اچھی صحت کا راز آپ کے پاؤں میں پوشیدہ ہے | پاؤں کی ورزش

ہمارے جسم کی حرکت کا انحصار ہماری ٹانگوں اور پیروں پر ہے۔ کہتے ہیں "پاؤں کو گرم اور سر کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے”
یعنی چلتے پھرتے کام کرتے رہو اور غصہ نہ کرو۔ چلنے پھرنے کی رفتار و مقدار ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے۔ وہ شخص جو اپنی دوکان پر صبح سے شام تک کام میں مصروف رہتا ہے

اور ایک خاتون جو سارا دن گھریلو کاموں سے بمشکل فارغ ہوتی ہے بآسانی روزانہ آٹھ سے دس کلومیٹر تک چل پھر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس آفس میں بیٹھ کر کام کرنے والے حضرات تمام دن میں مشکل سے ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہی طے کرتے ہیں۔

پاؤں کی بناوٹ

قدرت نے پاؤں کی ہڈیوں کو کمال کا تناسب عطا کیا ہے تا کہ پاؤں کو جو کم شدت کے جھٹکے سہنے پڑتے ہٰیں اور انہیں جن نشیب و فراز سے گزرنا پڑتا ہے وہ بآسانی برداشت کیے جا سکیں۔

بعض لوگوں کے لیے ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب اس بوجھ کو برداشت کرنا ان کے بس میں نہیں رہتا یہاں تک کہ پاؤں صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں اور چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے۔

پاؤں کی خرابی کی وجہ

پاؤں کے خراب ہونے کی عام وجہ نامناسب اور صحیح طرح سے پاؤں میں نہ آنے والے جوتے بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ہموار جگہ پر ننگے پاؤں چلا جائے تو جسم کا وزن ایڑیوں اور تلوے کی اس نرم گدی پر پڑتا ہے جو انگوٹھے اور انگلیوں کے عقب میں ہے، اور انگلیاں پھیل کر سہارا دیتی ہیں۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو لوگ اپنے پاؤں کی تکلیف کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے ان کے جسم کے دیگر حصوں میں بھی تکالیف شروع ہو جاتی ہیں۔ یعنی ایک تو ان کے پٹھوں کی خون کی روانی متاثر ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ لوگ مستقل درد کمر کی شکایت بھی کرتے ہیں۔

تنگ جوتے

اگر پیر تنگ جوتوں میں پھنسا ہو یا جوتے کی نوک تنگ ہو تو اس کی قدرتی حرکت میں رکاوٹ ہونے لگتی ہے۔ پیروں کی تین چوتھائی تکالیف کی وجہ نا مناسب جوتے ہیں۔جوتے کی اندرونی تنگی اور سختی کی وجہ سے پیروں میں گٹے بن جاتے ہیں۔

چونکہ ان تکالیف کا آغاز بچپن ہی سے ہونے لگتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کے جوتے ہلکے، نرم، لچکدار، اندر سے کشادہ اور پاؤں کو سہارا دینے والے ہوں۔
بچوں کو ایک دوسرے کے جوتے نہ پہنائے جائیں۔ کیونکہ ہر بچے کے پیروں کی شکل و ساخت مختلف ہوتی ہے۔ تنگ موزے بھی انگلیوں پر دباؤ ڈال کر یہی خرابیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ تنگ جوتوں سے پیروں میں بل بھی پڑتے ہیں اور پیر ٹھنڈے محسوس ہوتے ہیں۔

نیلگوں اور اجڑے اجڑے دکھائی دے سکتے ہیں۔ ٹخنے پھولے پھولے ہو جاتے ہیں اور ان سب کی وجہ تنگ جوتوں کی وجہ سے خون کی رسد میں کمی ہے۔

اونچی ایڑی

پیروں میں تکلیف کی ایک اور وجہ اونچی ایڑی کے جوتے ہیں جن کی وجہ سے جسم کا وزن آگے کی طرف انگلیوں، انگوٹھے اور ان کی نرم گدی پر پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے پیروں میں درد ہوتا ہے اور پیر کی کمان اور قوس پر دباؤ پڑتا ہے اور ان جگہوں (پنڈلی، ٹخنوں) کے عضلات کمزور ہو جاتے ہیں۔
جو خواتین اس طرح کے جوتے پہنتی ہیں وہ خود بھی تکلیف میں ہوتی ہیں اور چلتی بھی غلط طرح سے ہیں، کیونکہ نہ تو ان کا انداز خرام اور کھڑے ہونے کا ڈھب درست ہوتا ہے، نہ توازن باقی رہتا ہے۔ جسم آگے کی طرف گرا پڑتا ہے اور کندھوں کے عضلات ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔

پاؤں کی تکلیف سے بچنے کے طریقے

ان تکالیف کا مداوا صرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ پیر میں ایسے جوتے پہنے جائیں جو تنگ نہ ہوں اور جن کا بیرونی خول نرم اور مناسب وسعت کا ہو، تا کہ انگلیاں بآسانی پھیل سکیں اور چلنے میں کوئی تکلیف یا قباحت نہ ہو۔

جن جوتوں میں ہوا کی آمد و رفت رہتی ہے وہ پاؤں کے لیے بہتر ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے چمڑے کے جوتے، ربڑ کے جوتوں سے نسبتاً بہتر ہوتے ہیں۔

جوتے خریدے کا صحیح وقت:

جوتے خریدتے وقت شام کا وقت مناسب ہوتا ہے۔ کیونکہ جیسے جیسے دن چڑھتا ہے پیر بھی معمولی سے پھول جاتے ہیں، جو جوتے صبح کے وقت بآسانی پیروں میں آ جاتے ہیں وہ شام کو تنگ معلوم ہوتے ہیں، خصوصاً گرم موسم میں چلتے وقت۔۔۔

پاؤں کی ورزش

پاؤں کی ورزش

ہر چند کہ پیروں کا ہر وقت چلنے پھرنے کا کام ہے مگر پیروں میں درد محسوس ہو تو ورزش سے فائدہ ہوتا ہے۔ یہاں چند مفید مشقوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔

فرش پر ایک تولیہ پھیلایئے۔ اس پر ننگے پاؤں کھڑے ہو جایئے، پنجے سے تولیہ کو پکڑ لیجیے اور اسے اوپر اٹھانے کی کوشش کیجیے۔ یہ ورزش پیروں کی مجموعی قوت میں اضافے کا باعث بنے گی۔

اپنے گھٹنے اور ٹخنوں کو پھیلائیے۔ اپنے پنجوں کو فرش سے اوپر اٹھائیے۔ پھر اپنی ایڑیوں کو اٹھائیے۔ اس ورزش کو بیس سے تیس مرتبہ کیجیے۔ اگر آپ کو ان ورزش کے دوران کوئی تکلیف محسوس ہو یا ان میں سے کوئی افاقہ نہ ہو تو پھر پیروں کے کسی ماہر معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

پاؤں کا مساج

پاؤں کا مساج

پیروں کے درد میں مساج سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ چین کی روایتی طب کے مطابق پیر جسم کے دیگر حصوں کے درمیاں قوت فراہم کرنے والی لائن کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اور پیروں کا مساج پورے جسم کی قوت کو بحال کر دیتا ہے۔
اپنے پیروں کو تھام لیں اور اپنے ٹخنوں کو آگے پیچھے حرکت دیں۔
اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی ایڑی کا مساج کریں اور پہلے ٹخنوں سے ایڑی کی جانب جائیے پھر پیروں کی انگلیوں کی جانب حرکت کریں اور پھر واپس ایڑی کی جانب جائیں۔
نرمی کے ساتھ اپنے پنجے کو اوپر اٹھائیں اسے دائیں بائیں موڑیں۔
اپنی ہتھیلیوں کو پیروں سے دبائیں ۔ یہ حرکت نرم ہاتھ سے کریں۔ ہاتھون کو گول گول گھماتے ہوئے ٹخنوں سے پنجے کی جانب اور پھر پنجے سے ٹخنے پر آئیں۔اس مساج کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ یہ آپ کے لئے بہترین ورزش ہے۔

پاؤں کی بدبو سے مکمل نجات کے طریقے

ادرک نہ صرف جسم کو گرم رکھتی ہے بلکہ پیروں کو بھی گرم رکھنے کے لیے ادرک کا استعمال کیا جاتا ہے، ایک برتن میں پانی لے کر اس میں ادرک کے چند ٹکڑے ڈال کر ابالیں اور جیسے ہی پانی ٹھنڈا ہونا شروع ہوجائے تو اس میں 15 منٹ تک پاؤں ڈال کر رکھیں اور دن میں 2 بار اس عمل کو دہرائیں۔

ٹپ میں پانی ڈال کر اس میں بیکنگ سوڈا یا نمک ملا لیں۔ اس میں اپنے پیر ڈال کر انہیں گرمی پہنچائیں۔

کسی کپڑے میں برف ڈالیں اور اس سے اپنے پاؤں اور ٹخنوں کو رگڑیں۔ بعد میں تولیے سے خشک کر کے اس پر زیتون کے تیل یا عام تیل کی مالش کریں۔

باتھ روم میں کھڑے ہو کر مگ یا ٹوٹی سے پاؤں پر پانی ڈالیں۔

احتیاطیں

اس کے علاوہ ایک ہی جگہ زیادہ دیر نہ بیٹھیں۔ بہت دیر تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے کے باعث پاؤں میں سوجن ہو جاتی ہے،

کوشش کریں کہ بیٹھنے کے دوران ٹانگیں ایک دوسرے کو کراس نہ کریں کیونکہ کراس کرنے کی صورت میں دوران خون متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی طرح زیادہ کھڑے رہنے والے لوگوں کو دوران خون میں رکاوٹ کے ساتھ ساتھ کشش ثقل کا مسئلہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس تکلیف سے بچاؤ کے لئے یوں کریں کہ فرش پر لیٹ جائیے اور چند کشن نیچے رکھ کر دونوں ٹانگیں ان پر رکھ لیں۔ صبح یا دوپہر کو یہ عمل دو منٹ تک کریں، تکلیف سے نجات مل جائے گی۔

ٹانگوں میں درد کے انسداد کے لئے عمومی احتیاطیں مثلا تازہ مرغن حیوانی غذائیں، ڈبوں میں بند مصنوعی اور رنگوں کی آمیزش کی ہوئی خوراک سے پرہیز، چہل قدمی کے عادت، تمباکو کا ترک بھی ضروری ہے۔

آخر میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہےکہ گرم ممالک اور گرم موسم میں ٹانگوں میں درد ہونے کی اہم وجہ جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دینی چائیے اور پیاس سے زیادہ پانی پینا چائیے۔

نوٹ:یہ تحریرمحض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔اس لئے ان ترکیبوں ،طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج ( طبیب،ڈاکٹر )سے مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں