سورج کی روشنی کے فوائد – دھوپ سے وٹامن ڈی کا حصول اور اس کے فائدے

سور ج کی روشنی بہت سی نعمتوں میں سے ایک ہے جس سے سینکڑوں فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ سورج کی روشنی یعنی دھوپ جسم میں وٹامن ڈی کی تیاری میں بہت مدد دیتی ہے۔ وٹامن ڈی ہماری ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے کے علاوہ مختلف بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔

 سورج کی روشنی (دھوپ) کے فوائد

سورج کی روشنی سے دل کی شریانیں کھل جاتی ہیں اور بلڈ پریشر کسی حد تک نارمل رہتا ہے۔ مناسب دھوپ بلڈ پریشر کم کرنے کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

سورج کی روشنی سے نہ صرف ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی بیماریوں کے خطرات کم ہوتے ہیں، بلکہیہ ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق کینسر اور خاص طور پر چھاتی کے کینسر کی بڑی وجہ وٹا من ڈی کی کمی ہے،اگر سورج کی روشنی میں کچھ وقت گزار کے یہ وٹامن حاصل کرلیا جائے تو چھاتی کے کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔

جارج ٹاون یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں کی جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دھوپ کھانے سے جسم کو وٹامن ڈی مہیا ہوتی اور ٹی سیلز مزید توانا اور طاقتور ہوتے ہیں جس کے باعث انسان امراض سے لڑنے کے قابل ہوتے ہیں۔

جدید تحقیق کے مطابق دھوپ جسم میں نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں مدد دیتی ہے جو دل کے نظام کی حفاظت کرتا ہے۔

سورج کی شعاؤں کے جسم میں داخل ہونے سے سیروٹونن لیول بڑھ جاتا ہے جس سے انسان چست و توانا رہتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوپ ذہنی کیفیت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے ۔دماغ میں موڈ بہتر بنانے والے کیمیکل سیراٹونن کی افزائش میں دھوپ مددگار ہوتی ہے۔

سورج کی روشنی سے انسان میں مدافعتی نظام طاقتور ہوتا ہے ۔ سورج کی کرنوں سے جسم میں خون کے سفید خلیات کی گنتی میں اضافہ ہوتا ہے

ماہرین کے مطابق دھوپ میں بیٹھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے جسم میں جلن اور سوزش کی کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ کھانے کا عمل ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتا ہے اور موٹاپے کو دور کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے : سورج سے متعلق دلچسپ اور حیرت انگیز معلومات

اگر آپ دھوپ میں نہیں بیٹھ رہے تو یہ سگریٹ پینے کے برابر نقصان دہ ہے۔

سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی کا حصول

وٹامن ڈی کی کمی کے شکار لوگوں کو اکثر دھوپ میں زیادہ وقت گزارنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جب سورج کی کرنیں جلد پر پڑتی ہیں تو جسم اپنا خود کا وٹامن ڈی پیدا کرلیتا ہے ۔ گوری رنگت والے افراد 5سے10منٹ میں کافی سورج کی کرنیں جذب کرلیتے ہیں۔

لیکن اگر موسم ابر آلود ہو تو جلد کو مناسب وٹامن ڈی حاصل نہیں ہو پاتا۔ گندمی رنگ والے اور عمر رسیدہ افراد کے جسم میں وٹامن ڈی پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ سورج کے علاوہ مچھلی اور انڈے کی زردی سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

سورج سے وٹامن ڈی حاصل کرنے کا کوئی خاص وقت تو نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ صبح کی دھوپ لینا جسم اور صحت کے لیے زیادہ فائدے مند ہے ۔اگر باہر دھوپ میں ضرورت سے زیادہ وقت بتایا جائے تو سورج سے نکلنے والی الٹرا وائلیٹ شعائیں جلد کے کینسر، موتیا اور دیگر امراض کا سبب بن سکتی ہیں۔

وٹامن ڈی کے فوائد

جسم کی درست نگہداشت اور نشونما کے لیے وٹامن ڈی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔وٹامن ڈی اچھی اور بہتر صحت کے لیےبہت ضروری ہے یہ ہمارے دل، پھیپھڑوں، پٹھوں اور دماغ میں کام کرنے کی صلاحیت کو درست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ اس کی کمی بہت سے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے جو ہڈیوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہوگی تو کیلشیم بھی مناسب مقدار میں جذب نہیں ہو پائے گا، اس طرح آپ کی ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں اور فریکچرز کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

دانتوں کے امراض اور وٹامن ڈی کے درمیان بہت قریبی تعلق ہے؛ وٹامن ڈی کی سطح جتنی کم ہوگی اتنی ہی زیادہ دانتوں کی صحت خراب ہوگی۔ جن لوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے ان میں دانتوں کے گرنے کی شرح ان لوگوں کے مقابلے بہت زیادہ ہوتی ہے جن میں وٹامن ڈی کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔

وٹامن ڈی دافع ورم اثرات والے پروٹین کی پیداوار بڑھانے سے دمہ کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں میں ورم کی وجہ بننے والے پروٹین کو بھی بلاک کر دیتا ہے۔

بڑی عمر کے افراد میں اگر وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی نہ ہو تو اس عمر میں آسانی سے ہوجانے والے فریکچرز اور ہڈیوں کے بھربھرے پن سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

بچوں کے لیے بھی وٹامن ڈی بے حد ضروری ہوتا ہے ۔ بڑھنے والی عمر میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی متوازن فراہمی سے ہڈیوں کو درست نشونما ملتی ہے ۔ وٹامن ڈی ہائی بلڈ پریشر، گٹھیا، کینسر اور ایسے دیگر امراض کے خطرات کو کم کرتا ہے ۔

اس مضمون سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئیٹر، وغیرہ) پر بھی شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں