معدے کی تیزابیت اور سینے کی جلن کی وجوہات اور اس کا علاج

معدے میں تیزابیت اور سینے کی جلن اب ہر انسان کا مسئلہ بن چکا ہے۔جسکی اہم وجہ چٹ پٹے اور مسالہ دار کھانےہیں۔سینے میں کبھی کبھار جلن کا ہوجانا زیادہ پریشانی کا باعث نہیں ہے۔کیوں کہ اکثر اوقات ہمیں شادی یادوسری تقریبات میں مرچ مسالے سے بھرپور یا چٹ پٹی اور تلی ہوئی اشیا کھانی پڑجاتی ہیں۔ تاہم جب یہ تیزابیت مسلسل رہنے لگے تو متعدد پیچیدگیوں کاباعث بن جاتی ہے غذاکی نالی میں ورم خراش اور پھر زخم بن سکتے ہیں اور سینے میں جلن اورمستقل  درد سرطان کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

سینے کی جلن یاسوزش کی شکایت ہمارے ہاں بڑھتی جا رہی ہے۔فاسٹ فوڈ کا کثرت سے استعمال اور ورزش کا فقدان انسان کی صحت کو بری طرح تباہ کر رہا ہے۔  خاص طور پر نظام انہضام پر اس کا بہت برا اثر پڑ رہا ہے، اسی وجہ سے معدے میں جلن، گیس اور تیزابیت کے مسائل میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

تیزابیت کے سبب سینے میں پیدا ہونے والی جلن ہرشخص کے کبھی نا کبھی اور بعض کو عموماً درپیش رہتی ہے۔ اس لیے آج کل ڈاکٹروں اور حکیموں  سے جو سوال سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سینے میں جلن کیوں ہوتی ہے۔  معدہ کیسے بہتر کام کرسکتا ہے۔ تیزابیت کو کیسے ختم کیا جائے وغیرہ شامل ہیں۔

جلن کی وجوہات

سینے کی جلن کا سبب معدے کی خرابی یعنی اس میں تیزابیت کا ہونا ہے۔یوں تو ہم سب کے معدے میں تیزابیت کی ایک خاص مقدار ہوتی ہے جو ضروری بھی ہے، لیکن تلی ہوئی اشیاء مرچ مسالے اورروغنی اشیا تیزابیت کو بڑھادیتی ہیں۔ یہ جلن اس وقت ہوتی ہے جب تیزابی مادے اور ہاضمے میں مددینے والے رفیق مادے واپس غذا کی نالی کی طرف آتے ہیں ۔ آپ جو کچھ خوراک کھاتے ہیں یا نگلتے ہیں وہ ایک لمبی ٹیوب کے ذریعے معدے تک جاتی ہے۔ اس ٹیوب کو ایسوفیگس کہتے ہیں۔

قدرت نے ایسو فیگس پر ایک والو لگایا ہوتا ہے جو کسی بھی غذا کو یا معدے میں ہضم کرنے والے تیزابی مادے کو واپس ایسوفیگس میں آنے سے روکتا ہے لیکن جب کبھی اس والو کو ریسٹ نہ ملی ہو تو یہ اچھے طریقے سے کام نہیں کرپاتا اور نتیجتاً خوراک یا غذا ایسوفیگس میں واپس آجاتی ہے جس سے سینے میں جلن پیدا ہوتی ہے۔سینے کی تیزابیت دراصل کینسراورہیپا ٹائٹس بی جیسے مہلک امراض کی بھی علامت ہے، ایسی صورت میں غذا متناسب طریقے سے ہضم ہونے کی بجائے تیزابیت کی شکل میں دوبارہ غذا کی نالی میں پہنچ جاتی ہے، جو سینے میں شدید جلن کا باعث بنتی ہے۔

سینے کی جلن اور معدے کی تیزابیت کا علاج

معدے کی تیزابیت سے لاحق ہونی والی بیماریاں

ہم جو خوارک کھاتے ہیں وہ دانتوں سے چبانے کے بعد خوراک کی نالی کے ذریعے معدے میں داخل ہوتی ہے ۔ یہاں معدہ اس خوراک کی تیزابی رطوبتوں کے ساتھ مکس کرتا ہے اور پیس دیتا ہے ۔ زیادہ سخت خوراک ہونے کی صورت میں معدہ زیادہ تیزاب بناتا ہے تاکہ سخت خوراک کو نرم کیا جا سکے زیادہ سخت خوراک کی وجہ سے معدہ بعض اوقات تھک بھی جاتا ہے اور درد بھی کرتا ہے اور بعض اوقات کام کرنا چھوڑ دیتا ہے

ایسے میں  تیزابی رطوبتیں معدے کے اوپر والے حصے کا رخ کرتی ہیں۔اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو جلاتی جاتی ہیں۔ معدے کی تیزابی رطوبتوں کے اوپر گلے میں آنے کی وجہ سے گلے کی خراش ،سینے کی جلن ، سینے کا درد، سانس میں مشکل ، گلا بیٹھ جانا یا آواز کا بھاری ہونا ،متلی ، قے آنا ، ڈکار ، ہچکی ، کھانسی ، چکر آنا ، سر درد، ناک سے پانی آنا ، چھینکیں آنا ، ناک میں غدودوں کا بننا ، بلغم کا گلے میں گرنا ، ، منہ یا زبان میں چھالے ہونا ، زبان جلنا ، منہ میں زیادہ لعاب آنا ، مسوڑھوں سے خون آنا ، دانتوں میں کیڑا لگنا، اور ٹوٹنا ان ساری علامات کی سب سے بڑی وجہ معدے کی تیزابی رطوبتوں کا اوپر گلے میں آنا ہے۔

معدے کی گرمی، معدے کی جان کا علاج، معدے کی تیزابیت، معدے کی جلن کا علاج
جگر, مثانے اور معدے کی گرمی کا علاج، معدے کے مسائل، معدہ کا علاج
معدے کی جلن کی وجوہات، معدے کی جلن کا علاج
سینے کی جلن سے نجات کے آسان طریقے، سینے کی جلن کی وجوہات اور علاج

جب گلے میں یہ تیزابیت پہنچتی ہے تو گیس بن جاتی ہے جب یہ کان کی نالی سے کان میں پہنچتی ہے تو کان میں خارش ہوتی ہے اور بعض اوقات چکر آتے ہیں ۔ جب یہ گلے کی دیواروں سے ہوتی ہوئی ناک میں پہنچتی ہے تو چھینکیں ، ناک سے پانی کا اخراج جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

جب یہ تیزابی رطوبتیں منہ میں داخل ہوتی ہیں تو منہ کی جلن ، زبان کی جلن ، زبان اور منہ کے چھالے ، منہ کا ذائقہ خراب ہونا ، دانتوں کو کیڑا لگنا اور مسوڑھوں سے خون آنا جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔پس معلوم ہوا کہ معدہ کے کام میں رکاوٹ سے بہت سےبیماریاں لگ سکتی ہیں۔

جلن کا سبب بننے والے عوامل

جو عوامل سینے کی جلن کا موجب بنتے ہیں ان میں چٹ پٹے کھانے ،تمباکو نوشی، رات کوسونے سے پہلے زیادہ کھالینا ،وزن کی زیادتی اور کمر کے گرد تنگ لباس پہن کر زیادہ جھکنا شامل ہیں۔

جن لوگوں کو سینے میں جلن کی شکایت ہے ،انہیں اپنی غذا میں تبدیلی کرنی چاہیئے ۔ورزش کی طرف توجہ دینی چاہیئے ،اگر معد ے پر بوجھ ہو اور تمباکو نوشی کی جائے تو سینے کی جلن کا خطرہ بڑھ جاتاہے ۔کھانے کے بعد کمر کے بل اس طرح جھکنے سے گریز کیجئے کہ معدے پر بوجھ پڑے۔

علاوہ ازیں چاکلیٹ ،زیادہ چکنائی والی غذاء گیس آمیز مشروبات اور سنگترے کے رس سے جس قدر ہوسکے پرہیز کریں ۔ سبزیاں زیادہ کھائی جائیں اور زیادہ ریشے والی چیزیں غذا میں خوب شامل کی جائیں ۔ رات کے وقت سینے کی جلن کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ تکیہ تقریباً چھ انچ اونچا کرلیا جائے۔

جلن سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

کہتے ہیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اس لیے دواؤں کے بجائے تدابیر سے بچاؤ کے لیے کوشش کیجیے ۔ سب سے پہلے تو اپنی غذائی عادات میں تبدیلی کریں، تلی ہوئی اور روغنی اشیا نہ کھائیں مرچ مسالے سے مکمل احتیاط کریں،اچار، مصالحے دار چٹنی، کولڈڈرنکس تمباکو، پان، چائے ، کافی اور نمک کا استعمال کم کر دیں۔اور سیگریٹ اور شراب کا استعمال بالکل ترک کر دیں۔کیونکہسگریٹ اور شراب میں شامل نیکوٹین اور الکحل آپ کے نظام انہضام کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

جب بھی کھانا کھائیں ہمیشہ چھوٹے چھوٹے نوالے لیں اور انہیں آہستگی سے چباکر حلق سےاتاریں ، تاکہ معدے کو زیادہ کام نہ کرنا پڑے۔رات کاکھانا کھانے کے فوراً بعد سونا نہیں ہے بلکہ معدے کو اپنا کام کرنے کے لئے کچھ وقت دینا ہے۔اس کے علاوہ تنگ کپڑوں کو ترک کرکے نارمل کپڑے استعمال کیجئے۔کیونکہ  اگر آپ نے پیٹ کے گرد بیلٹ کس کر بندھی یا آپ کی قمیض یا جینز بہت چست ہے تو تو آپ کو تیزابیت کی شکایت ہوگی ۔

سوتے یالیٹتے وقت تکیہ سرسے چھے انچ تک بلند رکھیں تاکہ معدے سے تیزابیت غذائی نالی میں داخل نہ ہو۔ صبح وشام چہل قدمی ضرورکریں۔اس کے علاوہ اپنے وزن پر بھی دھیان دیں۔ اگر آپ کا وزن آپ کی عمراورجسامت سے مناسبت نہیں رکھتا توآپ کونہ صرف تیزابیت کی شکایت ہوگی بلکہ ساتھ ہی دیگربیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔

کھانے میں احتیاطیں

معدے کے افعال کو سمجھنے اور خوراک کے صحیح استعمال ہی سے ہم معدے کی بیماریوں سے دور رہ سکتے ہیں ورنہ ساری عمر دوائیں ہی استعمال کرتے رہیں گئے۔ پتلی چیزیں مثلاً یخنی ، دلیہ زیادہ پانی ملا دودھ ہمارے معدے اور ہماری صحت کیلئے زیادہ اچھے ہیں کیونکہ یہ بآسانی ہضم ہو جاتے ہیں اور ہمارے معدے کے افعال کو خراب نہیں کرتے۔

کچی سبزیاں یا سٹیم کی ہوئی سبزیاں آسانی سےہضم ہو جاتی ہیں جبکہ ہماری روایتی طریقوں سے بنی سبزیاں ہمارے نظام ہضم کو خراب کرتی ہیں سبزی کو دو طریقوں سے استعمال کیا جائے

  • کچی سبزی سلاد کی صورت کی میں بنا کر اس میں ایک دو چمچ کوکنگ آئل ڈالیں اور مرچ مصالحہ ، لیموں ڈالیں تاکہ یہ وٹامن سے بھرپور غذا بن سکے اگر اس کے اندر تھوڑے سے ابلے ہوئے چاول ڈال دئے جائیں تو بھی یہ اچھی غذا بن سکتی ہے ۔ جس سے پیٹ بھی بھرا جاسکتا ہے کیونکہ خالی سلاد کھانے کے بعد بھوک بڑھ جاتی ہے۔
  • سبزیوں کو سٹیم کر کے اس کے اندر آخر میں دو تین چمچ کوکنگ آئل ملا کر ایک لیموں ملا کر اور مرچ مصالحہ چھڑک کر ابلےہوئے چاولوں کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے ۔ سٹیم کی ہوئی سبزیاں اچھے طریقے سے ہضم ہو جاتی ہیں کیونکہ سٹیم کرنے سےسبزیوں کے اجزاء سبزی کے اندر ہی رہتے ہیں ۔ اور ہمارا ہاضمہ بھی بہتر کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔

جلن کا فوری علاج

وہ لوگ جو معدہ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔  ایسے لوگوں کو اول تو بھوک لگتی ہی نہیں  اگر زبردستی کچھ کھا بھی لیں تو کھانے کے بعد پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے۔ کٹھی ڈکاریں آتی ہیں۔ سینے پر بوجھ یا پسلیوں کے درمیان جلن محسوس ہونے لگتی ہے۔ متلی کی وجہ سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے۔ سینے کی جلن کے حوالے سے مارکیٹ میں سیکڑوں ادویات دستیاب ہیں لیکن یہاں ہم آپ کو سینے کی جلن اور معدے کی تیزابیت کے علاج کے کچھ گھریلو اور قدرتی نسخے بتائیں گے۔

سیب اورکیلا کا استعمال

طرح طرح کے کھانے کھانے معدے پربوجھ بڑھتا ہے۔ اس لیے معدے کو ایسے جوسوں اور نرم غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو نظام انہضام کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ سیب اور کیلے کا استعمال تیزابیت کے خلاف انتہائی موثر اور آسان طریقہ ہے۔

معدے کی جلن ختم کرنے میں کیلا معاون ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو سینے (معدے) کی جلن کا شکار ہیں۔ انہیں ہر کھانے کے بعد کیلے کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ کیلے کھانے سے جسم میں پی ایچ کی مقدار بہتر رہتی ہے۔

کیلا معدے کو تکلیف میں ڈالنے والے آکسائیڈ سے نجات دلاتا ہے۔ ہر کھانے کے بعد یا دن میں چند کیلوں کا استعمال آپ کو سینے کی تیزابیت سے نجات دلاتا ہے۔تاہم بعض افراد پر کیلے کے اثرات کا برا اثر ہوتا ہے۔ ان کی تیزابیت کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہے۔ اس لیے اگر آپ بھی ایسا محسوس کریں تو کیلا بالکل استعمال نہ کریں۔

کیلے کی طرح سیب بھی معدے کی جلن سے نجات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سیب کو انسانی صحت کا بنیادی جزو خیال کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ کھاناآپ کو ڈاکٹر سے دور کر دیتا ہے۔ اگر آپ کو سیب کھانے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو آپ سیب کا جوس بنا کر بھی استعمال  کر سکتے ہیں۔ تاہم سیب کے جوس میں پانی ملا کر استعمال کرنا چاہیے۔

ادرک کا استعمال

قدرت نے ادرک میں ایسی طاقت رکھی ہے کہ یہ معدے کی تیزابیت کو کم کرتی ہے۔ادرک کو مندرجہ ذیل طریقوں سے استعمال میں لا کر معدے کی تیزابیت سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔

  • کھانا پکانے میں ادرک کا استعمال کیا جائے۔
  • تیزابیت کی صورت میں ادرک کو کچا بھی چبایا جا سکتا ہے۔
  • ایک کپ گرم پانی میں ادرک شامل کر کے ایک چمچ شہد کے ساتھ پینے سے بھی سینے کی جلن میں آرام ملتا ہے۔
  • ادرک کا رس نکال کر یا ادرک کا جوس بنا کر بھی اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
  • ادرک کی چائے بنا کر بھی پی جا سکتی ہے۔ یہ بھی پڑھیے: ادرک کی چائے بنانے کا طریقہ

چیونگم کا استعمال

جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چیونگم نظام ہضم کے دوران نقصان دہ تیزابی مادوں کو توڑ دیتی ہے۔ اس لیے کھانا کھانے کے بعد چیونگم کا استعمال کرنا خوراک کے انضہام کے لئے پیدا ہونے والے تیزاب کو ختم کرتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے شوگر فری چیونگم استعمال کرنی چاہیئے۔

بادام یا الائچی کا استعمال

سینے میں تیزابیت کے حوالے سے بڑی الائچی کا استعمال جادوئی حیثیت رکھتا ہے، اس کے لیےاگر کھانا کھانے سے قبل الائچی کے چنددانے اور کھانا کھانے کے بعد بادام کے چند دانے کھا لیے جائیں تو اس سےنہ صرف آپ کا نظامِ انہضام بہتر ہوگا بلکہ یہ تیزابیت سے نجات دلا کر سینے کی جلن کو بھی ختم کر دے گا۔

خربوزے کا استعمال

خربوزہ سینے کی جلن دور کرنے میں بے حد معاون ہے۔ خربوزے میں پی ایچ کی مقدار 6.1 ہوتی ہے اور یہ تیزابیت کے لیے بہت مفید ہے۔ اس میں موجود90 فیصد پانی تسکین کا احساس دیتا ہے اس میں وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن سی کے علاوہ پروٹین، کیلشیم اور فاسفورس کی بھی بڑی مقدار ہوتی ہے۔

تاہم کچھ لوگوں کو اس کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت ہو جاتی ہے لہذا کھانے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ خربوزے کے استعمال سےآپ کی تیزابیت زیادہ نہ ہو جائے۔  خربوزہ ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد استعمال کرنا چاہیے۔اور کوشش کرنی چاہیے کہ خالی پیٹ اس کا استعمال نہ کیا جائے۔

جلن میں دیگر اشیاء کا استعمال

  • سونف کھانے سے نہ صرف منہ سے ناگوار بو ختم ہوتی ہے بلکہ یہ معدے کے جملہ امراض کو بھی دور کرتی ہے سونف میں آکسائیڈ کی مقدار6.9 پوائنٹ ہوتی ہے۔ اس لیے اسے معدے کے علاج کے لیے بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔
  • تازے اخروٹ کا استعمال معدے کے لیے زیادہ مفید ہےکیونکہ اخروٹ میں چکنائی کو پگھلانے کی غیرمعمولی طاقت ہوتی ہے۔ اخروٹ کا استعمال نظام انہضام کو بھی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
  • کھانے کے فوری بعد آپ اناناس کا استعمال کرسکتے ہیں۔اناناس بھی خوراک کو ہہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اناناس میں انزیم پرومیلین کی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو چکنائی کو پھگلانے اور پیٹ میں جمع ہونے والی فالتو چربی کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
  • لہسن کو شہد میں ملا کر پینے سے بھی معدے کی جلن میں کمی جاسکتی ہے۔ لہسن معدے کو کشادہ کرنے اور میں موجود چربی کی تہہ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
  • جو بھی معدے کی تیزابیت کے لئے بہت مفید ہے۔اگر آپ جو کا دلیا ناشتے میں استعمال کریں تو یہ معدے کے لئے بہت اچھا ہے اور آپ کا سارا دن بھی اچھا گزرے گا اور جلن سے نجات دے گا۔
  • مچھلی میں یہ خاصیت موجود ہے کہ وہ آپ کے معدے میں تیزابیت کو کم کرتی ہے۔آپ چاہیں تو لوبسٹر، جھینگے، شیل فیش کا استعمال کریں اور چند ہی دنوں میں تیزابیت سے نجات پائیں۔
  • اجوائن میں یہ خاصیت ہے کہ اس میں کیلوریز کی کوئی مقدار نہیں ہوتی۔یہ آپ کو معدے کی تیزابیت سے نجات دلائے گی۔
  • روزانہ نہار منہ نیم گرم پانی میں لیموں کا رس شامل کر کے پینے سے تیزابیت کا مرض دور ہوتا ہے- صبح سویرے کچھ بھی کھانے کا آغاز کرنے سے قبل پیا جانے والا یہ رس نہ صرف آپ کے معدے کو طاقتور بناتا ہے بلکہ آپ کے جسم میں موجود تیزابیت کی سطح کو بھی متوازن رکھتا ہے۔ یہ رس تقریباً ہر فرد کے لیے بہترین ہے۔
  • اگر آپ سلاد کا استعمال کرتے ہیں تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس میں پیاز، ٹماٹر اور چیز کا استعمال کم کریں۔ سلاد کا معدے پر بہت مثبت اثر ہوتا ہے ،ا س مقصد کے لئے آپ کھیرے اورلال مولی کا استعمال کریں۔
  • ایک کپ کھیرا،آدھ کپ اناناس،تھوڑی سی اجوائن،آدھا لیموںاور کچھ ناریل پانی لیں۔تمام سخت اشیاءکو ایک کپ میں ڈال دیں،پھر اس میں ناریل پانی شامل کر کے اچھی طرھ پیس لیں۔اور جب بھی جلن محسوس ہو یہ مشروب پی لیا کریں۔
  • انسانی جسم کے لئے کوارگندل کا استعمال بہت مفید ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے بالوں اور جلد کے لئے بہت مفید ہے بلکہ اگر آپ اسے کھانے میں استعمال کریں تو یہ آپ کو سینے کی جلن سے نجات دلائے گا۔

سونے کا وقت اور پوزیشن

اکثر دیکھا گیا ہے کہ سینے کی جلن رات میں شدید ہوجاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ لیٹتے ہیں تو کشش ثقل کے سبب آپ کے پیٹ میں موجود تیزاب آپ کے کھانے کی نالی میں آجاتا ہے۔ اس کا آسان علاج یہ ہے کہ اپنے بسترکے سرہانے کے پائے کسی لکڑی کے ٹکڑے کے ذریعے 6انچ اوپرکردیں۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ کھانا کھانے کے فوراً بعد نہ سوئیں بلکہ معدے کو کھانا ہضم کرنے کے لیے کچھ وقت ضرور دیں۔

ضروری نوٹ: معدے کی تیزابیت اور سینے میں جلن سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ تا ہم  ان ترکیبوں ، طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے  اپنے معالج ( طبیب، ڈاکٹر )سے مشورہ ضرور کریں۔ اور خود سے کوئی طریقہ نہ آزمائیں۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔  اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں