قبض کی علامات، وجوہات اور علاج – قبض سے نجات کے قدرتی طریقے

قبض ایک ایسی خطرناک بیماری ہے ۔ جس کے بارہ میں عام طورپر کسی کو بتانا بھی باعث شرمندگی سمجھا جاتاہے۔ قبض کو اُم الامراض یعنی بیماریوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ قبض کو انگریزی میں Constipation اور عربی میں حصر کہتے ہیں۔

آج کے دور میں ہر پانچوں فرد اس مرض میں مبتلا ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جس سے انسان کو اپنی زندگی مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔ خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران زیادہ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

قبض کی تعریف:

اگر رافع حاجت معمول کے بجائے دوسرے، تیسرے یا چوتھے دن آئے، یا تھوڑی تھوڑی مقدار میں مینگنیوں کی شکل میں آئےاور ایسے میں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہو، تو یہ قبض کہلاتا ہے۔

ہم روزانہ جو کچھ کھاتے ہیں۔ وہ ہمارے منہ سے ہوتا ہوا معدے اور چھوٹی آنت میں پہنچتا ہے۔جہاں پر خوارک سے حاصل ہونے والی توانائی کے تمام اجزاء الگ کر لیے جاتے ہیں اور خوراک کا جو پھوک (فضلہ)بچتا ہے وہ بڑی آنت میں سے ہوتا ہوا امعاء مستقیم میں جمع ہو جاتا ہے پھر ایک مناسب وقفہ کے بعد ناقابل برداشت ہو کرجسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ اگر یہ عمل رک جائے تو قبض کہلاتا ہے ۔

قبض کی شکایت زیادہ تر ان لوگوں کو ہوتی ہے جنہیں محنت کی عادت نہ ہو اور سارا دن بیٹھے یا لیٹے رہتے ہوں۔ اس لیے قبض دور کرنے کے لیے انہیں ورزش (چہل قدمی)کی عادت ڈالنی چاہیے۔ دوڑنا، کشتی چلانا، گھڑ دوڑ، تیراکی، کبڈی، ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس ایسی گیمز ہیں جن کے کھیلنے سے قبض نہیں رہتی۔

اگر زیادہ کھانے کے بعد آپ غنودگی محسوس کررہے ہو تو لیٹنے کی بجائے چہل قدمی کی کوش کریں، جس سے ہضم کا عمل تیز ہوجائے گا اور قبض کی شکایت سے بچ جائیں گے۔

قبض کے صحت پر اثرات:

باقاعدہ رفع حاجت نہ کرنے سے طبیعت میں بھاری پن رہتا ہے اور بھوک بھی کم لگتی ہے، کیونکہ جب آنتوں میں پہلے سے جگہ موجود نہ ہوتو نئی غذا کا داخل ہونا ممکن نہیں ہوتا اور جب غذا اندر نہ جائے تو توانائی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

اگر غذا کا یہ فضلہ خارج نہ ہو اور بری آنت میں پڑا رہے تو بے شمار جان لیوا امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ جیسے دل کی گھبراہٹ، غشی، دل کی تیز دھڑکن، بلند فشارِ خون، نزلہ زکام، دردِ سر، ضعف دماغ، غنودگی، تھکاوٹ، ہر وقت ہلکا ہلکا بخار رہنا، آنکھ کان اور ناک کی بیماریاں، اپنڈکس، گردوں اور جگر کی بیماریاں، بواسیر، بھوک کی کمی، دردِ شکم، ورم جگر، جوڑوں کا درد، یرقان، خون کی کمی اور انتڑیوں اور پتہ میں پتھریاں وغیرہ۔اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ قبض ام الامراض ہے۔

قبض کی وجوہات

  1. قبض کی وجوہات میں پہلی وجہ ناقص غذا ہے، نان، کلچے، چنے، جو، باجرے اور میداہ کی روٹی۔ ثقیل، چربیلی اور دیر سے ہضم والی غذائیں، وہ غذائیں جو خشک ہوں یا جن میں رطوبت کم ہو تب بھی قبض کا سبب بنتی ہیں۔
  2. گردوں کے راستے جسمانی رطوبتوں کا زائد مقدار میں خارج ہونا، قے کی زیادتی وغیرہ سے بھی قبض ہو جاتی ہے ان کے علاوہ بواسیر، آنتوں کی سوزش اور موٹاپا بھی قبض کا باعث بنتے ہیں۔
  3. عضلات میں اگر کمزوری ہوتو یہ بھی قبض کا باعث ہے۔ آنتوں کے اندر ایک قسم کی قدرتی حرکت ہوتی ہے، جب یہ حرکت سست ہوتی ہے تو قبض لاحق ہو جاتی ہے۔
  4. بعض اوقات کچھ پسندیدہ کھانا ملنے پر ضرورت سے زیادہ کھا لینے سے بھی بد ہضمی اور قبض جیسی شکایات ہوجاتی ہیں، بہت سے افراد مرغ مسلم اورتلی ہوئی چٹ پٹی اشیاء کھانے کو ترجیح دیتے ہیں جو قبض کا سبب بنتی ہیں۔کھاناکھانے کے بعد مسلسل بیٹھے رہنے سے بھی قبض و بواسیرکی شکایات پیداہوجاتی ہیں۔
  5. بعض افراد رات کا کھانا نہیں کھاتے اور صبح تک بھوکے رہتے ہیں اتنا لمبے وقت تک اگر جسم میں کچھ نہ جائے تو خون میں مٹھاس کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور پھر غذا کو آگے بڑھانے والا عنصر نہ ہونے کی وجہ سے قبض کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔
  6. ڈیری مصنوعات،گوبھی،بندگوبھی،لوبیہ،سیب،ناشپاتی،زیادہ نمک والے کھانے اور کاربونیٹیڈ مشروبات وغیرہ سےنہ صرف پیٹ میں گیس بھر جاتی ہے بلکہ یہ قبض بھی کرتے ہیں.

قبض کا علاج

قبض کے مرض میں مبتلا مریضوں کو وقت پر کھاناکھانے کے ساتھ ساتھ سبزیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے اور اورنہار منہ کم ازکم چار گلاس پانی پینا چاہیے۔آٹا بغیر چھنا استعمال کرنا چاہیے کیونکہ آٹے کا چھان پرانی قبض اور ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بہترین دوا ہے۔اس میں ریشے کے علاوہ وٹامن ب پایا جاتا ہے جو عضلات کے لیے مقوی ہے اور جسم میں طاقت کا باعث بنتا ہے۔

1 رفع حاجت کے اوقات کا تعین

قبض کا ایک اہم علاج حاجت کے اوقات کا تعین بھی ہے۔ صبح اٹھ کر کچھ کھانے کے بعد ایک مقررہ وقت پر بیت الخلا جانا چاہیے۔ بلکہ اگر حاجت نہ ہوتب بھی جائیں اس طرح وقت پر حاجت ہونے کی عادت بن جاتی ہے مگر خالی پیٹ نہ جائیں ضرور کچھ نہ کچھ کھاکر جائیں۔ رات کا کھانا ضرور کھائیں، رات کو کھانے اور سونے کے درمیان کم ازکم تین گھنٹے کا وقفہ ہوناچاہیے اور اس وقفے کے درمیان پانچ سو قدم چلنے سے آنتوں میں توانائی پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اگلے دن رفع حاجت میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

خراٹوں سے مکمل نجات کے آسان اور آزمودہ طریقے

2 ادرک کی چائے یا پودینے کا قہوہ

پودینہ اور ادرک دونوں معدے سے متعلق متعدد شکایات کے لیے آزمائے ہوئے گھریلو نسخے ہیں۔ پودینے میں موجود مینتھول غذائی نالی کے پٹھوں کو ریلکس کرنے میں مدد دیتی ہے جبکہ ادرک ایک گرم جڑی بوٹی ہے جو جسم کے اندر حرارت بڑھاتی ہے اور کھانا جلد ہضم ہوجاتا ہے۔

سب سے پہلے پانی ابالیں اور اس میں لیموں کا رس اور کٹی ہوئی ادرک ڈال لیں۔ اس محلول کو دن میں دو سے تین بار استعمال کریں۔ اس بیماری کے دوران ادراک بہت مفید ہوتی ہے ادرک کو باریک پیس کر گنے کے جوس یا شہد کیساتھ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

قبض سے نجات اور نظام انہضام کو بہتر بنانے کیلئے ادرک کو کاٹ کر آہستہ آہستہ چبائیں۔ ادرک کی چائے کا استعمال آپ کو قبض کی شکایت نہیں ہونے دیتا۔اور پودینے کاقہوہ آپ کو اس موذی بیماری سے نجات دلا دیتا ہے۔

دائمی قبض سے نجات کے لیے تازہ ادرک کے دوٹکڑے ڈیڑھ کپ پانی میں ڈال کر جوش دیں۔ جب پانی ایک کپ رہ جائے تو چھان کرنیم گرم فجر اور عصر کے وقت خالی معدہ پئیں۔ یہ عمل دو ہفتوں تک دہرائیں۔ اس سے دائمی قبض کا خاتمہ ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ادرک کے چائے کے حیرت انگیز فوائد، ادرک کی چائے بنانے کا طریقہ

3 لیموں کا استعمال

لیموں پانی میں شامل سیٹرک ایسڈ غذائی نظام میں تحریک کا کام کرتا ہے اور جسم میں موجود زہریلے مواد کو باہر نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ ہر صبح ایک گلاس لیموں پانی یا لیموں کو چائے میں شامل کرکے استعمال کریں جس سے نظام ہاضمہ میں بہتری آئے گی۔

اس کے علاوہ ایک لیموں کا رس اور ایک چمچ سیب کا سرکہ نیم گرم پانی میں ڈال کرپینے سے قبض دور ہونے لگتی ہے اور معدہ مضبوط ہوتا ہے۔

4 سونف کا استعمال

اگر پیٹ کی بیماریوں کے لئے کسی قدرتی چیز کا نام لیا جائے تو سونف اس میں سب سے زیادہ مفید ہے۔اس کے استعمال سے آنتوں کو سکون ملے گا اور پیٹ سے گیس خارج ہوگی اور قبض سے نجات ملے گی۔

آپ چاہیں تو ایک چمچ سونف کو ایک گلاس پانی میں ڈال کر ابالیں اور آدھا پانی رہ جانے پر یہ مشروب پی لیں،باقاعدہ استعمال سے آپ واضح فرق دیکھیں گے۔

5 جو کے دلیے کا استعمال

پیٹ کی بیماریوں میں جو کا دلیہ بھی بہت مفید ہے۔ یہ پیٹ میں جاکر پھولتا ہے اور آنتوں میں بوجھ کی کیفیت پیدا کرکے اجابت کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ جو میں لحمیات کے اجزا پائے جاتے ہیں جو جسم کو توانائی مہیا کرتے ہیں ۔ اگر کسی کو کمزوری کی وجہ سے قبض محسوس ہورہی ہو تو جو کھانے سے اس سے نجات مل سکتی ہے۔

6 فائبروالی غذاؤں کا استعمال

فائبر کسی پائپ کلینر کی طرح کام کرتے ہوئے آپ کی غذائی نالی میں موجود غذا اور فضلے کے اجزاءکی صفائی کرتا ہے، بیج، دالوں، دلیہ، باداموں، متعدد سبزیوں اور خشک میوہ جات میں فائبر کی مقدار کافی ہوتی ہے

روزانہ 20 سے 35 گرام فائبر کا استعمال قبض کی شکایت میں کمی لانے کے لیے مددگار ثابت ہوسکتا ہے، تاہم بہت زیادہ فائبر جسم کا حصہ بنانے پر پانی کا استعمال بھی زیادہ کرنا چاہئے۔

  • آلو بخارے فائبر سے بھرپور پھل ہے اور یہ وہ جز ہے جو آنتوں کے افعال کو بہتر کرکے قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، ایک آلو بخارے میں ایک گرام فائبر ہوتا ہے جو کہ جسم کے لیے مناسب مقدار ہے، اسی طرح اس میں موجود دیگر اجزاءبھی نظام ہضم کے مسائل پر قابو پانے کے لیے موثر ثابت ہوتے ہیں۔
  • مالٹا بھی فائبر سے بھرپور پھل ہے جبکہ کیلوریز بھی بہت کم ہوتی ہیں، اسی طرح ترش پھلوں میں فلیونول نامی جز بھی ہوتا ہے جو کہ قبض کشا کا کام کرتا ہے۔
  • کشمش فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں ٹارٹارک ایسڈ بھی شامل ہوتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ کا استعمال کرنے والے افراد کا نظام ہاضمہ دوگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔
  • چیری اور خوبانی بھی فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں اور قبض کو زوردار ضرب لگاتی ہیں۔
  • آلوچہ فائبر سے بھرپور پھل ایسا گھریلو علاج ہے جو نظام ہاضمہ کو پھر سے ٹریک پر لاتا ہے۔ تین آلوچے تین گرام فائبر جسم کا حصہ بناتے ہیں جبکہ ان میں ایک جز ایسا بھی پایا جاتا ہے جو انٹریوں کو حرکت میں لاتا ہے۔
  • آلو کے چپس کی بجائے اگر آپ سادے پوپ کارن کو ترجیح دیں تو منہ چلانے کی خواہش کے ساتھ ساتھ قبض سے بھی بچ سکیں گے، طبی ماہرین کے مطابق یہ جسم کی فائبر کی ضروریات پوری کرنے کا آسان ذریعہ ہے، کیونکہ ان کی کچھ مقدار میں تین گرام فائبر ہوتی ہے۔
  • پالک نہ صرف فائبر سے بھرپور ہوتی ہے بلکہ میگنیشم کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے، یہ منرل آنتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور فضلے کو صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔
  • ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چاول کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں قبض کا خطرہ 41 فیصد تک کم ہوتا ہے، اس کی کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی گئی مگر ممکنہ طور پر چاول میں موجود فائبر اس حوالے سے مددگار ہوتا ہے۔

7 طب نبویﷺ سے قبض کا علاج

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قبض کے علاج میں جو ارشادات فرمائے ہیں سائنس اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی اس کے برابر نہ آسکی۔ ان کے اہم نکات کا خلاصہ یہ ہے۔

  • کھانا وقت پر کھایا جائے۔رات کے کھانے کے بعد جلدی نہ سویا جائے اور پیدل چلاجائے۔نیز فرمایا کہ رات کا کھانا امانت ہے،اور نہ کھانے سے کمزوری ہو جائے گی۔
  • کھانے سے پہلے تربوز یا خربوزہ پیٹ کو صاف کرتا ہے۔نیز ناشتے میں جو کا دلیہ آنتوں کو صاف کرتا ہے۔
  • آٹا چھان کر نہ پکائیں۔کیونکہ اس کی بھوسی قبض اور دل کا علاج ہے۔
  • خشک انجیر کے دو تین دانے ہر کھانے کے بعد کھانے سے نہ صرف قبض ختم ہوتی ہے بلکہ یہ بواسیر کا علاج بھی ہے۔
  • حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ رات کا کھانا ہرگز ترک نہ کیا جائے، خواہ مٹھی بھر کھجور کھا لیں کیونکہ رات کا کھانا ترک کرنے سے بڑھاپا (کمزوری) طاری ہوتی ہے۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

ضروری نوٹ: قبض سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ ان ترکیبوں ، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج ( طبیب،ڈاکٹر )سے مشورہ ضرور کریں۔ اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں