کرنا پڑے گا۔ اس کی تاثیر ایک سال تک رہتی ہے۔ اگلے سال جب آم اکا بور آئے تو پھر یہ عمل کرلیجیے۔ یہ بارہا کا آزمایا اور مجرب عمل ہے اور اکثر گاؤں کے حکیم یا روحانی علاج وغیرہ والے کرتے ہیں، لیکن کسی کو بھنک تک نہیں پڑنے دیتے۔

اس طرح کے سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں سنیاسی نسخے اور ٹوٹکے ہیں جو سنیاسیوں کے صدیوں بلکہ ہزاروں سال کے تجربات پشت در پشت چلے آرہے ہیں۔ ارنڈ کا درخت، آکھ کا پودا، بسکھپرا اور دیگر بےشمار جڑی بوٹیاں ایسے حیرت انگیز خواص رکھتی ہیں کہ ان پر جادو منتر کا گمان ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک جڑ ہے جو پنساری کے پاس مل جاتی ہے۔ آپ اس کو کچھ مقدار میں کھا لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو مزید کچھ کھانے کی ضرورت نہیں۔ وہ آپ کے تمام غذائی ضروریات پوری کر دیتی ہے۔ سادھو سنیاسی جنگلوں میں اس کو دو وقت کھا کر ہفتوں بغیر کچھ کھائے گزار دیتے ہیں۔ جب بھی بھوک لگتی ہے اس کا ایک ٹکڑا چبا لیتے ہیں۔

وہ بوٹی جس کے کھانے سے پندرہ دن تک بھوک نہیں لگتی:

اسی طرح ایک بالکل عام ملنے والی بوٹی ایسی بھی ہے کہ جس کو کھانے کے بعد قطعی بھوک نہیں لگتی۔ سادھو اور سنیاسی جب کوئی چلہ وغیرہ کاٹتے ہیں جس میں کچھ کھانا منع ہوتا ہے تو وہ یہی بوٹی کی بیج کوٹ کر دودھ میں کھیر پکا کر کھا لیتے ہیں، پھر ان کو ہفتہ دس دن تک کسی غذا کی حاجت نہیں رہتی۔

ایک صاحب نے تجربے کے طور پر اس کی ذرا سی کھیر بنا کر کھا لی۔ کہتے ہیں کہ مجھے چار دن تک قطعی بھوک محسوس نہ ہوئی۔ بالآخر چوتھے روز قے کر کے اس کھیر کو باہر نکالا تب کہیں دوسرے دن کھانے کی حاجت ہوئی۔

پیپل اور برگد کے درخت بھی انتہائی عجیب و غریب خواص رکھتے ہیں جو ان کے عام دوائی فوائد سے بالکل مختلف اور عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ سادھو سنیاسی اور فقیر کچھ تجربات سے اور کچھ گیان دھیان اور مراقبے کی مدد سے بھی سیکھتے ہیں۔ جس کو آپ کشف کہہ سکتے ہیں۔

اس قسم کے سینکڑوں واقعات اور جڑی بوٹیاں ہیں جو کہ سادھو سنیاسیوں اور فقیروں سے جڑے ہیں جن پر ایک نہیں بلکہ سینکڑوں ضخیم کتب لکھی جا سکتی ہیں۔ نہ صرف جڑی بوٹیاں بلکہ مختلف جانوروں، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں تک کے ایسے فوائد ہیں کہ عقل نہیں مانتی، لیکن اثر یسا ہوتا ہے جیسے کوئی جادو وغیرہ۔

نوٹ: اس تحریر سے متعلقہ اپنی رائے کے اظہار، تحریر سے متعلقہ مزید معلومات کے حصول اور سوالات پوچھنے کے لیے کمنٹس کیجیے۔ آپ کے ہر سوال ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ یہ تحریر بے لوث جذبہ خدمت خلق کے تحت شائع کی جا رہی ہے۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو اپنے دوست احباب کو محبت کے ساتھ اِس کے مطالعہ کی ترغیب دینے کے لیے فیس بک اور واٹس اپ پر شیئر کیجیے۔ تاکہ انسانیت کی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں