دل کی گھبراہٹ، بے چینی اور خوف کی علامات، وجوہات اور علاج

دماغ ہمارے جسم کو کنٹرول کرنے والی مشین ہے اگر اس پرحد سے زیادہ زور ڈالا جائے تو اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہمارا پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ گھبراہٹ ایک ایسا مرض ہے جس میں دل کی دھڑکنیں تیز اور بے قائدہ ہوجاتی ہیں۔

دل کا کام جسم کے مختلف اعضا میں خون کی روانی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ دل میں موجود سسٹم دل کے پٹھوں کو اس طرح حرکت کرنے میں مدد کرتا ہے کہ خون کی ایک خاص مقدار جسم میں دوڑتی رہے۔

گھبراہٹ تب ہوتی ہے جب دل کے پٹھوں کی حرکت میں کسی قسم کی تبدیلی یا خرابی پیدا ہونے لگتی ہے اور دل ایک خاص رفتار سے حرکت کرنے کے بجائے آہستہ یا تیز دھڑکنے لگتا ہے۔

اکثر دل کی دھڑکنوں میں تبدیلی معمولی نوعیت کی ہوتی ہے اور اس کا احساس نہیں ہو پاتا۔ ایسی تبدیلی سے جسم یا دل کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ البتہ اگر یہ تبدیلی یا خرابی شدید نوعیت کی ہو تو مریض گھبراہٹ اور بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے۔

خوف و گھبراہٹ پر قابو پانا بظاہر آسان بات لگتی ہے لیکن اس وقت کوئی ترکیب کام نہیں آتی۔ آپ خود کو لاکھ سمجھائیں لیکن ادھر خوف زدہ کرنے والی صورتحال کا سامنا ہوا، ادھر حالت غیر ہو گئی۔ اس وقت سارے دلائل دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ پورا جسم لرزنے لگتا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے جان نکلنے والی ہو، بعض افراد تو اس کیفیت میں چیخیں مارنے لگتے ہیں۔ پورا جسم پسینے میں شرابور ہوجاتا ہے لیکن جیسے ہی یہ کیفیت دورہوتی ہے، بندہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہو جاتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

اگر آپ کتوں یا بلیوں سے خوف محسوس کرتے ہیں تو اس وقت آپ بالکل ٹھیک ہوں گے جب کتے اور بلیاں آپ کے آس پاس نہیں ہوں گی۔

اسی طرح اگر آپ کو بلندی سے خوف محسوس ہوتا ہے تو آپ زمین پربالکل ٹھیک رہیں گےلیکن جیسے ہی آپ اونچائی کی طرف بڑھتے جائیں گے آپ خوف میں مبتلا ہوتے جائیں گے۔اس طرح اگر آپ ہجوم کا سامنا نہیں کرسکتےہیں تو اکیلے میں آپ آرام سے رہیں گے۔

بعض لوگ بہت زیادہ وقت کے لیے گھبراہٹ اور خوف کے احساسات کا شکار رہتے ہیں، انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ انہیں کس وجہ سے گھبراہٹ ہو رہی ہے اور یہ گھبراہٹ کب اور کیسے ختم ہوگی۔ اس قسم کے حالات میں گھبراہٹ یا خوف کی کیفیت پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ڈرائیونگ ٹیسٹ سے قبل ہم میں سے بیشتر لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن ہم اس پر قابو پالیتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ٹیسٹ ختم ہونے کے ساتھ ہی گھبراہٹ بھی ختم ہوجائے گی۔

بے جا خوف و گھبراہٹ انسان کی زندگی دو بھر کردیتا ہے، اس سے وہی شخص متاثر نہیں ہوتا بلکہ عزیزواقارب بھی عاجز آجاتے ہیں۔ ایک خواتین جنہیں گھر میں تنہا رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے، میاں اور بچوں کے لیے مسئلہ بن جاتی ہیں۔ کبھی حیلے بہانوں سے بچوں کو سکول سے چھٹی کروالیتی ہیں، اور کبھی شوہر کی خوشامد کرتی ہیں کہ آج دفتر نہ جائیں۔

شوہر الگ پریشان کہ آخر روز روز چھٹی کیسے کرے اور اگردفتر چلا جائے تو اطلاع آتی ہے کہ بیگم کی طبیعت خراب ہے جلدی گھر پہنچیں، بچوں کو بلا وجہ چھٹی کروانے سے ایک تو ان کی پڑھائی میں حرج آ رہی ہوتی ہے اور دوسرا ان کا پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا ہوتا، اور خاتون صاحبہ الگ پریشان اور شرمندہ ہوتی ہیں کہ یہ سب میری وجہ سے ہو رہا ہے۔

گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا لوگ اپنی کیفیت (حالت) کا ذکر کسی سے بھی نہیں کرتے، حتیٰ کہ گھر والوں یا قریبی دوستوں سے بھی اپنا مسئلہ شیئر نہیں کرتے۔

خوف و گھبراہٹ کی اس فضا میں وہ معمول کی آوازوں مثلاً دروازے کی گھنٹی یاگاڑیوں کے ہارن وغیرہ سے بھی چونک جاتے ہیں۔ اور چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہی چیز انہیں ذہنی تناؤ اور ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے۔

خوف و گھبراہٹ میں مبتلا شخص ایسی ہر صورتحال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے گھبراہٹ میں مبتلا کرسکتی ہو، لیکن ہوتا یہ ہےکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ خوف و گھبراہٹ شدید سے شدید تر ہوتی جاتی ہے۔

اس بیماری سے متاثرہ افراد کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کایہ خوف ان کی اپنی ذہنی اختراج ہے، جس سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے باوجود وہ اسے کنٹرول نہیں کر سکتے۔

گھبراہٹ یا بے چینی کےمختلف پہلو ہیں اور ہر فرد کسی نہ کسی طرح ان کا شکار ضرور ہوتا ہے۔جیسے امتحان کی گھبراہٹ، آخری تاریخ سے پہلے بل جمع کرانے کی گھبراہٹ، سکول، دفتر یا گھر جلد پہنچنے کی گھبراہٹ وغیرہ، مگر یہ سب معمول کی بے چینی اور گھبراہٹ میں شمار ہوتی ہیں اور روزانہ ان کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا ہے

مگر ایسا کوئی مسئلہ جو مستقل پریشان کرے اور اس کا کوئی حل سمجھ نہ آئے تو یہ صورت حال خطرناک حد تک چلی جاتی ہے اور مریض خودکشی کی بھی کوشش کرسکتا ہے۔

گھبراہٹ یا بے چینی دراصل ہماری ذہنی کار کردگی اور ہمارے اندر چلنے والے نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وہ آؤٹ پٹ ہے جس کا ان پٹ ہماری سوچیں اور فکریں ہوتی ہیں۔

جب کوئی ایسی بات یا مسئلہ جس کا حل انسان نہیں نکال پاتا تو سوچ سوچ کر نفسیاتی طور پر کمزور ہو جاتا ہے اس کے اعصاب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس کے باعث ہمارے جسم میں غیر معمولی کیفیات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جسے ہم گھبراہٹ کہتے ہیں۔

خوف اور گھبراہٹ کی وجوہات

ہمارا ذہن کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے جو کہ ہماری زندگی میں ہونے والے تمام حالات و واقعات کومحفوظ کرتا رہتا ہے۔کچھ واقعات ہمارے ذہن کے ایسے گوشوں میں محفوظ ہوجاتے ہیں جن کا ہمیں شعوربھی نہیں ہوتا۔

جیسے ہی اس نوعیت کی کوئی چیز یا قصہ ہمارے سامنے آتا ہے گزشتہ واقعے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور اس سے منسلک خوشی، خوف یا نفرت کے جذبات بیدار ہوجاتے ہیں۔

مثلاً ایک بچے کا باپ بہت ظالم و جابر تھا۔ باپ کی آمد کے ساتھ ہی اس کے جسم میں خوف کی لہر دوڑ جاتی تھی۔ باپ گھوڑے پر آتاتھا اور گھوڑے کی ٹاپیں ہی اس کا دل دہلا دیتیں تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بچہ بہت چھوٹا تھا۔ اس کی کمسنی ہی میں باپ کا انتقال ہوگیا۔اور وہ باپ کی شکل و صورت بھی بھول گیا لیکن گھوڑا اس کیلئے خوف کی علامت بن گیا۔

اب لوگوں کیلئے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ایک مضبوط توانا نوجوان جو بلاخوف و خطر ہر خطرے کا مقابلہ انتہائی بہادری سے کرتا ہے۔ آخر گھوڑے سے اس درجہ خوف زدہ کیوں ہوجاتا ہے۔ خوفزدہ نوجوان بھی اس خوف کی وجہ سے ناواقف ہوتا ہے۔

کچھ حالات اورواقعات اتنے تکلیف دہ اور خوفناک ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ طویل عرصے تک جاری رہتی ہے۔ یہ حالات اور واقعات عام طور پر اس طرح کے ہوتے ہیں جن میں انسان نے موت کو بالکل قریب سے دیکھا ہوتا ہے۔

مثلاً گاڑی یا ٹرین کے حادثات اور آگ وغیرہ۔ ان واقعات میں شامل افراد مہینوں یا سالوں تک گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار رہ سکتے ہیں چاہے خودانھیں کوئی جسمانی چوٹ نہ لگی ہو۔

اسی طرح ایسے بچے جنہیں بچپن میں اندھیرے یا فرضی چیزوں (مثلاً بھوت وغیرہ)سے ڈریا جاتا ہے، بڑے ہو کربھی یہ خوف ان کے دلوں سے نہیں نکل پاتا اور وہ اندھیری جگہوں اور بھوت وغیرہ سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ تاہم چھوٹے کبھی نہ کبھی کسی وجہ سے ڈر جاتے ہیں۔

نشوونما کے دوران یہ معمول کی بات ہے۔ مثلاً چھوٹے بچے اپنی دیکھ بھال کرنے والےافراد سے مانوس ہوجاتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے وہ ان سے الگ ہوجائیں تو بچے بہت پریشان ہوجاتے ہیں اور گھبرا جاتے ہیں۔ تاہم بعد میں بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

کچھ لوگوں کی طبیعت اس طرح کی ہوتی ہے کہ وہ ہر نئی بات اور مسئلے پر پریشان ہو جاتے ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کی طبیعت جینز کے ذریعے وراثت میں بھی مل سکتی ہے۔ تاہم وہ لوگ جو ہر وقت خوش و خرم رہتے ہوں اگر ان پر بھی مستقل دباؤ پڑتا رہے تو وہ بھی گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ہر انسان کے خوف یا گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، کوئی بیابان جنگل یا جگہ سے خوف محسوس کرتا ہے، کوئی اونچی اور بلند جگہ سے، کسی کو گھر میں اکیلا رہنے سے ڈر لگتا ہے اور کوئی ہجوم میں گھبراہٹ محسوس کرتا ہے،

بچے سکول میں یا ان دیکھی مخلوق سے ڈرتے ہیں تو خواتین مینڈک، چھپکلی اور دوسرے کیڑے مکوڑوں سے خوف ذدہ ہوتی ہیں۔ خوف و گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی مندرجہ ذیل وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

  • کبھی کبھار نشہ آور اشیا، کیفین، نیکوٹین یا الکوہل کے استعمال کی وجہ سے بھی گھبراہٹ ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ کافی میں موجود کیفین بھی ہم میں سے کچھ افراد کو تکلیف دہ حد تک گھبراہٹ میں مبتلا کر سکتی ہے۔
  • حاملہ خواتین اکثر خوف و گھبراہٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ جسم میں پیدامیں ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں کے باعث حمل کے دوران دل کی دھڑکنوں کا بے ترتیب ہوجانا ہوتا ہے۔تاہم پہلے بچہ کی پیدائش اور پرورش کی سوچ بھی خوف اور گھبراہٹ میں اضافے کا سبب ہوتی ہے۔
  • کبھی کبھی گھبراہٹ اور اختلاج کی وجہ دل میں پیدا ہونے والی کوئی خرابی بھی ہو سکتی ہے۔ اگرگھبراہٹ کے ساتھ ساتھ سینے میں درد اور سانس پھولنے کی شکا یت ہو تو ضرور کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
  • بعض اوقات شدید جسمانی مشقت کے بعد دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔
  • کچھ دوائیں بھی گھبراہٹ کا سبب ہوتی ہیں، جیسے کہ وزن کم کرنے والی ادویات، امراض قلب سے متعلقہ ادویات وغیرہ وغیرہ۔
  • خوارک میں بعض چیزوں کے استعمال سے بھی گھبراہٹ ہو سکتی ہے، اگر کوئی چیز کھا کرآپ کو اختلاج محسوس ہونے لگے تو اس کا ممکنہ مطلب ہے کہ آپ اس کھانے کی چیز سے الرجک ہیں۔
  • گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی بڑی وجہ کوئی ذہنی دباؤ یا پریشانی ہو سکتی ہے۔

خوف، گھبراہٹ اور بے چینی کا علاج

کسی بھی مرض کا اس وقت تک علاج نہیں کیا جا سکتا جبکہ تک کہ مرض کی تشخیص نہ ہو جائے اس طرح خوف ، گبھراہٹ بے چینی اور دل کی کمزوری کا علاج کرنے میں  ان تمام محرکات کو مدنظر رکھا جاتا ہے جو خوف، گھبراہٹ کا سبب بنتے ہیں۔

مثلاً اگرکسی شخص کو ٹرین کے سفر سے خوف محسوس ہوتا ہے تو اس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ اس خوف کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی، اور کیا اسے ٹرین کو دیکھتے ہی خوف محسوس ہوتا ہے یا اس میں بیٹھنے کے بعد خوف طاری ہوتا ہے۔

عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ مریض کو ابتدائی حالت میں کم درجے کا خوف محسوس ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ ٹرین کے قریب تر ہوتا جاتا ہے خوف بڑھتاجاتا ہے۔ مثلاً ٹرین کو دیکھ کر اتنا خوف نہیں ہوتا جتنا ٹرین میں دوران سفر ہوتا ہے۔ چنانچہ ٹرین کو دور سے دیکھنا خوف کی شدت کے لحاظ سے کم تر درجے کا خوف کہلائے گا اور ابتدا میں اسی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

خوف سے نجات دلانے کیلئے معالج خود مریض کو اسی جگہ لے جائے گا جہاں سےٹرین آتی دکھائی دے سکے۔ ایسا کرنے سے ابتدائی درجے کا خوف ختم ہوجائے گا اور پھر اگلے مرحلے میں ٹرین کے قریب لے جاکر قریب جانے کا خوف اور پھر ٹرین میں سفر کر کےٹرین میں سفرکرنے کا خوف ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رفع ہوجائے گا۔

ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن کا تیز ہونا بھی ایک بیماری ہے جس کا بروقت علاج نہ ہونے سے موت واقع ہوسکتی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا،ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور ذیابیطس دل کی دھڑکن کو تیز کر دیتے ہیں۔

مثبت سوچ

سوچ انسانی زندگی پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے۔ذہن میں خیالات کا پیدا ہونا قدرتی عمل ہوتا ہے مگر ان خیالات کو عملی جامہ پہنانا انسان کے اپنے بس میں ہوتا ہے۔حقیت تو یہ ہے کہ مثبت سوچ ہی کسی فرد کی شخصیت کو ابھارنے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جدید نفیسات کے مطابق انسان کے مستقبل کا انحصار اس کی اپنی سوچ، فکر اور اعمال پر ہوتا ہے، اگر ہم نے اپنی سوچ کو بدلنے کا فن سیکھ لیا تو گویا ہم نے دنیا کو بدلنے کا فن بھی سیکھ لیا،

ماہرین نفسیات کے مطابق مثبت سوچ کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے، ہم جیسا سوچتے ہیں، ہماری شخصیت بھی ویسی ہی ہو جاتی ہے۔اس حوالے سے آپ ہماری پوسٹ مثبت سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات پڑھ سکتے ہیں۔

اچھی اور مثبت سوچ جہاں انسان کو کامیابیوں و کامرانیوں کا تاج پہناتی ہے، وہیں خوف و گھبراہٹ جیسے عوامل کو ختم کر کے جینے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ ذہن کو پر سکو ن رکھنے کے لیے کسی بھی پریشان کردینے والی بات کے بارے میں زیادہ دیر تک نہ سوچیں۔

خوف و گھبراہٹ کی شدت کو ختم کرنے کے لیے آپ ان چیزوں کے بارے میں سوچیں جو آپ کے پاس موجود ہیں جیسے والدین اور بہن بھائیوں کا پیار، ان کی دعائیں اور اُن لوگوں کا تصور کریں جن کے پاس وہ سہولتیں بھی نہیں جو آپ کے پاس موجود ہیں اس سوچ سے آپ کی گھبراہٹ دور ہو جائے گی۔

شہد کا استعمال

شہد قدرت کی طرف سے انسان کے لیے ایک شاندار تحفہ ہے، بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو گھٹی کے طور پر اسے شہد چٹایا جاتا ہے اور جب مریض قریب المرگ ہوتا ہے تو بھی مریض کے لیے شہد تجویز کیا جاتا ہے۔

شہد دل کو قوت دینے کے لئے دنیا کی تمام دواؤں میں سب سے زیادہ بہترین ہے۔ اس سے دل بہت زیادہ طاقت ور ہو جاتاہے۔ اگر کبھی بے چینی اور گھبراہٹ زیادہ بڑھ جائے اور غنودگی اور بے ہوشی کابھی ڈر ہوتو ایسے میں شہد منٹوں میں قوت اور ہیجان پیدا کرتا ہے۔ شہد کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے آپ ہماری پوسٹ شہد کے ناقابل یقین اور حیرت انگیز فوائد پڑھ سکتے ہیں۔

ڈپریشن کا خاتمہ

خوف و گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ڈپریشن ہوتی ہے۔کیونکہ اس مرض میں مبتلا افرادکبھی بھی کوئی کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ کیونکہ ایسے افراد مثبت سوچ کے بجائے وہم اور وسوسوں پر یقین کرتے ہوئے فوراً مایوس اور ناامیدہو کر خوف و گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ڈپریشن کا اثر سب سے زیادہ انسان کی طبیعت پر پڑتا ہے۔جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ڈپریشن ایک ایسا خطرناک مرض ہے۔ جو نہ صرف آپ کی جسمانی و نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ آپ کے سونے جاگنے، کھانے پینے حتیٰ کہ سوچنے تک پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ڈپریشن کے بارے میں مکمل معلومات اور بچاؤ کے لیے آپ ہماری پوسٹ ڈپریشن کیا ہے۔ ڈپریشن کی بیماری، اس کی علامات، وجوہات اور علاج پڑھ سکتے ہیں۔

خوشی اور مسکراہٹ، پرسکون زندگی

گھبراہٹ اور خوف پر قابو پانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ خود کو پرسکون رکھا جائے۔ پرسکون رہنے کا بہترین طریقہ بلا وجہ کی سوچوں اور پریشانیوں سے نجات اور خوش و خرم زندگی کا حصول ہے۔

زندگی کو پرسکون بنانےکے لیے ضروری ہے کہ خوش رہا جائے۔ کیونکہ خوشی اندرونی سکون اور اطمینان کا نام ہوتا ہے جس میں ہم اطمینان، سکون، فرحت ومسرت کی کیفیت محسوس کرتے ہیں اور خوف و گھبراہٹ کو بھول جاتے ہیں۔ خوشی سے متعلقہ آپ ہماری پوسٹ خوشی کیا ہے اور کیسے حاصل کی جاتی ہے پڑھ سکتے ہیں۔

خوشی اور مسکراہٹ اچھی صحت کے لیے ضروری ہوتی ہیں، کیونکہ ان کیفیات میں انسان پر چھایا ہوا خوف اور گھبراہٹ کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔ ذہن ہٹانے کے لیے ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ ایسے میں ہلکی پھلکی ورزش اور گیمز میں دل لگانے کی کوشش کریں۔

دل کی گھبراہٹ ،بے چینی، ڈر اور خوف سے بچنے کی دعا اور وظیفہ

اگر آپ کے دل میں گھبراہٹ سے وہشت سی ہوتی ہے، پریشانی سے دل ڈوبا سا جاتا ہے، ہر وقت بے چینی کی کیفیت رہتی ہے۔ یا کسی چیز سے ڈر لگتا ہے یا خوف محسوس ہوتا ہے۔ تو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ جس کا حل قرآن پاک و حدیث مبارکہ میں موجود نہ ہو۔

سورۃ الرعد کی آیت نمبر 28 اور سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 82 کا درج ذیل حصہ ۔۔ان دونوں آیات کو ہر نماز کے بعد جتنی بار آسانی سے ممکن ہو پڑھیں۔ انشاء اللہ ہر قسم کے خوف، گھبراہٹ اور بے چینی سے نجات مل جائے گی۔

اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُـهُـمْ بِذِكْرِ اللّـٰهِ ۗ اَلَا بِذِكْرِ اللّـٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔ (سورۃ الرعد آیات نمبر 28)

ترجمہ : جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں ۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے ۔

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَـآءٌ وَّرَحْـمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ  (سورۃ بنی اسرائیل آیات نمبر 82 کا پہلا حصہ)

ترجمہ: اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمانداروں کے حق میں شفا اور رحمت ہیں۔

دل کی بے سکونی یا گھبراہٹ سے دل ڈوبا جا رہا ہو تو یا سلام یا اللہ کا ورد ایک سو مرتبہ کریں۔ انشاء اللہ بے سکونی اور گبھراہٹ دور ہو جائے گی۔ اگر آپ کی زندگی میں سکون نہیں ہے، تو آپ ہماری تحریر سکون کیا ہے، ذہنی سکون اور اطمینان قلب کیسے حاصل ہوتا ہے پڑھ سکتے ہیں۔

خوف و گھبراہٹ سے بچاؤ کے دیگر ٹوٹکے

  • جسم میں سیال کی کمی کی وجہ سے بھی دل کی دھڑکنیں کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں ایسے میں اگر ایک گلاس ٹھنڈا پانی پی لیا جائے تو حالت بہتر ہو جاتی ہے۔ اس سے آپ کا اعصابی نظام بھی نارمل رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹھنڈے پانی سے نہانا بھی فائدے مند ہو سکتا ہے۔
  • پریشانی کو زیادہ دیر تک اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔گھبراہٹ دور کرنے کے لئے ایک جگہ بیٹھے رہنے سے اجتناب کریں، کوشش کریں کہ کسی سرگرمی میں خود کو مشغول کریں۔ اس لیے آؤٹ ڈور یا ان ڈور گیمز اور سوشل سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی جا سکتی ہے۔
  • غسل کرنا، خوشبو لگانا، صاف ستھرے اور پسندیدہ لباس پہنیں۔ اور جب خوف اور گھبراہٹ زیادہ طاری ہو تو وضو کر یں اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں۔

اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں اور روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں۔ اچھے کاموں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کریں اور برے کاموں سے بچنے کا عہد کریں۔ اور اپنے ماضی کی ناکامیوں پر کڑھنے کی بجائے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

خوف، گھبراہٹ اور بے چینی کے حوالہ سے اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

17 comments

  1. مجھے بادل کی گرج اور آندھی سے بے انتہا خوف آتا ہے اور میری حالت مرنے والی ہو جاتی ہے لیکن اگر کسی اور کے گھر چلا جاوں یا کوئی مہمان گھر میں ہو تو گرج اور آندھی سے ڈر نہیں لگتا
    میں کیا کروں کوئی مشورہ دیں
    کوئی وظیفہ یا دوائی جو دل کو مضبوط کرے

  2. آپ نے اس تحریر میں پڑھا ہو گا کہ ہمارا ذہن کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے جو کہ ہماری زندگی میں ہونے والے تمام حالات و واقعات کومحفوظ کرتا رہتا ہے۔کچھ واقعات ہمارے ذہن کے ایسے گوشوں میں محفوظ ہوجاتے ہیں جن کا ہمیں شعوربھی نہیں ہوتا۔ جیسے ہی اس نوعیت کی کوئی چیز یا قصہ ہمارے سامنے آتا ہے گزشتہ واقعے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور اس سے منسلک خوشی، خوف یا نفرت کے جذبات بیدار ہوجاتے ہیں۔
    آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہو گا۔ بچن کے دوران کوئی ایسا وقت آیا ہو گا جب آپ گھر میں اکیلے ہوئے ہوں گے اس دوران بادل گرجا ہو گا، یا آندھی چلی ہو گی۔ اور آپ اس سے ڈر گئے ہوں گے۔ اور یہ خوف آپ کے ذہن کے گوشوں میں محفوظ ہو گیا ہو گا۔
    خوف سے بچاؤ کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی بادل گرجے یا آندھی چلے تو آپ یہ محسوس کریں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات آپ کے ساتھ ہے، اور یہ سوچیں کہ دنیا میں اتنے لوگ ہیں کوئی بھی اس چیز سے خوف ذدہ نہیں ہو رہا، میں خواہ مخواہ کا ڈر رہا ہوں۔
    یاد رکھیں آپ کی سوچیں آپ کو بدل سکتی ہیں۔ اس حوالے سے آپ ہمارے تحریر مثبت اور منفی سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات پڑھ سکتے ہیں۔

  3. میرا دل ہر دقت پریشان رہتا ہے اور دل کی دھڑکن یکدم رک سی جاتی ہے یا تیز ہو جاتی ہے۔ اور بہت گھبراہٹ ہوتی ہے ڈاکٹر کہتا ہے ارتھمیا ہے۔ کوئی نسخہ بتایں۔

  4. سر مجھے ہمیشہ دل میں ڈر اور گھبراہٹ سی رہتی ہے اور ہمیشہ گزری ہوئی بات کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں، میں بار بار کوشش کرتا ہوں کہ نہ سوچوں، پھر بھی سوچیں آتی رہتی ہیں، بتائیں کیا کرؤں؟

    1. اگر آپ دو سے تین دن انتظار کریں تو میں تفصیل کے ساتھ سوچوں پر قابو پانے، سوچوں کو ختم کرنے اور گزری باتوں کو بھولنے کے بارے میں تفصیل سے پوسٹ شائع کرؤں گا۔ باقی جہاں تک ڈر اور گھبراہٹ کی بات ہے اس کی وجوہات اور علاج آپ اس تحریر میں پڑھ سکتے ہیں

      1. حسب وعدہ آپ کی فرمائش پر میں نے سوچوں اور خیالات سے نجات پر تحریر شائع کر دی ہے۔ اس تحریر کو پڑھ کر آپ اپنے نہ صرف دماغ اور سوچوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ بلکہ منفی سوچوں اور برے خیالات سے نجات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
        لنک یہ ہے
        سوچوں اور خیالات سے نجات کا طریقہ ، دماغ اور سوچ کو کنٹرول کرنا

  5. چوبیس گھنٹے گیس کی شکایت ھوتی ھے ڈکار آتے رھتے ہیں سونے لگتا ھوں تو خوف آتا ھے کہ مر جاونگا ۔ دل میں تنگی محسوس ھوتی ھے بعض اوقات سانس لینے میں پریشانی ھوتی ھے ۔نیند آتی ھے لیکن جیسے ہی سونے کے لئے لیٹتا ہوں خوف و بے چینی شروع ھو جاتی ھے۔ کیا کروں؟؟؟

    1. گیس اور ڈکار کے حوالے سے اپنا طبی چیک اپ کروائیں، اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ خدمت خلق کرنے کی کوشش کریں، مہینے میں ایک بار کسی مانگنے والے کو پانچ سو روپے دے دیا کریں۔ جب مخلوق خدا کا دل خوش ہو گا تو آپ کے دل کی تنگی و پریشانی دور ہو جائے گی۔ آپ اس تحریر کو ایک بار پھر بغور پڑھیں، آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ مزید بہتری کے لیے آپ ہماری تحریر سکون کیا ہے۔ ذہنی سکون اور اطمینان قلب کیسے حاصل ہوتا ہے پڑھ سکتے ہیں۔

  6. میں کلاس میں یا گروپ میں بولنے سے بہت گھبراتی ہوں میں صرف سوچ لوں کہ مجھے یہ بولنا ہے یا سوال کرنا ہے صرف اتنا سوچ لینے سے مجھے بوری طرح گھبراہٹ ہونے لگتی ہے حتی کہ میں شدت گھبراہٹ سے کانپنے بھی لگتی ہوں یہ گھبراہٹ مجھے کہیں بھی آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے جبکہ میں اچھے اسٹوڈینٹس میں شمار کی جاتی ہوں اس کا کوئی حل بتائے مہربانی ہوگی….

    1. ایسا بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان کو خود پر اعتماد و یقین نہیں ہوتا۔ آپ ہماری تحریر کامیابی کا راز خود اعتمادی میں ہے۔ اور کامیابی اور ناکامی میں یقین کا کردار پڑھیں۔ انشاء اللہ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

  7. اسلام علیکم،

    آج چار سال سے میں گھریلو پریشانی کی وجہ سے ذہنی مریض پن گیا ہوں۔ کئ قسم کی ادویات کے استعمال اور تھریپی کے باوجود سکون نہیں آرہا ہے۔ نیند بھی مشکل سے آتی ہے۔
    میری عمر 69 سال ہے اور میں کوئی کام نہیں کر سکتا۔ سارا جسم درد کرتا ہے اور دماغ مسلسل الٹ سوچ میں بھاگتا رہتا ہے۔ پجگانہ نماز اور اذکار باقائدگی سے کرتا ہوں۔ خدارا میرے لئے کوئی دوا یا کوئی اور حل ھو تو ضرور مدد فرمائیں ۔

    1. وعلیکم السلام
      آپ کی تحریر پڑھ کر اندازہ ہو گیا ہے کہ آپ کن کن مسائل سے گزر رہے ہیں۔ دنیا میں ایسی کوئی بیماری یا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کا حل نہ ہو۔ ہر مرض کا علاج دوائی نہیں ہوتی۔ آپ ہماری مندرجہ ذیل تحریریں پورے غور و حوض سے پڑھیں اور ان قدرتی طریقوں پر عمل کریں۔ انشاء آپ کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
      سکون کیا ہے۔ ذہنی سکون اور اطمینان قلب کیسے حاصل ہوتا ہے؟
      2. سوچوں اور خیالات سے نجات کا طریقہ، دماغ اور سوچوں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ
      3. نیند نہ آنے کی وجوہات، نیند کی کمی کا علاج

  8. میں ایک سکول ٹیچر ہوں پڑھانے میں بلند آواز نکالنا پڑتی ہے۔ جس کے باعث میرا دماغ تھک جاتا ہے۔ اور جب زیادہ بولنے سے دماغ تھک جائے تو دماغ کو جھٹکا سا لگتا ہے اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ جو کافی دیر (تقریباً آدھا گھنٹہ کبھی گھنٹہ) تک تیز رہتی ہے جب نارمل ہوتی ہے تب ہاتھ پاوں اور چہرے اور سر کی جلد سن ہو چکی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہر امراض قلب کو چیک کروایا ان کے بقول یہ کوئی قلبی بیماری نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ میری اس حوالے سے رہنمارئی کر کے علاج تجویز فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1. دماغ انسان کے جسم کا سب سے زیادہ حساس حصہ ہوتا ہے، آپ چونکہ سکول میں عام آواز سے ہٹ کر زیادہ بلند آواز میں پڑھاتے ہیں اس لیے آپ کے دماغ پر پریشر پڑھتا ہے۔ حالانکہ ہر ایک کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ اس مسئلہ پر کچھ احتیاطی تدابیر کر کے آپ قابو پا سکتے ہیں۔
      1۔ پڑھاتے وقت استاد کو اس وقت اونچی آواز میں بولنا یا پڑھانا پڑھتا ہے، جب بچے توجو نہ دے رہے ہوں، یا جہاں آس پاس کا شور و غل زیادہ ہو۔ اس لیے سب سے پہلے ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ بچوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے مکمل یکسوائی کے ساتھ نارمل آواز میں پڑھائیں۔
      2۔ دماغ کا پریشر مختلف طریقوں سے پڑھتا ہے، بعض لوگ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، بعض کو کوئی دماغی مسئلہ ہوتا ہے۔ تاہم چونکہ آپ کا مسئلہ اونچی آواز میں بولنے سے ہے تو سب سے پہلے اپنی عادت کا آہستہ آہستہ بدلیں۔ جب آپ اونچی آواز میں نہیں بولیں گے تو آپ کو مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
      3. چونکہ آپ خود محسوس کرتے ہیں کہ آپ اونچا پڑھا رہے ہیں۔ تو آپ کے دل اور دماغ میں وہم بیٹھ جاتا ہے۔ جو دل کی دھڑکنوں کو تیز کر دیتا ہے۔ اس لیے ریلکس ہو کر پڑھائیں۔ اور اس بات پر یقین رکھیں کہ چاہے آپ بلند آواز میں پڑھائیں چاہے آہستہ، آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ آپ ہماری تحریر یقین کیا ہے کامیابی اور ناکامی میں یقین کا کردار پڑھ لیں۔ اس سے آپ کو خود پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ آپ دماغ اور سوچوں کو کنڑول کرنے کا طریقہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں