مشت زنی کیا ہے مشت زنی کی وجوہات ، نقصانات اور علاج

مشت زنی کیا ہے؟

انسان جب بچپن کی حدود سے جوانی میں قدم رکھتا ہے تو اس کے جسمانی اعضا کی ساخت اور نشونما میں بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جنسی خواہشات بھی بڑھنے لگتی ہیں۔ اگر ان خواہشات کو پورا کرنے کے فطری طریقے میسر نہ ہوں تو انسان غیر فطری طریقوں سے انہیں پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

اس طرح وہ اپنے ہی جنسی اعضا سے لذت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جسے مشت زنی، جلق بازی، اسمتناء بالیداور ہینڈ پریکٹس کہتے ہیں۔

مشت زنی masturbation کی عادت نو عمر لڑکوں اور طالب علموں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے مشت زنی صرف مرد حضرات ہی نہیں کرتے بلکہ عورتیں بھی اس معاملہ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ عورت کا مشت زنی کرنا فنگرننگ،چپٹی یا مساحقہ کہلاتا ہیں۔

دنیا کا کوئی ملک ، کوئی خطہ یا جگہ ایسی نہیں ہے کہ جہاں اس فعل کے کرنے والے نہ پائے جاتے ہوں۔ یہ بری عادت زمانہ قدیم سے ہی چلی آ رہی ہے ۔اور ہر علاقے ، خطے میں اس برے فعل کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔

مشت زنی کی عادت بچپن سے شروع ہو کر بلوغت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتے ہوئے نو جوان میں پختگی اختیار کر جاتی ہے ۔ابتداء میں بچہ شوقیہ اس لذت میں گرفتار ہوتا ہے اور بعد میں آہستہ آہستہ یہ عادت اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ انسان کو کسی قسم کا ڈر اور خوف نہیں رہتا۔

مشت زنی ایک ایسابرا فعل ہے کہ جب بھی انسان اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اندار ایک عجیب سی کش مکش شروع ہو جاتی ہے ۔ ایک طرف نوجوان کوشش کرتے ہیں کہ یہ بری عادت ختم ہو جائے تو دوسری طرف اس کی کشش انہیں یہ عادت چھوڑنے نہیں دیتی۔

جب بھی اس عادت سے نجات کی کوشش کی جاتی ہے تو اس فعل میں مزید رغبت محسوس ہوتی ہے۔ آج بھی دنیا میں لاکھوں لوگ ہیں جو مشت زنی سے بچنے کا طریقہ ڈھونڈنے کے بجائے مشت زنی کرنے کا طریقہ ، مشت زنی کے فائدے اور مشت زنی کے حق میں دلائل ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

مشت زنی کے نقصانات

مشت زنی کرنے والے دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں کیونکہ ان کے چہرے کی خوبصورتی ، حسن و رعنائی گہنا کر انہیں ہمیشہ کا مریض بنا دیتی ہے۔ اس سے انسان کے اندر ہمہ وقت تھکن ، نا امیدی ، مرجھاہت چمکتی نظر آتی ہے ۔آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جاتے ہیں۔ پیشاب تیز ار جلا ہوا آتا ہے۔

یہ برا فعل صحت کو اس حد تک خراب کر دیتا ہے کہ اس فعل کا ارتکاب کرنے والےحضرات شادی کے نام سے بھاگتے ہیں، کیونکہ خرابی صحت کی وجہ سے انہیں پتا ہوتا ہے کہ وہ ازدوجی زندگی کے معاملات کی انجام دہی میں ناکام رہیں گے۔

خرابی صحت کی وجہ سے ایسے افراد اپنا علاج کروانے کے لیے جھوٹے ڈاکٹروں اور حکیموں کے پاس پہنچ جاتے ہیں، جو انہیں دل کھول کر لوٹتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی نہ تو ان کا علاج ہو پاتا ہے اور نہ ہی ان کی بری عادت ختم ہو پاتی ہے۔

مشت زنی سے نہ صرف جسمانی صحت خراب ہوتی ہے بلکہ اس کے برے اثرات نازک اعضاء پربھی مرتب ہوتے ہیں۔جس سے نہ صرف عضو خاص ٹیڑھا اور جڑ سے پتلا ہو جاتا ہے بلکہ قوت باہ میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے : قوت باہ کیا ہے، قوت باہ میں اضافے کے قدرتی طریقے

جب کوئی نوجوان مشت زنی کرتا ہے تو عضو خاص کی باریک شریانیں یا تو پچک جاتی ہیں یا پھر کوئی شریان پھٹ کر اس کا خون شریان میں جم جاتا ہے جس سے شریان میں خون کی آمد و رفعت معطل ہوجاتی ہے ۔

مشت زنی سے عضو کے پٹھوں میں سکڑنے اور پھیلنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے جس سے پٹھوں میں تناؤ نہیں آتا۔ شریانوں میں خون کے نہ پہنچنے ، پٹھوں میں تناؤ نہ آنے اور جلد ڈھیلی ہونے کے باعث عضو تناسل کا اکڑاؤ ، سختی ، تناؤ اور جوش بالکل ختم ہوجاتا ہے۔

زیادہ تر نوجوان باتھ روم میں مشت زنی کرتے ہیں اور پھر فوراً ہی اپنے عضو کو پانی سے دھو لیتے ہیں اس طرح گرم عضو پر ٹھنڈا پانی لگنے سے عضو کے پٹھے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ مشت زنی یا اغلام بازی جیسے گندے فعل کے باعث نہ صرف عضو کا اکڑاؤ ختم ہوجاتا ہے بلکہ اس کاسائز بھی چھوٹا ہوجاتا ہے اور یہ جڑ سے پتلا اور ٹیڑھا ہوکر مرد کے لئے شرمندگی کا سبب بنتا ہے

اس مرض میں مبتلا افراد ہر وقت پریشان رہتے ہیں، کسی کام میں دل نہیں لگتا، دماغ اور قوت حافظہ بہت کمزور ہو جاتا ہے۔ اس برے فعل کے مرتکب افراد ذلت آمیز زندگی گزارتے ہوئے ایک ایسی حد تک پہنچ جاتے ہیں جہاں انہیں خود کشی کے سوا کوئی راہ نظر نہیں آتی۔

ہومیو ڈاکٹر علی اصغر چوہدری لکھتے ہیں:
"مشت زنی سے خود اعتمادی اور قوت ارادی ختم ہو جاتی ہے۔ دماغ اور بینائی کمزور ہو جاتی ہے۔ذہنی الجھنیں بڑھ جاتی ہیں۔ فرد تنہائی پسند ہو کر زندگی کے ہنگاموں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے۔ عضو مخصوص کی رگیں ابھر آتی ہیں اور ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ درمیان میں سے پتلا ہو جاتا ہے۔ ایسے لڑکے جوان ہو کر عموماً اخلاقی مجرم بن جاتے ہیں۔ مطالعہ کرنے کو جی نہیں چاہتا، کچھ یاد نہیں رہتا۔

بے چینی ، اداسی ، افسردگی ، مایوسی، گھبراہٹ اور جھجک اس پر طاری ہو جاتی ہے۔ کھیلوں میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں، مشت زنی سے جریان، احتلام، سرعت انزال اور نامردی تک کے امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔ معدہ خراب ہو جاتا ہے۔ بھوک مر جاتی ہے۔ رات کو وحشت ناک خواب آتے ہیں۔ چہرہ ہر وقت بے رونق رہتا ہے۔ گال پچک جاتے ہیں اور انسان زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے۔” (نوجوانوں کے مسائل اور ان کا حل)

قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • قرآن پاک کی سورہ المومنون میں ہے:
    اوروہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے بیشک ان پر کوئی الزام نہیں۔ لیکن جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں تو ایسے ہی لوگ حَدِّ (شرع) سے بڑھنے والے ہیں۔
    ان آیات سے اکثر علماء یہ استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ اسمتناء بالید یعنی اپنے ہاتھ سے مشت زنی کرنا بھی بیوی اور لونڈی کے علاوہ شرمگاہ کا استعمال ہے۔ چنانچہ یہ بھی زنا کی طرح حرام ہے۔
  • قرآن پاک کی سورۃ نور میں ہے: "اور جن کو نکاح کی حیثیت نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔”
  • قرآن میں واضح طور پر ہر قسم کی فحاشی سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ” اور بےحیائی کی باتوں کے پاس بھی نہ پھٹکنا (خواہ) وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ "۔سورۃ الانعام
  • ابراہیم، علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود کے ساتھ چل رہا تھا، تو انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا کہ جو شخص مہر ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ نکاح کرلے اس لئے کہ وہ نگاہ کو نیچی کرتا ہے اور شرمگاہ کو زنا سے محفوظ رکھتا ہے اور جس کو اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے اس لئے کہ روزہ اس کو خصی بنا دیتا ہے۔
  • سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (یعنی شرمگاہ) کا ضامن ہو تو اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں۔
  • امام حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جز میں ایک حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں عالموں کے ساتھ جمع کرے گا اور انہیں سب سے پہلے جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ توبہ کرلیں توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی سے رجوع فرماتا ہے ایک تو ہاتھ سے نکاح کرنے والا یعنی مشت زنی کرنے والا اور اغلام بازی کرنے اور کرانے والا ۔ اور نشے باز شراب کا عادی اور اپنے ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ چیخ پکار کرنے لگیں اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت بھیجنے لگے اور اپنی پڑوسن سے بدکاری کرنے والا۔

مشت زنی کی وجوہات اور علاج

مشت زنی کے برے فعل میں مبتلا فراد کا علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ بندہ اس برے فعل میں کیوں مبتلا ہوا ہے۔مشت زنی میں مبتلا ہونےکے اسباب اور وجوہات جاننے کے بعد اس کا علاج کیا جاتا ہے۔ مشت زنی میں مبتلا ہونے کے اسباب، وجوہات اور علاج کے مندرجہ ذیل طریقے ہیں۔

1. زیادہ عمر تک غیر شادی شدہ رہنا

مشت زنی کے فعل میں مبتلا ہونے کا سب سے بڑا سبب شادی میں تاخیر ہے۔ کیونکہ ایک بچہ بارہ سے چودہ سال کی عمر میں بالغ ہو جاتا ہے۔اور پندرہ سے سولہ سال کی عمر میں ہی شادی کے قابل ہوجاتا ہے۔ایسے میں شادی میں تاخیر اُسے اِس برے فعل میں مبتلا کر دیتی ہے۔

بلوغت میں جنسی غدودوں کی کارکردگی کی وجہ سے منی بننے لگی ہے۔ چونکہ منی کو محفوظ نہیں کر سکتے اور اس کا نکاس ضروری ہے۔ اب اگر فرد کے پاس منی کے اخراج کا جائز ذریعہ موجود نہیں ہے اور اسے کثرت سے احتلام بھی نہیں ہوتا تو پھر بالغ فرد مشت زنی کے ذریعے اس مادے کو خارج کرتے ہیں۔

مشت زنی سے بچنے کا بہترین طریقہ علاج شادی ہے۔ اگر شادی کی استطاعت نہ ہو تو حدیث کے مطابق روزے رکھ کر شہوت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

2. برے دوستوں کی صحبت

ایک بچہ جب جوان ہوتا ہے تو اس کے ہارمونز میں تبدیلی آتی ہےاور وہ اس تبدیلی کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا ۔ اس لیے وہ اس ہیجان کی نوعیت کو سمجھنےکے لئے اپنے دوستوں سے رجوع کرتا ہے۔اب اگر اس کے دوست احباب مشت زنی جیسے برے افعال میں مبتلا ہیں تو وہ اسے بھی ان معاملات میں ملوث کرلیتے ہیں۔

ایسے حالات میں بچوں کو اس برے فعل سے دور رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماں باپ بچے کی بلوغت کے وقت ان پر کڑی نظر رکھیں اوریہ دیکھیں کہ بچے کے دوست احباب کیسے ہیں۔ اور ان کے معاملات کس قسم کے ہیں۔ اگر ذرہ سے بھی شبہ ہو تو بچوں کو ایسے دوستوں کی صحبت سے بچائیں۔

تاہم اگرجوانی میں کوئی شخص اس برے فعل میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ ایسے دوستوں کی بری صحبت سے بچے، اور ایسے دوستوں سے قطع تعلق کرلے۔اور اِس کے بدلے ایسے نیک اور صالح فطرت لوگوں کو دوست بنائے جن میں یہ عیب نہ ہوں۔

3. فحش مواد کی فراہمی

مشت زنی میں مبتلا ہونے کی ایک اور اہم وجہ جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے والے میڈیا تک آسان رسائی ہے۔ آج تقریباً ہر گھر میں ٹی وی، کیبل اور انٹرنیٹ با آسانی دستیاب ہے۔ اس میڈیا پر بہت آسانی سے عریاں فلمیں، فحش تصاویر اور دیگر اخلاق باختہ مواد مل جاتا ہے۔
آج کے دور میں جب ایک نوجوان اپنے ارد گرد نظریں دوڑاتا ہے تو وہ خود کو چاروں طرف اس جنسی یلغار میں گھرا پاتا ہے۔ دوسری جانب اس کے اندرونی تقاضے بھی اُسے گناہ کی جانب اکساتے ہیں۔ یہ سب صورت حال اسے مشت زنی کی جانب راغب کرتا ہے، جس سے وہ اس بری لعنت میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

مشت زنی سے بچاؤ کا بہترین طریقہ علاج یہ ہے کہ ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور کیبلز کو کم سے کم وقت دیا جائے۔ نیز تنہائی میں ٹی وی یا کمپیوٹر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے ۔ مزید یہ کہ ٹی وی اور کمپیوٹر کو کسی ایسی جگہ پر رکھا جائے جہاں لوگوں کا گزر ہو ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کا استعمال بھی سوچ سمجھ کر کیا جائے۔

4. جنسی تعلیم کا فقدان

ہمارے معاشرے میں جب ایک بچہ یا بچی جوان ہوتے ہیں تو ان کی جنسی تعلیم کا کوئی انتظا م موجود نہیں ہوتا۔ نہ تو تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر کوئی تربیت فراہم ہوتی ہے اور نہ ہی ماں باپ اپنی روایتی ہچکچاہٹ کی بنا پر اس قابل ہوتے ہیں کہ بچے کی بہتر طور پر راہنمائی کر سکیں۔

ایسے میں ایک نوجوان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہی ہم عمر اور ناپختہ دوستوں سے رجوع کرے یا جنسی موضوعات پر موجود ناقص کتابوں کا مطالعہ کرئے یا پھر انٹرنیٹ اور فلموں جیسے آزاد اور بد چلن میڈیا کو اپنا استاد بنالے۔ایسے میں ایک متجسس نوجوان بہت آسانی سے مشت زنی کی جانب راغب ہوجاتاہے۔

انٹرنیٹ پر جنسی تعلیم کے نام پر جومواد موجود ہے وہ بالعموم مغربی فکر کے حامل افراد نے تیار کیا ہے ۔اس کا بیشتر حصہ غیر معیاری ہے اور اس کا مقصد آزادانہ جنسی اختلاط کو فروغ دینا ہے۔نیز یہ انگلش زبان اور غیر ملکی کلچر کی وجہ سے ہماری آبادی کے ایک بڑے حصے کے لئے بے کار ہے۔اردو میں جنس کے موضوع پر معیاری مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔

جنسی تعلیم کے ضمن میں ریاست کو اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست اپنی نگرانی میں ماہرین کی مدد سے ایسا لٹریچر تیار کرے جو ایک پاکیزہ اسلوب میں اِن نوجوانوں کی درست راہنمائی کرے۔ اس کے علاوہ ایسے ادارے رجسٹرڈ کئے جائیں جہاں جنسی مسائل کا اسپیشلائزڈ انداز میں حل پیش کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ اہل علم حضرات، نفسیات دان اور ڈاکٹر ز کو چاہئے کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی کوششوں کے ذریعے معیاری لٹریچر تیار کریں۔

ہمارے ہاں اہل علم حضرات عام طور پر جنس کے موضوع پر نہیں لکھتے کیونکہ ایسے مصنفین کو معاشرے میں تنقید کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نوجوانوں کی تربیت ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے دوران اگر ہمیں ملامت بھی برداشت کرنی پڑے تو کوئی حرج نہیں۔

5. رومینٹنگ ماحول

ہمارے معاشرے میں جب ایک بچہ نوجوانی میں قدم رکھتا ہے تو اسے اپنے اردگرد ہر طرف عشق و محبت سے لبریز ماحول ملتا ہے۔ہر ڈرامے، فلم یا ناول میں عشق و محبت کی داستانیں چل رہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ وہ اس خیالی دنیا کو حقیقی سمجھ کر خود بھی قسمت آزمائی کرتا ہے۔اس میں اگر وہ کامیاب ہو جائے تو صنف مخالف سے اس کا اختلاط بڑھ جاتا ہے جو اسے مشت زنی کی جانب لے جاسکتا ہے۔

اور اگر وہ ناکام ہو جائے تو بھی مشت زنی کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان ان ناولوں اور فلموں سے خود کو دور رکھتے ہوئے حقیقت پسندی پر مبنی لٹریچر پڑھے یا دیکھے۔ مثال کے طور سیرت نبوی یا صحابہ کا مطالعہ، شجاعت اور اخلاقی اچھائیوں پر مبنی ڈرامے وغیرہ۔

6. فراغت و تنہائی

آج کے دور میں جب نوجوان پڑھائی سے فارغ ہوتے ہیں تو انہیں روزگار کا موقع نہیں ملتا، جس کی وجہ سے نوجوانوں کے پاس فارغ اوقات زیادہ ہوتے ہیں اوراس فراغت میں تنہائی بھی میسر آجائے تو ذہن پر جنسی خیالات چھاجانے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔اور یہی خیالات انسان کو برے فعلوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

اس میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان خود کو مصروف رکھیں، ورزش کریں، کھیل کود میں حصہ لیں اور مثبت سرگرمیوں میں خود کو ملوث کریں۔اچھی اور دینی ویب سائیٹس کا مطالعہ کریں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں۔

7. مخلوط تعلیمی نظام

مخلوط تعلیمی نظام کی بنا پر لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے کے قریب رہنے کا موقع ملتا ہے۔ اس اختلاط کی بنا پر نگاہیں بے قابو ہوتیں اور خیالات برانگیختہ ہوتے رہتے ہیں۔جو اس برے فعل کی وجہ بنتے ہیں۔ زیادہ ترہوسٹلز اور بورڈنگ سکولوں کے بچے اس قسم کے فعل میں مبتلا ہوتے ہیں-

اسلام میں واضح ہدایت ہے کہ نگاہوں کو نیچی رکھو یعنی کسی کو شہوت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔ چنانچہ پہلے تو اسی ہدایت پر عمل کیا جائے دوسرا یہ کہ کلاس لینے کے علاوہ کسی اور مقام پر صنف مخالف سے بے تکلفی نہ برتی جائے بلکہ اپنے ہم جنسوں ہی سے دوستی اور روابط رکھے جائیں۔

مشت زنی کیا ہے مشت زنی کی وجوہات ، نقصانات اور علاج سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

ضروری نوٹ: یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ ان ترکیبوں ، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج (طبیب، ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔ اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

6 comments

    1. آج خوشی سے دل باغ باغ ہو گیا۔
      اگر میری اِس تحریر سے کوئی ایک شخص بھی یہ بری عادت کو چھوڑ دیتا ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ مجھے میری محنت کا پھل مل گیا۔

  1. میں اس غلط کام میں 10 سال سے پڑ گیا، بہت چھوڑنے کی کوشش کرتا ہوں پر چھوڑ نہیں پاتا۔
    نفس میں بہت ڈھیلا پن اور پتلا ہے، اس کا کوئی علاج بتا دیں۔

  2. پلیز کوئی ایسی دعا بتا دیں جس سے ایسا کوئی خیال ہی نہ آئے، میں اپنے مدرسے میں ایسا کچھ نہیں کرتا مگر گھر آ کر پتا نہیں کیا ہو جاتا ہے، مجھے کوئی دعا بتا دیں پلیز۔

  3. آپ اپنی سوچ کو ٹھیک رکھیں۔ اور غلط سوچیں نہ سوچیں، اور جب بھی ایسا کرنے کا دل کرئے تو اس بات پر یقین رکھیں کہ کوئی اور دیکھے نہ دیکھے، خدا مجھے دیکھ رہا۔ انشاء اللہ آپ کی یہ بری عادت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں