جوؤں سے نجات کے آسان طریقے | جوؤں کا خاتمہ اور علاج

سر میں جوئیں پڑنا نہ صرف شرمندگی کا باعث ہوتا ہے بلکہ طبی اعتبار سے بھی اس کے متعدد نقصانات ہیں۔اگر گھر کے کسی ایک فرد کے سر میں جوئیں پڑ جائیں تو پورے گھر کی شامت آجاتی ہے۔اسی طرح اگر کبھی کسی کے سر سے کوئی جوں گر جائے تواس شخص کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔اور اگر بچوں کے سر میں جوئیں ہوں تو سب سے پہلےبچے کی والدہ کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔

جوئیں سر میں گندگی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اور صاف ستھرا رہنے والوں کو بھی اپنا شکار بنا لیتی ہیں۔ یہ رینگ کر ایک سر سے دوسرے سر تک پہنچ جاتی ہیں۔جوئیں ہونے کی بڑی وجہ مشترکہ چیزوں کا استعمال ، اکٹھا بیٹھنا اور سونا ہے۔ لہٰذا اپنے کپڑے، بستر، چادر، تولیہ ، تکیہ، کنگھی وغیرہ کو صاف ستھرا رکھنے کے علاوہ ان چیزوں کو کھونٹی پر ٹانکنے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے۔

جوئیں کیا ہوتی ہیں؟

جوئیں سر کے بالوں میں نہ صرف زندہ رہتی ہیں بلکہ ان کی افزائش بھی یہیں ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ بڑے افراد کے سروں میں بھی جائے پناہ ڈھونڈ لیتی ہیں لیکن ان کا اصل ٹھکانہ بچوں کے سر ہوتے ہیں۔

جوؤں کا تعلق کیڑوں کے اس قبیلہ سے ہوتا ہے جو اپنی روزی خود نہیں کماسکتا ۔ جوئیں اپنے لئے کوئی شکار تلاش کرکے ساری زندگی انھی کے خون کو چوستے چوستے گزار دیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک جوں تقریباً 30دن تک زندہ رہ سکتی ہے۔ لیکن سرکے بالوں سے باہر صرف 3دن زندہ رہتی ہے۔جوں اڑ نہیں سکتی لیکن رینگ کر ایک سے دوسرے سر میں ضرور جا سکتی ہے۔جوں ایک دن میں 10انڈے دیتی ہے۔ جوبہت زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں اور بالوں کی جڑوں میں پلتے ہیں،

جوؤں کے یہ انڈے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ عام آنکھ سے بامشکل دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے بال بڑے ہوتے ہیں، یہ انڈے صاف دکھائی دینے لگ جاتے ہیں۔ جوئیں نہ صرف انسان کے سر میں بلکہ چھاتی اور داڑھی کے بالوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔ لہذا ان سے جان چھڑانا نہایت ضروری ہے

جوئیں مختلف نوعیت اور اشکال کی ہوتی ہیں۔ جس طرح مادہ مچھر لوگوں کا خون پی کر توانائی حاصل کرتی ہیں اور اپنے بچے بھی اپنے شکار کے جسم میں داخل کرکے انکے رزق کا بندوبست کردیتی ہے ، پیٹ اور متعدی خارش کے کیڑے اور سر کی جوئیں بھی یہ ہی روش اپناتی ہیں۔ جوؤں اور لیکھوں کے ہجوم کو پیڈیکیولاسس بھی کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خراٹوں سے مکمل نجات کے طریقے

جوئیں چھوٹی، بھورے رنگ کی، بنا پنکھ اور چپٹی کیڑیاں ہوتی ہیں جو کھوپڑی کی سطح پر رہتی ہیں۔یہ کھوپڑی سے خون چوستی ہیں۔ ایک بالغ انسان کے سر کی جوئیں 2 سے 5 ملی میٹر لمبی ہوتی ہیں۔جوئیں زندہ رہنے، پناہ اور خوراک حاصل کرنے کے لیے کھوپڑی کے نزدیک رہتی ہیں۔ یہ انڈے دیتی ہیں جو بالوں کے ساتھ چمڑ جاتے ہیں۔

جوؤں کی علامات

جوؤں اور لیکھیں ایسی مخلوق ہیں جو انتہائی چھوٹی جسامت کی ہے۔ اتنی چھوٹی مخلوق ہونے کی وجہ سے بعض اوقات بغور دیکھنے سے بھی یہ نظر نہیں آتیں۔تاہم یہ دیکھنے کے لئے کہ آپ کے سر میں جوئیں یا لیکھیں تو نہیں ہیں اس کی مندرجہ ذیل علامات ہیں:

سر بالخصوص کھوپڑی میں شدید قسم کی خارش کا ہونا سر میں جوؤں کی ایک بڑی علامت ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے سر کی جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں، جو کہ جوؤں یا لیکھوں کا آپ کے سر کی جلد کو کاٹنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر بغور معائنہ کیا جائے تو بالوں کے ساتھ جوؤں یا لیکھوں کے ہلکے بھورے رنگ کے انڈے چپکے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ہونٹوں کو خوبصورت، دلکش، نرم و ملائم اور گلابی بنانے کے طریقے

جوئیں چیک کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے اپنے بال گیلے کریں۔ اور باریک کنگھی سے اپنے بالوں میں سر کی جڑ سے لے کر بال کے آخری سروں تک مکمل کنگھی کریں۔

کنگھی کرنے کے بعد اپنے سر کو سفید کاغذ سے ڈھانپ دیں۔تھوڑی دیر کے بعد کاغذ کی سطح کا بغور معائنہ کریں۔ آپ کو کاغذ کی سطح پر جوئیں اور لیکھیں چلتی پھرتی نظر آئیں گی۔

اگر آپ کا بچہ سکول سے واپسی پر غصہ کے حالت میں گھرمیں داخل ہوتا ہے اور زور زور سے سر کھجاتے ہوئے چیزوں کو ادھر ادھر پھینکتا ہے۔تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے سر پر جوؤں نے حملہ کردیا ہے۔

جوئیں ہونے کی وجوہات

جوئیں ہو جانے کی بڑی وجہ گردوغبار اور مٹی ہوتی ہے جو بالوں کی جڑوں میں جمی رہ جاتی ہے ۔ اگر بالو ں کی صفائی کا مناسب خیال نہ رکھاجائے تو یہ جوؤں کی افزائش کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ اس مسئلے کا سامنا زیادہ تر بچوں اور خواتین کوکرنا پڑتا ہے۔

وہ خواتین زیادہ جو ہر وقت اپنے سر پر سکارف پہنے رکھتی ہیں۔سکارف پہنے رکھنے کی وجہ سے بالوں‌میں‌پسینہ آتا ہے اور اس وجہ سے سر میں جوئیں ہوجاتی ہیں۔اس کے علاوہ لمبے اور گھنے بالوں میں جوئیں پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

دوسروں کی ٹوپی، کنگھی ، تولیہ یا بستر استعمال کرنے سے بھی جوئیں آپ کے سر میں پڑ سکتی ہیں۔ اس لیے کوشش کریں کہ آپ کسی سے بھی اپناکنگھا، کنگھی، تولیہ، ہیئربینڈ ، سکارف وغیرہ شیئر نہ کریں۔ اور نہ ہی اپنے بستر پر ایسے شخص کو سونے دیں جس کے سر میں جوئیں ہوں۔

یہ بھی پڑھیے: بغلوں سے آنے والی ناخوشگوار بدبو کا خاتمہ

علاوہ ازیں جوئیں ایک ہی جگہ پر مختلف لوگوں کے ٹوپیاں، کوٹ اور سکارف ٹانکنے سے بھی پھیل سکتی ہیں کیونکہ یہ کپڑوں میں بھی زندہ رہتی ہیں۔جوں اڑ نہیں سکتی لیکن رینگ کر ایک سے دوسرے سر میں ضرور جا سکتی ہے۔سکول میں جوئیں بچوں کے سروں میں ایک دوسرے سے منتقل ہو جاتی ہیں ۔

جوؤں کے نقصانات

سر میں جوئیں پڑنے کے بعد خارش ، سرمیں چھوٹے چھوٹے دانے ، شریٰ اور جلد کا رنگ اڑجاتاہے ۔جلد موٹی ہوجاتی ہے ، خارش اور جلن کی وجہ سے باربار کھجانے کے نتیجے میں جلد میں آنے والی خراشوں میں سوزش،ایگزیما اور پھنسیاں وغیرہ نکل سکتی ہیں۔ اگر بچوں کے سر میں 20 سے زائد جوئیں یا لیکھیں ہوں تو انہیں بخار ہو جاتا ہے۔

بڑی جوؤں کے منہ میں ایک کیمیائی عنصر ہوتاہے۔ جب یہ خون پینے لگتی ہے تو اس وقت کیمیائی عنصر کا انجکشن لگادیتی ہیں جس سے خون پتلا ہوجاتا ہے اور اسطرح و ہ اپنی خواہش کے مطابق خون پی سکتی ہے ۔خود کو اور اپنے بچوں کو جوؤں سے نجات دلانے کے لئے درج ذیل طریقوں پر عمل کرکے اپنی زندگی کو محفوظ بنائیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سر میں جوؤں کے ہونے سے دماغی صحت پر برا اثر پڑنے کے علاوہ جلدی مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔ سر کے بالوں میں جوؤں کے انڈے پیدا ہونے سے جہاں آپ کا سر بھاری ہوگا ۔ اور آپ کو ہلکا ہلکا بخار بھی ہو سکتا ہے۔

جوؤں سے نجات کے طریقے

اگر آپ کے سر میں جوئیں یا لیکھیں ہیں اور آپ نے ان سے نجات کے لئے کئی نسخے آزما لئے ہیں لیکن ابھی تک اس سے نجات نہیں ملی تو پریشان مت ہوں،

آئیے آپ کو جوؤں اور لیکھوں سے نجات کے انتہائی آسان آزمودہ گھریلو ٹوٹکے بتاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ کے سر سے جوئیں اور لیکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

  • بالوں میں کنگھی یابرش محض اس لئے نہیں کیا جاتا کہ آپ اپنے بالوں کو سنوار سکیں بلکہ اسکے ذریعہ سر کا مساج بھی ہو جاتاہے اور ان پر جمی ہوئی مٹی اور گردوغبار بھی نکل جاتاہے۔ لہٰذا جوؤں سے نجات حاصل کرنے کے لئے پہلے آپ اپنے بالوں میں بکثرت کنگھی یا برش کریں اور بالخصوص رات سونے سے قبل کنگھی ضرور کیاکریں۔
  • بالوں کوبھگونے کے بعد شیمپو کریں، بعدازاں جوئیں نکالنے والے کنگھی سر پر پھیریں اور اس عمل کو اس وقت تک دہراتے رہیں، جب تک آپ کو یقین نہ ہوجائے کہ تمام جوئیں نکل چکی ہیں۔ جوؤں کے خاتمے کے اس ٹوٹکے کو ہفتہ میں ایک بار ضرور آزماتے رہیں۔
  • زمانہ قدیم سے زیتون کے تیل اور ناریل کے تیل کو جوؤں کے خاتمہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ طریقہ علاج آج بھی بہت موثر ہے۔ لہٰذا اگر آپ جوؤں کا شکار ہیں تو ہر چار روز بعد ناریل اور زیتون کے تیل سے اچھی طرح سر کی مالش کریں۔
  • جوؤں سے نجات کے سب سے پہلے سر کے بالوں کو لیسٹرین سے اچھی طرح گیلا کر لیں اور اس کے بعد شاور کیپ کو سر کے اوپر لے لیں اور ایک گھنٹہ تک لگا رہنے دیں۔اب شاور کیپ کو اتاریں اور بالوں کو دھو لیں تاکہ بالوں سے لیسٹرین صاف ہوجائے۔اب بالوں میں سرکہ لگا لیں اور سر کو دوبارہ شاور کیپ سے ڈھانپ لیں۔ایک گھنٹے کے بعد سر کو کسی شیمپو سے دھو لیں اور بالوں میں باریک کنگھی ماریں،تمام جوئیں خود بخود باہر آنے لگیں گی۔جوﺅں کو سپئیر منٹ سے چڑ ہوتی ہے اور اگر سر پر اس کا سپرے کردیا جائے تو کبھی جوئیں سر میں نہیں آتی۔
  • تلسی کے پتے دھو کر پیس کر سر پر لگائیں اور شاور کیپ پہن لیں۔جب سوکھ جائے تو تھوڑے پتے ابال کر اس پانی سے سر دھوئیں اور پانی ڈالتے ہوئے کنگھی کرتے جائیں۔شیمپو کے بعد تھوڑے سے زیتون کے تیل میں دو قطرے لیموں کا عرق ملا کر گیلے بالوں میں ہی لگالیں اور تولیہ لپیٹ لیں۔ صرف دو سے تین دفعہ کے استعما ل سے ہی آپکو جوؤں سے نجات مل جائے گی۔
  • اپنا کنگھا، برش اور تولیہ الگ رکھیں۔ تکیہ کے غلاف اور پلنگ کی چادر کو تبدیل کرنے کے لئے پوری طرح سے میلا ہونے کا انتظار نہ کریں۔ بلکہ اپنی سہولت کے مطابق تھوڑے دنوں بعد سب چیزیں دھو لیا کریں۔
  • مایونیز، زیتون کا تیل اور پٹرولیم جیلی ہم وزن ملا کر جڑوں پر لگائیں اور آدھے گھنٹے بعد دھو لیں۔جوؤں کے ساتھ ساتھ جوؤں سے ہونے والی خارش اور بے چینی سے بھی نجات مل جائے گی۔
  • ٹی ٹری آئل ،تارا میرا اور لونگ کا تیل بھی جوؤں کے خاتمے میں مفید ہے ۔البتہ جو بھی تیل استعمال کریں اسے پہلے تھوڑی جگہ لگاکر چیک کریں کہ کہیں آپکو اس سے الرجی تو نہیں ہو رہی۔
  • روزمیری اور لیونڈر آئل میں چند قطرے لیمبو کا عرق ملا کر سر پر لگائیں اور تیس منٹ بعد دھو لیں ۔ پھرجوؤں والی کنگھی بالوں میں پھیریں۔
  • مرمکی اور لوبان (۱۵ ، پندرہ گرام )اورحب الرشاد( بیس گرام) کو پانچ سو گرام سرکہ میں پانچ منٹ تک ہلکی آنچ پر ابال لیں پھر چھان کر جو آمیزہ تیار ہو اسے سر پہ لگائیں ۔تمام جوئیں مر جائیں گی انمیں سے کوئی دوا بھی زہریلی نہیں اور مرمکی چونکہ دافع تعفن ہے تو اسکے استعمال سے سر میں موجود باقی جراثیم بھی ہلاک ہوجائیں گے ۔
  • ذریرہ(باچھ) کو پانی میں ابال کر اسکے جوشاندہ کو سر میں تھوڑی دیر کے لیے لگائیں تو جوئیں مر جاتی ہیں ۔اس کی جڑوں کو سرکہ میں ابال کر لگائیں تو وہ پانی والے جوشاندہ سے زیادہ مفید ہے۔ جوؤں کے خاتمہ کے لئے خالی سرکہ بھی آپ استعمال کر سکتے ہیں۔
  • عہدِرسالت میں خوشبو کے لئے لوبان ، عودالہندی،اور ذریرہ استعمال ہوتے تھے ، ان میں سے ہر دوائی خوشبو دار ہونے کے علاوہ جوؤں کے لئے بھی مفید ہے ۔جوئیں خوشبو سے مرجاتی ہیں ۔کیمیکل والی ادویات کے استعمال سے پر ہیز کریں وہ جوئیں تو ختم کردیں گی لیکن آپکے بالوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔
  • پسی کالی مرچ میں تیل ملا کر سر پر مساج کریں۔مساج کے پندرہ منٹ بعد کنگھی کریں۔
  • بچوں کے سر سے جوئے ختم کرنے کیلئے تلسی کے پتے منگوا لیں۔تھوڑے سے پتے صاف کر کے دھو کر پیس لیں۔ پھر رات میں بالوں کی جڑوں میں لگا کر کپڑا باندھ کر سلا دیں۔ دوسرے دن صبح کپڑا ہٹا کر سوکھے ہوئے پتوں کو جھاڑ لیں اور کنگھی کر لیں۔تھورے سے نیم کے پتےابال کر ایک بالٹی پانی بنا لیں۔شیمپو بالوں میں لگائیں پھر نل کی دھار کھول کر کنگھی کرتے رہیں،پانی ڈالتے رہیں۔جب شیمپو بالوں سے بالکل صاف ہو جائے توایک چوتھائی جائے کا چمچ زیتون کا تیل دوقطرے لیموں ملا کر گیلے بالوں کی جڑوں میں لگا کر گرم پانی میں تولیہ بھگو کر نچوڑ کر بالوں میں لپیٹ دیں کچھ دیر بعد تولیہ ہٹا کر بالوں کو خشک کر کے باندھ لیں۔ایک بار یہ عمل دہرانے سےجوؤں سے زندگی بھر کیلئے فرصت مل جائے گی۔
  • ایک کپ نیم کے تیل کو کسی برتن میں ڈالیں۔ اب آدھا چائے کا چمچ کافور اور آدھا چائے کا چمچ کمیلا بوٹی کو ہادن دستے کی مدد سے پیس لیں اور آدھا آدھاچمچ کافور اور کمیلا بوٹی نیم کے تیل میں‌ ملا کر بالوں میں لگائیں۔اسے پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں‌ اسکے بعد نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اسی پانی سے سر کو دھو لیں۔
  • جوؤ ں سے نجات کے لئےکوئی بھی طریقہ استعمال کریں ،دو ہفتوں میں آپ کے سر سے جوؤں کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ تاہم اس دوران اپنے جسم، کپڑوں، بستروں اور گھر کی صفائی کا خصوصی خیال رکھیں۔

 جوؤں سے بچاؤ کے طریقے

جوؤں سے بچاؤ بہت ضروری ہے۔ اس لیے گھر کے تمام افراداپنے اپنے سر کا معائنہ کروائیں کہ کہیں ان کے سر میں کوئی جوں یا لیکھ تو نہیں ہے۔ اگر آپ کو انکشاف ہو کہ آپ کے سر میں جوئیں ہیں تو فوراً سے پہلے جوؤں سے نجات حاصل کریں۔

بالوں کی صفائی اور جوئیں ختم

احتیاطی تدابیر کے طور پر لیکھوں یا انڈوں کو مارنے کے لیے کنگھی کرنے والے تمام برشوں اور کنگھوں کو گرم پانی سے دھو کر استعمال کریں۔ اور کسی دوسرے کی ٹوپی، کنگھی اور تولیہ استعمال نہ کریں۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کے بستر میں سوئیں۔

صحت و صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ اور اپنے سر کو کسی اچھے شمپو سے باقاعدگی کے ساتھ دھوئیں۔

Joon se nijaat

نوٹ: جوؤں سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ ان ترکیبوں ،طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج ( طبیب،ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں