دانت کے درد کا علاج | داڑھ کے درد سے نجات | عقل داڑھ کی تکلیف

یوں تو دنیا میں طرح طرح کے درد پائے جاتے ہیں۔ پیٹ کا درد، گردے کا درد، گھٹنے کا درد، گردن کا درد، سر کا درد، دل کا درد،لیکن درد کی نوعیت کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ تمام درد ، داڑھ کے درد کے آگے دودھ پیتے بچے ہیں، یعنی داڑھ کے درد کو آپ بابائے درد یا درد اعظم بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ٹھیک نہ لگے تو دردوں کا مغل اعظم کہہ لیجیے۔

داڑھ کے درد کی کیفیت

داڑھ کا درد وہ درد ہے جسے انسان کا پورا جسم محسوس کرتا ہے، جب یہ ہوتا ہے تو انسان انسان نہیں رہتا، سمٹ کر ایک داڑھ بن جاتا ہے، جو یہاں سے وہاں لڑھکتی پھرتی ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ جب داڑھ میں درد جاگتا ہے تو وہ پھیل کر انسان بن جاتی ہے۔اور انگ انگ سے درد کی لہریں پھوٹ رہی ہوتی ہیں۔ درد داڑھ میں ہو رہا ہوتا ہے اور سزا پورا جسم بھگت رہا ہوتا ہے۔

داڑھ کے درد میں انسان کی شخصیت آدھی کیا چوتھائی بھی نہیں رہتی۔ داڑھ کے درد میں مختلف لوگوں کی مختلف کیفیت ہوتی ہے۔ تاہم سب میں ایک مشترک عمل یہ ہوتا ہے کہ لوگ کان اور گال پر ہاتھ یا رومال رکھ کر علامہ اقبال کی تصویر بنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ کئی بار موبائل فون پر دیر تک باتیں سننے والی لڑکیوں کو دیکھ کر بھی یہ شبہ ہوجاتا ہے کہ انہیں داڑھ کا درد ہے۔

عقل داڑھ

یوں تو درد کی طرح داڑھوں کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک عقل داڑھ ہوتی ہے جو بالعموم جوانی میں نکلتی ہے۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ عقل داڑ ھ کا عقل سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔عقل داڑ ھ ایک سے زیادہ دفعہ بھی نکل سکتی ہے۔ عقل داڑھ کو وزڈم ٹوتھ بھی کہا جاتا ہے۔

جب عقل داڑھ نکلتی ہے تو انسان کو بہت تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔ خاص طور پر کھانا کھاتے وقت داڑھ میں شدید قسم کا درد ہوتا ہے۔ عقل داڑھ نکلنے کے دوران درد کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کیونکہ آس پاس کے دانت اورجبڑے کی ہڈیاں عقل داڑھ کو بڑھنے سے روکتے ہیں۔ بعض اوقات عقل داڑ ھ کے نکلنے سے دیگر دانتوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جب عقل داڑ نکل رہی ہوتی ہے تو انسان کے مسوڑے سوجنا اور لال ہونے لگتے ہیں، منہ کا ذئقہ خراب ہوجاتا ہے، جبڑوں اور دانتوں میں درد کے علاوہ سر میں بھی درد ہونے لگتا ہے ۔عقل داڑھ کے نکلتے ہی انسان سیانا ہونے کی بجائے ایسی بیوقوفیاں شروع کر دیتا ہے۔جن کا خمیازہ اسے تمام عمر جھیلنا اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔ایسی بے وقوفیوں میں انسان کی سب سے پہلی حماقت شادی ہوتی ہے۔

دانت اور داڑھ کے درد کا علاج

دانت یا داڑھ کا درد کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے ۔اسی طرح عقل داڑھ کسی بھی وقت نکل کر تکلیف دے سکتی ہے۔ اور یہ دونوں ایسے درد ہوتے ہیں کہ ان کی تکلیف برداشت سے باہر ہوتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ دانت یا داڑھ نکلوا دیتے ہیں۔

دانتوں کے درد کا فوری علاج بہت ضروری ہے۔ مندرجہ ذیل طریقوں سے دانتوں کے درد کا علاج آپ اپنے گھر میں بھی کر سکتے ہیں۔

1 لونگ یا لونگوں کا تیل

لونگ ایسی روایتی چیز ہے جو متعدد تکالیف سے نجات کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس مصالحے کا اہم ترین کیمیائی جز یوجینول ہے جو کہ قدرتی طور پر سن کردینے کی خاصیت رکھتا ہے۔

دانت اور داڑھ کے درد کیلئے لونگ سے بہتر حل شاید ہی کوئی ہو۔لونگ میں دانتوں کے درد کا قدرتی علاج موجود ہے۔ دو سے تین عدد ثابت لونگ کواپنے دانتوں کے اُس حصے میں رکھیں، جہاں درد ہے اور تب تک رکھے رہنے دیں، جب تک تکلیف دور نہ ہو جائے۔

اس کے علاوہ لونگ کا تیل بھی دانت کے درد سے آرام دیتا ہے۔ لونگوں کے تیل میں ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو انفیکشن ختم کرکے دانتوں کے درد میں راحت پہنچا تی ہیں ۔دانتوں کو لونگوں کے تیل سے برش کریں یا مسوڑھوں پر مساج کریں ۔

بغلوں سے آنے والی ناخوشگوار بدبو کا خاتمہ | پاؤں سے آنے والی بدبو کا خاتمہ

تاہم لونگ کے تیل کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ لونگ کے تیل کے دو قطرے روئی کے گولے پر ٹپکائیں اور اور اسے متاثرہ دانت پر اس وقت تک لگارہنے دیں جب تک درد میں کمی نہ ہو۔

دانت کے در د کو دور کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک چوتھائی زیتون کے تیل میں دو سے تین قطرے لونگ کا تیل ملائیں ۔ ایک روئی کو اس عرق میں بھگوئیں اور اسے متاثرہ حصے اور گالوں کے بیچ میں رکھ دیں ۔ جتنا دیر ہو سکے اسے رکھا رہنے دیں ۔

دو تین پسی ہوئی لونگوں میں ایک چمچ ناریل ، تل یا سرسوں کا تیل ملا کر بلینڈ کر لیں اور ایک پیسٹ بنا لیں ۔اسے باقائدگی سے درد والی جگہ پر لگائیں ۔

2 برف کے ذریعے

برف سے بھی آپ کے دانتوں کی تکلیف کا علاج ممکن ہے۔ ایک چھوٹے آئس کیوب کو ایک تھیلی میں رکھیں اور پھر ایک پتلے کپڑے کو تھیلی کے گرد لپیٹ دیں اور پھر تکلیف دہ دانت پر پندرہ منٹ تک لگائے رکھیں تاکہ اعصاب سن ہوجائیں۔

علاوہ ازیں آپ تھیلی کو اپنے گالوں پہ رکھ کر ٹکور (ٹھکور) بھی کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی آپ کو درد میں کمی محسوس ہو گی۔

3 بیکنگ سوڈا

روئی کا ایک چھوٹا ٹکڑا لیں اور اسے گرم پانی میں بھگوئیں، پھر اس کے بعد اسے بیکنگ سوڈے میں ڈبوئیں۔ جب آپ دیکھیں کہ روئی میں اچھی طرح سے بیکنگ سوڈا لگ گیا ہے، تو اسے دانتوں میں درد والی جگہ پہ لگائیں۔ یہ آپ کے درد کو دور کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

علاوہ ازیں آپ ایک گلاس گرم پانی میں دو چمچے بیکنگ سوڈا ڈال کر اچھی طرح سے کلی کریں، اس سے بھی آپ کے دانت کا درد ٹھیک ہو جائے گا۔

4 گرم کپڑا یا تولیہ

تولیے یا کسی بھی کپڑے کو استری کی مدد سے گرم کر لیں، یاد رہے کہ کپڑا بہت زیادہ گرم نہ ہو جائے، جو آپ کی جلد کے لیے ایک مصیبت کھڑی کر دے۔ کپڑے کو گرم کر کے اپنے گالوں پہ آہستہ آہستہ سینکائی کریں، درد میں کمی آئے گی۔

5 پودینے کی چائے،گرین ٹی

پودینے کی چائے کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے اور اس میں تکلیف دہ جگہ کو بے حس کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ پودینے کے خشک پتوں کا ایک چائے کا چمچ ایک کپ گرم پانی میں شامل کریں اور بیس منٹ تک ڈبو کر رکھیں،

جب یہ چائے ٹھنڈی ہوجائے تو اسے منہ میں بھر کر حرکت دیں اور پھر تھوک دیں یا نگل لیں۔ اس کے علاوہ آپ پودینے کی پتوں کو چیونگم کی طرح بھی چبا سکتے ہیں

اچھی صحت کا راز آپ کے پاؤں میں پوشیدہ ہے

گرین ٹی بیگ میں موجود ٹینن ایک ایسٹرجنٹ ہے جو پس اور زہریلے مواد کو جذب کرکے انفیکشن کو صاف کر دیتے ہیں ۔ اس سے سوزش ، سوجن اور درد میں بھی کمی آتی ہے۔

رات کو استعمال شدہ ٹی بیگ متاثرہ دانت کے اوپر رکھ دیں اور سو جائیں۔ صبح اٹھ کر نمک کے پانی یا ہائیڈرو جن پر آکسائیڈ سے غرارے کر لیں ۔ضرورت کے مطابق باقائدگی سے استعمال کر یں ۔

لہسن کا عرق

لہسن قدرت کی طرف سے ملا ایک بہترین اینٹی بائیو ٹک ہے ۔ یہ بیکٹیرل انفیکشن ہونے سے روکتا ہے ۔ اس میں سلفیورک مرکبات موجود ہوتے ہیں جو انفیکشن اور سوزش کا مقابلہ کرتے ہیں۔

لہسن کا عرق انفیکشن والی جگہ پر لگانے سے درد میں کافی آرام آتا ہے ایک لہسن کا جوا اپنے منہ میں رکھیں یا پھر لہسن کو پیس کے اس پہ نمک لگا کے بھی منہ میں رکھا جا سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں تکلیف سے نجات ملتی ہے۔

7 ادرک اور سرخ مرچ کا پیسٹ

ادرک اور پسی ہوئی سرخ مرچ کی یکساں مقدار لیں اور اس میں اتنا پانی شامل کرلیں کہ وہ پیسٹ کی شکل اختیار کرلے۔ اب روئی کی چھوٹی گیند بناکر اس کو پیسٹ سے تر کرلیں اور پھر اپنے دانت پر لگادیں۔ یہ روئی اس دانت پر اس وقت تک لگی رہنے دیں جب تک درد میں کمی نہ آجائے ۔

8 غرارے کرنا

ایک چائے کا چمچ نمک گرم پانی کے ایک کپ میں گھول کر درد ختم کرنے والا ماؤتھ واش بنالیں جس سے تکلیف کا باعث بننے والے کچرے کو صاف کرکے سوجن میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

اس نمک ملے پانی کو منہ میں بھر کر تیس سیکنڈ اچھی طرح ہلائیں اور غرارے کریں۔ اور پھر تھوک دیں۔ اس عمل کو اس وقت تک دوہرائیں جب تک ضرورت محسوس ہو یا درد میں کمی نہ آجائے۔

آدھا چھوٹا چمچ ہلدی اور ایک چائے کا چمچ نمک ایک گلاس گرم پانی میں شامل کریں ۔اس سے غرارے کریں۔ درد میں کافی حد تک آرام آجائے گا ۔

9 کالی مرچ

دانت کے درد میں ثابت کالی مرچ منہ میں رکھنے سے بھی کافی فرق محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نمک اور کالی مرچ کو پیس کے منہ میں ڈال لیں، اس سے بھی فائدہ ہوگا۔

10 دانتوں کے خلاءکے لیے چیونگم کا استعمال

اگر تو آپ کا کوئی دانت ٹوٹ گیا ہے یا فلنگ نکل گئی ہے تو آپ کو چاہیے کہ درد میں کمی لانے کے لیے متاثرہ حصے کو نرم چیونگم سے بھر سکتے ہیں۔ اس سے آپ خلاءکو بھر کر درد میں کمی لاسکتے ہیں اور چیونگم کو وہاں اس وقت تک لگا رہنے دیں جب تک آپ ڈاکٹر سے نہ مل لیں۔

دانتوں میں انفیکشن

دانت کے انفیکشن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ یہ دانتوں کے علاج جیسے کراؤن وغیرہ کے باعث بھی ہو سکتا ہے۔ دانت یا مسوڑھے پر لگنے والی چوٹ بھی انفیکشن کا سبب بن سکتی ہے ۔

کبھی دانتوں میں ہونے والی کوئی کیوٹی یا سڑن علاج نہ کرنے پر دانت کے اندرونی حصے تک پہنچ جاتی ہے جس سے یہ انفیکشن ہو جاتا ہے ۔ یوں تو یہ انفیکشن کسی بھی دانت میں ہو سکتا ہے لیکن عقل داڑھ میں انفیکشن ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ اس کی صفائی کا خیال رکھنا مشکل ہوتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عقل داڑھ کو نکلوانا ضروری ہوتا ہے ۔

دانت کے درد سے بچاؤ کی احتیاطیں

دانت اور داڑھ کے درد سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ڈینٹسٹ سے باقائدگی سے دانتوں کا معائنہ کرائیں ۔ہر تین ماہ بعد اپنا ٹوتھ برش تین بدل لیں۔صحت بخش غذاؤں کا استعمال کریں اور چینی سے بنے کھانوں اورسگریٹ نوشی اور تمباکو کے استعمال سے بھی گریز کریں ۔ پھل اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں۔

نوٹ: دانتوں، داڑھوں کے درد سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ان ترکیبوں ،طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج (طبیب،ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں