نیند نہ آنے کی وجوہات، نیند کی کمی کا علاج، پرسکون نیند کا حصول

نیند خدا کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے، اس کی قدر وہی جان سکتا ہےجس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور ہو۔ یا جو بے خوابی کے مرض میں مبتلا ہو۔ ماہرین کا کہناہے کہ نیند عیاشی نہیں ہے بلکہ انسان کی ایک اہم ترین بنیادی ضرورت ہے۔ جو انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔

جدید سائنسی دور جہاں انسان کے لیے بےشمارآسائشیں اور سہولتیں لایا ہے وہاں نئی ایجادات نے اکثر لوگوں کو پرسکون نیند کے لطف سے بھی محروم کردیا ہے۔ آپ کو اپنے اردگرد بہت سے لوگ نیند نہ آنے کی شکایت کرتے نظر آئیں گے۔

اور جو زبان سے یہ شکایت نہیں کرتے ، ان کی جسمانی کیفیت دیکھ کر آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کی آنکھیں اچھی نیند سے محروم ہیں۔ ایسے افراد یا تو اونگھتے ہوئے یا پھر تھکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

دن بھر کی تھکان اور محنت کے بعد جب انسان تھکا ہارا بستر پہ لیٹتا ہے تو اس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جلد از جلد نیند اسے اپنے آغوش میں لے لے۔ ایسے وقت میں نیند کا نہ آنا پریشانی اور اکتاہٹ کا باعث بنتا ہے۔ جب گھر میں سب چین کی نیند سو رہے ہوں اور آپ بستر پر محض کروٹیں بدل رہے ہوں تو یہ کیفیت بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے۔

نیند میں کمی کی وجوہات

نیند کی کمی یا بے خوابی کا تعلق بہت سی چیزوں سے ہے۔ بعض دائمی امراض بھی بے خوابی کا سبب بن جاتے ہیں ۔ مثلاً ذیابیطس ، ذہنی دباؤ، موٹاپے اور دل کے امراض میں مبتلا افراد اکثر نیند کی کمی کی شکایت کرتے پائے گئے ہیں۔

تل ابیب کے اکاڈمک کالج کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ کاموں کو التواءمیں ڈالنے کے عادی ہوتے ہیں انہیں سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔کیونکہ جو کام یہ لوگ تعطل میں ڈالتے ہیں اس کو کرنے کی پریشانی ان کی نیند اڑا دیتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ کاموں کو ٹالنے کے عادی ہوتے ہیں انہیں سوتے وقت وہ کام یاد آتے ہیں اور یہ چیز ان کے لیے سونا مشکل بنا دیتی ہے۔محققین کے مطابق رات گئے تک جاگنے کے عادی افراد کا خود پرزیادہ کنٹرول نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں وہ اچھی منصوبہ بندی کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور کاموں کو ٹالتے رہتے ہیں۔

نیند کی کمی سے انسان نہ صرف دن بھر سست رہتا ہے اور اپنی ذمہ داریاں بہتر طورپر انجام نہیں دے پاتا بلکہ کم خوابی سڑکوں پر ہونے والے کئی مہلک حادثوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔ اسی طرح کئی بار مشینوں پر کام کرنے والے بے خوابی کے مریض سنگین حادثات کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔

سونے سے قبل کے اقدامات

سونے کے لیے بستر پر جانے سے پہلے دن بھر کی پریشانیوں اور مسائل کو بھول جائیے اور ان کے بارے میں ہرگز ہرگز نہ سوچیئے۔کیونکہ سوچ سے نیند ختم ہو جاتی ہے۔ اور یہ سوچیں انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں، اور ختم ہی نہیں ہوتیں۔ ایسے وقت میں سونے کی کوشش کریں جب آپ تھکے ہوئے ہوں۔کیونکہ جب آپ تھکے ہوں گے تو آپ کو میٹھی اور پر سکون نیند آئے گی۔

ہلکا پھلکا لباس پہنیں۔ جو آرام دہ ہو، اگر آپ کا لباس تنگ ہو گا تو بار بار آپ اپنے لباس میں الجھے رہے گے اور جو نیند آ رہی ہو گی وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ آرام دہ سونے کے لئے ضروری ہے کہ تکیے کو سرکے نیچے اس انداز میں رکھیں کہ آپ کو آرام محسوس ہو۔اگر تکیہ رکھنے سے آپ کی گردن میں درد محسوس ہوتا ہے، یا آپ کو عجیب لگتا ہے تو تکیہ تبدیل کر دیں۔ کچھ لوگ اونچے تکیے پر اور کچھ کو پتلے اور باریک تکیے پر آرام محسوس ہوتا ہے، اس لیے جیسا تکیہ آپ کو لئے آرام کا سبب بنتا ہے ویسا تکیہ استعمال کریں۔

کمرے کا درجہ حرارت ایسا ہونا چاہیے جس میں آپ سکون محسوس کریں۔یاد رکھیں کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ روشنی جلا کر سوتے ہیں، اور کچھ روشنی بجھا کر۔ اچھی، میٹھی اور پرسکون نیند کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ آپ کمرے کا ماحول ویسا ہی رکھیں، جس میں آپ کو سکون محسوس ہوتا ہے۔ بعض لوگ روشنی بجھاتے ہیں تو انہیں گھبراہٹ و وہشت ہو جاتی ہے اور بعض لوگوں کو روشنی میں نیند نہیں آتی۔

جو لوگ بے خوابی کے شکار ہو ان کے لیے پرسکون اور نیند والا ماحول بہتر ثابت ہوتا ہے، اس کے لیے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سمیت تمام تر ڈیوائسز کو کمرے سے باہر یا کم از کم بستر سے دور رکھ دیں، کیونکہ ان پر آنے والے نوٹیفکیشن نیند میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔موبائل کی ٹیون یا وائبریشن سے آئی ہوئی نیند بھی ختم ہو جاتی ہے۔

نیند میں کمی (بے خوابی ) کا علاج

ماہرین کہتے ہیں کہ نیند کا علاج نیند لانے کی گولیاں اور دوائیں نہیں بلکہ زندگی گذارنے کے انداز میں تبدیلی لانا ہے۔ تاہم کم خوابی اور بے خوابی کی شدید صورتوں میں ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہوتاہے کیونکہ بعض امراض بھی نیند میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم سونے کی کوشش کرتے ہیں مگر نیند آنکھوں سے دور بھاگ جاتی ہے۔اگر آپ رات کی اچھی نیند چاہتے ہیں تو ان آسان طریقوں کو آزما کر دیکھیں اور بغیر ادویات کے بے خوابی کے عارضے سے نجات پائیں۔

1. ٹو ڈو لسٹ تحریر کرنا

طبی جریدے جرنل آف ایکسپیرمنٹل سائیکولوجی کے مطابق سونے سے پہلے صرف پانچ منٹ نکال کر ٹو ڈو لسٹ لکھنے میں لگائیں،ایسا کرنا جلد میٹھی نیند سونے میں مدد دیتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ لکھنا ذہنی تناؤ کی سطح کم کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے کام موثر طریقے سے کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم اس نئی تحقیق یہ دیکھا گیا کہ بے خوابی کے شکار افراد کے لیے یہ طریقہ کار کتنا کارآمد ثابت ہوتا ہے۔اس مقصد کے لیے پچاس سے زائداٹھارہ سے تیس سال کے صحت مند افراد کی نیند کی عادات کا جائزہ لیا گیا۔ان میں سے نصف کو سونے سے قبل پانچ منٹ ٹو ڈو لسٹ لکھنے کے لیے کہا گیا جبکہ دیگر کو گزرے ہوئے دن کے معمولات تحریر کرنے کا کہا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ٹو ڈو لسٹ لکھ رہے تھے وہ دیگر کے مقابلےجلد ہی میٹھی نیند سو گئے۔محققین کا کہنا تھا کہ لوگ جتنا وقت اس طرح کی فہرست کو تحریر کرنے میں لگاتے ہیں، اتنا ہی ان کا جلد سونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، بلکہ لیٹتے ہی سوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فائدہ فہرست تحریر کرنے میں ہی ہوتا ہے، کیونکہ دماغ میں سوچنا جلد سونے میں مدد نہیں دیتا۔

محققین نے مشورہ دیا کہ اگر آپ کو بھی اکثر رات کو سونے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو اس تجربے کو ضرور آزما کر دیکھیں، جس پر کوئی خرچہ بھی نہیں ہوتا اور فائدہ بھی فوری ہوتا ہے۔اگر رات کو بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں مگر نیند کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے؟ تو کاغذ اور قلم اٹھائیں اور اگلے دن کی مفروضہ مصروفیات کو تحریر کرنا آپ کو منٹوں میں سونے میں مدد دے گا۔

2. گرم دودھ اور شہد کا استعمال

رات کو سونے سے قبل ایک گلاس شہد ملا گرم دودھ بہترین نیند لانے کا زبردست گھریلو ٹوٹکا ہے۔ دودھ میں ایک امینو ایسڈ ٹرائیپٹوفان موجود ہوتا ہے جو ایک ہارمون سیروٹونین کی مقدار بڑھاتا ہے جو دماغ کو نیند کے سگنلز بھیجتا ہے۔ کاربوہائیڈیٹس جیسے شہد اس ہارمون کو تیزی سے دماغ میں پہنچاتے ہیں۔جس سے فوراً نیند آ جاتی ہے۔ مزید پڑھیے: شہد ملے دودھ کے فوائد کی مکمل تفصیل

3. ورزش کریں

اگر کسی قسم کی بے چینی رات کو جگائے رکھتی ہے تو یوگا، مراقبہ یا ڈائری لکھنے کی کوشش کریں، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ورزش کی عادت لوگوں کو جلد سلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ ورزش کی وجہ سے انسان جسمانی طور پر تھکا ہوا اور دماغی طور پر فریش ہوتا ہے۔ اس لیے فوراً نیند آ جاتی ہے۔ اس لیے باقاعدگی سے وزرش کی عادت اپنائیں اور رات کو سونے سے کم ازکم تین گھنٹے پہلے تک کوئی سخت ورزش نہ کریں۔

4. سونے کاٹائم ٹیبل

اگر آپ اکثر رات کو جاگتے رہتے ہیں تو آپ کے آسان ترین گھریلو نسخہ وقت طے کرلینا ہے، یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر جانے اور صبح اٹھنے کو ترجیح بنالیں، اسی طرح سونے سے قبل مطالعہ یا موسیقی سننا بھی دماغ کو سکون پہنچا کر نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔سردیوں میں سونے سے ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے گرم پانی سے نہانے کی عادت اچھی نیند کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

نیند کی دعا

اگر نیند نہ آئے تو بستر پر لیٹنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھنے کی ہدایت فرمائی

اَللّٰھُمَّ غَارَتِ النُّجُوْمُ وَھَدَأَتِ الْعُیُوْنُ وَاَنْتَ حَیٌّ قَیُّوْمُ لَا تَأْخُذُکَ سِنَۃٌ وَّلَانَوْمٌ یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ  اَھْدِیْٔ لَیْلِیْ وَاَنِمْ عَیْنِیْ
ترجمہ: اے اللہ! تارے چھپ گئے اور آرام پکڑا آنکھوں نے اور تو سدا زندہ قائم رہنے والا ہے۔تجھ کو اونگھ اور نیند نہیں پکڑتی۔ اے سدا زندہ سب کے سہارے آرام دے میری آنکھوں کو اس رات میں سلا دے۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہٗ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کہ کی ان کو رات میں اچھی طرح نیند نہیں آتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم بستر پر لیٹ جائو تو پھر یہ پڑھو

اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَمَا اَظَلَّتْ وَ رَبَّ الْاَرْضِیْنَ وَمَا اَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَا اَضَلَّتْ کُنْ لِیْ جَارًا مِّنْ شَرِّ خَلْقِکَ اَجْمَعِیْنَ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیَّ اَحَدٌ مِّنْھُمْ اَوْاَنْ یَّطْغٰی عَزَّجَارُکَ (وَتَبَارَکَ اسْمُکَ) وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ

ترجمہ: اے اللہ تو ساتوں آسمانوں اور ان کے آس پاس کا رب ہے اور زمینوں کا بھی رب ہے اور تمام شیاطین بھی تیرے قبضہ قدرت میں ہیں اور تو میرا محافظ بن جا ہر اس چیز کے خلاف جو میرے لئے نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔ مجھے خوشی اور مسرت عطا فرما میں تمہاری بزرگی بیان کرتا اور تیرے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیے : امتحان میں کامیابی کی دعا ، وظیفہ

نیند نہ آتی ہو تو سونے سے قبل سورۂ احزاب کی آیت نمبر 56 پڑھ کر درود شریف پڑھ لیجئے انشاء اللہ نیند آجائے گی رات کو سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیجئے 
اللھم باسمک اموت واحیا 
انشاء اللہ نیند آ جائے گی۔

احتیاطیں:

اگر بستر پرپندرہ منٹ تک لیٹے رہنے کے بعد بھی نیند آتی محسوس نہ ہوتو آنکھیں بند کر کے لیٹے رہنے کی بجائے کوئی ایسا کام شروع کریں جس سے ذہنی دباؤ میں کمی آئے اور آپ سکون محسوس کریں۔ مثلاً کچھ پڑھیں یا کچھ لکھیں ۔ تاہم ٹیلی ویژن دیکھنے سےاجتناب کریں۔

رات کی پرسکون نیند کے لیے دن کے وقت نہ سوئیں اور سونے سے کم ازکم چار گھنٹے پہلے تک کافی یا چائے نہ پیئیں۔سوتے وقت سگریٹ یا تمباکو کی مصنوعات سے دور رہیں۔بھوکے پیٹ یا بہت زیادہ کھانے کے فوراً بعد سونے کی کوشش نہ کریں۔ بہتر نیند کے لیے ضروری ہے کہ رات کا کھانا ہلکا پھلکا اور زودہضم ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بے خوابی کی وجہ سے سوتے میں سانس لینے میں رکاوٹیں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے ۔ کیونکہ سوتے میں آنکھ کھلنے کی وجہ پوری مقدار میں آکسیجن کا نہ ملنا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں بعض سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں جن میں آکسیجن کی کمی کے باعث دماغ کی کارکردگی کا متاثر ہونا، نیم بے ہوشی طاری ہونا ، خون کا زیادہ دباؤ اور دل کی بیماریاں شامل ہیں۔

اس تحریر سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے۔ تو اسے سوشل میڈیا پر ضرور شیئرکریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

نوٹ: یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ اس لیے ان ترکیبوں ،طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج (طبیب، ڈاکٹر ) سے مشورہ ضرور کریں۔ اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں